New Age Islam
Wed Apr 21 2021, 09:17 AM

Urdu Section ( 22 Jul 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Creative Thinking to Build Moral Fibres اخلاقی ڈھانچوں کی تعمیر کے لئے تخلیقی فکر و نظر ناگزیر

 

 

 

 خالد المعینہ

21 جولائی 2015

نو ممالک سے تعلق رکھنے والے 431 مشتبہ عسکریت پسندوں کی سعودی عرب میں گرفتاری ایک راحت بخش قدم ثابت ہوئی۔ انہیں معصوم لوگوں پر مزید حملوں کو روکنے کے لیے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہوگا۔

گزشتہ چند دنوں میں دو واقعات ایسے رونما ہو چکے ہیں جن میں نوجوان انتہاپسندوں نے اپنے خون کے رشتہ داروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ایک نوجوان نے اس سے پہلے کہ سیکورٹی فورسز اسے گولی ماریں، اپنے والد کو ہلاک کر دیا اور دوسرے واقعہ میں ایک نوجوان نے اپنے ماموں کو قتل کرنے کے بعد ایک چوکی پر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ وہ ایسے کون سے محرکات ہیں جو نوجوان لوگوں کو بے رحم قاتل بنا دیتے ہیں؟

نوجوانوں کی گمراہی کے لیے محض خارجی فورسز یا داعش کو ذمہ دار ٹھہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لوگ مختلف عوامل کی وجہ سے گمراہ ہوتے ہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ منفی پرورش اور والدین کی غفلت ہے۔

اخلاقی ڈھانچوں کی تعمیر کے لئے تخلیقی فکر و نظر کی ضرورت

اسکولی تعلیم کا عنصر بھی اس کے پیچھے کار فرما ہے جہاں شخصیت سازی کے بجائے رٹنے اور رسومات و معمولات پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ اس کا ایک محرک معاشرے میں ان کے لئے کسی رول ماڈل کا نہ ہونا بھی ہے۔

کچھ لوگ علی الاعلان مضرت رساں عمل کر کے اپنی پوزیشن اور طاقت کا غلط استعمال کرتے ہیں، جبکہ کچھ بزدل لوگ سوشل میڈیا پر نام ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

غیر نصابی سرگرمیوں کا مکمل طور پر فقدان نوجوانوں کو بور اور بیکار کر دیتا ہے۔ تعلیمی ادارے ہمارے نوجوانوں کی توانائیوں کو بروئے کار لانے کے ذرائع فراہم نہیں کرتے۔ کسی بھی اسکول میں ڈرامے، تھیٹر، ورکشاپس، یا صرف سادہ سماجی سرگرمیوں کا انعقاد نہیں ہوتا ہے کہ جن کی منصوبہ بندی اور ہدایت کاری اسکول کی جانب سے کی گئی ہو جن کی مدد سے ان کے اخلاقی کردارمیں مضبوطی پیدا ہو۔

تخلیقی سوچ کی کمی سے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ شدت پسند اساتذہ، ائمہ اور سوشل میڈیا پر سرگرم عمل عیاروں کا آسانی کے ساتھ شکار بن جاتے ہیں، جو کثرت کے ساتھ ہر جگہ نفرت اگلنے اور دیگر فرقوں یا دیگر نقطہ ہائے نظر کے حامل لوگوں کے خلاف سادہ لوح نوجوانوں کو بھڑکانے کے لیے موجود رہتے ہیں۔

کچھ لوگ علی الاعلان مضرت رساں عمل کر کے اپنی پوزیشن اور طاقت کا غلط استعمال کرتے ہیں، جبکہ کچھ بزدل لوگ اپنے برے اور حقیر افکار و نظریات کو پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا پر نام ظاہر نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی

یہ موت کے سوداگر ہیں اور انہیں روکا جانا انتہائی ضروری ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ میں اب بھی سوشل میڈیا پر ان کے مہلک اور زہریلے مواد کو پھیلتا ہوا دیکھتا ہوں، اور یہ ایک خطرناک رفتار کے ساتھ جاری ہے۔

یہ کہاوت کہ ‘‘ایک خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے’’ ہمارے گھروں میں بسیرا کرنے کے لیے آ رہی ہے، اور ایک معاشرے کے طور پر ہم اپنے نوجوانوں کو کردار سازی کی سرگرمیوں کی طرف متوجہ نہ کر کے ان کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان باتوں کو بھول جائیں جہاں اعلی حکام آتا اور نوجوانوں کا گن گاتا ہے۔

ہمیں اسکولی سرگرمیوں، کھیلوں کی سہولیات، دوسروں کے ساتھ مکالمہ اور مباحثہ، جرأت مندانہ کھیل اور تخیلاتی اور ایجاداتی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں صحت مند جسم اور تخلیقی ذہن کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

 میرا ماننا یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں مغرب اور مشرق کے تعلیم یافتہ اساتذہ کو بھی شامل کیا جانا چاہئے، تاکہ سعودی اساتذہ ایک ایسے جدید تعلیم کے نفاذ کے لیے ان کے تجربات سے استفادہ کر سکیں اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کر سکیں جس سے 21ویں صدی کے طالب علموں کی ضروریات پوری ہو سکیں ۔

ہمیں اساتذہ کی ضروریات کو بھی پورا کرنا، انہیں مراعات دینا اور ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ احترام کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ سعودی عرب میں کم و بیش تمام اساتذہ مایوس ہیں اور انہیں کام سے کم اجرت دی جاتی ہے۔ جب تک اساتذہ کو نصاب کے دائرہ کار کے اندر اندر ایجادات اور اختراعات کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی اور انہیں اس کی آزادی نہیں دی جائے گی، تب تک یہاں کی تعلیم اسی راستے پر گامزن ہوگی اور اس کی قیادت تعلیم کی تنظیم و تحریک سے خالی اساتذہ کے ہاتھوں میں ہوگی۔

اور ساتھ ہی ساتھ تاجر برادری کو بھی نوجوانوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں کچھ ذمہ داری اٹھانی چاہئے۔ تاجر برادری کو صرف ملک میں ہر جگہ تیزی کے ساتھ مال (malls) کھولنے کے بجائے کھیل کی سہولیات، پارکوں اور نوجوانوں سے متعلق دیگر مراکز کی تعمیر میں بھی دلچسپی لینی چاہئے۔

سعودی عرب کی تعمیر عظیم قربانیوں کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ یہ حرمین شریفین کی سرزمین ہے اور اسے سب کے لئے امن، روشنی اور ترقی کی ایک پناہ گاہ ہونا چاہئے۔

اگر ہم اس مقدس سر زمین کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

ماخذ:

 https://english.alarabiya.net/en/views/news/middle-east/2015/07/21/Idle-militant-minds-are-the-devil-s-workshop.html

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-society/khaled-almaeena/creative-thinking-to-build-moral-fibres/d/103972

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/khaled-almaeena,-tr-new-age-islam/creative-thinking-to-build-moral-fibres--اخلاقی-ڈھانچوں-کی-تعمیر-کے-لئے-تخلیقی-فکر-و-نظر-ناگزیر/d/103992

 

Loading..

Loading..