New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 06:07 AM

Urdu Section ( 31 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Tarikh-e-Ridda Part- 18 (تاریخ ردّہ حصہ ( 18

 

خورشید احمد فارق

حَضر مَوت کے بنو کِند ہ کی بغاوت

حَضرت مَوت کے قبائل کِندہ کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی وفاداری اور قبول اسلام کا اعلان کرنے آیا تو انہوں نے صحابی زیاد بن لَبِید انصاری کو ان کے علاقہ میں اپنا نمائندہ اور محصل زکاۃ مقرر کیا اور ان کو حکم دیا کہ وفد کے ساتھ چلے جائیں، زیاد نے حکم کی تعمیل کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک وہ حضرت موت میں کِندیوں سے زکاۃ وصول کرتے رہے ،زیادہ سخت گیر آدمی تھے،

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو انہوں نے ابو ہند مولی بنی بَیاضہ کے ہاتھ زیاد بن لبید کو یہ مراسلہ بھیجا۔

‘‘ ابوبکر خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زیاد بن لبید کو سلام علیک ہیں اس  معبود کا سپاس گذار ہوں جس کے سوا کوئی عبادت  کے لائق نہیں ، واضح ہو کہ رسول اللہ  کا انتقال ہوگیا ہے، إنّا للہِ و إنّاإلّیہ راجِعون ، تم  پوری مستعدی او رمردانگی سے اپنے فرائض انجام دو اور کِندیوں سے بیعت  لے لو، جو بیعت کرنے سے انکار کرےاس کی تلوار سے خبر لو اور وفاداروں کی مدد سے باغیوں کو مار لگاؤ ، بلاشبہ خدا اسلام کو سارے مذہبوں پر غالب کرکے رہے گا ، مشرکوں کو یہ بات چاہئے کتنی ہی ناگوار ہو’’۔

ابو ہند یہ خط لے کر گئے اور زیاد بن  لبید کے پاس رات کو پہنچے اور ان کو بتایا کہ صحابہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا لیا ہے، نیز یہ کہ ان کے انتخاب کے سلسلہ میں مسلمانوں کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی، زیادنے خدا کاشکر ادا کیا ، صبح ہوئی تو وہ حسب معمول لوگوں کو قرآن پڑھانے گئے اور پھر اپنے گھر لوٹ  آئے، ظہر کا وقت آیا  تو وہ تلوار لے کر نماز کے لئے روانہ ہوئے ، کچھ لوگوں  نے تعجب سے پوچھا : ‘‘ کیا بات ہے آج  امیر تلوار لے کر مسجد کیوں آئے ہیں؟ زیاد نے ظہر کی نماز پڑھائی، اس کے بعد حاضرین کے سامنے تقریر کی : صاحبو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیاہے، جو محمد کی عبادت کا قائل ہو اس کو معلوم ہوناچاہئے کہ وہ مرچکے ، اور جو خدا کی عبادت کا قائل ہو وہ راہِ راست پر ہے کیونکہ زندہ جاوید ہے اس کو کبھی موت نہیں آئے گی، مدینہ کےمسلمانوں نے متفقہ طور پر ابوبکر ابی قحافہ کو جو سب سے بہتر  آدمی ہیں، خلیفہ منتخب کر لیا ہے، مرض موت میں رسول اللہ ان ہی کو پیش امام بناتے تھے ، صاحبو! آپ لوگ ابوبکر کی بیعت کر لیجئے او رکوئی ایسا قدم نہ اٹھائیے جس سے آپ کو نقصان پہنچے’’۔کِندیوں کے بڑے لیڈر اشعث بن قیس نے کہا : ‘‘ جب ہمارے سب لوگ ابوبکر خلیفہ  مان لیں گے تو میں بھی ان کو بیعت کولوں گا ’’۔ ایک دوسرے کندی لیڈر امُرؤ القیس بن عابس نے کہا : ‘‘ اشعث تم کو خدا، اسلام اور نبی سے  ملاقات کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ نقض عہد نہ کرو، خدا کی قسم رسول اللہ کے بعد جو  جانشین ہوگا وہ یقیناً ان لوگوں  سے لڑے گا جو ان کی بیعت سے انکار کریں گے لہٰذا بیعت سے ہر گز انحراف نہ کرو اور اپنے اوپر رحم کھاؤ، اگر تم بیعت کرلوگے تو باقی کندی بھی کرلیں گے اور اگر نہیں کروگے تو ان کے درمیان اختلاف  و انتشار پیدا ہوجائے گا ۔’’ اشعث نے اِمرؤ القیس کی بات نہیں مانی او رکہا : ’’ محمد کے بعد عرب اپنے آبائی معبود وں کو پھر ماننے لگے ہیں، ہم مدینہ سے بہت دور ہیں، کیا ابوبکر ہم سے لڑنے لشکر بھیجیں گے؟’’ اِمرؤ القیس  : بخدا ایسا ہی ہوگا ، بلکہ زیادہ قرینہ اس بات کا ہے کہ رسول اللہ  کا نمائندہ ہی تمہاری خبر لے۔’’ اشعث : ‘‘ کون؟’’  اِمرؤ القیس: زیاد بن لبید ۔’’ یہ سن کر اشعث بناؤٹی ہنسا او ربولا:’’ کیا زیاد اس بات پر مطمئن  نہ ہوں گے کہ میں ان کو اپنی حفاظت میں لے لوں اور ان پرکوئی آنچ نہ آنے دوں’’؟ اِمرؤ القیس : ‘‘ عنقریب سب کچھ  تمہارے سامنے آجائے گا’’۔ اشعث کھڑا ہوا اور مسجد سے باہر چلا گیا ، اس نے نا مناسب باتیں ضرور کیں لیکن بغاوت یا ترکِ اسلام کا اعلان نہیں کیا، وہ مناسب موقع کا انتظار کرنے لگا ۔ اس نے کہا : ہم زکاۃ روکے رہیں گے اور سب سے آخر میں بیعت کریں گے۔

ظہر کے بعد زیاد بن لبید کند یوں نے نماز عصر تک بیعت لیتے رہے ، اس کے بعد وہ گھر چلے گئے، دوسرے روز وہ حسب معمول زکوٰۃ وصول کرنے نکلے ، ان کا دل ہمیشہ سے زیادہ تو انا اور زبان چست تھی،  انہوں نے کسی کبندی کو جوان اونٹنی زکاۃ میں لی اور جب اس پر سرکاری مہر کا لفظ ‘‘ للہ’’ لگوانے لگے تو جوان نے چیخ کر کہا : ‘‘ اے حارثہ بن سُراقہ ، اے ابو مَعد یکَرِب ، میری اونٹنی  باندھ لی گئی !’’ حارثہ زیاد کے پاس آیا اور کہا : ‘‘ جوان کی اونٹنی چھوڑ دو اور اس کے بدلے دوسری لے لو۔’’ زیاد : ‘‘ اونٹنی نہیں ملے گی ، اس پر سرکاری مہر لگ چکی ہے۔’’ حارثہ : ‘‘ مرد آدمی یہ بہتر ہے کہ خوشی خوشی چھوڑ دو ورنہ تم کو مجبوراً  چھوڑنا پڑےگا۔ ’’ زیاد: ‘‘ تم چاہو کہ تمہاری پاس خاطر کے لئے اونٹنی چھوڑ دوں تو ایسا نہیں ہوگا۔’’ حارثہ نے خود اونٹنی کا بند کھولا اور اس کے پہلو پر ہاتھ مارا ، اونٹنی دوڑتی اپنے ساتھیوں کے پاس چلی گئی ، حارثہ نے یہ شعر پڑھے :۔

أطعنا رسول اللہ ما کان و سطَنا        فیا قومِ ماشأنی  و شأن أبی بکر

جب تک رسول اللہ زندہ تھے ہم نے ان کا حکم مانا             اے میری قوم ابوبکر سے ہمارا کیا تعلق !

أیُو رثھا بکراً إذامات بعدَہ     فتلک إذاً واللہ قاصمۃ الظہر

کیا وہ خلافت کا وارث اپنے لڑکے بکر کو بنائیں گے             تب تو خدا کی قسم ہماری کمر ٹوٹ جائے گی

مورخ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد زیاد کی کِندیوں سے لڑائی چھڑ گئی اور وہ صبح سے شام تک لڑا کرتے ، اس زمانہ میں ایک دن بڑی سخت لڑائی ہوئی اور بہت سے آدمی زخمی ہوئے،  ابو ہند مولیٰ بیاضہ کہتے ہیں کہ اس دن ایک کِندی نے للکار کر کہا : ‘‘ کوئی ہے جو مجھ سے ٹکّر لے’’ میں اس کے پاس گیا اور ہم دونوں پہروں نیزوں سےلڑتے رہے ، لیکن ہم میں سے کوئی غالب نہ ہوا، نیزہ بازی کے بعد ہم نے تلواریں سنبھا لیں لیکن اب بھی فتح کسی کو نصیب نہ ہوئی ، ہم دونوں  گھوڑوں پر سوار تھے، اس کے گھوڑے کو ٹھوکر لگی اور وہ گر پڑا میرا حریف  پیادہ ہوگیا، اُس نے میرے گھوڑے کے پیر کاٹ دیئے اور میں  زمین پر آگرا ، میں اس کی اور وہ میری طرف لپکا ، میں نے سبقت کر کے اس پر تلوار کی ایسی ضرب لگائی کہ اُس کا ہاتھ کندھے سے کٹ گیا اور اس کی تلوار زمین پر گر گئی اور وہ بھاگ کھڑا ہوا، میں نے اس کو جاپکڑا اور اس کا خاتمہ کردیا، اس کے بعد بغاوت فرد ہونے تک کسی کندی  نے کسی مسلمان کو فرداً فرداً لڑنے کے لئے نہیں پکارا ، اس سخت معرکہ کے دن لوگ لڑکر شام کو لوٹ گئے ، اور زیاد جاسوس مقرر کرکے اپنے گھر چلے گئے ، آخر رات میں ایک جاسوس نے آکر کہا : ‘‘ اگر آپ فتح  چاہتے ہیں تو دیر نہ کیجئے ، اس وقت بہترین موقع ہے۔’’ زیاد:‘‘ کیا بات ہے؟ ’’ جاسوس: ‘‘ کِندیوں کے چاروں  رئیس اپنی بستیوں کے بیرونی باغوں میں مدہوش پڑے ہیں ۔’’ زیاد فوراً سو آدمی لے کر چل دیئے اور ایک شخص کو تحقیق حال کے لئے آگے بھیج دیا ، اس نے دیکھا کہ ہر طرف خاموشی ہے اور لوگ سو چکے ہیں ،’’ زیادنے شبخون کردیا اور چاروں رئیسوں مخوس 1؎ (1؎ مِخوس بروزن منبر ، متن میں محرس ہے) مِشرَح 2؎ (2؎ مِشرح بوزن مفِتح) ، حمد 3؎ (3؎ متن میں حمد بحار مہملہ ، جمد ا شعث کا خسر بھی تھا)  ، ابَضِعَہ اور ان کی بہن عَمَرَّ دہ کو قتل کر ڈالا،  ایک قول یہ ہے کہ رئیسوں کی تعداد سات تھی، مِخوس ، مِشرح ، وَدِیعہ ، اَبضِعہ ، وَلیعہ ، اَشعث اور جَمد ، ان میں چار مارے گئے شبخون کے بعد زیاد اپنی  قیام گاہ لوٹ گئے ، صبح ہوئی  تو کِندیوں کی طاقت بہت گھٹ چکی تھی،  مورخ  کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ کا انتقال ہوا تو عَمَرَّدہ نے چھلنی بجا کر ان کی موت  پر خوشی کا اظہار کیا تھا، اِس وجہ سے زیاد نے اس کاہاتھ کاٹ دیا اور اس کو سولی پر چڑھا دیا، یہ پہلی عورت تھی جو رِدَّہ لڑائیوں میں قتل ہوئی۔

زیاد بن لبید نے ابو ہند کے ہاتھ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کو یہ مراسلہ بھیجا :‘‘ واضح ہو  کہ کِندیوں نے زکاۃ روک لی۔ اسلام سے باغی ہوگئے اور سخت جنگ کی ، میں نےباغیوں کی کمزوریاں معلوم  کرنے کے لئے  جاسوس مقرر کردیئے ،  ایک جاسوس نے مجھے آکر بتایا  کہ باغی غافل ہیں  ، میں نے رات میں جب وہ اپنے باغوں میں تھے، اُن پر حملہ  کرکے قتل  کردیا، یہ چار رئیس  تھے ، مِخوس، مِشرح، جَمد ، اَبصِعہ  او راُن کی بہن عَمَردّہ ، ان شجو ن سے ان کی حالت پتلی ہوگئی ہے ، میرے  کندھے پر تلوار  ہے اور ہاتھ میں قلم ، یہ عریضہ آپ کو ابو ہند  کی معرفت بھیج رہا ہوں ، میں نے ان کو تاکید کردی ہے کہ جلد از جلد آپ کے پاس  پہنچیں او ریہاں کے حالات سے آپ کو مطلع کریں، یہ خط مختصر ہے،تفصیلی باتیں آپ  کو ابو ہند  سے معلوم ہوں گی، والسلام ۔’’ ابوہند: ‘‘ میں فجر کی نماز ادا کرکے اپنی اونٹنی پر روانہ ہوا، میرے ہمارہ بنو قُتیرۂ 1؎ (1؎ بروزن جُہینہ ، متین میں قتیرہ بالنون ہے۔)کا ایک آدمی دوسری اونٹنی  پرمیرا رہبر تھا ،صنعاء تک مجھے پہنچا کر وہ واپس ہوگیا میں نے رواں دَواں حَضر مَوت  سے انیس دن میں مدینہ پہنچ گیا، میری اونٹنی   تھک کر شل  ہوچکی تھی ،جتنی  میں نے سواری کی اس کی اس زیادہ  پیدل چلا ، جب ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو وہ نماز کو جارہے تھے، مجھے دیکھ کر بولے: ‘‘ کیا خبر لائے ابو ہند؟’’ میں نے کہا : ‘‘خیریت ہے میں خوش کن خبر لایا ہوں ، چاروں رئیس مع اپنی  بہن عَمَرّدہ کے قتل نہ کردیئے گئے ،’’ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ :‘‘ میں نے مُغیرہ  بن شُعبہ کے ہاتھ زیاد کو خط بھیجا تھا کہ کندی رئیسوں کو قتل نہ کریں، کیا مُغیرہ تم کو نہیں  ملے ؟’’  میں نے کہا : ‘‘ نہیں میری ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔’’ مُغیرہ  راہ بھول گئے تھے اس لئے دیر میں پہنچے ، ابو بکر صدیق رضی  اللہ عنہ مجھ سے حالات پوچھنے لگے او رمیں ان کو خوش کن جواب دیتا رہا۔ انہوں نے  پوچھا ، اشعث بن قیس  کاطرز عمل کیسا تھا ؟’’میں نے کہا : ‘‘ وہ سب سے پہلا شخص ہے جس نے حَضر مَوت میں بغاوت کی ، وہ باغیوں کا سرغنہ  ہے ، بہت سے کِندی اس کے ہمنواہوکر اس کے گرد جمع ہوگئے  ہیں اور وہ بخُیر میں قلعہ بند ہوگیا ہے لیکن خدا  اس کو ذلیل و خوار کرے گا، میں جس وقت چلاہوں  زیاد اس کامحاصرہ کرنے کا ارادہ کررہے تھے۔’’ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ :‘‘ میں نے مُہاجر بن اَبی اُمیۃ کو لکھا ہے کہ جاکر  زیاد کی مدد کریں ۔’’  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مَہاجر کو اسود عُنسی  کے قتل کے بعد صنعا ء کا گورنر بنا کر بھیجا تھا اور وہ اس وقت وہاں موجود تھے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کے حسب الحکم وہ زیاد کی مدد کرنے چلے گئے ، کِندہ کی شاخ  بنو قتیرہ اسلام پر ثابت قدم  رہی تھی اور اس کا ایک فرد تک باغی نہ ہوا تھا، مُہاجر رسد لے کر آئے تو زیاد  کی طاقت بڑھ گئی، بخُیر کے محصورین نے دروازے بند کرلئے تھے، جب چاروں رئیس قتل کردیئے گئے تو بنو قتیرہ  ناراض  ہوکر اشعث بن قیس سے جا ملے، مُہاجر اور زیاد نے خوب جم کر بخُیر کا محاصرہ کرلیا،  محصورین کے حوصلے پست ہوگئے او رانہوں نے زیاد کو پیغام بھیجا کہ قلعہ سے دور ہوجاؤ اور ہمیں نکل جانے دو پھر تم قلعہ پر قبضہ کرلینا، زیاد نے کہلا بھیجا کہ ہم یہاں سے ایک بالشت  نہیں ہٹیں گے، ہم یا تو اسی جگہ جان دیں گے یا تم سے غیر مشروط ہتھیار ڈلوالیں گے، زیاد نے  محصورین کی گھبراہٹ دیکھی تو ان سے چال چلنے لگے، انہوں نے ایک خط لکھا اور بنو قُتیرہ   کے ایک آدمی کو چپکے سے دے کر دن بھر کی یا اس سے کم مسافت پر راتوں رات بھیج دیا، یہ شخص  خط لے کر زیاد کے پاس آیا اور انہوں نے اس کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنایا، خط کا مضمون  تھا : ‘‘ ابوبکر خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کی طرف سے زیاد بن لبید کو سلام علیک ، میں اس خدا کا سپاس  گذار ہوں جس کے سوا کوئی عبادت  کے لائق نہیں ، واضح ہو کہ مجھے تمہارے علاقہ  کےباغیوں کا حال معلوم ہوا ، جو دین اسلام  کو سمجھ لینے کے بعد خدائی  سزا  کی طرف سے دھوکہ  میں آکر باغی  ہوگئے  ہیں لیکن  خدا اُن کو ضرور ذلیل  و خوار  کرے گا، اُن  کا محاصرہ کرلو اور اسلام یا لڑائی کے سوا ان کی کوئی بات نہ مانو، میں نے تمہارے پاس دس ہزار جوان فلاں بن فلاں کی کمان  میں بھیج دیئے ہیں اور مزید پانچ ہزار بہادر فلاں بن فلاں کی قیادت  میں ، میں نے اُن کو حکم دیا  ہے کہ تمہارا کہا مانیں، میرا خط پانے کے بعد اگر تم فتحیاب  ہوتو اہل بخُیر کے ساتھ نرمی یا رحم  سے پیش  نہ آنا  ان کے قلعہ میں آگ لگا دینا ، اُن کے خورد نوش کا سامان برباد کردینا، ان کے جوانوں کو قتل کردینا اور بال بچوں کو قید کر کے میرے پاس بھیج دینا۔’’  یہ مراسلہ زیاد نے دشمن  کو دھوکہ  دینے کے لئے خود لکھا  تھا، جب اس کو خط کے مضمون کاعلم ہوا تو اس کے حوصلے پست ہوگئے ، اس کو اپنی تباہی کا یقین ہوگیا اور وہ اپنے کئے پر نادم ہوا۔ اَشعث نے کہا : ‘‘ محاصرہ  کی سختیاں  ہم کب تک جھلیں ، ہم ہمارے بچے بھوکوں مررہے ہیں ، مسلمانوں  کی ایسی فوجیں  بڑھتی چلی آرہی ہیں جن سے لڑنا ہمارے بس سے باہر ہے، ہم ان کی موجودہ محاصرہ فوج ہی ہے عہدہ بر آنہ ہوسکے دیکھ  لیا اب مزید رسد پہنچنے  والی ہے اس سے کیسے  لڑیں گے، بھوکوں مرنے سے تو تلوار             سے کٹ کر یا بال بچوں کی طرح غلام بن جانا  کہیں زیادہ بہتر ہے ۔  اہل قلعہ  نے کہا : ‘‘ ہم اِن لوگوں سے تو عہدہ بر آہونہیں  سکتے، دریں صورت آپ نے ہمارے لئے  کیا سوچا ہے؟ ‘‘ آشعث : قبل  اس کے کہ رسد آئے میں قلعہ سے باہر جاؤں گا  او  ر تمہارے امان لینے کی کوشش کروں گا۔’’اہل قلعہ : ‘‘ ضرور جائیے اور ہمارے لئے امان حاصل کیجئے ، زیاد سے آپ  ہی جیسا جری آدمی نمٹ سکتا ہے’’۔اشعث  نے زیاد  کو پیغام بھیجا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں مجھے ملنے کی اجازت دیجئے ۔’’ زیاد نے اجازت دے دی، اشعث  تنہائی  میں زیاد سے ملا او رکہا : ابن عم ! یہ لڑائی  ہمارے لئے بڑی  نا مبارک ثابت ہوئی ، میرےبہت  سے بھائی بند ہیں، اگر تم  نے مُہاجر بن اَبی اُمیہ کے حوالہ کردیا تو و ہ قتل کرڈالیں گے، ابوبکر یقیناً مجھ جیسے آدمی کو قتل کرنا پسند نہ  کریں گے، اُن کا تمہارے پاس حکم آچکا ہے جس میں انہوں نے کِندی  رئیسوں کے قتل  سے منع کیا  ہے، میں بھی ایک کِندی رئیس ہوں میں اپنے اور اپنے عزیزوں کے لئے تم سے امان طلب کرتا ہوں ’’۔زیاد: ‘‘ میں ہر گز تم  کو امان نہیں دوں گا ، تم بغاوت کے محرک اور سرغنہ ہو، تم نے ہی سارے کندیوں کو باغی بنایا ہے۔’’ اَشعث : ‘‘ مرد آدمی  پچھلی  باتوں کو بھول جاؤ اور ابھرتی ہوئی کامیابی  کی طرف دیکھو۔’’  زیادہ :‘‘ کیا مطلب؟’’ اشعث: میں بخیر کا دروازہ  کھول دوں گا۔ ’’ زیاد نے اشعث  اور اس کے رشتہ داروں کے جان و مال دے دی اور یہ طے کیا کہ اشعث کو ابوبکر صدیق  کے پاس بھیج  دیا جائے اور وہ  اپنی صوابدیدہ کے مطابق جیسا چاہیں اس کے ساتھ سلوک کریں  اَشعث نے قلعہ بخیر کے دروازے کھول دیئے ، جب وہ صلح  کی بات چیت  کرنے آیا تھا تو مُہاجر بن اَبی  اُمیہّ نے زیاد کو مشورہ دیا تھا کہ : ‘‘ اس کو قلعہ لوٹادو، وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے،  پھر ہم اس کی گردن اڑادیں گے اور اس طرح بغاوت کی جڑکٹ جائے گی۔’’زیاد امان دینے کے حق میں تھے، انہوں نے مُہاجر کا مشورہ  نہ مانا اور کہا : ‘‘ اگر میں نے اشعث کو قتل کردیا تو ابو بکر ناراض ہوں گے، کیونکہ چاروں رئیسوں کے قتل سے باز  رہنے کا حکم دے چکے ہیں، وہ اگر قتل کرنا چاہیں گے تو خود کرلیں گے ، میں اشعث اور اس کی جان و مال کو امان دیتا ہوں اور اس کو صرف وہ چیزیں لے جانے دوں گا  جن کا لے جانا آسان  ہے، اس کی باقی مال  و متاع سرکاری ہوجائے گی :’’ایسا ہی ہوا ، باغیوں نے بخیر کے دروازے کھول دیئے،  لڑائی  کے مطلب کے مرد باہر لائے گئے ، زیاد نے سات سو معزز کندیوں کو بیک وقت قتل کردیا ، ان لوگوں نے اشعث کو لعنت ملامت کی او رکہا کہ : ‘‘ اس نے ہم سے غداری کی ہے،  اس نے صرف اپنے اور اپنے رشتہ داروں  کے لئے امان لی اور ہمارے لئے  نہیں لی،  حالانکہ وہ کہہ کر یہ گیا تھا کہ سب کے لئے امان لوں گا ہم نے یہ سمجھ کر ہتھیاڑ ڈالے کہ ہمیں امان دی جاچکی ہے اور اب ہمیں قتل کیا جارہا ہے۔’’  زیادنے کہا : میں نے تم کو امان نہیں دی۔’’  انہوں نے  کہا : ‘‘ ٹھیک ہے ، ہمیں تو اشعث  کے دھوکے  نے تباہ کیا’’۔

واقدی : ‘‘ ابو مُغیث  کے سند پر فتح بخیر  کے بارے میں ایک دوسری روایت بیان کی گئی ہے۔ ابو مُغیث  کہتے ہیں کہ میں اہل بُخیر  کی صلح کے موقع پر موجود تھا، اشعث  نے زیاد بن لبید  سے یہ معاہدہ کیا کہ محصور ین کے سترّ آدمیوں  کو امان دی جائے، چنانچہ ستر کو امان دے دی گئی اور وہ مع  اشعث کے قلعہ سے باہر آگئے اشعث اکھترواں تھا ، زیاد نے کہا : ‘‘  مجھے اس شرط پر  امان دے دوں  کہ  میں ابوبکر  کے پاس چلا جاؤں  اور وہ جیسا چاہیں  میرے ساتھ سلوک  کریں ۔’’ زیاد نہ یہ شرط مان لی، لیکن پہلی روایت زیادہ مستند ہے۔

ابو بکر صدیق نے نُہیَک بن اَوس بن خَزَمہ 1؎ کو یہ فرمان بھیجا تھا :’’ (1؎ متن میں خَزَمہ مہملہ۔)  اگر اہل  بخیر  پر تم کو فتح حاصل ہوتو ان کو زندہ رکھنا۔’’ نُہَیک رات کو زیاد بن  لبید  کے پاس پہنچے ، اسی دن صبح  کے وقت قلعہ  کے سات سو آدمی  ایک ساتھ مارے  جا چکے تھے، نُہَیک  کہتے ہیں کہ میں نے مقتولین  کو دیکھا  تو میری آنکھوں  کے سامنے بنو قُریظہ کے مقتولین کا منظر آگیا جن کو رسول اللہ نے  قتل کیا تھا ، زیاد  نے مقتولین  کی لاشوں کو دفن کرنے یا چھپانے  کی اجازت  نہیں دی وہ  سب درندوں  اور گوشت خور پرندوں  کا لقمہ  بن گئے، یہ بات اُن لوگوں  کو قتل سے زیادہ شاق گذری  جو بچ رہے تھے،  باغی  جہاں جس  کا منہ اٹھا بھاگ گئے ،ان  میں سے جو مسلمانوں  کے ہاتھ آجانا قتل کردیا جاتا، زیاد بن لبید  نے قیدی عورتوں ، بچوں نیز بنو قُتیرہ کے اسّی آدمیوں کو مع اشعث  بن قیس کے نُہَیک کی ہمراہی  میں مدینہ بھیج دیا۔ عبدالرحمٰن  بن حُویَرث : ‘‘ جس دن اشعث مدینہ لایا گیا میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ پیروں  میں بیڑیاں پڑی تھیں  ، نُہَیک نے قیدی عورتوں بچوں اور اشعث کو رَملہ بنت حارث کے گھر ٹھہرایا، جب ابوبکر صدیق نے اشعث سے گفتگو کی تو وہ کہنے لگا: ‘‘ حنیفہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،  میں نے اسلام نہیں چھوڑا بلکہ میں نے روپئے  کی مامتا  میں زکاۃ رو ک لی تھی۔’’ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ :‘‘ کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ ( رسول اللہ کے بعد)  عربوں نے اپنے آبائی معبودوں کی پوجا پھر شروع کردی ہے اور کیا ابوبکر اس در افتادہ علاقہ میں ہماری  سرکوبی کیلئے لشکر  بھیجیں  گے، اس پر تم سے ایک بہتر شخص ( مرأ القیس بن عابس) نے تمہارا  جواب دیتے ہوئے کہا تھا: ابوبکر کا عابل تم کو بغاوت  کی اجازت  نہیں دے گا، اور جب تم نے پوچھا : کون عامل؟’’  تو اس نے کہا تھا : ‘‘  زیاد بن لبید’’۔   اس پر تم مسکرائے تھے، اب مجھے بتاؤ تم نے زیاد کو کیسا پایا ، کیا وہ مرد آدمی نہیں نکلا؟ ’’ اشعث : ‘‘ بے شک پورا مرد آدمی ۔’’ اس کےبعد اشعث نے ایک گفتگو میں کہا : ‘‘ بھلے آدمی  قیدی عورتوں او ربچوں کو رہا کر دو ، مجھے اپنی جنگوں کے لئے  بقید حیات رکھو او رمیرا نکاح  اپنی بہن اُم فرَوہ سے کردو ،  میں اپنے کئے پر تائب ہوچکا ہوں اور زکاۃ ادا کرکے میں نے اسلام کی وفاداری پھر قبول کرلی ہے۔’’  ابوبکر صدیق  نے اس کی خواہش  پوری کی اور اُم فرَوہ سے شادی بھی کردی، اشعث عمر فاروق کے خلیفہ  ہونے تک مدینہ میں مقیم رہا پھر جب لوگ فتح عراق کی مہم پر جانے  لگے تو وہ بھی سعد بن اَبی وَقَّاص  کے ساتھ  چلا گیا۔

مورخ کہتے ہیں کہ بنو کِندہ ( قبیلہ ٔ اشعث) کے چودہ آدمی ابوبکر صدیق کے پاس آئے اور عرض کیا کہ زرِ مخلصی لے ہمارے عورتوں بچّوں کو چھوڑ دیجئے  ، ہم نے اسلام نہیں چھوڑا تھا، ہم نے صرف زکاۃ روک لی تھی، سارے کِندی پھر سے اسلام کے وفادار ہوگئے ہیں  اور انہوں نے برضاو رغبت  آپ کی بیعت کرلی ہے۔’’  ابوبکر : ‘‘ کب؟ اُسی وقت نا جب تلوار نے اُن کو رگڑ ڈالا ’’۔ کندی وفد نے کہا : ‘‘ خلیفۂ رسول اللہ ، اشعث نے ہمارے ساتھ غدار ی کی ہے ، ہم سب جب قلعہ بخیر) میں تھے تو وہی  سب سے زیادہ ہراساں تھا ، وہی پہلا شخص ہے جس نے بغاوت کی اور زکاۃ دینے سے انکار کیا او رہم کو بھی اس کی ترغیب دی، ہمارا لیڈر بنا اور اس کی لیڈری ہمارے لئے نہایت منحوس ثابت ہوئی،  اس نے  ہم سے کہا، میں جاتا ہوں اور سب کے لئے امان لے کر آؤں گا اور اگر اس  میں ناکام رہا تب بھی تمہارے پاس لوٹ آؤ ں گا ، پھر جو تمہارا انجام ہوگا وہی میرا ہوگا  لیکن اس نے امان لی اپنے اپنے  خاندان او رموالی  کے لئے ہمیں گرفتار کر کے قتل کردیا گیا ۔’’ ابوبکر صدیق : ‘‘  میں نہ نُہیَک بن اَدس کے ہاتھ بھیجے ہوئے خط میں زیاد او رمُہاجر  دونوں کو  ہدایت کی تھی کہ اہل بُخیر  کو قتل نہ کرنا اور ان سے اس شرط پر صلح  کرلینا کہ ان کی قسمت  کا فیصلہ  میں کروں ۔’’ کِندی وفد  کے لیڈر نے کہا : ‘‘ بخدا ہمارے سات سو آدمی بیک وقت قتل کر دیئے گئے  ، خلیفہ   رسول اللہ ہم کو آپ  سے حسنِ سلوک  کی امید تھی ۔ ’’ ابوبکر صدیق             نے کِندی وفد کی یہ درخواست منظور کرلی کہ اُن کے قیدی بال بچوں کو زر مخلصی لے کر رہا کردیا جائے ، ابوبکر صدیق نے منبر پر آکر کہا : ‘‘ حاضرین !  کِندیوں کو ان کے بال  بچے لوٹا  دیجئے ، کسی مسلمان کے لئے جو خدا اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو یہ جائز نہیں کہ ان قیدیوں میں سے فرد واحد تک کو چھپائے ، میں نے زرِ مخلصی کی رقم دو سو روپئے ( چار سو درہم) مقرر کردی ہے۔

ابوبکر صدیق نے زید بن ثابت کو زرِ مخلصی وصول کرنے پر مامور کیا اور ان کو یہ ہدایت بھی کہ وصول شدہ رقم سے خُمس ( حکومت کا حصہ) الگ کرلیں۔ واقدی : میں نے مُعا ذبن محمد سے پوچھا : ‘‘ کیا  تم بتاسکتے  ہو کہ ابوبکر نے زرِ مخلصی کے تین چوتھائی کا کیاکیا؟ ’’ مُعاذ بن محمد نے کہا : ابوبکر صدیق نے اس کو مجاہدین بخیر  کے ان حصوں میں شامل کردیا جو زیاد بن لبید اور مُہاجر بن اَبی اُمیہّ نے نکالے تھے، یعنی جو سامان او رہتھیار بخیر اور اس سے متعلقہ  معرکوں میں دستیاب ہوئے تھے  وہ سب مالِ غنیمت  قرار دیا گیا۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے زیاد اور مہاجر کی پشت پناہی کے لئے عِکرِمہ بن ابی جَہل کی قیادت میں جو اس وقت عُمان کے بڑے شہرت دَبا میں تھے، سات سو آدمیوں کی کمک بھیجی تھی۔ عِکرمہ فتح بُخیر کے چار دن بعد پہنچے ، ابوبکر صدیق نے مال غنیمت میں ان کو بھی شریک کیا۔

بخُیر کے قیدی عورتوں بچوں میں سے ایک بڑُھیا نے اَشعث بن قیس کو دیکھ کر کہا : ‘‘ قوم کے کتنے بڑے لیڈر ہو تم، تم نے اپنے اپنے خاندان او رموالی  کے لئے امان لی او رہمیں قیدی بننے کے لئے چھوڑ دیا ، تم نےاپنی غداری سے ہمارے مردوں کو قتل کروا ڈالا اور خود غرضی سے کام لے کر ان کو تباہی کے کنڈ میں دھکیل دیا، انہوں نے تم کو اپنا لیڈربنایا لیکن تمہاری  لیڈری  کتنی بد شگون  نکلی، خدا کی قسم وہ کافر نہیں ہوئے تھے، انہوں نے روپئے  پیسے کی محبت میں زکات روک لی تھی ، اس قصور کی سزا ان کو قتل سے دی گئی اور  تم جو اسلام سے منحرف ہوچکے تھے صاف بچ نکلے  کسی قوم کا لیڈر تم سے زیادہ اپنی قوم کے لئے منحوس ثابت نہیں ہوا!’’ اشعث کے یہ شعر جو اس نے بُخیر کے سات سو مقتولین کے سوگ میں کہے لوگوں کو ہنوز یاد ہیں:۔

فلا رُز أ إلاَّیوم أقُرع بینھم      وما الدھر عند ی مدھم بأ مین

مصیبت کی گھڑی وہ تھی جب مجھے اہل بخیر کےلئے قرعہ  ڈالنا پڑا،  ان کو کھو نے کے بعد میں زمانہ  پر بھروسہ نہیں کرسکتا ۔

لعَمری و ماعمری  علی بھیّن        لقد کُنتُ بالقتلی لحَقّ ضنین

میری جان کی قسم اور جان مجھ پر بار نہیں         بخیر کے مقتول مجھے بہت عزیز تھے

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اشعث کے ماتمی  شعروں کا موضوع وہ چار رئیس تھے جن کو زیاد نے شبخون کرکے قتل کردیا تھا، اس روایت کی رو سے شعر اس طرح تھے :۔

لعَمری و ما عمر ی عَلیَّ بھیّن        لقد کنتُ با لأ ملاک حق ضنین

میری جان کی قسم اور جان مجھےبھاری نہیں       کندی رئیس مجھے بے حد عزیز تھے ۔

فأن یک ھذا الدھر مَزَّن بینھم                      فما الد ھر عندی  بعد ھم بأ مین

زمانہ نے ان کو مجھ سے چھڑا کر ایسی غداری کی ہے کہ  میں پھر کبھی اس پر بھروسہ نہیں کرسکتا ۔

URL:

 

Loading..

Loading..