New Age Islam
Mon Oct 26 2020, 05:47 AM

Urdu Section ( 5 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Vivekananda’s Legacy of Universalism ویویکانند کی آفاقیت کی وراثت

 

کے، این پانکر

10 اپریل، 2013

(انگریزی سے ترجمہ  ،  نیو ایج اسلام)

ویویکانند کا ماننا تھا کہ کوئی مذہب ایک دوسرے سے برتر نہیں ہے ۔ ان کے  پیغام اور سنگھ پریوار کے درمیان کوئی نقطہ اتحاد  نہیں ہو سکتا ۔

مختلف قسم کی ایسی سرگرمیاں عیاں ہیں جو  ہندوستان کو ایک ملک  بنانے میں ویویکانند کے عظیم تعاون کی یاد دلاتی ہیں ۔ سوامی جی کی 150ویں یوم  پیدائش ۔ سیمینار، ورکشاپس، مطبوعات اور اس طرح کے دوسرے ذرائع ان  کی یاد  کو برقرار رکھنے اور ان کے تعاون کی صورتوں کی اہمیت کا اندازہ کرنے کے لئے ، جو کہ  تقریبات کا  حصہ ہیں ۔ تعجب کی بات ہے کہ، اس تقریب میں سب سے آگے راشٹریہ  سویم سیوک سنگھ  اور اس کی تنظیمیں ہیں۔ یہ اس وجہ سے عجیب بات ہے، کیونکہ، پیدائشی طور پر ہندو ہونے کے علاوہ  ویویکانند اور سنگھ پریوار کے درمیان  مشکل سے ہی کوئی بات مشترک ہو گی  ۔

مخلص ہندو، فرقہ پرست نہیں

سنگھ پریوار کے نظریات کی جڑیں مذہبی منافرت  پر ہیں، اور سوامی جی سماجی ہم آہنگی اور بین المذاہب  مکالمہ کے علم بردار تھے ۔ ان دونوں کے درمیان کوئی نقطۂ اتحاد  نہیں ہو سکتا ۔ پھر بھی، ہندو بنیاد پرست اپنا  نسب نو ہندو تحریک سے جوڑتے ہیں ، جس میں ویویکانند کی شخصیت مرکزی تھی ۔ ہندوازم پر ان کے مشاہدے میں سے کوئی بھی، جب تک انہیں  سیاق و سباق سے باہر نہ لے جایا جائے ، اس دعویٰ  کی تصدیق نہیں کرتے کہ  وہ ایک فرقہ وارانہ نقطہ نظر کے حامل شخص تھے ۔ وہ ایک مخلص ہندو تھے ،جو کہ لوگوں کی  روحانی اور  ثقافتی فلاح و بہبود میں دل و جان سے  منہمک  تھے ۔ بے شک انہیں اس بات کا احساس تھا کہ تبدیلیاں ضروری ہیں، لیکن وہ اس نصاب کے تعلق  سے ناخوش تھے، جس پر  اصلاحات کی تحریکوں نے عمل کیا تھا ۔ انہوں نے سماجی اصلاحات کی تحریک کے تصورات اور طرز عمل میں ذات سے منسوب افضلیت کی مذمت کی ۔ ان کا یقین تھا کہ  اس کا ایک حل تلاش کرنے کی کوئی بھی کوشش ‘‘ ایک مشکل کام ہے  اس لئے کہ  مذہب سخت اور غیر لچک دار  بن چکا تھا، ’’ ایک طرف ظلمت پسند  اور دوسری  طرف توہم پرست ۔

یہ صرف ابتدائی اصلاحات کی تحریک  کی روشنی میں ہے، ان کی کامیابی، ناکامی اور حدود کی روشنی میں ہے ۔ ہندوستان  کو پھر سے زندہ کرنے  کے لئے ویویکانند کی جدوجہد کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔ صدی کے اختتام تک تقریبا تمام تحریکیں  اپنی اکثر استعداد اور معتقدین کو  کھو چکی تھیں ۔ اصلاحات کے ماحول میں زوال نے  ایک طاقتور روحانی رہنما کے ظہور کے لئے راہ ہموار کر دیا ۔ یہ خلا سوامی جی کے ذریعہ ، ایک ایسی تحریک کے آغاز سے ،  پر کیا گیا ،جس کی بنیاد ، ایک اجتماعی عبادت گاہ میں ، انفرادی عبادت پر تھی ،رام موہن رائے اور ان کے معاصرین  نے اختیار کیا تھا ۔ ایک منظم مذہبی اصلاحات کی تحریک، ان کے لئے ایک ملعون چیز تھی ، اگر چہ انہوں نے ، مختلف طریقوں سے ،ایک تحریک شروع کی ، جو  درد مندی  سماجی خدمت اور انسان دوستی پر  پر مبنی تھی۔

ویویکانند کے عمل  کی منصوبہ بندی مذہبی دائرے تک محدود نہیں تھی ۔ وہ سماجی اور اقتصادی مسائل پر برابر  حساس تھے ۔ دوسرے الفاظ میں، ہندوؤں کو مکمل تبدیلی اور جامع ترقی کی سمت میں جدو جہد کرنی چاہئے ۔ ذات پات کے نظام کا  ہندوستانی سماج میں گہرا اثر تھا  لیکن انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے رد کر دیا ۔ انہوں نے برہمو سماج کے کام کا مشاہدہ کیا تھا، اور ایسا لگتا ہے کہ اس تجربے نے ، ان کے  عام رویہ پر تمام اصلاحات کی تحریکوں کا  رنگ چڑھا دیا تھا ۔ جب  ویویکانند منظر پر آئے، کیرل اور پنجاب کی چند علاقوں کے سوا، اصلاح نے اپنی قوت حیات  کھو دی تھی ۔ ان کا یقین تھا کہ اصلاح نے  پہلے ہی اپنا نصاب چلا دیا تھا ،  19ویں صدی کی آخری چوتھائی تک ، مذہبی تحریکیں تقریبا معدوم ہو چکی تھیں،یہاں تک کہ مقبول مذہب بھی پادان پر تھے ۔ متوسط  طبقے کے ہندوستانی لوگوں کے  لئے، وہ اعلیٰ القاب رکھتے تھے، جنہوں نے  ان تحریکوں کی سماجی بنیاد قائم کیں ، " تقسیم  کے پہیوں سے پسے ہوئے ، توہم پرست ،صدقہ کے ایک ذرہ کے بغیر ، منافقانہ، ملحدانہ بزدل، وغیرہ۔ ’’

یہ کہنے کی بات نہیں ہے کہ ، ویویکانند نے ، اصلاحات کی فضاء پیدا کرنے میں، متوسط ​​طبقے کے تعاون کی اہمیت کو تسلیم  نہیں کیا ۔ اس کے بجائے، انہوں نے اس پر بڑے فخر کا اظہار کیا ، جو پہلے ہی، برہمو سماج نے لوگوں کی سماجی اور مذہبی زندگی کے لئے کارنامہ انجام دیا تھا ۔

صرف  روحانیات ہی  ویویکانند کی تشویش کا  موضوع نہیں تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا  حصہ سفر کرتے ہوئے گذارا  ہے، جس نے  بلاشبہ دنیا کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کو متاثر کیا ۔ وہ غربت اور ذات پات کے  غیر انسانی معمولات کے بارے میں  خاص طور پر حساس تھے ۔ انہوں نے پیشن گوئی کی تھی  کہ ایک دن شودر راج کریں گے ۔ کیرل میں ذات پات کے ظلم و ستم نے ان کے دماغ پر ایک دیرپا اثر چھوڑا ۔

ہندوستانی  اصلاحات کے عمل کے تین پہلو تھے ۔ پہلا مرحلہ لبرل جدت کاری کا  تھا، جس میں رام موہن رائے کی طرح اصلاح پسندوں نے کچھ روایتی معمولات  کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ۔ دوسرا مرحلہ ان تمام چیزوں کو مسترد کرنا تھا جو  معاشرے کے لئے نا گوار تھے ، اور وہ ملکی صورت میں  جدت کاری  کی ایک کوشش تھی۔ تیسرا مرحلہ  جدیدیت کے  ایک حتمی ماڈل  کی تعمیر  تھا، جو  روایتی اور جدید دونوں کو قبول کرتا تھا۔ ویویکانند کا منتخب راستہ تیسرا تھا۔ پہلا گروپ ان اصلاح پسندوں کا تھا ، جن کو انہوں نے  اصلاح پسندوں کے طور پر رد کرتےہوئے ، ان کی واضح توہین کی تھی ۔ قدامت پسندوں اور روایت پرستوں نے دوسرے گروپ کی بنیاد رکھی۔ اس گروپ کے ارکان توہم پرستی اور رسوم پرستی میں پھنسے ہوئے تھے ۔ سوامی جی کے اصلاحات کا طریقہ کار محض اصلاحات کی وکالت کرنے والا  نہیں تھا، بلکہ تعمیری سماجی کام کے ذریعےبھی تھا  ۔

ویویکانند کی زندگی اور تعلیم کا اہم نقطۂ نظر  مذہبی آفاقیت  تھا۔ ان کی نظروں میں جو آفاقیت میں یقین رکھتے ہیں ، مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ تمام مذاہب آفاقی ہیں برابر اور درست ہیں ۔ تاہم، ویویکانند، نے کہا کہ  ہندومت میں، آفاقیت کی مثالی طرز گفتار کا  پتہ چلتا ہے۔ اور اس وجہ سے روحانی معاملات میں وہ ایک لیڈر تھے ۔ اتنا ہی اہم  سماجی خدمت کے لئے ان کا تصور بھی تھا، جس کے لئے انہوں  راماکرشنا مشن قائم کیا ۔ اس مشن نے اصلاح کے لئے مکمل طور پر ایک نیا  ماحول پیدا کیا ۔

ویویکانند کے کردار کے مقبول اور تعلیمی تصورات  دی ورلڈ کانگریس آف ریلجن  میں کی گئی ان کی تقریر اور ان مذہبی  کفتگو سے انتہائی متاثر ہے، جو انہوں نے  وسیع پیمانے پر سفر کے دوران کی ہے ، جو انہوں نے  ہندوستان میں شروع کیا تھا ۔ کانگریس میں انہوں نے اپنی اس تقریر میں، جس کی بہت زیادہ تعریف کی گئی تھی ،  تمام مذاہب میں آفاقیت کی فطرت کو اجاگر کرنےکی کوشش کی تھی، اور اس کے بعد اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ اس  کی  بہترین مثال ہندومت میں بیان کی گئی ہے ۔ اس طرح کا انداز انہوں نے  ویدانتا  میں اپنے  عقیدہ سے حاصل کیا تھا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا  کہ وہ کسی بھی  خاص مذہب یا ثقافتی روایت کی حدود سے بالا تر ہے  ۔ "حق، صرف میرا خدا ہے، پوری دنیا میرا  ملک ہے،" ویویکانند نے اسے برقرار رکھا۔ لہٰذا  اس طرح انہوں نے  آفاقیت کے متعلق اپنی افہام و تفہیم کی ہندو فلسفیانہ نظام کے ساتھ مصالحت کرنے  کی کوشش کی۔ شاید ان کے پاس آفاقیت کی  سب سے زیادہ تخلیقی تفہیم تھی۔ اس لئے کہ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب آفاقی ہیں ، اور کسی کو دوسرے پر کوئی برتری حاصل  نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہر مذہب ایک  اظہار، ایک ہی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے ایک زبان ہے، اور ہم میں سے ہر ایک کو ، اپنی زبان میں ایک دوسرے سے بات کرنی چاہئے ،"

'رام کرشنا کی زبان'

ان کی زبان متشدد  ہندو ازم کی زبان نہیں تھی، ‘‘بلکہ  رام کرشن کی زبان تھی’’۔ لوگوں کو اسے ہندو مذہب کہنے دیں،اسی طرح لوگوں کو وہ نام دینے دیں (جو وہ پسند کرتے ہیں) ۔کیا  ہمارے مالک کا تعلق صرف ہندوستان سے تھا ؟ "ویویکانند نے پوچھا۔ ہندوستان کا انحطاط  ان تنگ رویوں کا نتیجہ ہے، جس  کے خلاف انہوں نے بات کی ۔ جب تک ان کو تباہ  نہ کر دیا جائے ، کوئی بھی فائدہ مند نتیجہ حا صل ہونا ناممکن ہے۔ مذہبی آفاقیت کا تصور جس کی انہوں نے تبلیغ کی ، وہ یہ تھا کہ ،تمام مذاہب سچے ہیں، اور ایسا نہیں ہے کہ تمام مذاہب میں حقیقت ہے، یہ ہندو اور مسلمان دونوں کے ہر مصلح کی سوچ میں مرکزی حیثیت کا حامل  تھا۔ وہ اس اصلاح کی وکالت نہیں کر رہے تھے ، جو ان کے گمان میں، سماج سے کٹے ہوئے،متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ لوگوں کے بے کار خیال میں تھی ۔ اس طبقے کی جانب سے  کسی قابل بیان چیز کی امید نہیں تھی۔ وہ " تقسیم  کے پہیوں سے پسے ہوئے ، توہم پرست ،صدقہ کے ایک ذرہ کے بغیر ، منافقانہ، ملحدانہ بزدل، وغیرہ۔ ’’ تھے ۔

ان کے پاس اس طبقے  کے لئے  توہین کے علاوہ کچھ نہیں تھا، جس نے سماجی بنیاد پر اصلاحات کی تشکیل کی  ۔ ان  کی اس تنقید کا مطلب یہ تھا کہ انہوں   نے  رام موہن رائے کے وقت سے ماضی میں اصلاحات کوششوں سے واضح طور پر  قطع تعلق کر لیا  تھا۔ اس کا متبادل  انہوں نے ایک ایسی سماجی تبدیلی کا تصورکو سمجھا تھا جو تعلیم اور سماجی اصلاحات کے ذریعے متاثر ہو ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے راماکرشنا تحریک کی تشکیل  کے لئے  قدم اٹھایا،جس نے  تعلیم اور سماجی خدمت کے میدان میں اس کی سرگرمیوں کو منظم کیا ۔

آخر میں، کیا ہندو تجدیدی تحریکوں نے  ان کے خیالات سے فائدہ حاصل کیا؟ بدقسمتی سے، انہوں نے کیا۔ لیکن اگر وہ  عصر حاضر کے ہندوستان  میں واپس آتے ،  تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ، وہ فرقہ وارانہ کیمپ میں ہوتے۔

کے، این پانکر، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں تاریخ کے سابق پروفیسرہیں ۔

ماخذ: http://www.thehindu.com/opinion/lead/vivekanandas-legacy-of -universalism/article4599118.ece

URL for English article:

 http://www۔newageislam۔com/spiritual-meditations/k-n-panikkar/vivekananda’s-legacy-of-universalism/d/11088

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/k-n-panikkar--کے،-این-پانکر/vivekananda’s-legacy-of-universalism---ویویکانند-کی-آفاقیت-کی-وراثت/d/11914

 

Loading..

Loading..