New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 05:52 PM

Urdu Section ( 7 Oct 2013, NewAgeIslam.Com)

Campus Terror Why Pakistan Is Afraid Of Its Universities کیمپس دہشت گردی: پاکستان اپنی یونیورسٹیوں سے کیوں خائف ہے

 

خالد احمد

27 ستمبر 2013

لاہور کو  کراچی، پشاور اور کوئٹہ جو تین دوسرے صوبوں کے ہیڈ کوارٹرز ہیں  کے ذریعہ  کئے  جا رہے کسی بھی طرح کی دہشت گردی سے محفوظ  سمجھا جاتا تھا۔ لیکن گزشتہ ماہ القاعدہ کو ایک بڑی املاک سے اس کے مواصلاتی ہیڈ کوارٹر کو آپریٹ کرتا ہوا پایا گیا گیا تھا جس کی تحقیق و تفتیش  کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا ۔ لاہور اسلام آباد کی ہی طرح ہے جہاں القاعدہ سے منسلک دہشت گرد چھپے ہوئے ہو سکتے ہیں جو کہ تقریباً ایک لاکھ غیر قانونی مقبوضات (ان میں سے اکثر پختون- افغان ہیں )، غیر منصوبہ بند  مساجد اور عرب کی مدد سے بنائی گئی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹیاں  ہیں جہاں القاعدہ کے بانی  عبداللہ عظم پڑھایا کرتے تھے  اور  آج جہاں القاعدہ کے قاتل شریعت کا درس  لیتے ہیں۔

اگست میں ، چار خواتین سمیت چھ دہشت گرد لاہور گرین ٹاؤن میں گرفتار کئے گئے ۔ انٹیلی جنس حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ " القاعدہ بین الاقوامی تکنیکی ہب کے نام پر افغانستان سے  ایک سگنل حاصل کرنے والے اسٹیشن سے ایک غیر قانونی گیٹ وے ایکسچینج کر رہا تھا " ۔ مزید برآں، احاطے میں ہتھیار پائے گئے تھے جو ہو سکتا ہے کہ  مغوی شہریوں کو قبائلی علاقوں یا افغانستان میں کچھ دور لے جانے سے پہلے انہیں بندی بنائے رکھنے  کے لئے استعمال کئے گئے ہوں ۔

اس کے بعد، اسلام آباد پولیس نے القاعدہ کے ماسٹر مائنڈ حماد عادل کو گرفتار کیا جنہوں نے وزیرستان میں تربیت حاصل کی  ۔ عادل نے  دہشت گردی میں ملوث ہونے کی وجہ سے معطل کئے گئے  ایک فوجی کرنل کے بیتے عبداللہ عمر کے ساتھ مل کر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایک ایسے سینئر افسر کو ہلاک کر دیا جو 2008 کے مشہور ممبئی کیس میں مشتبہ افراد پر مقدمہ چلائے جانے کی پیروی کر رہے تھے   جس میں پاکستان کے دہشت گرد ملوث تھے اور جس نے  نے  اپنے اعتراف جرم  میں ریاست  کے ملوث ہونے کی بات کہی تھی۔

اسلام آباد میں خفیہ اطلاع ملنے کے بعد  آئی ایس آئی نے لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل سے ان کے مقامی مربی  کے ساتھ القاعدہ کے خودکش دستے کے چھ ارکان کو گرفتار کیا ۔ القاعدہ کے نو ارکان میں سے چار کو شمالی وزیرستان ایجنسی میران شاہ میں خصوصی جہادی تربیت دی گئی تھی جبکہ سندھ اور خیبر پختونخواہ کے دیگر پانچ الیکٹرانک میڈیا اور ساختہ دھماکہ خیز آلات میں ماہر تھے  ۔ ان کی جسمانی ساخت  سے ایسا  لگ رہا تھا کہ  وہ غیر ملکی ہیں  اور وہ اکثر پنجاب یونیورسٹی کے  ہاسٹل میں جا یا کرتے تھے  ۔

ایک عربی باشندہ جو  ایک خود کش مشن کو منظم کرنے کے لئے لاہور پہنچا تھا  اور اسے  جماعت اسلامی کے طالب علموں کی شاخ  اسلامی جمعیت طلبہ ( (IJTنے  پناہ گاہ فراہم کی تھی ۔ یونیورسٹی نے اعداد و شمار کے محکمہ کے اس طالب علم کے لئے ایک کمرہ الاٹ کیا تھا جس  کے تعلقات (IJT) سے تھے اور اس  نے اس عرب کو اس میں ٹھہرایا  ۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر جو کہ ایک ایسے اسلام پسند  ہیں جنہوں نے اپنی کتاب میں اس بات پر زور دیا ہے کہ یہودی عالمی بینکاری کے ذریعے دنیا پر حکومت کرتے ہیں اور 9/11 کا  منصوبہ دراصل خود امریکیوں نے  بنایا تھا ، انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے  اس میں ملوث ہونے سے  انکار کر دیا ۔ وائس چانسلر کے مطابق انہوں نے پولس کے پاس  70 سے زائد مرتبہ اس بات کی رسمی شکایات درج  کروائی کہ ہاسٹل میں دہشت گردوں کے ذریعہ خلل اندازی کی جا رہی ہے لیکن انہیں پولس کے  ذریعہ کوئی جواب نہیں ملا ۔ انہوں نے کہا کہ IJT جماعت اسلامی کے زیراہتمام سیاسی طور پر اتنا  مضبوط ہے کہ گرفتار کئے گئے دہشت گردوں کو آسانی کے ساتھ  جیل سے آزاد کروا لیا  ۔

عام طور پر پورے پاکستان میں اور  خاص طور پر لاہور میں یونیورسٹی کیمپس میں جماعت اسلامی کا غلبہ ہے ۔ جماعت اسلامیIJT کے ذریعے حکومت کرتی ہے  اور تدریس شعبوں پر  اپنا تسلط بھی قائم رکھتی ہے  ۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر دفاعی حالت میں ہیں اس لئے کہ ان کے اور کچھ دوسروں کے خلاف بھی جنسی استحصال کے  مقدمات درج کروائے گئے ہیں ۔ مؤخر الذکر (اساتذہ) کو بھی وقتا فوقتا مسروقہ مقالات کی بنیاد پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے گرفتا ر کیا جا تا ہے  ۔ نتیجے کے طور پر پنجاب یونیورسٹی کی ڈگریاں خود پاکستان میں بھی تسلیم نہیں کی جاتیں ۔ جماعت لاہور میں اس قدر طاقتور ہے کہ کوئی IJT کے ارکان کو گرفتار کر کے طویل عرصے تک جیل میں  بند نہیں رکھا جا سکتا ۔ جماعت اسلامی کے موجودہ چیف منور حسن جو  بنگلہ دیش میں جماعت کے رہنماؤں کو موت کی سزا دی دئے جانے پر آگ بگولہ ہو رہے ہیں ایک ایسے تند مزاج شخص ہیں جو ملک کی پالیسی پر سخت رویہ اختیار کر رہے ہیں ۔ وہ قاضی حسین احمد کی جگہ  لینے کے لئے  IJT ایک مضبوط رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے،  جماعت کے صدر کے طور پر  جن کی قیادت میں  جماعت نے  کے خلاف جنگ کی ہے ۔

پاکستان میں وائس چانسلرز اکثر IJT کے غنڈوں  کے ذریعہ زرد و کوب کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ ان کے ساتھ مل جل کر جینا  سیکھ لیتے  ہیں۔ ایسا کوئی آزاد فیکلٹی ممبر نہیں ہے جو  بچ سکے اور کیمپس میں پڑھا سکے ۔ بہت سے IJT طلباء لیڈران سیاسی منظر نامے پر اببھر کر سامنے آ رہے ہیں  با وجود اس کے کہ  ان کے خلاف قتل کے مقدمات زیر التواء ہیں ۔ خالد شیخ محمد جس نے  9/11 کے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی  مارچ 2003 میں راولپنڈی میں جماعت کی ایک " ویمنس  ونگ " کے رہنما کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ القاعدہ کا ایک اور رہنما ابو زبیدہ مارچ 2002 میں فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا تھا جسے حافظ سعید کی جماعت الدعوی اور لشکر طیبہ نے پناہ دی تھی ۔

لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ( UET ) بھی  IJT کا ایک مضبوط قلع ہے۔ پاکستان کے " خطر ناک جنگجو " حافظ سعید نے سرگودھا گورنمنٹ کالج سے گریجویشن کیا  اور بعد میں پنجاب یونیورسٹی سے عربی اور اسلامیات میں ایم اے کیا ۔ یونیورسٹی میں وہ IJT کا ناظم تھا۔ گریجویشن کے بعد اسے UET میں اسلامیات کے شعبے میں لیکچرار مقرر کیا گیا تھا ۔ یہیں سے اسے اعلی تعلیم کے لئے سعودی عرب بھیجا گیا تھا ۔ اس نے  کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض سے فراغت حاصل  کی اور سعودی عرب میں قیام کے دوران مشہور سعودی عالم شیخ عبدالعزیز بن باز سے اس کی قربت تھی  جس نے  سب سے پہلے 1979 ء میں افغانستان میں جہاد کے لئے فتوی جاری کیا تھا۔

سعودی عرب میں اپنے قیام کے بعد سعید پاکستان واپس آیا اور ہائی کورٹ کے ججوں کے ایک پینل کے انتخاب کے ذریعہ  اسے کونسل آف اسلامی آئیڈیالوجی میں ایک ریسرچ اسکالر کے طور پر منتخب کیا گیا۔ کونسل میں کام کرتے ہوئے اس نے UET کے ساتھ اپنے استحقاق کو  برقرار رکھا۔ حافظ سعید نے  1970 ء میں جماعت اسلامی کے انتخابی مہم میں حصہ لیا لیکن سیاست کی وجہ سے  اسے روک دیا گیا  ۔ اور 1971 میں مشرقی پاکستان کے زوال کی وجہ سے وہ جمہوریت کے خلاف دل برداشتہ ہو گیا تھا ۔ اگلی ہندو پاک جنگ  اگر ہوئی تو اس بات کا امکان قوی ہے کہ وہ حافظ سعید کے ذریعہ ہی بھڑکائی جائے گی ۔ اب وہ اپنی جماعت الدعوی کے ذریعہ جماعت کی  طاقت اور اثر و رسوخ کو کم کر رہا ہے اس  لئے کہ جماعت الدعویٰ  کے پاس اتنی  دولت ہے  کہ جس کا وہ  خواب بھی نہیں دیکھ سکتے ۔ اگر پاکستان اپنی یونیورسٹیوں سے خوف زدہ  ہے تو جماعت الدعوی اسکولوں اور کالجوں اور اس کے علاوہ ایک یونیورسٹی کے اپنے  ہزاروں نوجوانوں کی قوت افرادی کو استعمال کرتے ہوئے آسانی  سے ملک پر قبضہ کر لے گی ۔

روز نامہ لاہور ، پاکستان ٹوڈے نے  2012 میں یہ اداریہ لکھا تھا  : " قدامت پسند اسلامی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے طلباء سیاسی جماعت کی  صورت میں بہت سارے عوامی تعلیمی اداروں میں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے تشدد کا سہارا لیتے ہوئے خود کو منظم کر لیا ہے۔ ایک مکمل خاموشی اور بعض صورتوں میں شعبوں کی حمایت نے پنجاب یونیورسٹی میں خود کو منظم کرنے کے لئے  IJT کے مقصد کو آسان بنا دیا ہے۔"

ایسا پہلا موقع جب جماعت نے  IJT کے تشدد کی حمایت نہیں کی وہ ہے  جب عمران خان کی IJT نے پنجاب یونیورسٹی کیمپس کے دورے کے درمیان  پٹائی کی تھی ۔ اس کے بعد جماعت کے چیف قاضی حسین احمد نے  معذرت خواہی کےلئے عمران خان کے گھر کا رخ کیا اور  اس کے بعد خان کے والد کی نماز جنازہ پڑھائی۔ قاضی کی حکمت نے چکتا ادا کر دیا : خیبر پختونخواہ میں خان کی حکومت جماعت کے ساتھ اتحاد میں چل رہی ہے ۔

پاکستان میں القاعدہ کو دہشت گردی کی صدارت کرنے والا سمجھا جاتا ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجابی اور غیر پنجابی تمام قسم کے طالبان کو ایمن الظواہری اور اس کی  عرب سے حاصل ہونے والی دولت کے ذریعہ کنٹرول کیا جا رہا ہے ۔ جماعت الدعویٰ کی افرادی  قوت اور اس کی دولت کو بھی اس میں شامل کریں حافظ سعید القاعدہ کے بانی فلسطینی مذہبی رہنما عبداللہ عظم سے روحانی طور پر اس قدر منسلک تھا کہ اس نے پشاور میں عظم کے دفتر پر کےپاس ہی  دعوت والارشاد تنظیم کی بنیاد ڈالی جس کا اندازہ پاکستان اپنے جوہری آلات سے لیس فوج کے باوجود نہیں کر سکتا ۔

طالبان کسی کے ساتھ امن کی بات نہیں کر رہے ہیں اس لئے کہ  وہ 2014 کے آخر تک غیر ملکی افواج کے نکل جانے کے بعد افغانستان میں جنگ کی تیاری کر رہے ہیں  ۔ اور تین لاکھ پچاس ہزار مضبوط افغان قومی فوج کے خلاف یہ  جنگ پنجاب کے ذریعہ لڑی جائے گی یہی وجہ ہے کہ القاعدہ لاہور پہنچ چکا ہے ۔ صرف پنجاب کے غیر ریاستی عناصر کے پاس ہی آنے  والے  مسلم معرکۂ  خیر و شر لڑنے کے لئے تربیت یافتہ جنگجوؤں کی ایک مدمقابل تعداد موجود ہے۔ اور القاعدہ وہاں رہنا چاہتا ہے جہاں اس کی  فوج کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدی ٰ ، نیو ایج اسلام)

خالد احمد ' نیوز ویک پاکستان express@expressindia.com ۔ کے ایک مشاورتی ایڈیٹر ہیں۔

ماخذ: http://www.indianexpress.com/news/campus-terror/1174864/

URL:

http://www.newageislam.com/the-war-within-islam/khaled-ahmed/campus-terror--why-pakistan-is-afraid-of-its-universities/d/13724

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/khaled-ahmed,-tr-new-age-islam--خالد-احمد/campus-terror-why-pakistan-is-afraid-of-its-universities-کیمپس-دہشت-گردی--پاکستان-اپنی-یونیورسٹیوں-سے-کیوں-خائف-ہے/d/13898

 

Loading..

Loading..