New Age Islam
Wed Jul 24 2024, 08:39 AM

Urdu Section ( 24 Jul 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Is Love Permissible Between Ghair Mahram Males And Females, And If Permissible, Then To What Extent? کیا اسلام میں غیر محرم لڑکا اور لڑکی کے درمیان محبت جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو کتنی حد تک جائز؟

غلام غوث صدیقی  ، نیو ایج اسلام

24جولائی،2020

محبت اصل میں عربی کا لفظ ہے جسے چھوٹی گول ۃ کے ساتھ عربی میں لکھا جاتا ہے مگر چونکہ اسے اردو زبان میں بھی استعمال کیا جانے لگا  تو اسے اردو کتابت کے اعتبار سے بڑی ت کے ساتھ اس طرح لکھنے لگے ‘‘محبت’’۔

چونکہ اسے عربی زبان سے لیا گیا ہے  اور اردو زبان میں استعمال کیا گیا ہے ، اور مزے کی بات یہ ہے کہ  یہاں  نہ صرف لفظ کی کاپی ہوئی ہے بلکہ اس کے ، یعنی لفظ ‘ محبت’ کے معنی ومفہوم کی بھی کاپی کی گئی ہے ، دوسرے لفظوں میں اس طرح سمجھیں کہ اردو زبان والوں نے محبت کا وہی معنی مراد لیا جو عربی زبان والوں کے نزدیک معروف تھا ۔

عربی میں محبت جو کہ چھوٹی گول ۃ کے ساتھ محبۃ لکھا جاتا ہے ، اگر عربی زبان کی ڈکشنری دیکھیں تو محبت  کا صحیح معنی و مفہوم ملے گا : پسند کرنا، عزت و تعظیم کرنا، یاد کرنا، کسی چیز کو دیکھ کر دل کا خود بخود خوش ہو جانا، وغیرہ۔

یہاں  تھوڑی دیر کے لیے غور وفکر کا مجلس بنائیں کہ محبت کے معانی کو آپ مختلف لفظوں کے ساتھ اظہار کرتے ہیں ، اس مقام پر آپ کو  بعض مفکرین یہ کہتے ہوئے  ملیں گے کہ محبت کے معانی کو سمجھانے کے لیے جتنے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ، ہر ایک ان میں سے دوسرے میں مختلف ہے ، لیکن وہیں آپ کچھ گہرے مفکرین کو بھی پائیں گے جو کہیں گے کہ  محبت کے معانی کو سمجھانے کے لیے جتنے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ان میں اگرچہ ظاہری طور پر اختلاف نظر آتا ہے مگر حقیقی اعتبار سے ہر لفظ محبت کے شمع کی ایک چنگاری ہے ، مثلا ، محبت کے معانی کے اظہار کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ ،  جیساکہ اوپر بھی گزرا (پسند کرنا، عزت و تعظیم کرنا، یاد کرنا، کسی چیز کو دیکھ کر دل کا خود بخود خوش ہو جانا، وغیرہ)، تو ان پر اس طرح غور کیجیے  کہ  جو چیز پسندیدہ ہوتی ہے  اسی طرف قلب کا میلان ہوتا ہے تو  قلب خود اس چیز کی تعظیم  کرنا  شروع دیتا ہے ،    پھر دل اسی طرف جم جاتا ہے اس طرح کہ حواس خمسہ  (five senses of human beings)  کا ایک اہم رکن جو کہ  آنکھ ہے جب بھی اس پسندیدہ چیز کا دیدار کرے تو اس کا دل خود بخود اطمینان وسکون  اور نام نہاد نہیں بلکہ حقیقی امن وشانتی  کی منزل پا لیتا ہے ، تو کل ملاکر محبت کے معانی کو سمجھانے کے لیے جتنے الفاظ نظر آتے ہیں وہ اگرچہ ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں لیکن  محبت کے معانی کی گہرائی میں اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کوئی اختلاف نہیں بلکہ یہاں محبت کی ایک ایسی شمع ہے جس کا اظہار مختلف انداز سے کیا جا رہا ہے ۔خیر یہ فکر تو اہل  نظر  کو اللہ کی توفیق سے حاصل ہوتی ہے ،  اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ محبت میں سے عمدہ اور لطف اندوز وہ محبت ہے جو اللہ تعالی اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں ہو ۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن واحادیث میں بعض ایسے الفاظ استعمال کیے گئے  جو چند لوگوں کی نگاہ میں  ایک دوسرے سے ‘‘مختلف’’ (contradict) نظر آتی ہے مگر جب انہی قرآن وحدیث کے الفاظ کو اہل علم بالخصوص  اسلام کے  فقہا اپنی دور اندیشی اور قلبی اور روحانی بصیرت سے دیکھتے ہیں کہ یہاں کوئی اختلاف نہیں ، یہاں کوئی کانٹریڈکشن  (contradiction) نہیں ، یہاں کوئی تضاد نہیں ، یعنی اگر آپ معرفت کی صحیح منزل طے کر پائیں تو معلوم ہوگا کہ یہاں تو عقل والوں کی عقلوں کا اختلاف ہے ، اگر اس اختلاف کو کلی طو ر پر   کانٹریڈکشن  (contradiction) کا نام دے دیا جائے تو اس پر ، ما شاء اللہ ، عقل بھی حیران وپریشان !

اصل موضوع پر  باطنی نظر ڈالیں گے تو ضرور کہیں گے کہ محبت کے الفاظ اگرچہ مختلف ہیں مگر ان میں کوئی فرق نہیں ، کیونکہ یہ فطرت کا ناپ تول کیا ہوا ایسا ثابت شدہ  مسئلہ ہے کہ جب دو شخصوں میں محبت ہو تو محبت کی   علامتیں دونوں جاندار شخصوں کے مابین محسوس ہونے  یا ظاہر ہونے لگیں گی ،اس طرح کہ ، دونوں اپنے اپنے قلب میں ایک دوسرے کو پسند کریں گے ، ایک دوسرے کا احترام کریں گے ، ایک دوسرے کی زیارت پر خود بخود خوش بھی ہونے لگیں گے ، یعنی حرکتیں تو الگ الگ ہوں گی مگر  کہنے کو تو  محبت کی ایسی چراغ کہلائے گی جس کی ہر ایک چنگاری محبت کا  وہ اٹوٹ حصہ ہے جس کے بغیر وہ محبت  کا چراغ نہیں کہلا سکے گی ۔

محبت کے اس اٹوٹ رشتے کو جسے اللہ رب العزت نے فطرت کا حصہ بنا یا ہے جو  اپنی حقیقت میں جائز ہے ، مطلب یہ کہ اللہ تعالی نے اسے  جائز قرار رکھا ہے، قرآن کی آیات بھی اس پر گواہ ہیں، احادیث بھی شاہد ہیں  کہ کہیں بھی فطری محبت کو قرآن وسنت نے ناجائز قرار نہیں دیا ہے تو یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ جس چیز کو قرآن وسنت نے اس کی اصل کا اعتبار کرتے ہوئے  اسے ممنوع وحرام  قرار  نہیں دیا ہے تو  وہ چیز اپنی  اصل کے اعتبار سے ہمیشہ جائز رہے گی کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جسے قرآن وسنت نے جائز رکھا ہو اسے کوئی انسان ناجائز شمار کرے ۔ مگر صرف حقیقی محبت ہی جائز رہے گی ۔اگر محبت میں دھوکہ ہو اس معنی میں کہ  اگر دو شخصوں میں ایسی محبت ہوئی جو   نہ صرف دنیا میں رسوائی کا باعث بلکہ آخرت میں بھی شرمندگی کا ذریعہ بنے، تو ایسی محبت کو شریعت اسلام نے جائز قرار نہیں دیا ، بلکہ اسے اسلام  محبت مانتا ہی نہیں، اسے تو شیطان کے مکر وفریب کا حصہ قرار دیا ہے ، لہذا ایسی نام نہاد محبت ، اسلام میں محبت کا درجہ نہیں رکھتی ، لہذا یہ محبت نہ ہوئی بلکہ اس کے خلاف ایک ناجائز عمل ہوا ۔

اگر محبت کی نوعیت  کسی لڑکا اور لڑکی کے درمیان  ہوجانے والی ہے تو اسلام نے  فطری صورت میں پیدا ہونے والی محبت کو نہ صرف جائز قرار دیا ہے بلکہ اگر محبت کرنے والا شریعت کی پاسداری کا لحاظ کرتے ہوئے ہر ایک ناجائز عمل سے دور رہا  ، مثلا ہر طرح  کے ناجائز جنسی نگاہ و عمل سے بچتا رہا   اور پھر اسی حالت میں مر گیا تو  اللہ کے نزدیک محبوب ہی رہے گا  کہ کوئی رسوائی نہ ہوگی اس حساب وکتاب کے  دن  ۔  

اگر لڑکا اور لڑکی میں  محبت  ہو گئی ہو  تو بہتر ہوگا لڑکی کے گھر والوں کو نکاح کا پیغام بھیج دیا جائے یا اگر نکاح ممکن نہ ہو  تو  غیر شرعی افعال سے بچا جائے  کیونکہ  غیرمحرم لڑکوں اور لڑکیوں کا چھپ کر ملاقاتیں کرنا حرام ہے کیونکہ یہی ملاقاتیں زنا کا سبب بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زنا کا سدّباب کرنے کے لیے اس طرح کے تمام راستوں کو روکا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلاً.

یعنی : اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بیشک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہے۔(بني اسرائيل، 17: 32)

اس قرآنی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے غیرمحرم سے تعلق و آشنائی اور الفت و محبت کی بنیاد نکاح کو بنایا ہے۔ نکاح کے بغیر کسی غیرمحرم سے قربت کا رشتہ بنانا ممنوع  اور فعل حرام ہے ۔

امید ہے محبت  کے  لفظی معنی ومفہوم کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہو گیا ہوگا کہ اسلام نے حقیقی اور صادق محبت  کو نہ صرف جائز قرار دیا ہے بلکہ اسے پسند کرتے ہوئے ایک اعلی درجہ پر قائم بھی کر دیا ہے ، اور صادق وحقیقی محبت کی عمارت اسی محبت پر قائم  ہے جو  دنیا اور آخرت میں رب کی پسندیدگی کا ذریعہ بنے اور ذلت ورسوائی سے بچائے ، اور رب اسی بندے کو پسند فرماتا ہے جو اس کے اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر خالص نیت وقلب کے ساتھ عمل بھی کرے ۔

کتبہ غلام غوث صدیقی ، بتوفیق الملک الوھاب

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/is-love-permissible-between-ghair/d/122453


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..