New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 06:28 PM

Urdu Section ( 23 Nov 2012, NewAgeIslam.Com)

Terrorism and Its Solution دہشت گردی ۔ حل

جاوید چودھری

23 نومبر، 2012

دہشت گردی ہمارا تیسرا بڑا مسئلہ ہے، یہ مسئلہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں شروع ہوا اور یہ اب ہمارے لائف اسٹائل کاحصہ بن چکا ہے ، آپ کسی دن کا اخبار اٹھا کر دیکھ لیجئے آپ کو اس میں دس بیس پچاس ہلاکتوں کی خبر ضرور ملے گی، یہ لوگ ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے ہوں گے ، فرقہ واریت میں جاں بحق ہوئے ہوں گے یا پھر بم دھماکے اور خود کش حملے کا رزق بن گئے ہوں گے ، اگر کسی دن کوئی ایسی خبر نہ آئے تو قوم کو روڈ ایکسیڈنٹ ،پاک۔ افغان سرحد یا پھر کوئی خاندانی دشمنی دس بیس لوگوں کی نعشوں کا تحفہ دے جاتی ہے، ہم چالیس سال سے موت کی یہ خبر یں پڑھ ،سن اور دیکھ رہے ہیں، ان خبروں نے ہماری اجتماعی نفسیات تبدیل کردی ہے، ہمارے اندر سے زندگی کی محبت او رموت کا افسوس نکل گیا ہے ، ہم اب بم دھماکوں ، خود کش حملوں، روڈ ایکسیڈ نٹس ، فرقہ وارانہ اور خاندانی دشمنیوں کی ہلاکتوں کو ڈرامے کی طرح دیکھتے ہیں ، ہم  نعشوں کے قریب سے گزر کر ولیمے کی دعوتوں میں چلے جاتے ہیں ، وہاں پاگلوں کی طرح قہقہے لگاتے ہیں اور پیٹ بھر کر کھانا کھا تے ہیں، زندگی سے محبت او رموت پر افسوس کی اس کمی نے ہمیں اندر سے اداس کردیا ہے، ہم خوش ہونا، مطمئن ہونا اور اللہ کی نعمتوں سے لطف لینا بھول چکے ہیں،ہم سب کے چہروں سے تازگی اڑ چکی ہے ، آنکھوں کی چمک ماند پڑ چکی ہے او رہم میں آگے بڑھنے او رزندگی کو خو بصورت بنانے کا جذبہ بجھ گیا ہے، آپ اس ملک کے کسی شہری کے چہرے کو غور سے دیکھئے آپ کو اس پر ڈپریشن ، بے زاری اور لاتعلقی کی درجنوں لکیریں ملیں گی۔

 ہم سب گہری نحوست کے قبضے میں ہیں، مجھے اس نحوست پر اکثر مولانا روم کا ایک واقعہ یاد آجاتاہے، مولانا روم کا دور دنیا کا بدترین عہد تھا، تاتاریوں نے پوری دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی اور منگولیا سے لیکر بغداد تک دنیا راکھ ،خاک او ر جلی ہوئی ہڈیوں کا ڈھیر بن گئی تھی ،اس دور میں ایران کا ایک زمین دار مولانا روم کے پاس آیا اور ان کا دامن پکڑ کر رونے لگا، مولانا نے پوچھا کیا ہوا؟ اس نے جواب دیا ہمارا پورا علاقہ تباہ ہوگیا، مولانا نے پوچھا کیا تمہارا خاندان بھی تباہ ہوگیا؟ اس نے سر اٹھا کر جواب دیا ‘‘ نہیں میرے خاندان کے تمام لوگوں کی جانیں ، باغ فصلیں اور گھر محفوظ ہیں’’ مولانا نے پوچھا ‘‘ پھر تم کیوں رورہے ہو’’ اس نے جواب دیا ‘‘حضور یہ قتل و غارت گری میری خوشی کھا گئی ہے ، میں خوش ہونا بھول گیا ہوں’’ یہ سن کر مولانا روم کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے ۔

پاکستان میں قتل و غارت کے اس کھیل سے صرف اشاریہ ایک فیصد لوگ براہِ راست متاثر ہوئے لیکن یہ کھیل باقی ننانوے اشاریہ ننانوے فیصد عوام کی خوشی کھا گیا، مجھے یقین ہے صدر آصف زرداری ، میاں نواز شریف اور راجہ پرویز اشرف بھی اب خوش نہیں ہوں گے کیونکہ اس ملک میں خوشی زخمی ہوچکی ہے او را س زخم کی تکلیف ملک کے کسی شخص کو آرام سے سونے نہیں دے رہی ، یہ لوگ اب اقتدار میں بھی خوش نہیں رہ سکتے چنانچہ ہم اگر اس ملک میں رہنا چاہتے ہیں ، ہم اگر اس کو آگے چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں فوری طور پر قتل و غارت گری کا یہ کھیل ختم کرنا ہوگا ورنہ دوسری صورت میں یہ ملک نہیں چل سکے گا، ہمیں ملک کو قتل و غارت گری سے نکالنے کیلئے چند فوری او ربڑے فیصلے کرنا ہوں گے ، ملک میں چار قسم کے قتل ہورہے ہیں ، دہشت گردی ، خاندانی ، دشمنیاں، فرقہ واریت اور ٹریفک حادثے، ہمیں ان سب کا سدباب کرنا ہوگا۔

 ہمیں سب سے پہلے یہ ماننا پڑےگاپولیس اب اکیلی ملک میں امن قائم نہیں کرسکتی  پولیس کی تعداد کم بھی ہے، بھرتیاں بھی میرٹ پر نہیں ہوتیں ، سیاسی مداخلت کی وجہ سے اس کی ایفی شینسی بھی ختم ہوچکی ہے اور اس کے منہ کو کرپشن کی چاٹ بھی لگ چکی ہے چنانچہ پولیس سے اب بڑی بڑی توقعات وابستہ کرنا غلط ہوگا لہٰذا حکومت کو فوری  طور پر خفیہ اداروں ، رینجروں اور عدلیہ کو پولیس سروس کا حصہ بناناپڑے گا ، حکومت دس سال کیلئے تمام خفیہ اداروں اور رینجرز کو پولیس سروس کا حصہ بنادے، تینوں  شعبوں کو ملا کر ‘‘ لاء اینڈ آرڈر ڈویژن ’’ بنائی جائے پولیس قانونی کارروائی کرے ایف آئی آر کاٹے، چالان کرے، رینجرز آپریشن کریں اور خفیہ ادارے  تفتیش کریں، یہ ڈویژن چھ ماہ میں مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ذمہ دار ہو، چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور چارو ں صوبوں کے چیف جسٹس کو باقاعدہ اعتماد میں لیا جائے اور ان کی مدد سے اسپیشل کورٹس بنائی جائیں، پورے ملک میں اسلحہ پر پابندی لگادی جائے ، تمام اسلحہ لائسنس منسوخ کردیئے جائیں ، فوج کی مدد سے ملک بھر سے اسلحہ جمع کرلیا جائے اور اس کے بعد جس شخص سے بھی اسلحہ بر آمد ہو اسے کم از کم دس سال کی سزا سنادی جائے ، اسلحہ رکھنا، فروخت کرنا اور خریدنا تینوں ناقابل ضمانت جرائم ہوں او را س جرم میں کسی شخص کو استثنیٰ حاصل نہ ہو، ڈی سی اوز کو علاقے کی خاندانی دشمنیاں ختم کرانے کا ٹاسک دے دیا جائے ، یہ پنچایت بنوائیں ، خاندانی دشمنیاں ختم کروائیں او رعلاقے کے معززین سے ضمانت لیں یہ لوگ آئندہ ایک دوسرے سے نہیں الجھیں گے اور اگر یہ لوگ لڑے یا کسی پر حملہ کیا تو ان کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط کرلی جائے ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی ضبط کرلئے جائیں ۔

 ملک میں فرقہ واریت کے خلاف کریک ڈاؤن کیا  جائے ملک میں تمام متنازعہ کتابوں کی اشاعت ، درآمد اور خرید و فروخت پر پابندی لگادی جائے ، یو ٹیوب پر موجود متنازعہ تقریریں ہٹادی جائیں، متنازعہ گفتگو تحریر اور تقریر پر پابندی لگادی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے کم از کم دس سال قید ہو اور ان کی جائیداد بھی ضبط کرلی جائے متنازعہ گفتگو کا بہتان لگانے والے کو بھی یہی سزا دی جائے ملک میں فوری طور پر مساجد اور امام بارگاہوں کا ڈیٹا جمع کیا جائے ، حکومت کی اجازت کے بغیر ملک میں کوئی عبادت گاہ نہ بن سکے، ملک کی تمام مساجد کیلئے امام حکومت کی اجازت سے تعینات کئے جائیں ، لاؤڈ اسپیکر پر پابندی لگادی جائے ۔ جمعہ کا خطبہ آدھ گھنٹے سے زیادہ نہ ہو، خطیبوں کیلئے باقاعدہ ‘‘ ریڈ لائن ’’ لگادی جائے اور انہیں  پابند کیا جائے  وہ اس ریڈ لائن پر قدم نہیں رکھیں گے ، ملک میں ہر قسم کے چندے ، کھالیں جمع کرنے اور صدقات کی اپیل پر پابندی لگادی جائے تمام ادارے اپنے اکاؤنٹس کھلوائیں اور اگر کسی نے انہیں امداد دینی ہوتو وہ یہ رقم براہ راست ان کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے، مذہبی اداروں پر غیر ملکی امداد لینے پر پابندی لگادی جائے ، مدارس کیلئے کمپیوٹر ،انگریزی اور سائنس کے مضامین لازمی قرار دے دیئے جائیں ، سنی مدارس پچیس فیصد شیعہ طالب علموں کو داخلہ دینے کے پابند ہوں اور شیعہ مدارس پچیس فیصد سنی طالب علموں کو داخلہ دیں، علماء کرام کو ٹیکس میں چھوٹ دے دی جائے لیکن یہ ہر سال ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کے پابند ہوں اور ملک کے تمام شہرو میں ہیلپ لائن لگادی جائے اور عوام سے اپیل کی جائے ان کے محلےمیں اگر کوئی مشکوک شخص موجود ہے یا یہ کوئی مشکوک سرگرمی دیکھ رہے ہیں تو یہ اس ہیلپ لایئن پر فوری اطلاع دیں۔

آپ اب آئیے ٹریفک کے ہاتھوں قتل ہونے والے شہریوں کی طرف، ملک میں ٹریفک کے قوانین پر فوری عمل شروع کرادیا جائے تمام ڈرائیور ڈرائیونگ لائسنس گاڑی کا فٹنس سرٹیفکیٹ اور انشورنس ونڈ سکرین کے ساتھ ڈسپلے کریں ، گاڑی کیلئے انشورنس لازمی قرار دے دی جائے ، انشورنس کمپنیوں کو گاڑیوں کی ماہانہ فٹنس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور جو شخص اس کی خلاف ورزی کرے اس کی گاڑی ایک مہینے کیلئے رینٹ اے کار کمپنیوں کے حوالے کردی جائے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ٹریفک پولیس کے اکاؤنٹ میں جمع کرادی جائے ، ٹریفک پولیس کو خود مختار بنادیا جائے ، ٹریفک چالان سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی انہیں دے دی جائے ،ٹریفک حادثے کا باعث بننے والے ڈرائیوروں کا لائسنس ہمیشہ کیلئے منسوخ کردیا جائے ، ٹریفک پولسی ہائی وے پر ہر بیس کلو میٹر بعد ایمر جنسی ڈسپنسری اور ہر پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر بیس بیڈ ز کا ہسپتال بنائے ، ہسپتال میں آپریشن تھیٹر اور میٹر نٹی ہوم کی سہولت بھی موجود ہو، ان ہسپتالوں کے اخراجات ٹول پلازوں کی آمدنی سے پورے کئے جائیں اور ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کرنے والے ہر ڈرائیور سے جرمانے کے ساتھ ساتھ ایک بوتل خون بھی وصول کیا جائے ، یہ خون ٹریفک حادثوں کے شکار زخمیوں کو لگایا جائے ۔

نوٹ: یہ تمام ماڈلر بھی دنیا کے مختلف ممالک میں کام کررہے ہیں، کوئی ان پر عمل کرنا چاہے تو اس پر تفصیل سے بات ہوسکتی ہے۔

23 نومبر، 2012  بشکریہ : روز نامہ ایکسپریس ، پاکستان

URL:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/javed-chaudhary--جاوید-چودھری/terrorism-and-its-solutionدہشت-گردی-۔-حل/d/9420

 

Loading..

Loading..