New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 01:56 AM

Urdu Section ( 6 Dec 2013, NewAgeIslam.Com)

Definition of a Martyr (Shaheed) شہید کی صحیح اسلامی تعریف

 

 

خالد ظہیر

22 نومبر 2013

لفظ شہید برصغیر  کی مختلف زبانوں میں عام طور پر رائج ہے، خاص طور پر پاکستانی زبان میں ، یہ ان مرحومین کے ناموں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جنہیں کسی عظیم مقصد کے حصول میں جد و جہد کرتے ہوئے مارا گیا ہو یا جس کی موت کسی حادثے میں ہوئی ہو۔

حال ہی میں اسے بڑی اہمیت حاصل ہوئی ہے اور یہاں تک کہ اس کے تعلق سے بہت سارے لوگوں کے ذہن و دماغ میں بڑی الجھنیں بھی پائی جا رہی ہیں ،اس لئے کہ اس کا استعمال تحریک طالبان،  پاکستان کے کمانڈر حکیم اللہ محسود کے لئے کیا جا رہا ہے جس کی موت امریکی  ڈرون حملے میں ہوئی تھی ۔

چند مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے اسے شہید قرار دیا ہے ۔ پاکستان اور اس سے باہر مسلم اور غیر  مسلم شہید کا صحیح معنیٰ دریافت کر رہے ہیں ۔ بلاشبہ یہ اس بات پر غور کرنے کا ایک مناسب وقت ہے کہ ہم عوامی طور پر کیا بیان  دیتے ہیں اور ہمارے بیان کے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں ، خاص طور پر مذہبی معنیٰ میں ۔

قرآن کی  آیات  میں اسے اور اس کے مشابہ الفاظ کو متعدد بار استعمال کیا گیا ہے ۔ سورہ فتح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف اس طرح پیش کیا گیا ہے ۔‘‘ بیشک ہم نے آپ کو (روزِ قیامت گواہی دینے کے لئے اعمال و احوالِ امت کا) مشاہدہ فرمانے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے’’۔(48:8)

سورہ بقر کی اسی طرح کی ایک آیت میں اللہ نے اس لفظ کا استعمال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی  پہلی پوری نسل کے لئے کیا ہے ،‘‘ اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور (ہمارا یہ برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہو’’(2:143)

اس لفظ کا استعمال قرآن میں تمام امت مسلمہ کے  لئے مختلف مقامات پر ہوا ہے ۔ سورہ نساء میں ہے ،‘‘ ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے (محض) اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ (گواہی) خود تمہارے اپنے یا (تمہارے) والدین یا (تمہارے) رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو۔’(4:135)

اس لفظ کا  استعمال ان لوگوں کے لئے کیا گیا ہے جو خدا کے مذہب میں اس کے گواہ ہیں ۔ اس لفظ  کا استعمال قرآن میں جس طرح کیا گیا ہے اس سے یہ مفہوم اخذ ہوتا ہے کہ جسے شہید کہا جاتا ہے وہ خدا کو اور اس کے مذہب کو اس طرح کما حقہ جانتا ،سمجھتا  اور اس پر عمل کرتا ہے  اور اپنے عادات و اطوار اور اعمال میں اس قدر صا ف و شفاف ہےکہ باقی تمام لوگ اسے خدا کی شہادت دینے والا مانتے ہیں ۔

وہ اپنی پوری زندگی خدا کی تعلیمات کا ایک گواہ بن کر گزارتا ہے اور  وہ اپنے اسی مقصد کو حاصل کرنے میں اپنی پوری زندگی گزار دیگا ۔ وہ سچائی کے راستے پر اتنا مخلص ہے کہ اپنے ایمان و ایقان کا گواہ بننے کے لئے اپنی جان کی قربانی پیش کرنے سے بھی نہیں کترائے  گا ۔

اس لئے کہ انسان جب روحانی پاکیزگی  اور ارتقا کے منازل  طئے کرتا ہے تو اسے کمال کے مختلف درجات  حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ ان کا ذکر انبیا ء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے طور پر کرتا ہے ۔ ان چار لوگوں کی جماعت کو اللہ کی جانب سے انعام یافتہ مانا جاتا ہے ۔

موت کے بعد شہادت کا درجہ ایک انتہائی عظیم اعزاز ہے جو کہ صدیقیت اور صالحیت کے بالمقابل ہے ۔ انسان کو اپنی پوری زندگی اسلام کے اعلیٰ ترین اصولوں کے مطابق گزارنی چاہئے اپنی زندگی کو اس طرح سے قربان کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے جس سے ان اصولوں کی تصدیق ہو۔ اگر معاملہ ایسا ہو تب  ہو سکتا ہے کہ خدا انہیں شہدا کی صف میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لے ۔

قرآن میں اس بات  کے شواہد بکثرت موجود ہیں کہ شہادت ایک ایسا درجہ ہے جسے عطا کرنا صرف خدا کی شان ہے کسی بندے کے اندر یہ مجال نہیں کہ وہ شہادت کا مرتبہ عطا کرے ۔

ایک ایسے لفظ کے طور پر جس کا استعمال ایک جذباتی احساس کے ساتھ کیا جانے لگا ہے اس مسئلہ نے ایک الگ رخ اختیار کر لیا  ہے ،  اردو (ہندی اور بنگالی) میں اس لفظ کا استعمال اس متوفی کو  اعزاز و اکرام سے نوازنے کے لئےکیا جاتا ہے جو کسی جنگ یا حادثے میں مارا گیا ہو۔ اس کے استعمال کا مقصد متوفی کے رشتہ داروں کو  تسلی اور تسکین دینا اور  غالباً اللہ سے دعا کرنا ہے ۔

حکیم اللہ کو محسود کو شہید قرار دئے  جانے کا  شہادت کے  اس حقیقی مذہبی معنیٰ  سے کوئی تعلق نہیں ہے جس کا ذکر قرآن کرتا ہے ۔جب ہم اس لفظ کو کسی فوت شدہ شخص کے نام کے ساتھ منسلک کرتے ہیں تو  ہم اس سے زیادہ سے زیادہ اس بات کی توقع کر سکتے ہیں کہ ہم اللہ سے اس پر رحم کرنے اور اسے شہادت کا درجہ عطا کرنے کی دعا کررہے ہیں ۔

ہمیں یہ بات بھی اچھی طرح جان لینی چاہئے کہ اس لفظ کی ایجاد عصر حاضر میں ہوئی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور  میں اس کا کوئی وجود نہیں تھا ۔مسلمانوں کی پہلی چند نسلوں کی علمی اور فقہی کتابوں میں ایسے لوگوں کے ناموں کے بعد شہید کا کوئی لفظ نہیں ملتا جن کی زندگیاں مثالی تھیں اور جنہوں نے شہادت بھی حاصل کی تھی ۔

ایک مرتبہ ہم اس لفظ کے استعمال کے صحیح سیاق و سباق سے واقف ہو جائیں کہ کیا اس لفظ کا انطباق حکیم اللہ محسود پر ہوتا ہے جو کہ ایک ایسا مشہور و معروف غنڈہ ہے جس نے ایسے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داریاں قبول کی ہیں جس میں بے شمار بے گناہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی جانیں  گئی ہیں ؟ ایک مشہور گنہگار اور مجرم کو ایک اتنے بڑے مرتبے سے سرفراز کرنا جو کہ صدیقین اور صالحین کے مرتبے کے برابر ہو  خود متضاد اور بڑی ہی  بدقسمتی کی بات  ہے ۔

لوگوں اور خاص طور پر مذہبی شخصیات کو  کوئی بھی بیان جاری کرنے سے پہلے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے ، اس لئے کہ  اکثر ان کے بیانات کو بھی ان کے مذہب کی نمائندگی کرنے والا مان لیا جاتا ہے ۔

اس اعلان کے بعد حالات بد سے بدتر ہوگئے ہیں کہ ایسا امریکہ کے خلاف انتقام میں کیا گیا ہے ۔

ہم خدا کے  اس پیغام کو ایک مرتبہ پھر یا د کرتے ہیں  جس میں اس نے ہمیں محتاط رہنے کا حکم دیا ہے  کہ کہیں ایسا نہ ہ کہ ہماری خواہشات اور نفرتیں انصاف کے راستے میں رکاوٹ نہ بن جائیں ۔ سورہ  مدینہ میں اس کا فرمان ہے ‘‘اور تمہیں کسی قوم کی (یہ) دشمنی ..........اس بات پر ہرگز نہ ابھارے کہ تم (ان کے ساتھ) زیادتی کرو’’۔(5:2) اور ‘‘اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو’’(5:8

مختصر یہ کہ کسی کو بھی شہید نہیں کہنا چاہئے ۔ اس لئے کہ اس بات کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ کرنے والا ہے ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

خالد ظہیر ایک مذہبی اسکالر  ہیں

ماخذ: http://www.dawn.com/news/1057801/definition-of-a-shaheed

URL:

https://www.newageislam.com/islamic-ideology/khalid-zaheer/definition-of-a-martyr-(shaheed)/d/34542

URL:

https://www.newageislam.com/urdu-section/khalid-zaheer,-tr-new-age-islam/definition-of-a-martyr-(shaheed)-شہید-کی-صحیح-اسلامی-تعریف/d/34761

 

Loading..

Loading..