New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 07:50 PM

Urdu Section ( 9 Jan 2018, NewAgeIslam.Com)

What is the Ruling on Women Going to The Masjid Part – 1 کیا عورتیں مسجد میں جاسکتی ہیں

 

پہلی قسط

کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام

تاریخ اسلام کے ادنیٰ طالب علم پر یہ بات اچھی طرح ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجدنبوی میں بیٹھ کر تمام در پیش مسائل کا حل فرمایا کرتے تھے۔ اسی مسجد میں آپ نماز بھی پڑھاتے تھے اور درس بھی دیا کرتے تھے ۔ اسی مسجد میں اخلاق و تصوف کا سبق بھی پڑھاتے تھے اور اسی میں محفل نعت و میلاد بھی منعقد کر تے تھے ۔ اسی مسجد میں باہر سے آنے والے وفود کا استقبال بھی کرتے تھے اور اسی میں اسلام کی نشرو اشاعت کے لیے جانے والے قافلے کی تیاری بھی ہوتی تھی ،مختصریہ کہ وہ مسجد عبادت گاہ بھی تھی اور تربیت گاہ بھی، درسگاہ بھی تھی اور خانقاہ بھی ۔ دوسری طرف ایک اہم نکتہ یہ بھی خاص توجہ کا مستحق ہے کہ اس وقت نبی کریم ﷺ ہی لوگوں کو دینی احکام ومسائل سے و اقف کرایا کرتے تھے، اورآپ ہی لوگوں کی دینی و مذہبی رہنمائی فرمایا کرتے تھے ۔ اس لیے دینی وشرعی مسائل سیکھنے کے لئے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی مسجد میں آنے کی اجازت تھی تاکہ وہ بھی مسجد نبوی میں نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کا شرف حاصل کر کے زیادہ سے زیادہ ثواب کی مستحق بن سکیں ساتھ ہی خود اپنے کانوں سے دینی مسائل سن کر اپنے حافظہ میں محفوظ رکھ سکیں ،اور دین میں نو داخل خواتین کی تربیت کر سکیں۔ 

عورتوں کو مساجد میں آنے کی اجازت :

۱۔ عن ابن عمر قال قال رسول اللہ ﷺ : ‘‘اذا استاذنت امراۃ ا حدکم الیٰ المسجد فلا یمنعھا ’’ (رواہ البخاری :ج۱ ص۲۱۱،ومسلم :ج۱ص۳۲۶)

 ترجمہ: ابن عمر نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جب تم میں سے کسی کی عورت مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ اس کو منع نہ کرے ۔

۲۔ عن  ابن عمر قال قال رسول اللہ ﷺ : ‘‘لا تمنعوا نسائکم المساجد ’’ (ابو داود :ج۱ ص ۳۸۲)

ترجمہ : حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :تم اپنی عورتوں کو مسجد سے نہ روکو۔ 

۳۔ عن ابن عباس ان النبی ﷺ کان یخرج بناتہ و نسائہ فی العیدین (ابن ماجہ :ج۱ ص ۴۱۵،مسند احمد :ج۱ ص۲۳۱،کتاب احکام النسا)

ترجمہ : حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو عیدین میں لے جاتے تھے ۔

ان احادیث سے ایسامعلوم ہوتاہے کہ عورتوں کو مساجد میں جاکر نماز باجماعت پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں اس لئے کہ آقا ﷺ نے انہیں مسجد میں آنے کا حکم دیا ہے، لیکن موجودہ دورمیں عورتوں کو ایسا کرنا قطعا جائز و درست نہیں ،کیوں کہ جب آپ ﷺ نے ایسا فرمایا تھا تو اس وقت اس میں چند مصلحتیں تھیں جن کی بنا پر عورتوں کو مساجد میں نماز باجماعت پڑھنے کی اجازت تھی، مثلاًنبی پاک ﷺ کی اقتدا بہت بڑی سعادت کی بات تھی،آپ ﷺ وقتاً فوقتاًلوگوں کو مسائل شرعیہ بتایا کرتے تھے جن سے عورتیں بھی واقف ہوجایاکرتی تھیں۔ 

احادیث میں ممانعت کے اشارے 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے کہ قبیلہ مزینہ کی ایک بنی سنوری عورت بڑے ناز و ادا کے ساتھ مسجد میں آئی تو رسول اللہ  ﷺنے فرمایا :

۱۔ لوگو!  اپنی عورتوں کو زینت و خوشبو کے ساتھ مسجد میں آنے سے روکو ،اس لیے کہ بنی اسرائیل پر اس وقت لعنت بھیجی گئی جب ان کی عورتوں نے زینت اختیار کی اور مساجد میں زیب و زینت کے ساتھ آنے لگیں ۔(سنن ابن ماجہ :۲ ص ۱۳۲۶ )

حضرت ام المومنین کی تائید : صحیح مسلم شریف، کتاب الصلوٰۃ میں حضرت عمرۃ بنت عبد الرحمٰن رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ:

۲۔ عن عائشۃ رضی اللہ تعا لیٰ عنھا قالت لو ادرک النبی ﷺ ما احدث النساء لمنعھن المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل ۔ (بخاری ص ۱۱۹ ج۱۔ مسلم ،باب خروج النساء الی المساجد،ص ۱۸۳ ج۱)

ترجمہ : ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ عورتوں کی موجودہ جدت (بناؤ سنگھار ) کو ملاحظہ فرمالیتے تو ان کو مسجد میں آنے سے ضرور منع فرمادیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا ۔ 

ان احادیث کے پیش نظر جس میں سرکار دوعالم ﷺ نے زمانہ عبر ت نشان کی عورتوں کی معمولی زیب و زینت پر اس قسم کا حتمی فیصلہ فرمادیاتو کچھ عجب نہیں کہ آپ ﷺ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کے اس اظہار خیال کی تائید فرما کر عورتوں کو اس سے منع فرماتے ۔ 
عورتوں کو مساجد میں آنے کی اجازت کیوں ؟ 

عورتوں کو مساجد میں جانے کی اجازت اس وقت تھی جب کہ معلم انسانیت کے سواکوئی معلم نہ تھا ابتدا اسلام کا زمانہ تھا اور ہر نومسلم کی تعلیم وتربیت نہایت ضروری تھی اس لیے نبی کریم ﷺ مسجد نبوی میں بیٹھ کر ہی تمام درپیش مسائل کا حل فرمایا کرتے تھے ۔ لیکن اس وقت جب یہ دشواریاں ختم ہوگئیں اور جابجا عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ورثۃ الانبیاء نے خصوصی انتظام کیا اورجگہ جگہ درس گاہیں اور تربیت گاہیں فراہم ہوگئیں توان حالات میں اب انہیں مساجد جانے کی کوئی حاجت نہ رہی کیوں کہ ان کے لئے اصل حکم تو یہ ہے۔

وقرن فی بیوتکن لا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولیٰ۔(جمل النور) 

اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اکر م ﷺ سے روایت کرتے ہیں:

المراۃ عورۃ فاذا خرجت استشرفھا الشیطان( رواہ الترمذی و قال حسن صحیح ص۱۴۰ ج۱)

اور سرکا ر دو عالم ﷺکا یہ فرمانا ‘‘لا تمنعوا اماء اللہ مساجد اللہ ’’یہ الضروریات تبیح المحظورات’’ کے مطابق تھالیکن اب اس کی کوئی حاجت نہ رہی۔اس وجہ سے اجازت بھی نہ رہی ۔ 

حضرت فاروق اعظم کا منع کرنا:

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ نے فرمایا اگر نبی ﷺ یہ دیکھ لیتے جو عورتوں نے اب (زیب و زینت کے ساتھ مسجد میں جانا ) شروع کیا ہے تو انہیں مسجد میں جانے سے اسی طر ح روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں روکی گئیں ۔ 

امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں :  تابعین ہی کے زمانے سے ائمہ نے ممانعت شروع فرمادی تھی ۔ پہلے جو ان عورتوں کو پھر بڑھیوں کو بھی ۔ پہلے دن میں پھر رات میں بھی ، مغرب عشااور فجر میں فاسق لوگ کھانے اور سونے میں مشغول ہوتے تھے ۔ باہر گھومنا پھر نا ان اوقات میں مروج نہیں تھا ۔ اب جب کہ زمانہ میں فساد آگیا ۔ فحاشی عروج پر آگئی تو حکم ممانعت عام ہوگیا ۔ 

کیا اس زمانے کی عورتیں گربے والیوں کی طرح، گانے ناچنے والیاں ،یا فاحشہ دلالہ تھیں اب صالحات ہیں ؟یا جب فاحشات زیادہ تھیں اب صالحات زائد ہیں ؟جب فیوض و برکات نہ تھے اب ہیں ؟ یا جب کم تھے اب زائد ہیں ؟ حاشا! بلکہ قطعا یقیناًاب معاملہ بالعکس ہے ۔ اب اگر ایک صالحہ ہے تو جب ہزار تھیں ۔ جب اگر ایک فاحشہ تھی اب ہزار ہیں ۔ اب اگر ایک حصہ فیض ہے جب ہزار حصے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : ‘‘لایاتی عام الا و الذی بعدہٗ شرمنہ’’ ہر آنے والا سال گذشتہ سے بد تر ہوگا۔  بلکہ عنایہ اکمل الدین بابرتی میں ہے ۔  امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے عورتوں کو مسجد سے منع فرمادیا ۔ وہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی خدمت میں شکایت لے کر پہنچیں ۔ فرمایا : اگر زمانہ اقدس میں یہ حالت ہوتی توحضور عورتوں کو مسجد میں آنے کی دعوت نہ دیتے ۔

عینی جلد سوم میں ہے ۔ 

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عورت سراپا شرم کی چیز ہے ۔ سب سے زیادہ اللہ عزو جل سے قریب اپنے گھر کی تہ میں ہوتی ہے اور جب باہر نکلے شیطان اس پر نگاہ ڈالتا ہے ۔ حضر ت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھا کا یہ طریقہ تھا کہ جمعہ کے دن کھڑے ہوکر کنکریاں مارتے اور عورتوں کو مسجد سے نکالتے تھے ۔ امام ابراہیم نخعی تابعی استاذ الاستاذ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنھم اپنی مستورات کو جمعہ و جماعت میں نہ جانے دیتے تھے ۔ 

تو جب ان خیر کے زمانوں میں ، ا ن فیوض وبرکات کے وقتوں میں ،عورتیں منع کر دی گئیں اور کہاں سے؟حضور مساجد اور شرکت جماعت سے، حالا ں کہ دین متین میں ان دونوں کی تاکید تھی ۔ تو ان ازمنہ شرور میں ان قلیل یا مو ہوم فیوض کے حیلے سے عورت کو اجا زت دی جائے گی اور وہ بھی کا ہے کو؟زیارت قبور کے جانے کی جو شرعا مؤکد نہیں ،اور خصوصا ان میلوں ٹھلوں میں جو خدا نا ترسوں نے مزارات کرام پر لکا رکھی ہے ۔یہ کس قدر شریعت مطہرہ سے مناقضت ہے شرع مطہرہ کا قاعدہ ہے کہ جلب مصلحت پر سلب مفسدہ کو مقدم رکھتی ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ ۴؍۱۷۰)

(جاری)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/kaniz-fatma,-new-age-islam/what-is-the-ruling-on-women-going-to-the-masjid-part-–-1--کیا-عورتیں-مسجد-میں-جاسکتی-ہیں-/d/113882


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..