New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 06:51 PM

Urdu Section ( 13 March 2014, NewAgeIslam.Com)

The Basis of Inter-Religious Dialogue بین المذاہب مکالمہ کی بنیادیں

 

 

 

 

 

خالد ظہیر

18 فروری 2014

آج کل بین المذاہب مکالمہ کے تعلق سے بہت ساری باتیں کی جارہی ہیں۔ بلاشبہ بین المذاہب مکالمہ کا استقبال کیا جانا چاہیے۔ لیکن سب سے پہلے ہمیں اس بنیادی مسئلہ کے تعلق سے ایک واضح موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ: بین المذاہب مکالمہ کی صحیح بنیاد کیا ہونی چاہیے؟

میرا یہ ماننا ہے کہ بین المذاہب مکالمہ کی بنیاد اس بات پر اظہار رائے ہونی چاہیے کہ زندگی کے سوالات کا مختلف مذہبی روایتوں نے کس طرح جواب دیا ہے: ہمارا خالق اور مربی کون ہے اور ہم اس کی اطاعت کیسے کر سکتے ہیں؟ مصیبت کے اوقات میں ہمیں کس کی اور کس طرح مدد تلاش کرنی چاہیے؟ زندگی میں اتنی ناانصافیاں کیوں ہیں، خالق کائنات انہیں ختم کیوں نہیں کر دیتا؟ اخلاقی اصولوں کا احترام کیوں نہیں کیا جاتا؟ جب کسی کا استحصال کر دیا جائے تو اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ ہماری موت کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ وغیرہ وغیرہ

کیوں کہ ان سوالات کا تعلق تمام انسانوں سے ہے اور چونکہ تقریباً تمام مذاہب میں ان سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں اور جب بین المذاہب مکالمہ کا انعقاد کیا جائے گا تو تمام مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے سے اس قسم کے سوالات کے جوابات جاننے کا موقع ملے گا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ بین المذاہب مکالمہ عظیم اقدار سیکھنے کا ایک تجربہ ہو سکتا ہے۔

ان سب کے علاوہ بین المذاہب مکالمہ معاشرے میں اجتماعی طور پر امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے ۔ بین المذاہب مکالمہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان امن و ہم آہنگی اور دوستانہ سماجی تعلقات ہموار کرنے کا موقع ہے، جس سے تمام لوگ ایک دوسرے کے نظریات کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے قابل ہوں گے۔ بین المذاہب مکالمہ سے خاص طور پر مسلمانوں کو زیادہ آسانی اور اثر انداز طریقے سے دوسروں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا موقع مل سکتا ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اگر دعوت و تبلیغ کا عمل حقیقتاً انجام دیا جائے تو یہ کوئی ایسا کام نہیں ہے کہ جسے یکطرفہ طور پر پورا کیا جا سکے۔ جو شخص دوسروں کو اپنے مذہب کی دعوت دے رہا ہے اسے بھی دوسروں کا مذہب قبول کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اگر اس عمل کو دوطرفہ نہ بنایا جائے تو اس عمل کا رک جانا ناگزیر ہے۔ ایک بامعنیٰ مذہبی مکالمہ میں ایک شریک کار دوسرے کو ان باتوں سے آگاہ کرتا ہے جنہیں وہ سچ سمجھتا ہے اور جواب میں دوسرا بھی ایسا ہی کرتا ہے۔ ایک کامیاب بین المذاہب مکالمہ کے لیے ضروری ہے کہ اس میں شامل ہونے والے تمام فریق سچائی کے مزید علم کے بارے میں مخلص ہوں۔ اور اگر مسئلہ یہ ہو تو ممکنہ طور پر دونوں کو ایک دوسرے کے نظریات کو ایک دوسرے کے نظریات سے بدلنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

اس معنیٰ میں مکالمہ اور دعوت دونوں ایک ساتھ انجام دیے جا سکتے ہیں۔ وہ دونوں باہمی متناقض نہیں ہیں۔ اگر سچائی کو جاننے کے مقصد سے کوئی مذہب قبول کیا جائے یا کسی مذہب پر عمل کیا جائے اور اس مقصد کو لیکر اگر تمام شرکاء کی نیت یکساں طور پر صاف ہے اور مکالمہ کا انعقاد عقلمندی کے ساتھ کیا جائےتو مکالمہ اور دعوت کے جو نتائج ہوں گے ان کے درمیان کوئی تناقص ظاہر نہیں ہوگا۔ تاہم اگر دعوت کا مقصد کسی ایک نظریہ کی فوقیت کسی دوسرے نظریہ پر قائم کرنا ہے اور اگر مکالمہ کا انعقاد ایک جذباتی اور جارحانہ انداز میں کیا جائے تو مختلف مذہبی روایتوں کے ماننے والوں کے درمیان اچھے تعلقات استوار کرنے کے مقصد پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ابھی حال ہی میں کسی نے مجھے کہا کہ، ‘‘جنوبی ایشیا میں ‘ماقبل جدیدیت’ کے دور میں روحانیت کے متلاشی مختلف صوفی سالکوں نے ایک ایسے معمول کا آغاز کیا جسے ہم دور جدید کی اصطلاح میں ‘باہمی مکالمہ’ کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے قریبی ذاتی تعلقات قائم کئے، ایک دوسرے کے ساتھ تعلیم و تعلم کا سلسلہ شروع کیا اور کبھی کبھی تو انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بھی گزاری ہے۔ ان میں سے چند نے تو دوسری ‘کمیونٹی’ سے تعلق رکھنے والوں کو اپنا روحانی استاذ بھی تسلیم کیا ہے۔

کیا یہ بین معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی تفہیم کو فروغ دینے کا ایک مناسب طریقہ ہے؟ اور کیا مذہبی اختلافات سے نمٹنے کا ایک مناسب طریقہ ہے؟

میری یہ رائے ہے کہ برصغیر میں ہم اپنے بزرگوں کے رویوں سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ لیکن چند ایسے پہلو بھی ہیں جن سے احتراز کرنا ضروری ہے۔ صوفیوں اور بھکتوں کے رویوں کا ایک اچھا پہلو وہ ہے جس انداز میں انہوں نے کسی کے بھی مذہب سے قطع نظر ایک دوسرے کے احترام کا مظاہرہ کیا ہے، جس طرح انہوں نے امن اور ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے، جس خلوص کے ساتھ انہوں نے انسانی ضروریات کے تعلق سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بس ہمیں اس تذبذب سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے کہ، مثال کے طور پر، یہ قرابت داری کبھی ایسی سوجھ بوجھ پیدا کر سکتی ہے کہ ایسے مختلف طریقوں سے حق کی معرفت حاصل کی جا سکتی ہے جو تمام کے تمام اللہ تک جاتے ہوں۔

میرا یہ ماننا ہے کہ مذہبی تکثیریت کا مظاہرہ اس انداز میں کرنا مقصد تلاش حق کو نقصان پہنچا رہا ہے اور کسی بھی مذہب کا مقصد یہی ہونا چاہیے۔ خدا تک پہنچنے کا سچا راستہ کوئی ایک ہی ہو سکتا ہے۔ اور دوسرے راستے یا تو راہ حق سے بھٹکے ہوئے ہیں یا پھر بالکل ہی صحیح نہیں ہیں۔ اللہ نے اپنے نبیوں کی زبانی بارہا اپنی اس مرضی کا اعلان کیا ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے اور صرف اسی کی اطاعت شعاری کی جائے۔ تمام انبیا ایک ہی پیغام لیکر اس دنیا میں ترایف لائے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان پیغامات کو بدعات اور اختراعات سے آلودہ کر دیا گیا۔ اسی قدیم راستے کو تلاش کرنے کے لیے ایک حقیقی مذہبی اصلاح کی ضرورت ہمیشہ رہے گی کہ آخرت میں خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جس پرہمارا چلنا خدا کی مرضی ہے۔

چونکہ خدا مہربان، حکیم اور منصف ہے، اسی لیے وہ اپنے بندوں کے اخلاق سے صرف اتنی ہی کی امید رکھتا ہے جتنا اس کی ممکنہ قدرت کے دائرے میں ہو، قرآن فرماتا ہے: ‘‘اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے’’۔ (7:42)

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

URL for English article:

http://www.newageislam.com/interfaith-dialogue/khalid-zaheer/the-basis-of-inter-religious-dialogue/d/35799

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/khalid-zaheer,-tr-new-age-islam/the-basis-of-inter-religious-dialogue-بین-المذاہب-مکالمہ-کی-بنیادیں/d/56131

 

Loading..

Loading..