New Age Islam
Sun May 09 2021, 07:38 AM

Urdu Section ( 20 May 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islam of the Modern Age عصر حاضر کا اسلام: عربی سامراجیت اور اس کی بے اطمینانی


سیف شاہین، نیو ایج اسلام

15 مئی، 2012

"مجھے لگا کہ آپ ہندوستان سے ہیں!" میرے عمانی چیف ایڈیٹر نے اپنی پر تکلف میز پر اپنی قلم سے کھٹ کھٹ کی آواز کرتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔

"جی ہاں، میں ہندوستان سے ہوں، سر" میں نے تصدیق کی۔

"پھر آپ کیوں پاکستانی لباس پہنے ہوئے ہیں؟" میرے پٹھان سوٹ کی طرف اپنی قلم سے اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا، جس سے مذمت اور ناپسندیدگی ظاہر ہو رہی تھی۔

"اچھا ..." میں نے جواب دینا شروع کیا، لیکن واقعی میں مجھے نہیں معلوم تھا کہ کس طرح جواب دینا چاہئے۔

جو کچھ میں کہنا چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ یہ صرف پاکستانی ہی نہیں ہیں جو اسے  پہنتے ہیں، اسے ہندوستانی بھی پہنتے ہیں (اور بالکل اسی شائستگی کے ساتھ جیسے پاکستانی پہنتے ہیں) تاہم، جس خاص لباس کی طرف وہ اشارہ کر رہے تھے وہ  یقینا  پاکستانی تھا:  میرے والد نے سرحد پار کے اپنے دوروں میں سے ایک میں   اسے ایک تحفے کے طور پر  لاہور یا اسلام آباد (یا شاید کراچی) سے خریدا تھا۔ اس طرح  اپنے چیف ایڈیٹر کو یہ بتانا کہ میرا لباس پاکستانی نہیں ہے، وہ غلط بھی ہو جائے گا۔ اور ان سے واقف ہونے کے سبب،  مجھے یقین نہیں تھاکہ کیوں پٹھان سوٹ خصوصی طور پر پاکستانی نہیں ہے، کو  سننے کے لئے وہ متحمل ہوں گے، اگرچہ یہ خاص طور سے ایسا ہی تھا۔

شکر ہے انہوں نے میری نافرمانی کے لئے مجھ کو برطرف نہیں کیا، لیکن سختی سے مزید کہا: "لوگوں کو اپنے لباس پہننے چاہئے۔ انہیں اپنی ثقافت پر فخر ہونا چاہئے۔"

میرے "اپنے کپڑے" سے ان کی مراد،  یقینا قمیض، پتلون، ٹی شرٹس، جینس یا دیگر لباس جو پٹھان سوٹ کے مقابلے کم ہندوستانی ہوں، اس سے تھا‑ لیکن ہندوستان یا اس سے باہر ، کون ہندوستانی  اسے دفتر میں اب معمول کے مطابق پہنتا ہے۔  لیکن یہ دوسرا معاملہ تھا۔

عمان میں، اور پورے جزیرہ نما عرب میں، لوگوں سے عوام کے درمیان "اپنے لباس" پہننے کی توقع کی جاتی ہے۔ پاکستانیوں اور  افریقہ کے بعض حصوں کے لوگوں کے علاوہ، جن کے لئے عام طور پر مطلب مغربی لباس سے ہے۔  لیکن اصل تشویش یہ نہیں ہے کہ وہ کیا پہنتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں کیا نہیں پہننا چاہئے: روایتی عرب دشداشہ۔  یہ جزیرہ نما کے رہنے والوں کے لئے مخصوص ہے  اور یہاں تک کہ جزیرہ نما کے باہر رہنے والے عربوں‑ مصریوں، شامیوں، لبنانیوں اور فلسطینیوں سے  عوام کے درمیان اس لباس کو پہننے سے بچنے کی توقع کی جاتی ہے۔

ایمن ریاض کے مضمون ' کیا اسلام بیوی کی پٹائی کی اجازت دیتا ہے' پر کچھ تبصروں کو پڑھتے وقت  ایڈیٹر ان چیف کے دفتر میں  ہوئی گفتگو کو یاد آ گئے،  جو واضح کرتا ہے کہ کس طرح پوری دنیا میں اسلام کے نام پر  عرب کی ثقافت کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اور غیر عرب قوموں کو  عرب طرز تعمیر کی مسجد میں عبادت کرنا اور عربی لباس پہننا  بتایا جا رہا ہے۔

یہ المیہ بہت عمیق ہے۔ مسلمانوں کی الجھن یہ  ہے کہ انہیں اپنے ملک میں عرب لوگوں کی طرح  نظر آنا اور برتائو کر نا چاہئے اور جب جزیرہ نما عرب میں جائیں تو اپنے ملک کے لوگوں کی طرح برتائو کریں، یہ عصر حاضر کے اسلام کو در پیش علمی و روحانی گو  مگو  کی حالت کے مرکز میں ہے۔  کیا یہ ایک خاص جسمانی موجودگی (داڑھی، برقع) اور خاص سماجی اور اخلاقی اقدار (گوشت کھانا، بیویوں کی پٹائی) کو فرض کر لینا ہے؟ اگر ہاں، تو اس موجودگی اور ان اقدار  کا منبع کیا ہے؟ کیا وہ دراصل اسلامی ہیں یا وہ صرف عرب کے ہیں؟

ہم میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو یہ یقین کرتے ہیں کہ عرب اور اسلامی ہونے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے:  کہ عرب ثقافت ہی اسلامی ثقافت ہے اور اس کے برعکس اسلامی ثقافت ہی عرب ثقافت ہے۔ لیکن خود عرب کے لوگ  ایسا نہیں سوچتے ہیں۔  اور جب کہ وہ دنیا بھر میں مسلم معاشروں کے  عربی بنانے کو فروغ دے سکتے ہیں لیکن  وہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی سر زمین پر یہ فرق بر قرار رہے۔  اصل میں اسلامی امّت  کے زیر سائے  یہ فرق  کئی شکلیں اختیار کر سکتا ہے: عرب / غیر عرب،  جزیرہ نما عرب / غیر  جزیرہ نما عرب، شیعہ / سنی، وہابی / غیر وہابی، براؤن / سیاہ / سفید اور  ایشیائی / افریقی / یورپی وغیرہ۔

دوسرے لوگ کہیں گے کہ  اسلام کا مطلب عربی بنانا نہیں ہے اور نہ ہی ہونا چاہئے۔  لیکن، اس صورت میں اس کا کیا مطلب ہے؟ قرآن کی آیات؟ لیکن وہ بھی، عربی میں لکھی ہوئی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ اور اعمال؟ لیکن وہ ایک عرب تھے: خاص  طور سے اسلام  کیا ہے اور خاص طور سے  عرب کیا ہے اس کے درمیان ہم کس طرح فرق کرتے ہیں؟

تاریخ

واضح طور پر، اسلام بھی عرب کی تاریخ، زبان اور ثقافت سے  بہت پیچیدہ ڈھنگ سے ملی ہوئی ہے،  اور کسی کو بھی اسے  مکمل طور پر الگ کرنا نہایت مشکل ہے۔  لیکن جیساکہ یہ دنیا کے دوسرے حصوں میں پھیل چکا ہے، یہ بھی خود دوسروں کی ثقافتوں، زبانوں اور تاریخ سے متاثر ہورہا ہے اور انہیں متاثر بھی کر رہا ہے۔

ایک مثال کے طور پر،  میرے عمانی ایڈیٹر ان چیف، ثقافتی تفریق کو برقرار رکھنے کی ان کی تمام گفتگو کے باوجود، وہ سر پر روایتی کو فیتہ کے بجائے ٹوپی پہنتے ہیں، جیسا کی عام عمانی کرتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ عبادت کرتے ہیں تب بھی: عمان کے ہندوستان کے ساتھ طویل سمندری تعلقات  کا اثر نہ  صرف ان کے کھانے کی آدتوں، فن تعمیر، اور معاشیات میں سرایت  کر گیا ہے بلکہ  ان کے اسلام پر  عمل آوری پر بھی  اثر ڈالا ہے۔ پاکستانی پٹھان سوٹ پہننے کے سبب  میں نے اپنی ملازمت  نہیں کھوئی لیکن میں اس بات پر  یقینی طور  پر اگلے ہوائی جہاز سے مجھے واپس گھر بھیج دیا گیا ہوتا اگر میں نے اپنے  ایڈیٹر ان چیف کو  ٹوپی کی جگہ کوفیتہ پہننے کے لئے کہہ دیا ہوتا۔

ایک اور مثال دینے کے لئے، اسامہ بن لادن معمول کے مطابق  مغرب کے "کافروں" کے ذریعہ تیار کی گئی ویڈیو اور ڈیجیٹل ٹکنالوجی پر انحصار   کر  مسلمانوں کو مغرب ممالک کے خلاف جہاد  کرنے پر اصرار کر  اپنے مذہبی فریضہ کو  ادا کرتا تھا۔ وہ ویڈیو میں عام طور پر "کافر" افواج کے ذریعہ پہنی جانے والی سبز فوجی جیکٹ میں سامنے آتا تھا: مؤثر طریقے سے کافروں کے جنگ سے متعلق علامتوں پر انحصار کرتے ہوئے انہیں کافروں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ جیسے  اسلام کو بالکل اسی طرح جیسے اس کی عرب  کی جڑوں سے دور نہیں کیا جا سکتا ہے، اسی طرح  اسے  متنوع تاریخی اور ثقافتی تجربات سے بھی الگ نہیں کیا جا سکتا ہے جس سے ہوکر یہ گزرا ہے۔ شاید دنیا میں ہر ایک معاشرہ اسلام سے  متاثر رہا ہے اور اس کے بدلے میں  اسلام بھی ہر ایک سے متاثر ہوا۔

ایسے میں مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہے؟ داڑھی رکھنا اور برقع پہننا، گوشت کھانا اور بیوی کی پٹائی کرنا جواب نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ بعض طریقوں سے عبادت کو بھی نہیں کہا جا سکتا ہے، یا قرآن یا سنت کی مخصوص تشریحات کو بھی نہیں کہا جا سکتا ہے۔ شاید، اس کا جواب یہ ہے: ہر ایک کے لئے اس کا اپنا طریقہ۔  ہر معاشرہ، یہاں تک کہ ہر فرد کو  اسلام کو خود سمجھنا چاہئے اور اپنے طریقے سے اس  کی تشریح بھی خود کرنی چاہئے، اور  جو مناسب سمجھے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ درحقیقت، قرآن نے خود پیش بندی کی ہے جب وہ کہتا ہے" لکم دینکم ولی دین" (تم اپنے دین پر میں اپنے دین پر) ۔  

یہی وجہ ہے کہ اسلام اس طرح اپنی تاریخ کے بیشتر حصے میں رہا ہے۔  یہ جہاں کہیں بھی گیا، یہ مقامی ثقافتوں، رسوم و رواجوں، یہاں تک کہ مذاہب کا حصہ بن گیا، اس نے انکو  تبدیل کیا اور ان سے خود بھی تبدیل ہوا۔ یہ  اس کی اپنی آفاقی اپیل اور اس کی سیاسی مجبوری کی چوٹ کے بجائے روحانیت اور فلسفہ کی طاقت کے سہارے پنپنے کے لئے تیار کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔

لیکن حالیہ دہائیوں میں، جیسا کہ پوری دنیا سکڑ رہی ہے اور یہ متفرق شاخیں ایک دوسرے میں داخل ہو رہی ہیں، مسلمانوں کو اپنے ارد گرد دیکھنے کے لئے مجبور کیا گیا ہے اور حیرت زدہ ہوتے ہیں کہ اسلام کے اندر تمام تنوع کے درمیان کیا  "مستند" ہے۔  صداقت کی تلاش نے بہت سے لوگوں کو غیر تعجب خیز طور پر  اسلام کی جڑوں‑ عرب جزیرہ نما کے بنجر اندرونی حصے میں اس کی ابتداء،  کی طرف لے گیا۔

خیالی دیو کا پیچھا

عرب بنانے میں  اسلام کو تلاش  کرنے میں ایک واضح منطق ہے۔ لیکن اس منصوبے کو دو مسائل کا سامنا ہے۔ ایک،  جڑوں کی طرف واپس جانے کا مطلب ہے کہ ان صدیوں میں جس میں  اسلام نے  جو ترقیات حاصل کی ہیں، ان کو تباہ کرنے سے ہے۔ اس ترقی کو  جن لوگوں نے ایمان میں شمولیت اختیار کی (جو خود ہی کافی ہے) ان لوگوں کی تعداد کے لحاظ سے نہیں ماپا جاتا ہے،  بلکہ فلسفیانہ اور روحانی فراوانی جو  اسلام نے اپنے  ساتھ جمع کیا ہے، اس سے لگایا جاتا ہے‑  فلسفیانہ اور روحانی فراوانی نے قرون وسطیٰ کے زمانے کے ایک صوفی فقیر کو  21ویں صدی کے  ایک  امریکی پنک (punk)، جس کے لئے یہ دنیا بے معنی ہے،  اس کی زندگی تبدیل کرنے کے قابل بنایا ۔

دو، ان کی جڑوں کو تلاش نہیں کیا جا سکتا ہے:  وہ اب وہاں نہیں ہیں۔ عرب کا معاشرہ، جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا تھا،  وہ عرب بنانے کے حامیوں کو مثالی مانتا ہے اور   وقت کے کسی دوسرے دور میں  موجود ہے۔ جو اب موجود ہے وہ اس کی تشریح ہے،  اور اس کی نقل ہے جو بعض لوگوں کا خیال ہے جو ہونا چاہئے تھا یا  دعوی کرتے ہیں کہ جو یہ تھا۔ یہ تشریح اسی طرح سچ یا باطل ہو سکتا ہے جیسا کہ  دیگر مستند یا غیر مستند جس سے مسلمانوں کی  شاخیں اس سے دور بھاگنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اس طرح صداقت کی تلاش ایک خیالی دیو کی تلاش ہے۔  تمام معاشروں اور  ہر ایک زمانے کی رہنمائی  کے لئے ، کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے، کے  ایک غیر مشروط سیٹ کے طور پر "حقیقی اسلام"  کو تلاش کرنے  کا مطلب ہے کہ اپنے عقیدے کو  دگاباز لوگوں کی چال بازی کی طرف لے جانا جو  اس کی جعلی اور کھوکھلی  نقل  فروخت کریں گے (اور ہمارے پیٹھ پیچھے ہنستے ہیں) ۔

اسلام ایک پتھر کا ٹکڑا نہیں ہے اور نہ کبھی رہا ہے، یہ ایک ہمہ گیر عقیدہ ہے جو کہ تحرک پر فروغ پاتا ہے اور موجود رہنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ اگر  ایک مسلمان ہونے کا مطلب کیا ہے اس وجودی الجھن سے باہر آنا ہے تو

مسلمانوں کو ان کے عقیدے کے اس لازمی امر کو قبول کرنا چاہئے ۔

اسے قبول کرنے سے اسلام بھی رواج پسندی بمقابلہ  جدیدیت پسندی کی کشمکش سے آزاد ہو جائے گا۔ کیونکہ کچھ بھی مستند نہیں ہے، اسلام کسی ایک روایت پر واپس نہیں جا سکتا ہے، اور اس کی کوشش بھی نہیں کی جانی چاہئے۔ اور  جیسا اسلام کو  تیار ہونا چاہئے ،  لہذا آج اسے خود شعوری سے  جمہوریت، بولنے کی آزادی، سائنسی سوچ،  خواتین اور اقلیتوں کو مساوی حقوق کے جدید اقدار کو  تسلیم کرنا ہوگا، اس کی فکر کئے بغیر کہ  یہ  اصل میں "کافر" اقدار ہیں، یا نہیں ہیں اور اگر یہ رہے بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

 عرب اسپرنگ سے پتہ چلتا ہے کہ تبدیلی جاری ہے، عرب عوام سمیت مسلم عوام تسلیم کرتے ہیں کہ اگر وہ آج اپنی زندگی کو  بامعنی بنانا چاہتے ہیں تو انہیں  جدید ہونے کی ضرورت ہے۔ عرب اسپرنگ  سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بہت سے "لیڈران" ان کے عقیدے کو خلاف قانون بتا کر  ان لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے۔ 14 صدیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ دغا باز بالآخر ناکام ہو جائیں گے۔ لیکن یہ انفرادی مسلمانوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ کتنی جلدی یہ ہنگامی صورتحال آکر گزر جائے۔


سیف شاہین،  آسٹن،  میں واقع ٹیکساس یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔ وہ نیو ایج اسلام کے لئے باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islamic-culture/islam-today--arabisation-and-its-discontents/d/7335

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/islam-of-the-modern-age--عصر-حاضر-کا-اسلام--عربی-سامراجیت-اور-اس-کی-بے-اطمینانی/d/7390

 

Loading..

Loading..