New Age Islam
Sun Dec 05 2021, 09:57 AM

Urdu Section ( 15 Feb 2015, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

When Madrasa Challenges State جب مدارس حکومت کے لیے ایک چنوتی بن جائیں

  

خالد احمد

14 فروری، 2015

ایک قومی لائحہ عمل کو اپنانے اور فوجی عدالتوں کے ذریعے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے آئین میں ترمیم کے بعد پاکستان میں علماء پریشان ہیں۔ ریکارڈ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے دہشت گردوں کا تعلق مدرسہ سے ہے جبکہ کچھ کو اس ریاست نے استعمال کیا ہے جو ضروری صفات سے بھی خالی ہے۔

نواز شریف کی حکومت کا کہنا ہے کہ مدارس قابل حرمت ہیں اور ان کی چھان بین نہیں کی جائے گی، لیکن میڈیا میں بڑھتے ہوئے حقائق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مدارس قاتلوں کو تربیت دیکر اور "شیعوں کی تکفیر کر کے دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ حکومت خود احمدی مسلمانوں کی تکفیر کرتی ہے جبکہ شیعہ مسلمانوں کی تکفیر سے پرہیز کرتی ہے۔ شیعوں کو کافر قرار دینے میں اکثر مدارس نمایاں ہیں، اگر چہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے انکار کریں۔ شیعوں کے قتل عام سے پہلے ان کے فتووں کو شائع کیا گیا تھا۔

شیعوں کو کافر قرار دینے کے لیے پاکستان کے مدارس کے اس دستاویز کا تعلق ہندوستان کے فتاویٰ کے ایک مجموعہ سے ہے۔ اس کی تدوین و تالیف کرنے والے لکھنؤ کے مدرسہ ندوۃ العلماء کے سربراہ مرحوم منظور نعمانی تھے۔ اس فتویٰ کا عنوان تھا خمینی اور شیعہ کے بارے میں علمائے کرام کا متفقہ فیصلہ، الفرقان، لکھنؤ، 1988۔ نعمانی کو امام خمینی کے خلاف کتاب لکھنے اور شیعہ کی تکفیر میں فتوں کو جمع کرنے کے لیے سعودی عرب نے فنڈ فراہم کیا تھا۔

1986میں ایک بڑی تعداد میں پاکستان کے علما اور مذہبی رہنماؤں نے شیعوں کے خلاف فتوے کی تائید و تصدیق کی ہے۔ ان کے درمیان دو معروف نام یہ تھے: محمد یوسف لدھیانوی اور مفتی نظام الدین شمزائی۔ دونوں 1990 کے افغان خانہ جنگی اور 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے پر جہادیوں کےرد عمل کے دوران پاکستان کے فرقہ وارانہ انقلابات میں مارے گئے تھے۔

شیعوں کی تکفیر میں ان فتوں کا ریکارڈ موجود ہے جو پاکستان کے بڑے بڑے مدارس سے وقتاً فوقتاً جاری کیے گئے تھے۔ 1986 میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ، کھٹک کے مولانا سمیع الحق نے شیعوں کی تکفیر میں اپنا فتوی جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ان کا پکایا ہوا کھانا کھانا، ان کےجنازے کی نماز میں شرکت کرنا اور سنی قبرستانوں میں انہیں مدفون کرنا ممنوع ہے۔ جامعہ اشرفیہ، لاہور کے رہنما مولانا محمد مالک کاندھلوی نے شیعوں کی تکفیر میں ایک اور فتویٰ جاری کیا، جنہیں جنرل ضیاء الحق کا ایک رشتہ دار مانا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ شیعہ کافر ہیں اس لیے کہ ‘‘ان کا ماننا ہے کہ قرآن میں تبدیلی اور تحریف ہوئی ہے اور وہ حضرت علی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر حیثیت دیتے ہیں اور وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی لانے میں جبریل علیہ السلام سے غلطی ہوئی ہے۔

2003 ء میں کوئٹہ اور بلوچستان میں دو مواقع پر ہزارہ شیعوں کے قتل عام سے پہلے مندرجہ بالا فتوی تقسیم کیا گیا تھا۔ چونکہ وہاں تمام فتوں کو حکومت سے رجسٹر کروانا کوئی ضروری نہیں ہے اسی لیے ہزارہ رہنماؤں نے ٹی وی پر جو بیانات دیے انہیں ان سنا کر دیا گیا۔ تاہم، 1987 ء میں لکھنؤ میں شیعوں کے خلاف دیے گئے تمام پاکستانی فتوے فوجی عدالتوں کی جانچ پڑتال کے لئے دستیاب ہیں۔

پاکستان میں سرکاری طور پر منظور شدہ مدارس کی تعداد 25 ہزار ہے، تاہم ان کی تعداد دوگنی بھی ہو سکتی ہے، لیکن ان میں تمام مدارس حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف بلوچستان میں ہی 10 ہزار مدارس ہیں! جن بڑے قاتلوں کو پاکستان پکڑنا اور سولی پر چڑھانا چاہتا ہے وہ مدارس سے تعلق رکھتے ہیں۔

حکومت اور فوجی عدالتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج وہ لال مسجد مدرسہ ہے جس کے سربراہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف ایک عدالت نے جنوری میں سمن جاری کیا تھا جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی تھی۔ 2007 میں القاعدہ نے اس کے ساتھ تعلق کا اقرار کیا تھا اور ایک غازی فورس کا قیام کیا تھا جس نے خود کش حملے کر کے اسلام آباد میں راولپنڈی کے فوجی اہلکاروں کو بھڑکا دیا تھا۔

لال مسجد کے بانی کے نام سے منسوب غازی فورس کے پیچھے جو قاتل تھا اس کا نام قاری حسین احمد محسود تھا جس نے مدرسہ جامعہ فاروقیہ، کراچی سے تعلیم حاصل کیا تھا اور جس کی بنیاد مفتی شامزئی نے رکھی تھی اور انہوں فرقہ پرست قاتلوں کی سب سے بڑی فیکٹری جامعہ بنوریہ کی بھی بنیاد رکھی تھی، یہاں تک کہ وہ خوبھی موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ محسود ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا اس لیے کہ اس نے نیویارک میں ٹائمز اسکوائر کو بم دھماکوں سے اڑانے کے لیے ایک فضائیہ کے افسر کے ایک بیٹے کو تربیت دی تھی۔

اب پاکستان نے ایسی بہت ساری دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے جن کا جنم مدارس میں ہوا تھا۔ جیش محمد کی بنیاد مدرسہ جامعہ بنوریہ کراچی کے فارغ مولانا مسعود اظہر نے رکھی تھی اور یہ وہی انسان ہے جسے ہندوستان نے گرفتار کیا تھا لیکن ایک اغواء شدہ ہندوستانی طیارے کے بدلے اسے رہا کر دیا گیا تھا۔ وہ ایک دہشت گرد ملا مولانا حق نواز جھنگوی کے شاگرد تھے جن کا قتل 1980 اور 1990 کے درمیان فرقہ وارانہ جنگ کے درمیان کیا گیا تھا۔ اب دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کی قیادت اس کے اور دیگر شاگرد ملک اسحاق کر رہے ہیں جنہیں ایک خوفزدہ عدلیہ نے ضمانت دے دیا تھا اور اب حکومت انہیں جیل میں رکھ رہی ہے۔

آج پاکستان دنیا کو یہ بتا رہا ہے کہ اظہر کہاں ہے یہ ہمیں معلوم نہیں ہے (بہاولپور میں ان کا مدرسہ پاکستان میں رہنےالے طالبانی قاتلوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر پھل پھول رہا ہے)۔ بنوریہ مدسہ کے ایک اور فارغ مولانا اعظم طارق کو ان کے حریفوں نے اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب انہیں"غلطی سے" قومی اسمبلی کا رکن منتخب کیا گیا تھا۔ سب سے بڑی قاتل تنظیم سپاہ صحابہ کا ہیڈ کوارٹر جھنگ میں ہے۔ اس پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن جنوبی پنجاب میں یہ تنظیم زندہ ہے اور فروغ پا رہی ہے جہاں آپ صرف سپاہ کے ساتھ معاہدہ کر کے انتخابات جیت سکتے ہیں۔ جھنگ پاکستان میں فرقہ واریت کا مرکز رہا ہے اور ایک شیعہ کسان سیدہ عابدہ حسین نے سپاہ صحابہ کے بانی حق نواز جھنگوی کے خلاف یہیں سے انتخابات جیتا تھا۔ 1990 میں جب جھنگوی کا قتل کر دیا گیا اور سیدہ عابدہ حسین نے ان کی بیوہ سے ملنے اور ان سے تعزیت کرنے کا ارادہ کیا تو ان کی بیوہ نے جواب دیا: "آپ کو یہاں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ فون پر سورہ فاتحہ کی تلاوت کر سکتی ہیں؛ ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے بھائی اسامہ بن لادن میری تمام ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔ آپ نے ان کے بارے میں سنا ہی ہو گا۔ وہ آپ تمام کافروں سے زیادہ مشہور اور امیر سعودی مسلمان ہیں۔ "(Hussain’s memoir, Power Failure

بن لادن کو 1990 میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس نے 1991 کے بعد اس وقت پشاور چھوڑ دیا جب افغان جنگجوؤں نے آپسی جنگ چھیڑ ا تھا اور اس وقت سوڈان سے واپس لوٹے جب 1996 میں پاکستان نے طالبان کے لیے کابل کا دروازہ کھول دیا۔ افغانستان میں مختلف پاکستانی مدارس نے ان سے رابطہ قائم کیا اور متفرق اسلام پرست ایٹمی سائنسدانوں اور پاکستان کے ڈاکٹروں سمیت اسلام آباد کی لال مسجد کے علماء نے "شیخ" سے بعیت کی اور اس کے بعد پورے ملک میں شیعہ ڈاکٹروں کا قتل عام ہوا۔

کسی نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ پاکستان کے مدارس اتنے زیادہ طاقتور بن جائیں گے کہ خود ریاست کو چیلنج پیش کریں گے۔ 2015 میں یہ سب سے زیادہ طاقتور سول سوسائٹی بن گئی اور اب یہ ریاست کو چیلنج پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کا نظریہ بالآخر ریاست سے بدل کر "تشدد کی اجارہ داری" بن گیا ہے اور اس میں مذہبی قائدین کو ریاست کے حکام کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ ریاستی سیکٹر میں خدمات انجام دینے والے وکلاء، فوجی اہلکار، اطباء، اساتذہ، صحافی اور بے روزگار مدرسے کے طلباء کی طاقت بڑھا رہے ہیں اور ریاست کو جانے بغیر ہی ریاست کے خلاف محاذ قائم کر رہے ہیں۔

آج ریاست دہشت گردی کے خلاف ایکشن پلان کو نافذ کرنے کے لیے بہت کمزور ہو چکی ہے۔ مشرق وسطی کی طرح اب حکومت پاکستان بھی نصابی کتابوں کی نفرت اور تعصب پر مبنی تعلیمات کو ختم کرنے کے قابل نہیں رہی جو عام لوگوں کے ذہن میں اتاری جا رہی ہیں۔ وہاں تعلیمی نصاب میں غیر معقول طرز عمل کا غلبہ ہے۔ تعلیم پر مال ضائع کرنے سے اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک پاکستان کے حکومتی نظریہ میں کوئی تبدیل نہیں ہوتی -اسلامی دنیا پاکستان سے الجیریا تک تعلیم کو نظر انداز کرتی ہے۔

خالد احمد 'نیوز ویک پاکستان' کے کنسلٹنگ ایڈیٹر ہیں

ماخذ:

http://indianexpress.com/article/opinion/columns/when-madrasa-challenges-state/99/

URL:  https://www.newageislam.com/current-affairs/khaled-ahmed/when-madrasa-challenges-state/d/101518

URL for this article: https://newageislam.com/urdu-section/khaled-ahmed,-tr-new-age-islam/when-madrasa-challenges-state--جب-مدارس-حکومت-کے-لیے-ایک-چنوتی-بن-جائیں/d/101543

 

Loading..

Loading..