New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 02:01 AM

Urdu Section ( 27 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Tarikh-e-Ridda Part- 15 (تاریخ ردّہ حصہ ( 15

 

خورشید احمد فارق

بغاوت بحرین 4؎

(4؎ بحرین سے مراد جزائر بحرین نہیں جیسا کہ آج کل سمجھا  جاتا ہے ، بلکہ وہ ساحلی پٹی مراد  ہے جو عراق کے ڈیلٹا سے موجود ریاست قسطر تک پھیلی ہوئی تھی۔ بحرین کے خاص شہر یہ تھے :۔ قطیف ( وسطی بحرین آجکل بھی موجود ہے) اَرہ ، ہجر، مینونہ، زارہ ، جُواثار ، سابور ، غّابہ، مشقَّر ، وارین خطّ (مشرقی بحرین ) معجم البلدان 2/73)

یعقوب زُہری  ، اسحاق بن یحییٰ 5؎ (5؎ بن طلیحہ  بن عبیداللہ تیمی مدنی ، تابعی محدث 164ھ میں وفات پائی، تہذیب التہذیب 11/254۔255)اور یہ اپنے چچا عیسیٰ بن طلحہ 6؎ (6؎ بن عبیداللہ  تیمی مدنی ، تابعی  محدث 13 ھ میں انتقال ہوا تہذیب التہذیب 8/215) کی سند پر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جب عرب  مرتد ہوئے تو شاہ مدائن (کسِریٰ شِرَوَیہ) نے اپنے مشیروں سے کہا : آپ کی رائے  میں کس عربوں کے ستھراؤ کی مہم سپرد کی جائے،  اُن  کے نبی کا انتقال ہوچکا ہے اور وہ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں ، البتہ  خدا اگر ان کی حکومت کو باقی رکھنا چاہے گا تو وہ سب سے افضل آدمی کو اپنا خلیفہ  بنائیں گے، اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کی حکومت  اور اقتدار قائم رہے گا اور وہ فارسیوں اور ر ومیوں  دونوں کو ان ملکوں سے نکال دیں گے۔’’ مشیروں نے کہا : ‘‘ اس مہم کے لئے ہم مُخارق بن نعمان کانام تجویز کرتے ہیں جو نہایت لائق اور کار گذار آدمی ہے ، وہ اس خاندان کا روشن چراغ ہے جس نے عربوں کو رام کرکے زیر فرمان کرلیا تھا اور بکر بن وائل کا طاقتور قبیلہ آپ کا پڑوسی ہے، ان کی فوج مُخارق کی کمان  میں بھیج دیجئے۔’’ شاہ مدائن نے بکر ( بن وائل) کے چھ سو چودہ اشخاص کو مُخارق کے ساتھ کردیا ، ہَجَر کے باشندوں نے ( جن میں فارسی اور عیسائی آباد تھے) بغاوت کردی، حسن بن آبی الحسن 1؎ ( 1؎ ابو سعید بصری ، مشہور فقیہ 110 ھ میں انتقال ہوا۔تہذیب التہذیب 2/263۔270) راوی ہیں کہ قبیلہ عبدالقیس کے لیڈر  جارُو د نے تقریر کی او رکہا :۔

صاحبو! آپ جانتے ہیں کہ میں کتنا پکّا عیسائی تھا، نیز یہ کہ میرے ہاتھوں آپ کو ہمیشہ فائدہ ہی پہنچا ہے،بلاشبہ خدا نے ایک نبی بھیجا اور ان الفاظ میں اس کو اور ہم سب کو بتادیا کہ ایک دن اس کو مرنا ہے ۔ إنک مَّیت و إِنَّھمُ مَیَّتون ، دوسرے  موقع پر اس نے پھر کہا : ‘‘ محمد ( خدا کی طرح جادواں نہیں) وہ تو بس ایک پیغامبر ہے، اس سے پہلے بھی نبی آئے اور فوت ہوئے ، کیا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا قتل کردیئے جائیں  تو تم اسلام چھوڑ دوگے، اور جو ایسا کرے گا ( وہ خود نقصان اٹھائے گا) اور خدا کا ہر گز کچھ نہیں بگاڑ گا وَمَا مُحمدُ إ لاَّ رَسُول ُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلہ الرَّسُلُ أَفأَ مَّاتَ أوقُتِلَ أ نقَلَبْتُم عَلیٰ أعْقَا بِکُمْ وَمَنْ یَنْقَلِبْ عَلیٰ عَقَبَیہِ فَلَنْ یَضُرَّ اللہ شیئا ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جارُود نے یہ تقریر کی : ‘‘ صاحبو! حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں آپ کی کیا رائے  ہے؟’’ حاضرین : ‘‘ ہم شہادت دیتے ہیں  کہ وہ نبی  تھے ۔’’ جار ود : ‘‘ اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا  کوئی عبادت  کے لائق نہیں اور محمد اس کے رسول ہیں ، دوسرے انبیا ء  کی طرح انہوں نے ایک مقرر ہ وقت تک زندگی بسر کی اور انہی کی طرح ایک مقررہ وقت پر ان کا انتقال بھی ہوگیا ’’۔ تقریر کا نتیجہ یہ ہوا کہ قبیلہ عبدالقیس کا کوئی فرد مرتد نہیں ہوا۔

جب عبدالقیس  کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی تالیف قلب کے لئے کہا تھا : ‘‘ عبدالقیس مشرق کے بہترین لوگ ہیں ۔’’ پھر یہ دعا مانگی : مالک ! عبدالقیس کی خطائیں معاف فرما اور ان کے باغوں کی پیداوار میں برکت عطا کر۔’’ وفد کے ارکان دعا سے خو ش  ہوکر وطن سے لوٹے اور گھر پہنچ کر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے لئے بڑھیا پھلوں کا ایک تحفہ بھیجا اور رِدَّہ بغاوت کے زمانہ میں اسلام پر قائم رہے۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلاء بن حَضرمی 1؎  (1؎ صحابی ، حلیف بنی امیہ ،  استیعاب 2/5۔5) کو برطرف کر کے اَبان 2؎ بن سعید کو بن عاص کو بحرین کا گورنر مقرر  کیا  تھا، (2؎ ایک با اقتدار قرشی  عرب کے لڑکے تھے، 6ھ کے بعد مسلمان ہوئے، 13 ھ اور بقول بعض 15 ھ میں انتقال ہوا، استیعاب 1/ 36۔37) اَبان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبدالقیس  کے ساتھ باہمی امداد  کا معاہدہ کرنے کی اجازت مانگی ، انہوں نے دے دی او رمعاہدہ ہوگیا، جب اَبان کو معلوم ہواکہ بحرین کے اکثر وفادار شہروں  میں بغاوت ہوگئی ہے نیز یہ کہ باغی ان کو نکالنے بڑھے چلے آرہے ہیں تو انہوں نے عبدالقیس کے اکابر سے کہا کہ مجھے ( اپنی پناہ میں) مدینہ پہنچا دو، میں چاہتاہوں کہ موجودہ حالات  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے پاس رہوں ، مجھ جیسے آدمی کے لئے اُن  سے دور رہنا مناسب نہیں، میں چاہتا ہوں  کہ انہی کے ساتھ جیوں  اور انہی کے ساتھ مروں’’۔ عبدالقیس کے اکابر نے کہا : ‘‘ ایسا نہ کیجئے ، ہمارے دلوں میں آپ کی بے انتہا منزلت ہے ، اگر آپ چلے گئے تو ہم اور آپ دونوں مطعون ہوں گے، لوگ کہیں گے : جنگ  و قتال سے ڈر کر بھاگ گیا۔’’ اَبان بن سعید نےان کی بات نہ مانی، اکابر نے عبدالقیس کے تین سو آدمیوں کا ایک دستہ ان کو مدینہ پہنچانے  کے لئے ساتھ کردیا، جب وہ مدینہ پہنچے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے انداز برہمی سےکہا : ‘‘ تم عبدالقیس  کے پاس ڈٹے  کیوں نہ رہے جب وہ اسلام پر قائم تھے۔’’ اَبان رضی اللہ عنہ   نے عبدالقیس کی تعریف کی اور ان کی  وفاداری کو سراہا ۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بحرین کے سابق گورنر عَلا ء بن  حَضرَمی کو طلب کیا  اور سولہ آدمی دے کر ان کو بحرین بھیجا اور کہاکہ وہاں عبدالقیس کی مدد سے باغیوں کا مقابلہ  کریں ۔عَلاء بن عبدالقیس سے جاملے۔ ثمامہ بن اُثال حَنَفی کا بیان ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میری قوم بنو سُحَیم کے جوانوں سے عَلا ء کی مدد کی جن میں میں  خود بھی  شامل تھا ، عَلا ء اپنی فوج لے کر نکلے اور جُو اثا 1؎ (1؎ ضلع خط کا صدر مقام)  کے قلعہ بند شہر  میں جہاں عبدالقیس  کا عمل دخل تھا، فرد کش ہوئے،  مُخارِق  بن نُعمان 2؎ (2؎ فرستادہ کسریٰ اور باغیوں  کالیڈر)  طاقتور قبیلہ بکر بن دائل کے ساتھ مُشقر 3؎ (3؎ ضلع ہجر کا سب سے بڑا قلعہ بند شہر جنوب مشرق میں ) میں خیمہ زن  تھا، علا ء اس سے لڑنے روانہ ہوئے  ، بڑی  سخت جنگ ہوئی دونوں طرف کے بہت سے آدمی  گھائل ہوئے جن میں اکثر یت باغیوں  کی تھی،  جارُود،  (عبدالقیس کا لیڈر) بحرین کے ساحلی ضلع خَطّ سے کمک بھیج کر عَلاء   کی مدد کرتا رہا ۔مُخارق نے حُظم  بن شریح 4؎ (4؎ قبیلہ قیس  بن ثعلبہ کا لیڈر ہَلاوزی نے اس کا نام شریح بن ضُبَیعہ دیا  ہے حُطم لقب تھا  ، فتوح لبلدان 90) کو خط سے فارسی گورنر کے پاس رسد کے لئے  سفیر بنا کر بھیجا ، اس نے گھوڑا فوج ( اَساوِرہ)  کے چند دستے اس کے ساتھ کر دیئے ۔ حُطَم نے رَوم  1؎ القَّداح؟ (1؎ اس نام کا کوئی شہر یا مقام ہم کو نہیں معلوم ہوسکا ، یا قوت نے بحرین  میں صرف روم نامی ایک قصبہ کی نشاندہی کی ہے  ممکن ہے ا س کا پورا نام روم القداح ہو۔ معجم البلدان 4/ 245 و تاج العروس 8/308) آکر منزل کی، اس نے قسم کھائی کہ جب تک ہَجَر فتح نہ ہوجائے گا شراب کی صورت نہ دیکھے گا اس کے ساتھیوں نے قسم توڑنے کے لئے جھوٹ موٹ کہہ دیا کہ تم جہاں فروکش ہوئے ہو وہ ہَجَر ہی ہے ، خطّ کے فارسی گو رنر  نے جارُدو کوبطور ضمانت اپنی حراست میں لے لیا،  عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حُطَم نے جارُدو کو گرفتار کر لیا اور ان کے پیروں  میں بیڑیاں ڈال دیں،  اس کے بعد حُطم اور ایک دوسرا بحرینی  سالار جابرِ عِجلی فوج لے کر روانہ ہوئے اور جواثاء میں عَلاء رضی اللہ عنہ  کا ( جن کے پاس کم فوج تھی) محاصرہ کر لیا، اس موقع پر عبدالرحمٰن بن خُفاف 2؎  نے جس کا تعلق عامر بن صَعصَعہ کے قبیلہ سے تھا ، (2؎ بروزن غُراب) یہ شعر کہئے :۔

ألا أ بلغ أ بابکر رسولا                       وَفتِیانَ المدینۃ أجمعینا

براہ کرم ابوبکر اور مدینہ کے ذی اثر لوگوں کے پاس یہ پیغام پہنچا دو

فھل لکھم إلی نَفَریسیر                  مقیم فی جُوا ثاء مُحصَرینا

اگر تم ان مٹھی بھر لوگوں کو جو جُواثار کے قلعہ میں محصور ہیں زندہ دیکھناچاہتے ہوتو ان کی مدد کرو

کأنَّ  دما ء ھم فی کل فَجّ 3؎ (3؎ متن میں شمیس)  شِعاع الشمس یغشین العیونا

ان کے لال لال خون ہر سڑک پر سورج کی شعاعوں کی طرح آنکھیں چند ھیارہے ہیں

تَوَکلَّنا علے الرحمٰن إنا                  وجد نا االنَّصر للمتو کلینا

ہم خدائے مہر بان پر توکل کرتے ہیں              اور وہی کامیاب ہوتے ہیں جن کا بھروسہ اس پر ہو

ایک رات عَلاء بن حَضرمی  اور ان کے ساتھیوں نے دشمن  کے کیمپ سے شور  کی آواز سُنی  انہوں نے اس کی وجہ معلوم  کرنا چاہی ، عبداللہ بن حَذَف 4؎ نے کہا : (4؎ عبداللہ صحابی نہ تھے ، بحرین  کے ایک مسلمان اور شاعر تھے ، ابن حجر نے مذکورہ بالا اشعار  کا قائل و شیمہ  کی کتاب الردہ  کے حوالہ سے انہیں عبداللہ کو بتایا ہے اِصابہ 3/88) ‘‘میں نے جاکر خبر  لاتا ہوں ، ‘‘مجھے ایک رسی سے قلعہ کے باہر لٹکا دو۔’’ان کو لٹکا دیا گیا، وہ دشمن کے کیمپ میں گئے اور اَبجر بن جابر کے پاس پہنچے جس کاتعلق قبیلہ ٔ عِجل   سے تھا  اور عجِل ہی  کی ایک عورت عبداللہ بن حَذَف کی ماں تھی ۔ اَبجر نے  پوچھا : ‘‘ تجھے کبھی سیکھ نصیب نہ ہو، کیسے آیا تو؟ عبداللہ : ‘‘مامو ! بھوک اور محاصرہ کی تکلیف سے مجبور ہوکر آیا ہوں اور گھر جانا چاہتا ہوں ، میرے زادِ راہ کا بند وبست  کردو۔’’اَبجر: ‘‘ بندوبست کردوں گا ، لیکن  مجھے تیرے ارادے بُرے معلوم ہوتے ہیں ، تو بُرا بھانجہ  ہے جو اس وقت آیا ہے۔’’  اَبجر  نے اسے کھانا اور ایک جوڑ جو تا دے کر کیمپ سے نکالا اور اس کے ساتھ بریزا ؟ تک خود گیا او رکہا : ‘‘ اب تو سیدھا  چلا جا ، بہت بُرا بھانجہ ہے تو جو رات  کو ایسے ناوقت آیا ۔’’  عبداللہ بن حَذَف اس طرح چلے  گویا قلعہ کو نہیں لوٹیں گے ، کافی دور نکل کر مڑے  اور اس جگہ آکر جہاں اترے تھے اسی کے ذریعہ قلعہ پر چڑھ گئے، مسلمانوں نے پوچھا : ‘‘ کیا خبر ہے؟ ‘‘ عبداللہ : خدا کی قسم وہ نشہ سے چور ہیں ، کچھ شراب فروش کیمپ میں شراب لائے او رانہوں نے خریدی اور پی کر بدمست ہوگئے، اگر ان کا ٹھکانا چاہتے ہو تو یہ بہترین موقع ہے۔’’ مسلمان قلعہ سے نکلے اور دشمن پر ٹوٹ پڑے اور جس طرح  چاہا ان کو قتل کیا۔

اِسحاق بن یحییٰ بن طَلحہ 1؎ : (1؎ دیکھئے فٹ نوٹ 5۔142) قلعہ میں علاء رضی اللہ عنہ  کے ساتھ تین 326 مہاجر تھے، انہوں نے رات میں دشمن کے کیمپ پر جب وہ نشہ میں مست تھے  ، چھاپہ مارا اور خوب قتل  کیا، حتیٰ کہ ان کا ایک آدمی تک جاں برنہ ہوسکا ، نشہ میں چور حطَم نے جھپٹ کر گھوڑے کی رکاب میں پیر ڈالا اور چیخ کر کہا : ‘‘ ہے کوئی جومجھے گھوڑے پر سوار کرادے ؟’’ اس کی آواز عبداللہ بن حَذَف نے سنی، وہ حُطَم کے پاس آئے اور پوچھا : ‘‘ اَبو ضُبَیعۃ 2؎؟ (2؎ بروزن جُہینہ) : ‘‘ حُطَم : ‘‘ ہاں ۔’’ عبداللہ :‘‘ ہو میں چڑہا ئے دیتا ہوں ۔’’ قریب آکر انہوں نے حُطَم کے تلوار ماری اور اس کا خاتمہ کردیا، دوسرے سالار اَبجربن جابر عِجلی کا کسی نے پیرکاٹ دیا اور اس کا اتنا خون بہا کہ وہ جاں برنہ ہوسکا ، اس کا پیر کٹا تو اس نے عبداللہ بن حَذَف سے غضبناک ہوکر کہا : ‘‘ تو مارا جائے حَذَف بچے، کتنا منحوس ہے تو!’’ ایک قول یہ ہے کہ حُطَم جب گھوڑے پر سوار نہ ہوسکا تو اُس نے آواز لگائی : ‘‘ ہے قیس بن ثعلیہ ( قبیلہ) کا کوئی آدمی جو مجھے گھوڑے پر باندھ دے؟’’ تو  عَفیف بن مُنذر نے اس کی آواز پہچان لی اور آکر کہا :’’ اَبو ضُبَیعۃ ، لاؤ میں  پیر باندھ دوں’’۔ حُطَم نے پیر دیا ، عفیف  نے جھٹ ران سے اس کی ٹانگ صاف کردی اور اُسے چھوڑ کر چلا گیا۔ حُطَم  چیخا : ‘‘ میرا خاتمہ کرتا جا ۔‘‘ عفیف : ‘‘ میں چاہتا ہوں تم خوب تکلیف اٹھا کر مرو۔’’ عفیف کے کئی بھائی اس رات زخمی ہوئے تھے ( اس لئے خار کھائےہوئے تھے) اس رات مِسمَع بن سِنان ابو المُسامعہ بھی قتل ہوا، کیمپ کے باقی لوگ بھا گ گئے اور بحرین کے ایک الگ تھلگ علاقہ میں مَفروق بن شیبانی 1؎ کے پاس پناہ لی۔ (1؎ قبیلہ شیبان بن ثعلبہ کالیڈر) ۔

اسحاق  بن یحییٰ بن طلحہ 2؎ : (2؎ فٹ نوٹ دیکھئے 6۔136) مسلمانوں کے ہاتھ جو گھوڑے اور دوسرا سامان آیا وہ علاء رضی اللہ عنہ جوُ اثار کے قلعہ میں رکھوا دیا ، اس کے بعد علاء رضی اللہ عنہ مسلح ہوکر نکلے ، دشمن سے ان کا سخت مقابلہ ہوا، دشمن شہر ( مُشَقّر صدر مقام ہَجر) چھوڑ کر صدر دروازہ پر آجما ، علاء رضی اللہ عنہ  نے وہاں بھی اس کا  قافیہ تنگ کردیا ، مُخارق اور اس کی فوج نے حالت نازک دیکھ کر مسلمانوں سے کہا :ہم لڑائی بندکرنے کو تیار ہیں بشرطیکہ تم ہم کو گھر لوٹ جانے دو۔’’ علاء رضی اللہ عنہ نے مشیروں  سے صلاح لی تو انہوں نے دشمن کی درخواست ماننے کی تائید کی ، مُخارق  اور اس کے حلیف اپنے اپنے علاقہ کو لوٹ گئے ، شہر کے باشندے خود کو کمزور پاکر صلح کے لئے آمادہ ہوگئے اور امان مانگی،  علاءرضی اللہ عنہ نے صلح کرلی اس شرط  پر کہ اہل شہر کا ایک تہائی مال و متاع اور بیرون شہر کی کل جائیداد اور مسلمانوں کو دے دی جائے ، انہوں نے بہت سا روپیہ اور سامان ( بطور خمس) مدینہ بھیج دیا۔

ایک قول یہ ہے کہ اس رات جب عبدالقیس ، بکر بن وائل  کو بری طرح قتل کررہے تھے تو بہت  بکریوں  نے یہ نعرہ لگایا : ‘‘ عبدالقیس ، وہ آیا مفروق بن عمر و (شیبانی) بنو بکر کی بڑی فوج کے ساتھ ۔ اس موقع پر عبداللہ بن حَذَف نے یہ شعر کہے:

لا توُ عد و نا ہمفر وق وأُ سرتہ          إن یأ تِنا یَلقَ منا سُنّۃ الحُطَم

مفروق اور اس کے خاندان  کی آمد سے ہم کو مت ڈراؤ، اگر وہ آیا تو اس کا حشر وہی ہوگا جو حُطَم کا ہوا

وان ذا الحی من بکرو إن کژُوا            لَاُ مۃً داخلون النار فی الأ مم

بکر بن وائل  کا یہ قبیلہ  چاہے کتنا بڑا ہو             اس کاٹھکانہ بہر حال جہنم ہے

صلح کے بعد عَلاء بن حَضر می رضی اللہ عنہ فوج لے کر خطّ کی طرف روانہ ہوئے  اور اس کے ساحل پر اُترے ، وہاں ایک عیسائی ان کے پاس آیا اور بولا: اگر  میں ایسی جگہ کاپتہ دوں جہاں سے گھوڑے تیر کر دارِ ین 1؎ (1؎ ساحل حظ کے شمال میں ایک جزیرہ جہاں بہت سے باغی پناہ گزیں تھے ) پہنچ سکیں  تو آپ  کیا دیں گے  عَلاء رضی اللہ عنہ  : ‘‘ منظور ’ ۔ عیسائی ، علاء رضی اللہ عنہ اور ان کی فوج کو گھوڑوں پر وارِین لے گیا ، وہاں بزورشمشیر باغی مغلوب  ہوئے ، مسلمانوں نے اہل شہر کو غلام بنا لیا، پھر عَلا ء رضی اللہ عنہ اپنے ہیڈ کواٹر ( غالباً مُشَقّر) لوٹ آئے۔

ابراہیم بن ابی حُبیبہ کی روایت ہے کہ سمندر رک گیا تھا اور مسلمان پیروں  چل کر دارین پہنچے، ان کی روانگی سے پہلے وہاں کشتیاں چلتی تھیں اور جب وہ سمندر پار ہوگئے تب پھر کشتیاں چلنے لگیں ، دارِین میں عَلاء رضی اللہ عنہ نے جنگ کی اور باغیوں  کو ہر ا دیا۔ باغیوں  نے جزیہ کی روکی ہوئی رقم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سےطے ہوئی تھی دے دی، دوسری روایت ہےکہ مسلمانوں نے خدا سے گڑگڑا کر دعا مانگی کہ ہمیں بغیر کشتیوں کے پار لگادے ، اور خدا نے ان کی دعا قبول کی ، عفیف بن مُنذر جو ان کے ساتھ  تھا، کہتا ہے :۔

أ لم ترأن اللہ ذَللّل بحَرَہ        وأ نزل جا لکُفّار إحدی الجلائل

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے سمندر کو مسلمانوں کے لئے سڑک بنادیا اور کفّار پر سخت  تباہی  نازل کی

دعوناَ الذی  شقَّ البِحارَ فجاء نا          بأَ عظم من فلقِ البحار  الأ وائل

ہم نے اسی مالک سے دعا مانگی جس نے موسیٰ کے لئے سمندر پھاڑا تھا تو اس سے ہم پر موسیٰ سے بڑا کرم کرکے سمندر کو سڑک بنا دیا

دارین سے متعلق تیسرا قول یہ ہے کہ جب مسلمان وہاں  اچانک گھس پڑے تو مقامی باشندوں نے کہا : ‘‘ ہم ان شرائط پر صلح کرنے کو تیار ہیں جن پر اسرائیل ہَجَر نے صلح کی ہے۔’’

عَلاء بن حَضرمی رضی اللہ عنہ عرب باغیوں اور فارسی مجوسیوں پر فتح  پا چکے تو گورنر کی حیثیت سے بحرین (مشقّر) میں مقیم ہوگئے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کے پاس عبدالقیس کے چودہ اکابر کا ایک وفد بھیجا، یہ لوگ طلحہ بن عُبید اللہ اور زبیر بن عَوّام کے ہا ں ٹھہرے اور انہیں بتایا کہ ہم خوشی سے مسلمان  ہوگئے تھے اور ہم نے رِدَّہ بغاوت کا بھی بڑے جوش سے مقابلہ کیا تھا، پھر  ان لوگوں نے طلحہ رضی اللہ عنہ  اور زبیر رضی اللہ عنہ کی ہمراہی میں ابوبکر  صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور کہا : ’’ ہم سچّے مسلمان ہیں ، آپ کی خوشنودی سے زیادہ ہمیں کچھ عزیز نہیں ، ہم چاہتےہیں کہ آپ بحرین کی فلاں فلاں  اراضی اور چکیاں ہمیں دے دیں۔’’ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  اس کےلئے تیار نہ ہوئے طلحہ اور زیبر  نے سفارش  کی تو وہ راضی ہوگئے اور کہا : ‘‘ لوگو! گواہ رہنا میں نے ان کے اسلام کی قدر دانی کرتے ہوئے ان کےسارے مطالبے  منظور کرلئے ہیں ۔’’ وجد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے لوٹا تو طلحہ بن عُبید اللہ نے ان سے کہا : ‘‘ ابوبکر کے بعد لا محالہ عمر خلیفہ ہوں گے اس لئے تم ابوبکر سے کہو کہ اراضی سے متعلق ایک دستاویز لکھ دیں اور عمر رضی اللہ عنہ اس کی توثیق کردیں تاکہ آئندہ انہیں اعتراض کا موقع نہ ملے۔’’ ارکانِ  وفد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے دستاویز لکھنے کی درخواست  کی، انہوں نے عبداللہ بن اَرقم (منشی) کو بلایا اور کہا : ‘‘ میں نے ان کے جو مطالبے مانے ہیں ان کی ایک تحریر لکھ دو۔’’ اس دستاویز کی قریش اور انصار کے د س آدمیوں نے تصدیق کردی، عمر بن خطاب موجود نہ تھے ، ارکان وفد ان کے پاس گئے اور توثیق کے لئے ان سےدرخواست کی ، عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر لگی مہر توڑ ڈالی اس پر تھوکا اور لفظ مٹاکر واپس کردیا، وفد کے لوگ طلحہ رضی اللہ عنہ  کے پاس گئے او رکہا : ‘‘ یہ سب آپ کے مشورہ کا نتیجہ ہے۔’’ان کو طلحہ رضی اللہ عنہ کے خلوص پر شبہ ہونے لگا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : خدا کی قسم میری نیت  صاف ہے ، میں نے محض تمہارا بھلا چاہا تھا ۔’’  وفد کے ارکان غصہّ  میں بھرے ہوئے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملے اور سارا ماجرا کہہ سنایا،  طلحہ رضی اللہ عنہ  اور زبیر رضی اللہ عنہ  بھی آگئے  اور انداز برہمی سےکہا : ‘‘  آپ یہ بتائیے کہ خلیفہ کون ہے، آپ  یا عمر ؟ ’’ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ :  ‘‘ کیا ہوا؟’’ طلحہ رضی اللہ عنہ : عمر نے دستاویز پر لگی مہر  توڑ دی ، اس پر تھوکا  اور لفظ مٹا دیئے ’’۔ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ :  اگر عمر کو دستاویز کی کوئی بات  ناپسند ہے تو میں نہیں کروں گا’’۔ یہ گفتگو ہوہی رہی تھی کہ عمر فاروق آگئے، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا : ‘‘ دستاویز میں کیا بات  تم کو نا پسند ہے؟’’  عمر فاروق : ‘‘ مجھے یہ بات نا پسند ہے کہ آپ بڑے لوگوں کو دیں اور عوام کو نہ دیں، آپ کا طرز عمل سب کے ساتھ برابر  ہونا چاہئے ، آپ پرانے مسلمانوں  اور بدری مجاہدوں  کو داد و دہش  کے معاملہ میں  کسی پر فوقیت دینے کو تیار  نہیں لیکن ان لوگوں کو دس ہزار روپئے کی زمین مفت دے رہے ہیں ’’۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ : توفیق ایزدی  تمہارے شامل حال رہے،  تم ٹھیک کہتے ہو۔’’

وَثیمہ بن موسیٰ نے (اپنی کتاب  الرِدّہ میں ) ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جب اسلام سے انحراف کی آندھی چلی تو بکر بن وائل ( قبیلہ) کے دل میں بغاوت کا سودا سمایا اور انہوں نے لہا: ہم بحرین کی حکومت نعمان بن مُنذر 1؎ ( 1؎ حِیرہ کا سابق کخمی سلطان) کے خاندان کو لوٹادیں گے’’۔ اس ارادہ کی خبر کسریٰ کوہوئی تو اس نے بکر بن وائل کے اکابر کا ایک وفد بلایا   ، نعمان بن مُنذر کا لڑکا مُخارِ ق جو غَرور 2؎ (2؎ معنی دھوکہ باز)  کے نام سے پکارا جاتا تھا، اس کے پاس تھا، کسریٰ نے وفد  سے کہا : ‘‘ مُنذر بن نعمان (مُخارق) کی قیادت میں جاؤ میں اس کو تمہارا  بادشاہ بناتا ہوں اور بحرین پر قبضہ کرلو، مُخارق کے ساتھ کسریٰ نے چھ ہزار سوار کردیئے ، بعد میں کسریٰ مُخارق  کے تقرر اور اس کے ساتھ چھ ہزار سوار بھیجنے  پر نادم ہوا، اور بولا: اس جوان کے باپ کو میں نے قتل کیا تھا ( اور اس نے دل میں یقیناً انتقام کا جذبہ ہوگا)اس کے ساتھ نعمان بن بکر بن وائل کا دستہ ہے جو بحرین  پہنچ کر اپنےبھائی عبدالقیس کے جوانوں سے اور زیادہ طاقتور ہوجائے گا، مُخارق نو عمر اور نا ازمودہ کار آدمی ہے، ہم سے غلطی ہوگئی۔’’ کسریٰ نے اپنی اس رائے  کی مخارق کو خبر کرادی ، مخارق کو ناگواری ہوئی اور اس کا حوصلہ پست ہوگیا، کچھ دن بعد کسریٰ کو معلوم ہوا کہ مخارق نے میرے بارے میں ایسی باتیں کی ہیں جن سے خلوص اور وفاداری  ظاہر ہوتی ہے تو اس کی رائے مخارق کی طرف سے بہتر  ہوگئی اور اس نے مجوزہ مہم نافذ کرنے کی اجازت  دے دی،اور ایک عرب رئیس اَبجر بن جابرِ کو اس کی تقویت کے لئے ساتھ کردیا،  اس کے بعد وثیمہ نے کافی لمبی  تفصیلات پیش کی ہیں جن کے ضمن میں بہت سے شعر  بھی آگئے ہیں، ہم اُن سب کو چونکہ ان کی افادیت محدود ہے، نظر انداز کرتے ہیں ، وثیمہ  نےاپنے بیان  میں یہ تصریح  بھی کی ہے کہ بحرین میں جب مسلمان  جیتے  تو مخارق  شام بھاگ گیا اور سرحد شام کے جفنی عرب رئیسوں کے پاس پناہ لی اور اپنی بغاوت  پر نادم ہوا، بعد میں اس کے دل میں اسلام کا داعیہ  پیدا ہوا اور وہ مسلمان ہوگیا اسلام لاکر وہ کہا کرتا تھا کہ میں غَرور ( دھوکہ باز) نہیں، بلکہ  مغرور ( فریب خوردہ ہوں) ’’

سیف بن عمر 1؎ (1؎ کوفہ کا مشہور تابعی  مورخ، تاریخ الردہ اور تاریخ الفتوع کا مؤلف ، تقریباً 180 ھ میں وفات پائی بعہد  ہارون الرشید) نے اپنی فتوح میں لکھا ہے  گااور قُطنی نے بھی اس کا قول نقل کیا ہے کہ غرور کا نام سُوید تھا، بحرین کی لڑائی میں عَفیف بن مُنذِر نے اس کو گرفتار  کر کے امان دے دی تھی ، پھر وہ غرور کو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کےسالار عالیٰ عَلاء رضی اللہ عنہ  نے اس کا نام پوچھا  تو عفیف  نے کہا : ‘‘ اس کا نام غَروف ہے۔’’ عَلاء رضی اللہ عنہ  تم نے اہل بحرین  کو خوب دھوکے دیئے ’’۔غَرور : ‘‘ میں غَرو ر ( دھوکہ باز) نہیں بلکہ  مغرور (فریب خوردہ) ہوں ۔’’ عَلا ء رضی اللہ عنہ کی دعوت پر وہ مسلمان ہوگیا اور ہَجَر  میں اقامت اخیتار کرلی، غَرور اس کا نام تھا، لقب نہ تھا ۔

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/khurshid-ahmad-fariq/tarikh-e-ridda-part--15--(تاریخ-ردّہ-حصہ-(-15/d/98768

 

Loading..

Loading..