New Age Islam
Sun May 24 2026, 04:16 PM

Urdu Section ( 29 March 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Deen, Dharma and Quran: Words in the Holy Book Indicate Semitic Contacts دین ، دھرم اور قرآن : قرآن مقدس میں وارد ہونے والے الفاظ سے اس کی ہمہ گیریت کا ثبوت

خالد احمد

24 مارچ 2018

ہندوستان اور پاکستان میں جہاں لوگ انڈ و یوروپین ہندی اور اردو بولتے ہیں ، عقیدہ اور مذہب کے لئے بالعموم دین اور دھرم کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ رلیجن (Religion) کا معنی ہے-لگنے والا ، کیونکہ اس کے مادہ "لگ" کا معنیٰ جڑ جانا ہے ، جیساکہ اس کے لئے ہندی-اردو لفظ"لگانا" استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکس (Lex) جس سے کبھی مذہب مراد لیا جاتا تھا، لاء (law)ہے، لیکن لیگل (legal) میں "leg" بن گیا اور اس میں بھی جڑنے کا معنی پایا جاتا ہے۔ دین بھی انڈو یورپین زبان کا لفظ ہے اور قدیم فارسی میں اس کا لفظی معنی "جو دیا گیا ہو"،ہے۔ دھرم بھی وہ ہے جو آپ اپنے پاس رکھتے ہیں یا لیکر چلتے جیسا کہ اس کا مادہ "دھر"، ہے۔

ایک معروف اسلامی اسکالر کیرن آرمسٹرانگ نے سامی مذاہب یعنی یہودیت اور اسلام کے بارے میں ایک بہت ہی دلچسپ حقیقت پیش کی ہے۔ اسلام قرآن میں مذہب کے لئے لفظ "دین" کا استعمال کرتا ہے جبکہ یہ لفظ یہودی روایت میں نہیں پایا جاتا۔ ان کے مطابق عیسائیت میں بھی دین کے لیے کوئی لفظ نہیں ہے اور عیسائیت میں بھی دین کے لئے لفظ رلیجن (Religion) کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ایک انڈو یورپین لفظ ہے ، اور اس کا مطلب بھی لیگ (league) اور لیگیشن (legation) کی طرح "جوڑنا" ہے۔ وہ 25 ستمبر، 2014 کو دی گارڈین (The Guardian) میں لکھتی ہیں: "دیگر زبانوں میں جن الفاظ کا ترجمہ ہم 'مذہب' کرتے ہیں ان سے ضرور کوئی وسیع ترین اور جامع ترین شئی مراد ہوگی۔ عربی لفظ ‘دین’ کا معنیٰ ایک مکمل نظام زندگی ہے، اور سنسکرت کے لفظ ‘دھرم’ میں قانون، سیاست اور سماجی ادارے اور تقوی بھی شامل ہے۔ عبرانی بائبل میں 'دین' کا کوئی جامع تصور نہیں ہے؛ اور تلمود کے احباروں کے لئے ایک لفظ یا ایک فارمولے میں دین کو بیان کرنا ناممکن ہوتا ، کیونکہ تلمود مکمل انسانی زندگی کو مذہب کے دائرے میں لانے کے لئے تیار کی گئی تھا۔ آکسفورڈ کلاسیکی ڈکشنری میں صاف طور پر یہ لکھا ہوا ہے کہ: یونانی یا لاطینی زبان میں انگریزی لفظ رلیجن (Religion) کے لئے کوئی لفظ نہیں ہے۔ "

کیرن آرمسٹرانگ اپنی کتاب Fields of Blood: Religion and the History of Violence میں لکھتی ہیں۔ لیکن لفظ "دین" کا استعمال مضافاتی فارس میں کیا جاتا تھا ، جس کی زرتشتی روایت نے سامی قوم کو متاثر کیا اس لئے کہ اسلام سے قبل فارس میں یہودیوں کا ایک جتھہ آ کر آباد ہوا تھا۔ قرآن کی طرح قدیم فارسی زبان میں لفظ "دین" کا استعمال ایک دائمی قانون کے لئے کیا جاتا تھا جو کہ انسانیت کو منترا –اسپنتا کے ذریعہ عطا کیا گیا تھا ، اس کا استعمال مذہب، عقیدہ اور قانون کے لئے ہوتا ہے اور ہندی اور بدھ مت میں دھرم کے تصور کا ترجمہ بھی اسی لفظ دین سے کیا جاتا ہے۔

ہندوستان میں پارسی و زرتشتی ناموں کا سر رشتہ مقدس کتاب اوستا کے الفاظ سے جا ملتا۔ مینیکا گاندھی اور اوزیر حسین نے مسلم اور پارسی ناموں کی مکمل کتاب میں دو ایسے نام پیش کئے گئے ہیں جن میں لفظ "دین" آتا ہے: دین شاہ اور دینہ۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح ہنے رتن بائی سے شادی کی جو ہندوستان کے اکلوتے عرب پتی دین شاہ پٹیٹ کی بیٹی تھیں۔ اس نام کا معنی "دین کا قائد" تھا لیکن اس وقت "شاہ" کو ‘شاو’ سے تبدیل کر کے اسے"انگریزی" تلفظ دے دیا گیا تھا۔ جناح اور رتن بائی نے اپنی بیٹی کا نام دینہ رکھا جس کا معنیٰ ایمان کی (خاتون) پیروکار ہے۔ لہذا، قرآن کریم میں "مذہب" کے معنیٰ میں یہ لفظ قدیم فارسی زبان سے مستعار لیا گیا ہے جس نے سب سے پہلے عہد نامہ قدیم میں شیطان کا تصور پیش کیا تھا۔

قرآن میں دوسری تہذیبوں سے بھی الفاظ مستعار لئے گئے ہیں جن سے سامی تہذیب کا اپنے ہمسایوں سے تعلق کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ قرآن کریم میں دو اہم الفاظ "قرطاس" (کاغذ) اور "قلم" یونانی زبان سے لئے گئے ہیں ، جو کہ اس علاقہ کی ثقافتی زبان تھی اور اب یہ ترکی، شام، لبنان، فلسطین اور اردن میں مروج ہے (یہی وجہ ہے کہ انجیل اور عہد نامہ جدید میں سینٹ پال کا رسم الخط یونانی ہے)۔ قطر ایک یونانی لفظ "چارٹس (Chartes)" کی عربی شکل ہے اور "کلام" یونانی لفظ "کلاموس (Kalamos)" سے لیا گیا ہے۔

سید سلیمان ندوی اپنی کتاب عرب و ہند کے تعلقات میں قرآن کے اندر سنسکرت کے الفاظ کا ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے عظیم مفسر طبری کے اس موقف سے اختلاف کیا ہے کہ قرآن میں کوئی "غیر عربی" الفاظ نہیں ہیں۔ سلیمان ندوی کا کہنا ہے کہ قرآن کریم میں سنسکرت کے الفاظ بھی ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عربوں کو یہ معلوم تھا کہ ہندوستان میں خوشبو اور ادویات سازی ہوتی ہے۔ پہلا لفظ "زنجبیل" ہے۔ اس لفظ کا ذکر اللہ نے جنت کی نعمتوں کو بیان کرتے ہوئے قرآن کی آیت 76:18 میں کیا ہے۔ جنتی "زنجبیل" کے ساتھ ملایا ہوا جام نوش کریں گے۔ سلیمان ندوی کا کہنا ہے کہ اسے سنسکرت کے لفظ "زرنجبیر" سے لیا گیا ہے، جس سے ہندوستان میں عام طور پر بیری مراد لیا جاتا ہے۔ زنجبیل ادرک ہے۔

قرآن کریم میں دوسرا سنسکرت لفظ کافور ہے۔ قرآن کی آیت 76:5 میں جنتی شراب کی کیفیت یہ بیان کی گئی ہے کہ: اس میں کافور کی خوشبو ہو گی۔ ہم انگریزی میں لفظcamphor سے واقف ہیں۔ بعض ماہرین اسے عربی کے مادہ "کفر" سے ماجوذ مانتے ہیں۔ سلیمان ندوی کا کہنا ہے کہ لفظ کافور سنسکرت لفظ کپور سے ماخوذ ہے۔ سلیمان ندوی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت بہت سے مسلم غلاموں کا نام کافور تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیوں صرف غلاموں کا ہی یہ نام رکھا جاتا تھا۔

ماخذ:

: indianexpress.com/article/opinion/editorials/islam-quran-karen-armstrong-semitic-religion-5109276/

URL for English article: http://www.newageislam.com/interfaith-dialogue/khaled-ahmed/deen,-dharma-and-quran--words-in-the-holy-book-indicate-semitic-contacts-with-other-civilisations/d/114705

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/deen-dharma-quran-words-holy/d/114747


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..