New Age Islam
Mon Dec 06 2021, 06:35 PM

Urdu Section ( 30 Jun 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Human Rights In Islam Part-1 اسلام میں انسانی حقوق


کنیز فاطمہ ، نیوایج اسلام

اسلام نے حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بھی تعلیم دی ہے۔ حقوق العباد کا معنی بندوں کے حقوق یا بلفظ دیگر انسانی حقوق ہوتا ہے۔ قرآن وسنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے انسانی حقوق میں بالخصوص جان ، مال ، عزت وآبرو  کے تحفظ پر زور دیا ہے ، اور چونکہ موجودہ دور میں نئی نئی تنظیمیں وجود میں آ رہی ہیں جو بنام اسلام قتل وغارت گری کا ماحول بنانے سے باز نہیں آر ہی ، اس لیے اسلام کی ایک طالبہ ہونے کی حیثیت سے اس موضوع پر قلمبند کرنے کی جسارت کر رہی ہوں  اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی اس خدمت کو قبول فرماکر خواص وعوام میں مقبول فرمائے ۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔

جان کی اہمیت اور خود کو ہلاکت میں ڈالنے کی ممانعت

۱۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ﴿٢٩﴾ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللہ يَسِيرًا ﴿٣٠﴾

‘‘اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے، اور جو کوئی تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہے’’  (النساء : ، ٢٩ تا ۳۰)

کتب تفسیر میں اس آیت کی تین طرح سے تفسیر کی گئی ہے  ایک تو یہ  کہ مسلمان ایک دوسرے کو قتل نہ کریں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں (صحیح مسلم) اس لئے اگر ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کیا تو یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے اپنے آپ کو قتل کیا۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ  کوئی ایسا کام نہ کرو جس کے نتیجہ میں تم ہلاک ہوجاؤ اس کی مثال صحیح البخاری کی اس حدیث پاک میں بیان ہوئی :

حضرت عمرو بن العاص (رضی اللہ عنہ) ایک سرد رات میں جنبی ہوگئے تو انہوں نے تیمم کیا اور یہ آیت پڑھی ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما’’۔ تم اپنے نفسوں کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر بےحد رحم فرمانے والا ہے “ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے (ان کو) ملامت نہیں کی۔ (صحیح البخاری: کتاب التیمم باب ٧)

اس حدیث پاک کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ سخت ٹھنڈی میں حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے پانی کے موجود ہوتے ہوئے تیمم کیا اور وجہ یہ بیان کی کہیں سخت ٹھنڈی کی وجہ سے بیمار نہ جائیں اس لیے انہوں نے تیمم کیا اور جب یہ بات معلوم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ملامت نہیں  کی ۔

قابل ذکر ہے کہ صرف پانی نہ ہونے کی صورت میں قرآن کریم نے تیمم کی اجازت دی ہے جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے  ‘‘فلم تجدوا ماء فتیمموا’’ یعنی پانی نہ پاو تو تیمم کرو ۔(سورہ النساء ۴۳)۔ اس آیت کریمہ کی روشنی ماء مطلق نہ ہونے کی صورت میں ہی تیمم جائز ہے ، لیکن غالب گمان ہو کہ اگر ٹھنڈا پانی سے وضو کرے گا تو سخت بیمار ہوجائے گا تو ایسی صورت میں تیمم جائز ہے اور اس کا علم مذکورہ حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں نص قطعی سے دلیل دی گئی کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت عمر وبن العاص کے تیمم کرنے پر کوئی ملامت بھی نہ کی ۔

اس آیت کی تیسری  تفسیر یہ بیان ہوئی کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے خود کشی کرنے سے منع فرمایا ہے اور اسی آیت اور درج ذیل احادیث کی  روشنی میں یہ ثابت ہوا کہ  خود کشی کرنا حرام ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص ہتھیار سے خود کشی کرے گا تو دوزخ میں وہ ہتھیار اس شخص کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ شخص جہنم میں اس ہتھیار سے ہمیشہ خود کو زخمی کرتا رہے گا‘ اور جو شخص زہر سے خود کشی کرے گا وہ جہنم میں ہمیشہ زہر کھاتا رہے گا اور جو شخص پہاڑ سے گر کر خود کشی کرے گا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا۔ (صحیح مسلم)

مذکورہ حدیث پر ایک اعتراض اور اس کے دو جواب

اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ خود کشی کرنا گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ کفر نہیں ہے اور اہل علم کے نزدیک یہ بات متحقق ہے کہ گناہ کبیرہ کے  ارتکاب سے انسان دائمی عذاب کا مستحق نہیں ہوتا پھر خود کشی کرنے والا دائمی عذاب میں کیوں مبتلا ہوگا ؟

 اس اعتراض کے دو جواب ہیں۔ اول یہ کہ یہ حدیث اس شخص کے متعلق ہے جس کو خود کشی کے حرام ہونے کا علم تھا اس کے باوجود اس نے حلال اور جائز سمجھ کر خود کشی کی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں خلود کا استحقاق بیان کیا گیا ہے اور یہ جائز ہے کہ مستحق خلود ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے یا پھر خلود مکث طویل کے معنی میں ہے۔

آیت کریمہ پر ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالی کی قدرت کے آگے تمام امور ممکنہ برابر ہیں جیساکہ امام رازی نے اپنی تفسیر میں کیا ، تو پھر یہاں کیوں فرمایا کہ جہنم میں داخل کرنا اللہ تعالی پر بالکل آسان ہے ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض امور (معاذ اللہ) اللہ تعالی کے لیے آسان نہیں ۔

اس سوال کے دو جواب ہیں ۱) اول یہ کہ بطور محاورہ عرب کے مستعمل ہے کہ اللہ تعالی کے لیے ہر معاملہ آسان سے آسان تر ہے  اور ۲) دوسری بات یہ کہ یہاں بطور مبالغہ کہا گیا ہے کہ جہنم میں داخل کرنا اسے آسان ہے پھر تم کو اس سے بھاگنے کا کوئی چارہ نہیں اور نہ ہی کوئی اس کے عذاب سے بچ سکتا ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی کام اس کے لیے مشکل نہیں۔(جواب منقول از روح البیان، اسماعیل حقی) 

۲۔ ارشاد باری تعالی ہے :  وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللہۗ وَكَانَ اللہ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿٩٢﴾

ترجمہ : اور کسی مسلمان کے لئے (جائز) نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کر دے مگر (بغیر قصد) غلطی سے، اور جس نے کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کر دیا تو (اس پر) ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا اور خون بہا (کا ادا کرنا) جو مقتول کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے (لازم ہے) مگر یہ کہ وہ معاف کر دیں، پھر اگر وہ (مقتول) تمہاری دشمن قوم سے ہو اور وہ مومن (بھی) ہو تو (صرف) ایک غلام / باندی کا آزاد کرنا (ہی لازم) ہے اور اگر وہ (مقتول) اس قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان (صلح کا) معاہدہ ہے تو خون بہا (بھی) جو اس کے گھر والوں کے سپرد کیا جائے اور ایک مسلمان غلام / باندی کا آزاد کرنا (بھی لازم) ہے۔ پھر جس شخص کو (غلام / باندی) میسر نہ ہو تو (اس پر) پے در پے دو مہینے کے روزے (لازم) ہیں۔ اللہ کی طرف سے (یہ اس کی) توبہ ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے (النساء :۹۲)

اگلی آیت میں ارشاد باری تعالی ہے : وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ﴿٩٣﴾

ترجمہ : اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے (النساء ۹۳)

مومن کے قتل عمد پر بے شمار روایات میں سخت وعیدیں آئی ہیں ۔علامہ سیوطی کی در منثور کے حوالے  بقدر ضرورت چند مرویات ملاحظہ فرمائیں

 ترمذی میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مقتول اپنے قاتل کو قیامت کے دن اس حال میں لائے گا کہ اس کی پیشانی اور اپنا سر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور اس کی آنتیں خون بہا رہی ہوں گی اور وہ کہے گا اے میرے رب ! مجھے اس نے قتل کیا ہے یہاں تک کہ وہ عرش سے قریب ہوجائے گا لوگوں نے ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے اس کی توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت ” ومن یقتل مؤمنا متعمدا “ تلاوت فرمائی اور فرمایا یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی اور نہ اس کا حکم بدلا گیا تو پھر اس کے لئے توبہ  کہاں ہے۔

عبد بن حمید و بخاری وابن جریر وحاکم وابن مردویہ نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ عبد الرحمن بن زہری سے پوچھا کہ وہ ابن عباس سے ان دونوں آیتوں کا سوال کرے جو نساء میں ہے یعنی ” ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤہ جہنم “ آخری آیت تک اور وہ جو فرقان میں ہے ” ومن یفعل ذلک یلق اثاما “ راوی نے کہا میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا جب کوئی آدمی اسلام میں داخل ہوگیا اور شریعت کے احکام کو جان لیا پھر اس نے ایک مومن کو جان بوجھ کر قتل کردیا تو اس کی جزاء جہنم ہوگی اور اس کی توبہ نہیں ہے۔ اور جو آیت سورة فرقان میں ہے جب یہ نازل ہوئی تو مکہ کے مشرکین نے کہا ہم نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اور ہم نے ناحق قتل کئے اور ہم نے برے اعمال کئے تو پھر ہمیں اسلام کوئی نفع نہ دے گا تو یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ‘‘الا لمن تاب’’ یعنی مگر جو توبہ کرلے  (فرقان آیت 70) یہ حکم (یعنی توبہ کا حکم) ان لوگوں (مشرکین) کے لئے ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے بڑے گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شرک کرنا کسی جان کو قتل کرنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  لفظ آیت ” فجزاؤہ جہنم خالدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعد لہ عذابا عظیما’’۔

 ابن مسعود (رضی اللہ عنہ)  سے مروی ہے  کہ ‘‘ومن یقتل مؤمنا متعمدا’’ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت محکم ہے اور اس کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ۔

مروی ہے کہ ابوہریرہ، ابن عباس اور ابن عمر (رضی اللہ عنہم) (تینوں حضرات) سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا تھا تو انہوں نے فرمایا کیا وہ ایسا کرسکتا ہے کہ اس کو موت نہ آئے اور کیا وہ ایسا کرسکتا ہے کہ وہ ایک سرنگ زمین میں بنا لے یا آسمان میں ایک سیڑھی لگا لے یا مقتول کو زندہ کرلے۔

قصدا قتل کو حلال سمجھ کر قتل کرنے والے کی مغفرت نہ ہوگی

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے  کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کے قتل میں آدھے لفظ کے ساتھ بھی مدد کی تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہوگا اللہ کی رحمت سے مایوس۔

ایک مومن کے قتل میں شریک ہونے والے سب لوگ جہنمی ہیں

ابو سعید و ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) دونوں سے روایت کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر آسمان اور زمین والے ایک مومن کے خون میں شریک ہوں تو اللہ تعالیٰ سب کو اوندھے منہ جہنم میں گرا دے گا۔

ابن عدی بیہقی نے شعب میں والاصبہانی نے ترغیب میں براء بن عازب (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ان سب کا ختم ہوجانا اللہ کے نزدیک زیادہ آسان ہے ایک مومن کے قتل سے اور اگر آسمان اور زمین والے ایک مومن کے قتل میں شریک ہوں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم کی آگ میں داخل کر دے گا۔

الاصبہانی نے ابو درداء (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان ہمیشہ عزت والا اور صالح رہتا ہے۔ جب تک کہ ناحق خون نہ کرے جب اس نے ناحق خون کرلیا تو محتاج ہوجاتا ہے۔

الاصبہانی نے ابن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر جن وانس کسی مومن کے قتل میں اکٹھے ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو اوندھے منہ آگ میں گرادے گا اور اللہ تعالیٰ نے قاتل اور حکم دینے والے پر جہنم کو واجب کردیا ہے۔

بیہقی نے شعب الایمان میں صحابہ (رضی اللہ عنہم) میں سے ایک آدمی سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جہنم کی آگ کو ستر حصوں میں تقسیم کیا جائے گا حکم کرنے والے کے لئے 99 حصے ہوں گے اور ایک حصہ قاتل کے لئے ہوگا۔

سورہ نساء کی آیت ۹۲ میں قتل خطا کا ذکر تھا اور اس کی آیت ۹۳ میں قتل عمد یعنی جان بوجھ کر قتل کا بیان ہے ۔قرآن حکیم اور ارشادات نبویہ اس جرم کے عظیم ترین ہونے پر شاہد ہیں ۔قرآن کریم کی یہی آیت انسان غور سے پڑھے اور اس میں قاتل کی جو سزا بیان کی گئی ہے اس پر نگاہ ڈالے تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں ،حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قتل المومن اعظم عند اللہ من زوال الدنیا کہ دنیا کے فنا ہونے سے بھی بے گناہ مومن کا قتل اللہ تعالی کے نزدیک شدید ترین ہے ۔معتزلہ کے نزدیک قاتل عمد کی توبہ قابل قبول نہیں لیکن اہل سنت کی یہ رائے ہے کہ سچے دل سے توبہ کرنے والے کی توبہ قبول ہو جاتی ہے ۔اور یہ وعید ان کے لیے ہے جو توبہ نہیں کرتے  اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے قتل عمد کی جو تفسیر منقول ہے اس کے پیش نظر تو یہ الجھن پیدا ہی نہیں ہوتی۔آپ نے فرمایا  متعمدا مستحلا مقتلہ یعنی جو دانستہ (جان بوجھ کر) اور مسلمان کے قتل کو حلال سمجھتے ہوئے قتل کرتا ہے اس کی یہ سزا ہے ۔واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔

(جاری، ان شاء اللہ)

مصادر ومراجع

۱۔قرآن کریم ، کنز الایمان ، امام احمد رضا

۲۔تفسیر در منثور ، علامہ سیوطی

۳۔تفسیر زمخشری

۴۔تفسیر بیضاوی

۵۔صحیح البخاری

۶۔صحیح مسلم

۷۔عرفان القرآن ، طاہر القادری

۸۔ضیاء القرآن ، پیر کرم شاہ ازہری

۹۔الاحکام الشرعیہ فی کون الاسلام دینا لخدمۃ الانسانیہ ، طاہر القادری

۱۰۔ روح البیان ، شیخ اسماعیل حقی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/human-rights-islam-part-1/d/119037

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..