New Age Islam
Wed Oct 21 2020, 02:29 PM

Urdu Section ( 26 March 2018, NewAgeIslam.Com)

Life And Virtues of Hadrat Imam Ali امام عالی مقام حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل

 

کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام

یہ رجب کا مہینہ ہے اسی مہینہ کی ۱۳ تاریخ کوخلیفہ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیدائش ہوئی جن کے فضائل و مناقب اور کردار و کارناموں سےدنیا روشن ہیں اورجن سے قیامت تک آنے والے لوگ راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ آپ کی ولادت کعبہ شریف میں ہوئی تھی۔ امام حاکم اپنی مشہور حدیث کی کتاب المستدرک للحاکم میں فرماتے ہیں۔ فقد توارت الاخبار ان فاطمه بنت اسد ولدت امير المومنين علی ابن ابی طالب کرم الله وجهه فی جوف الکعبه. ترجمہ:  اس بارے میں متواتر احادیث موجود ہیں کہ فاطمہ بنت اسد نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو کعبہ شریف کے اندر جنا تھا۔(المستدرک للحاکم، ج : 3، ص : 484)۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی  اپنی کتاب ازالۃ الخفا میں  لکھتے ہیں: ‘‘آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر ۱۳ رجب بروز جمعہ۳۰ عام الفیل کو ہوئی۔(ازالۃ الخفاء از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی)

حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں: صحیح قول کے مطابق آپ کی ولادت بعثت نبوی سے دس برس قبل ہوئی ۔(الاصابۃ ج:۲،ص:۱۲۹۴)

آپ کا نام ”علی“، کنیت ”ابو الحسن“،اورلقب ”اسداللہ“ اور ”حیدر“ ہے۔ آپ کا نسب نامہ اس طرح ہے : علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ھاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب ۔(الاصابۃ ج: ۲،ص:۱۲۹۴،سیرت سیدنا علی المرتضی ،ص:۲۰ )

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اعلان نبوت فرمایا تو بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ پڑھا۔ (الاصابۃ ج:۲،ص:۱۲۹۴)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے بھائی بنایا۔حضرت علی کو فرمایا ” أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‘‘آپ دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہیں ۔(جامع الترمذی ج:۲،ص:۲۱۳،مناقب علی ابن ابی طالب )

آپ بہت زیادہ عبادت گزار تھے، امام حاکم رحمتہ اللہ علیہ نے زبیر بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں نے کسی ہاشمی کو نہیں دیکھا جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زیادہ عبادت گزار ہو۔ اْمّ الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت زیادہ روزہ دار اور عبادت گزار تھے۔

آپ بہت زیادہ سخاوت کرنے والے تھے کوئی سائل و حاجت مند آپ کے در سے خالی نہ جاتا تھا۔

آپ قرآن مجید کے حافظ اور اس کی ایک ایک آیت کے معنیٰ اور شانِ نزول سے واقف تھے۔ آپ کو بچپن میں قبولِ اسلام کی سعادت نصیب ہوئی اور بچوں میں سے سب سے پہلے آپ ہی دولتِ ایمان سے منور ہوئے، آپ کو ”السابقون الاولون“ میں بھی خاص مقام اور درجہ حاصل ہے، آپ ”بیعتِ رضوان“ اور ”اصحابِ بدر“ میں شامل رہے ۔

آپ ”عشرہ مبشرہ“ جیسے خوش نصیب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں بھی شامل ہیں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم   نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت و خوشخبری دی۔ مکی زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ آپ ہر قسم کے مصائب و مشکلات کو جھیلتے رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بغض رکھنے کو محرومی کا سبب قرار دیا۔حضرت زر بن جیش رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھاڑ کر درخت نکالا اور جان کو پیدا کیا کہ نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم  نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ سے وہی محبت کرے گا جو موٴمن ہو گا اور مجھے سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہو گا (صحیح مسلم)۔

۱۔  کتاب : فضائل صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ، علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ

علامہ سید شاہ تراب الحق

 ‘‘آپ کے دور خلافت میں جو فسادات یا جھگڑے ہوئے وہ آپ کے استحقاق خلافت پر نہیں تھے بلکہ وہ ایک اجتہادی غلطی تھی جس میں حضرت عثمان رضہی اللہ عنہ کی سزا میں جلدی کا مطلابہ تھا ‘‘ (تکمیل الایمان ۱۶۰)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا ، کیا وجہ ہے کہ پہلے تینوں خلفا کے دور خلافت بڑے انتظام سے گزرا اور کسی گوشے سے اختلاف و مخالفت نہیں ہوئی مگر آپ کے دور خلافت میں ہر طرف انتشار  اور بے چینی پائی جاتی ہے ؟ آپ نے فرمایا: ان کے دور کے خلافت میں ہم ان کے معاون تھے اور ہمارے دور خلافت کے معاون تم ہو (ایضا ۱۵۸)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار آدمیوں کی محبت کسی منافق کے دل میں جمع نہیں ہو سکتی اور نہ ہی مومن کے سوا کوئی ان چاروں سے محبت کر سکتا ہے وہ چار لوگ ابو بکر ، عمر ، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم ہیں (ابن عساکر ، الصواعق المحرقہ :۱۱۹)

پروفیسر محمد نصر اللہ معینی اپنے مقالہ  بعنوان ‘‘ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے روحانی احوال و مقام ’’ میں حضرت  مولا علی رضی اللہ عنہ کی روحانی قوت کے متعلق رقمطراز ہیں:

حضرت امام یوسف النبھانی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت امام فخرالدین رازی کے حوالے سے سیدنا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کی روحانی قوت کا یہ ایک دلچسپ واقعہ جامع کرامات اولیاء میں درج کیا ہے وہ لکھتے ہیں۔

 ایک حبشی غلام حضرت حیدر کرار رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا تھا۔ ایک مرتبہ چوری کے جرم میں اسے حضرت امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ اس نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا تو آپ کے حکم سے حسب قانون اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ہاتھ کٹوا کر حبشی غلام دربار مرتضوی سے واپس آرہا تھا کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن الکواء سے ملاقات ہوگئی جنہوں نے پوچھا کہ تیرا ہاتھ کس نے کاٹا ہے؟ غلام کہنے لگا ’’یعسوب المسلمین‘‘ ختن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور زوج بتول علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے کاٹا ہے۔ ابن الکواء رضی اللہ عنہ نے پوچھا : انہوں نے تیرا ہاتھ کاٹ دیا ہے اور تو ان کی مدح کرتا ہے؟

حبشی کہنے لگا میں ان کی مدح کیوں نہ کروں، انہوں نے مجھے آخرت کی سزا سے بچا لیا ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اس کی یہ بات سن کر بڑے حیران ہوئے اور جا کر حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کر دیا۔

سیدنا حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فوراً غلام کو طلب فرمایا اور اس کا ہاتھ اس کی کلائی کے ساتھ رکھ کر رومال سے ڈھانپ دیا، کچھ دعائیہ کلمات پڑھے۔ اچانک ایک آواز آئی کہ کپڑا ہٹادو، کپڑا ہٹایا گیا تو ہاتھ بالکل صحیح سالم تھا۔ (ماہنامہ منہاج القرآن بحوالہ جامع کرامات اولیا و جلد اول ص 423 ، تفسیر کبیر ج ۷ ص ۴۳۴ بحوالہ کرامات علی رضی اللہ عنہ ، الیاس عطار قادری)

حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔ ۔ ۔ علوم روحانیت کا دروازہ

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے متعلق سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

انا مدينة العلم وعلی بابها. ’’میں شہر علم ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہیں۔

اور حضرت حیدر کرار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : علمنی رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم الف باب يفتح۔ ترجمہ : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے علم کے ہزار باب کی تعلیم دی، ہر باب کے آگے ہزار ہزار باب کھلتے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خرقہ ولایت عطا کرتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ رموز و اسرار مجھ پر منکشف فرمائے جو نہ جبرائیل علیہ السلام کے پاس ہیں نہ میکائیل علیہ السلام کے پاس۔

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری غسل دیا تو پانی کے چند قطرے آپ کی مقدس پلکوں پر موجود تھے میں نے انہیں اپنی زبان سے چوس لیا۔ بس علم و عرفان اور حکمت و ادراک کا ایک سمندر میرے سینے میں ٹھاٹھیں مارنے لگا۔

بعض شارحین علماء حدیث (انا مدينة العلم و علی بابها) کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ یہاں العلم سے مراد شریعت کا علم نہیں کیونکہ وہ تو دیگر خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کو بھی حاصل تھا۔ اس سے مراد روحانیت کا علم ہے چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کا دروازہ قرار دے کر یہ اعلان فرمایا گیا کہ ان علوم روحانیہ کا طالب اس دروازے کی چوکھٹ چومے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ روحانیت کے تمام سلاسل خواہ چشتی ہوں یا قادری، نقشبندی ہوں یا سہروردی سب کے سب اسی باب علم سے ہی فیضیاب ہو کر منزل مراد تک پہنچتے ہیں۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے مکتوبات شریف میں لکھا ہے :

اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والے راستوں میں سے ایک راستہ قربِ ولایت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے پیشوا سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جسمانی پیدائش سے پہلے اس مقام کے ملجاء و ماویٰ تھے۔ جیسا کہ آپ جسمانی پیدائش کے بعد ہیں۔ ۔ ۔ اور جس کو بھی فیض و ہدایت پہنچی اس راہ سے پہنچی اور ان ہی کے ذریعے سے پہنچی کیونکہ وہ اس راہ کے آخری نکتہ کے قریب ہیں۔ (مکتوب 123، دفتر سوم، حصہ دوم ص 1425)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے ان اکابر جید علماء ربانیین اور صاحب کمال ہستیوں میں سے ہیں جن کی تمام مسالک (اہل سنت، اہل حدیث اور دیوبندی) عزت و تکریم کرتے ہیں اور ان کے علم و فضل کے معترف ہیں۔ آپ فرماتے ہیں :

1۔ ’’ایک روز مقام قرب میں غور کی نگاہ کی گئی تو ہر چند نظر دور دور تک گئی لیکن جہت خاص جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میں تھی اس سے زائد کسی میں نہ دیکھی گئی اور اس جہت میں کسی دوسرے کی ان پر فضیلت نہیں دکھائی دی۔ آپ اس جہت یعنی مقام قرب کے اعلیٰ مرکز کے اوپر ہیں اور اسی لئے آپ ہی مبداء عرفان ہوئے ہیں۔ ‘‘

(القول الجلی فی ذکر آثار ولی ص 522)

2۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب الفاس العارفین میں اپنے چچا حضرت ابو الرضا محمد کی روایت درج کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری بار بچشم حقیقت زیارت ہوئی، میں نے عرض کی : یاسیدی میری خواہش ہے کہ آپ کے طریقہ عالیہ کے فیض یافتہ کسی مردِ حق سے بیعت کروں تاکہ ان سے حقائق کی تفصیل پوچھ سکوں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل ہوئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیری بیعت امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ سے ہوگی۔

کچھ دنوں بعد دیکھا کہ گویا کسی راستے پر جارہا ہوں۔ آس پاس کوئی شخص نظر نہیں آرہا۔ لیکن راستے پر گذرنے والوں کے نقوش موجود ہیں۔ تھوڑی دور راستے کے درمیان ایک شخص کو بیٹھا ہوا دیکھا۔ میں نے اس سے راستہ پوچھا، اس نے ہاتھ کے اشارہ سے کہا ادھر آؤ۔ اس سے مجھے انشراحِ قلب حاصل ہوا۔ انہوں نے فرمایا : اے سست رفتار، میں علی ہوں اور مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں ان کی بارگاہ میں لے چلوں۔ میں ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں دے کر کہا : يا رسول الله هذا يدی الرضا محمد یہ سن کر حضور نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت لی۔ اس موقع پر میرے دل میں ایک بات کھٹکی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر مطلع ہو کر فرمایا کہ میں اسی طرح اولیاء اللہ کے حق میں وسیلہ بیعت رہتا ہوں ورنہ اصل میں تمام سلاسل کی بیعتوں کا مرکز اور مرجع حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دست مبارک ہوتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے مجھے اشغال اور اذکار کی تلقین فرمائی اور علوم و اسرار سے نوازا۔ پروفیسر محمد نصر اللہ  ‘‘ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے روحانی احوال و مقام ’’ ماہنامہ منہاج القرآن ستمبر ۲۰۰۹)

علامہ الیاس عطار قادری اپنی کتاب کرامات امام علی کرم اللہ  وجہہ میں شواہد النبوۃ کے حوالہ سے  رقمطراز ہیں : ایک مرتبہ نہرِ فُرات میں ایسی خوفناک طُغیانی آگئی (یعنی طوفان آگیا)کہ سَیلاب میں تمام کھیتیاں غَرقاب ہو(یعنی ڈوب)گئیں لوگوں نے حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی، شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی بارگاہِ بیکس پناہ میں فریاد کی ۔ آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے اوررَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا جُبَّۂ مبارَکہ وعِمامۂ مُقَدَّسہ و چادر مبارَکہ زیب تن فرما کر گھوڑے پر سوار ہوئے، حضراتِ حَسَنَینِ کریمینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَااوردیگر کئی حَضْرات بھی ہمراہ چل پڑے ۔فُرات کے کَنارے آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے دو رَکْعت نَماز ادا کی،پھرپُل پر تشریف لا کراپنے عَصا سے نَہر فُرات کی طرف اشارہ کیا تو اُس کا پانی ایک گز کم ہوگیا، پھر دوسری مرتبہ اشارہ فرمایا تو مزید ایک گز کم ہو ا جب تیسری بار اشارہ کیا تو تین گز پانی اُتر گیا اور سیلاب ختم ہوگیا۔ لوگوں نے التجا کی: یا امیرُ الْمُؤْمِنِین! بس کیجئے یِہی کافی ہے ۔(کرامات علی رضی اللہ عنہ ، الیاس عطار قادری بحوالہ شواہدُ النّبوۃ ص۲۱۴)

آپ رضی اللہ عنہ کا اعزاز :

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ  کی امتیازی صفات اور خدمات کی بنا پر رسول کریم ان کی بہت عزت کرتے تھے او اپنے قول اور فعل سے ان کی خوبیوں کو ظاہر کرتے رہتے تھے۔ جتنے مناقب علی بن ابی طالب کے بارے میں احادیث نبوی میں موجود ہیں، کسی اور صحابی رسول کے بارے میں نہیں ملتے۔ مثلا حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہ الفاظ (علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں)۔ کبھی یہ کہا کہ (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے) کبھی یہ کہا (تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے)۔ کبھی یہ کہا (علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی)۔ کبھی یہ کہا (علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے۔ کبھی یہ کہ) وہ خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں،, یہاں تک کہ مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا۔ عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کا دروازہ کھلا رکھا گیا۔ جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیغمبر نے اپنا دنیا واخرت میں بھائی قرار دیا اور سب سے آخر میں غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔ (ویکیپیڈیا)

ایک دیوبندی مکتب فکر کے عالم محمد عاطف معاویہ امام عالی مقام حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اجتہادانہ صلاحیت کے متعلق  رقمطراز ہیں:

قوت اجتہاد : حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فقہ و اجتہاد میں بڑی دسترس حاصل تھی۔بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی قوت اجتہاد کے معترف تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ حنفی کی بنیاد حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اجتہادی فیصلوں پر ہے ۔آپ کے اجتہادی مسائل میں چند درج ذیل ہیں ۔

آپ کے دور میں کچھ لوگوں کا نظریہ یہ تھا کہ اگر امت میں اختلاف ہو جائے تو فیصلہ صرف قرآن سے کرانا چاہیے۔آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ اگر زوجین میں اختلاف ہو جائے تو اللہ تعالیٰ حَكَم اور ثالث بنانے کا حکم دیتے ہیں ۔آپ کا اشارہ آیت

’’وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا ‘‘ کی طرف تھا یعنی اگر امت میں اختلاف ہو جائے تو ثالث بنانا کیوں ناجائز ہو گا ؟کیا امت محمدیہ کا مقام و مرتبہ مرد وعورت سے بھی کم ہے۔

(مسند احمد ج:۱، ص:۴۵۳ ،رقم الحدیث ۶۵۶)

مجتہد کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک مسئلہ کی مختلف احادیث کو سامنے رکھتا ہے۔پھر اپنی اجتہادی قو ت سے ایک کو ترجیح دیتاہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں یہ خصوصیت کمال درجہ کی تھی۔ چند مسائل درج ذیل ہیں جن کے متعلق احادیث کا ایک ذخیرہ موجو دہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نےان میں سے ایک جانب کو ترجیح دی ۔

ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا : نماز میں ہاتھ کہا ں باندھے جائیں ؟ اس بارے میں حدیث کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کوسنت قرار دیتے ہیں فرماتےہیں: ’’ السُّنَّةُ وَضْعُ الكفِّ عَلَى الْكَفِّ فِى الصَّلاَةِ تَحْتَ السُّرَّةِ ‘‘۔(سنن ابی داؤد ج:۱،ص:۱۱۷)

ایک روایت میں ہے: عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : مِنْ سُنَّةِ الصَّلاَةِ وَضْعُ الأَيْدِي عَلَى الأَيْدِي تَحْتَ السُّرَرِ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج:۱،ص:۴۲۷، رقم الحدیث۱۳) ترجمہ : نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا سنت ہے۔

ترک قراءت خلف الامام : حضر ت علی المرتضیٰ کا نظریہ یہ تھا کہ مقتدی امام کے پیچھے قراۃ نہ کرے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’ مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ ‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ ج:۱ ص:۴۱۲ رقم الحدیث ۶) ترجمہ: جوشخص امام کے پیچھے قرات کرتا ہے وہ فطرت کی مخالفت کرتا ہے ۔ آمین آہسۃ کہنا : ابو وائل کہتے ہیں: ’’ كَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَا يَجْهَرَانِ ببِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَا بِالتَّعَوُّذِ , وَلَا بِالتَّأْمِينِ ‘‘ (سنن الطحاو ی ج:۱ص:۱۵۰، باب قراۃ بسم اللہ الرحمن الرحیم فی الصلوۃ) ترجمہ : حضرت عمر اور حضرت علی نماز میں تعوذ ،تسمیہ اور آمین آہسۃ کہتے تھے ۔

ترک رفع یدین : حضرت علی المرتضی ٰ صرف شروع میں رفع یدین کرتے تھے : ’’ان علی بن ابی طالب کرم اللہ وجھہ کان یرفع یدیہ فی التکبیرۃالاولیٰ التی یفتتح بھا الصلوۃ ثم لایرفعھما فی شئی من الصلوۃ ‘‘ (موطا امام محمد ص:۹۴ ،باب افتتاح الصلوۃ،کتاب الحجۃ امام محمد ج:۱ص:۷۶) ترجمہ : حضرت علی المرتضیٰ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے ،اس کے بعد نہیں کرتے تھے ۔

دوسری روایت میں ہے: ’’کان یرفع یدیہ فی التکبیرالیٰ فروغ اذنیہ ثم لایرفعھما حتیٰ یقضی صلاۃ‘‘ (مسندالامام زید ص:۸۸ رقم الحدیث ۷۴ ،باب التکبیر فی الصلوٰۃ) ترجمہ : حضرت علی المرتضیٰ تکبیر تحریمہ کے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھاتے،اس کے بعد آخر تک دوبارہ رفع یدین نہ کرتے تھے ۔

حضرت علی المرتضیٰ کا مسلک یہ تھا کہ دیہات اور گاؤں میں جمعہ اور عیدین کی نماز درست نہیں ۔آپ کا فرمان ہے: ’’ لاَ جُمُعَةَ ، وَلاَ تَشْرِيقَ ، وَلاَ صَلاَةَ فِطْرٍ ، وَلاَ أَضْحَى ، إِلاَّ فِي مِصْرٍ جَامِعٍ ، أَوْ مَدِينَةٍ عَظِيمَةٍ ‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ ج:۲ ص:۱۰)

مجتہد کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ الفاظ حدیث کے ساتھ ساتھ منشائے نبوت کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔ یہ خوبی حضرت علی رضی اللہ عنہ میں بدرجہ اتم موجود تھی ۔ چنانچہ آپ ہی سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نوکرانی سے بد کاری سرزد ہوگئی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اس کو حد لگا ؤ میں نے جا کر دیکھا تو اس کے ہاں بچہ کی ولادت ہوئی تھی۔ مجھے خدشہ ہوا کہ اگر میں نے اس کو سزا دی تو یہ مر جائے گی۔ میں بغیر سزادیئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کو واقعہ بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’احسنت‘‘تو نے بہت خوب کیا ۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۷۱ باب حد الزنا)

اسی طرح ایک اور موقع پرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک صحابی پر لوگوں نے زنا کی تہمت لگائی۔آپ نےحضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس شخص کو قتل کردو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ گئے تو دیکھا کہ وہ ایک کنویں میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے۔آپ رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑا تو معلوم ہو اکہ وہ شخص تو حقوق زوجیت ادا کرنے پر قادر ہی نہیں تو آپ نے اس کو قتل نہ کیا ۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۶۸ باب براۃ حرم النبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ من الریبۃ )

ملاحظہ فرمائیں دونوں روایتوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل بظاہر الفاظ حدیث کے مخالف ہے مگر منشائے نبوت کے عین مطابق ہےمجتہد کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ امت میں پیش آنے والے نئے مسائل کے حل کی فکر میں رہتا ہے۔ حضر ت علی المرتضیٰ اس خوبی سے بھی متصف تھے۔

چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضور سے پوچھا: یا رسول اللہ ان نزل بنا امر لیس فیہ بیان امر ولا نھی فماتا مرونا؟ حضور اگر ہمیں کوئی ایسا مسئلہ ہو پیش آجائے جس کا حل وضاحت کے ساتھ نص میں نہ ہو تو ہم وہ مسئلہ کیسے حل کریں گے ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ’’تشاورون الفقہاء والعابدین ‘‘ ایسے مسائل میں مجتھد ین اور فقہاء کی طرف رجوع کرنا وہ ان مسائل کو حل کر دیں گے۔ (المعجم الاوسط طبرانی ج:۱ص:۴۴۱ رقم الحدیث ۱۶۱۸ ) ۔۔۔(ماخوذ من ۶۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، حضرت محمد عاطف معاویہ)

خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین ماہ کم پانچ سال تک خلافت جیسی اہم ذمہ داری پر متمکن رہے۔بعض کے نزدیک  عبد الرحمن بن ملجم خارجی کے ہاتھوں ۱۷ رمضان ۴۰ ؁ ھ کوفہ کی جامع مسجد میں صبح کے وقت  مسجد میں عین حالت نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا گیا ۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور ۲۱ رمضان المبارک کو ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہوئے اور کوفہ کے نز دیک مقام نجف میں دفن کئے گئے۔

لیکن  ابن کثیر کے البدایہ والنہایہ کے حوالہ سے یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر کوفہ کی جامع مسجد میں چالیس ہجری سترہ رمضان بروز جمعۃ المبارک نماز فجر کے وقت عبد الرحمن ابن ملجم نے قاتلانہ حملہ کیا۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ انیس رمضان المبارک کو شہید ہو گئے۔ کفن دفن حضرت حسن، حسین، حنیفہ اور عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم نے کیا اور باقی لوگ بھی ساتھ تھے۔ جنازہ حضرت حسن بن علی بن ابی طالب نے پڑھایا اور آپ رضی اللہ عنہ کو گورنر ہاؤس کے پاس کوفہ میں ہی دفن کیا گیا لیکن آپ رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کو خفیہ رکھا گیا کیونکہ خارجیوں کے بے حرمتی کرنے کا ڈر تھا۔ (حافظ ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ، ۷:۳۳۰ ، ۳۳۱ مکتبۃ المعارف بیروت)

مصادر و مراجع

۱۔  کتاب : فضائل صحابہ و اہل بیت رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ، علامہ سید شاہ تراب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ

۲۔ کرامات علی رضی اللہ عنہ ، حضرت الیاس عطار قادری، دعوت اسلامی 

۳۔ماہنامہ منہاج القرآن شمارہ ستمبر  ۲۰۰۹‘‘سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے روحانی احوال و مقام ’’ پروفیسر محمد نصر اللہ معینی

۴۔  www.urdupoint.com  امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ

۵۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے فیصلے، علی سرفراز

۶۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، محمد عاطف معاویہ

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/kaniz-fatma,-new-age-islam/life-and-virtues-of-hadrat-imam-ali-امام-عالی-مقام-حضرت-علی-رضی-اللہ-عنہ-کے-فضائل/d/114731

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..