New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 05:49 AM

Urdu Section ( 29 March 2015, NewAgeIslam.Com)

Transfiguration of Hadees تدوین حدیث

 

اقبال شیخ

جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں صحابہ کبار جمع احادیث کے خلاف تھے۔ صحابہ کرام میں سے چند بزرگ یعنی انس بن مالک، ابو ہریرہ اور عبد اللہ بن عمرو ایسے نظر آتے ہیں جن کے پاس کچھ احادیث محفوظ تھیں۔ سنن ابی داؤد میں یہ حدیث ملتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے رسول اکرم صلعم سے دریافت کیا کہ کیا میں آپ کے اقوال لکھ سکتا ہوں تو حضور نے فرمایا ! نعم ! انی لا اقول الاحقا بیشک لکھ لیا کرو۔ اس لئے کہ میں ہمیشہ سچ بولتا ہوں۔

حیرت ہے کہ جس ہستی نے کتابت حدیث سے منع فرمایا تھا (مسلم) اور جس کے جلیل القدر جانشین آپ کے ارشاد کی تعمیل میں نہ صرف اپنے مجموعے بلکہ ہر صحابی کے مجموعے ڈھونڈ ڈھونڈ کر فنا کر تے رہے اسی ہستی نے عبداللہ بن عمر کو کتابت کی اجازت کیسے دے دی تھی ؟ مزید حیرت اس امر پر ہے جب حضرت عمر اور حضرت علی نے احادیث جلانے یا مٹانے کا حکم دیا تھا تو حضرت ابن عمرو نے  کیوں تعمیل نہ کی۔

 کیا قرآن کی رو سے اولی الامر کی تعمیل فرض نہیں ؟ یا تو ہم تسلیم کریں، کہ صحیح مسلم کی حدیث غلط ہے اور یا ابن عمر کو رسول خدااور خلفائے کرام کی حکم عدولی کا  ملزم ٹھہرائیں۔ حضور کے خلفا کے عمل سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ صحیح مسلم کی حدیث صحیح ہے۔ اور اگر مسلم کی حدیث کو صحیح قرار دیں تو ابو داؤد والی حدیث وضعی ثابت ہو تی ہے۔

مسند ابن وہب میں حضرت ابو ہریرہ کے متعلق لکھا ہے کہ آپ احادیث لکھ لیا کرتے تھے۔ لیکن صحیح بخاری میں خود ابو ہریرہ کی یہ روایت موجود ہے۔

ما من اصحاب النبی اکثر حدیثا منی الاعبداللہ بن عمرو فانہ کان یکتب و کنت لا اکتب

تمام صحابہ میں صرف عبداللہ بن عمرو کی روایات مجھ سے زیادہ تھیں اس لئے کہ وہ حدیث لکھ لیا کرتے تھے اور میں نہیں لکھا کرتا تھا۔چونکہ امام بخاری کی صحیح کو مسند کو مذکور سے زیادہ قابل اعتماد ہے اس لئے مسند کے بیان کو ہم صحیح قرار نہیں دے سکتے۔

حضرت انس کے متعلق ایک روایت ترمذی میں ملتی ہے۔ آپ سرور کائنات صلعم کے خادم خاص تھے۔ اور عمر میں بہت چھوٹے تھے۔ یعنی جب حضورؐ مدینہ تشریف لائے تھے تو حضرت انس کی عمر صرف ساڑھے نو برس تھی اور رحلت حضور کے وقت انیس  بیس برس۔

 اپنے اردگرد نظر ڈال کر دیکھئے اور اندازہ لگائیے کہ کیا کوئی لڑکا اٹھارہ انیس برس کی عمر تک کسی قسم کی کوئی ذمہ داری محسوس کر سکتا ہے؟ حضرت انس کا کام تھا حرم نبوی اور رفات نبوی کی خدمت۔ دن کا پیشتر حصہ ، خرید و فروخت، لین دین، جھاڑ پھونک میں گزر جاتا  تھا۔ کچھ فرصت ملتی تو قرآن شریف یاد کیا کرتے تھے۔ وہ ارشادات نبوی ضرور سنتے ہوں گے۔ لیکن لڑکپن کا زمانہ تھا ، انھیں کیا پڑی تھی کہ ہر ارشاد اور ہر واقعہ تمام جزئیات کے ساتھ یاد کرتے پھرتے۔ واقعہ سامنے آیا اور گزر گیا۔ کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا۔ کوئی بات کان سے ٹکرائی سن لی۔ اور پھر کام میں لگ گئے۔ لیکن جب لوگ حضور کی رحلت کے بعد قرآن چھوڑ کر حدیث کے پیچھے پڑ گئے اور راویان حدیث کی منزلت بڑھ گئی۔ تو آپ نے بھی بھولے بسرے واقعات اور گوش گزشتہ ارشادات کا جائزہ لینا شروع کیا۔ ممکن ہے کہ کوئ ارشاد بالفاظہ یاد رہا ہو۔ اور بعض دیگر کا خاکہ خود مکمل کر لیا ہو۔ بہرحال جو احادیث آپ سے مروی ہیں ان کی تعداد 1286 ہے۔جن میں سے 168 کی صحت پر ائمہ حدیث کا اتفاق ہے۔ اور باقی 1118 کو کو ناقابل توجہ سمجھا جاتا ہے۔ امام بخاری نے ان متفقہ احادیث میں سے صرف 83 نقل کیں ہیں۔ مسلم نے 71 اور باقی کو مشکوک سمجھ کر نظر انداز کر دیا ہے۔ اتنی کانٹ چھانٹ کے بعد بھی آپ کی بعض احادیث بدستور محل نظر ہیں۔ مثلاً

"عتبان بن مالک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضورؐ سے التماس کی کہ وہ میرے گھر آ کر نماز پڑھیں۔ آپؐ نے یہ التجا قبول فرما لی۔ آپ کے ہمراہ چند صحابہ بھی تشریف لائے۔ صحابہ نے منافقین کا ذکر چھیڑ دیا۔ وہ کہنے لگے کتنا اچھا ہو۔ اگر حضورؐ ،  مالک جودُخشم (منافق)  کی ہلاکت کی دعا کریں۔ حضور نے فرمایا کیا وہ کلمہ نہیں پڑھتا؟ صحابہ نے کہا زبان سے تو پڑھتا ہے لیکن اس کا دل بے ایمان ہے۔ فرمایا ! جو شخص کلمہ پڑھتا ہے وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث عجیب معلوم ہوئی۔ چنانچہ میں نے اپنے بیٹے کو کہا کہ لکھ لے ۔ اور اس نے لکھ لی۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان)

اگر ابن دخشم واقعی منافق تھا  اور اتنے صحابہ کی شہادت کو  غلط سمجھنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ اور خود حضورؐ نے بھی اس کی تردید نہیں فرمائی۔ تو پھر اس کی مغفرت کا سوال ہی  پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ منافقین کے متعلق اللہ کا یہ صریح ارشاد موجود ہے

ان تستغفر لھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم

اے رسول اگر تو ان منافقین کے ستر مرتبہ بھی مغفرت طلب کرے، پھر بھی ہم ان کی بدکاریوں کو معاف نہیں کریں گے۔

 ایک اور آیت ملاحظہ ہو۔

اذا جآ ء ک امنا فقون قالوانشھد انک لرسول اللہ واللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشھد ان المنافقین لکذبون

اے رسول ! جب یہ منافق تیرے پاس آتے ہیں تو تیری رسالت کا اقرار کرتے ہیں (یعنی باقاعدہ کلمہ پڑھتے ہیں) لیکن اللہ شہادت دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔

جھوٹے ان معنوں میں کہ ان کی زبان ان کے دل کی ترجمان نہیں ہوتی۔ تو جن لوگوں کے کذب و نفاق پہ خود اللہ شہادت دے رہا ہو۔ ان کی مغفرت کی امید معلوم۔

ایک اور حدیث ملاحظہ ہو

 "انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول کریم صلعم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ آپ کے پاس جبریل آیا۔ آپ کو پکڑا۔ زمین پر گرایا۔ سینہ چیر کر دل نکالا۔ پھر دل کو چیرا اور ایک ٹکڑے کے متعلق کہا کہ یہ شیطان والا حصہ ہے۔ اس حصے کو سونے کے طشت میں آب زمزم سے دھویا۔ پھر دوسرے ٹکڑے کے ساتھ جوڑ کر دوبارہ سینہ میں رکھ دیا۔ اور اس زخم کا نشان تا دمِ آخریں باقی رہا"۔

(صحیح مسلم مع فتح الملہم ص 323)

یہ حدیث کئی طرح سے مشکوک ہے۔

اول: جب بچپن میں حضور بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے تو حضرت انس کہاں تھے؟ آپ ایک ایسے واقعے کو بیان کر رہے ہیں جو آپ کی پیدائش سے قریباً چھتیس برس پہلے ہوا تھا۔ اگر آپ نے یہ واقعہ کسی سے سنا تھا ، تو اس کا نام بتانا ضروری تھا۔

دوم: دل کے دو حصے ہیں۔ دایاں حصہ خون کو پھیپھڑوں میں بھیجتا ہے جو وہاں سےصاف ہو کر دل کے بائیں حصے میں داخل ہوتا ہے اور پھر جسم میں چلا جاتا ہے۔ دل ایک پمپ ہے جس کا کام لہو کو پہلے پھیپھڑوں میں بھیجنا اور پھر جسم میں دھکیلنا ہے۔

 یہ صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔ جو پاتھ پاؤں کی طرح لذت و الم کا احساس نہیں کر سکتا۔ اور نہ ہی خیر و شر کا محرک ہے۔ تمام افکار ، جذبات، خیالات اور تصورات کا مرکز دماغ ہے۔ خیر و شر کی تحریک یہیں پیدا ہوتی ہے۔ اور ارادے یہیں بندھتے ہیں۔ اگر جبریلؑ کا مقصد منبع شر کو مٹانا تھا تو دماغ کو چیرتا نہ کہ دل کو۔ اس میں کلام نہیں کہ ہمارے صوفیاء و شعرا دل ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جذبات کا مرکز دل ہے۔ لیکن غلط فہمی سے حقیقت نہیں بدل سکتی۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ دماغ کو مجازاً دل کہہ دیں۔ بہرحال آپ  دماغ کو دماغ کہیں یا دل، حقیقت یہی ہے کہ خیر و شر کی تمام تحریکات دماغ سے ابھرتی ہیں اور دماغ کا مسکن کھوپڑی ہے۔ نہ کہ سینہ۔ چونکہ اس حدیث کا واضع دل ہی کو سب کچھ سمجھتا تھا۔ اس لئے اس نے یہ حدیث گھڑتے وقت یہ قطعاً نہ سوچا کہ جب علم ترقی کر جائے گا تو اس وقت لوگ اس حدیث کو پڑھ کر خدا اور رسول اور جبریل کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے۔ یہی کہ خاکم بدہن ہر سہ دل و دماغ کی ساخت اور ان کے اعمال سے نا آشنا تھے۔

سوم: گناہ کی دنیا حسین بھی ہے لذیذ بھی۔ انسان اسی صورت میں کامل بن سکتا ہے کہ وہ گناہ کی تمام ترغیبات کو جھٹک کر نیکی کی اجاڑ راہوں پر بڑھتا چلے۔ ایک حسین نوجوان کا تیر نگاہ سے بچ جانا اس کا کمال ہے۔ لیکن اگر کوئی پیر صد سالہ یہ کہے کہ میں عورتوں کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھنا نگاہ کی توہین سمجھتا ہوں تو لوگ اس کا مذاق اڑائیں گے۔ اس لئے ہمیں اس رسول پر ناز ہے جو بشر ہوتے ہوئے بھی ہر ترغیب، ہر کشش، اور ہر گناہ سے دامن بچا کر نکل گیا تھا۔ نہ اس رسول پر کہ جس کا آپریشن کر کے خطا کاری کی استعداد ہی سے محروم کر دیا گیا تھا۔

چہارم:اگر اللہ کی منشا یہی تھی کہ ہر نبی معصوم ہو تو وہ ماں کے پیٹ میں ان کے دماغ کی ساخت ویسی بنا سکتا تھا کہ گناہ کا ارادہ ہی پیدا نہ ہو سکتا اور بعد میں جبریلؑ سے آپریشن (اور وہ بھی غلط مقام پر) کرانے کی ضرورت باقی نہ رہتی۔

پنجم: یہ زمزم کے پانی سے مرکز گناہ دھونے کی بھی خوب کہی۔ اگر کوئی شخص بجلی کے تاروں کو پانی سے دھونا شروع کر دے اور کہے کہ میں ان تاروں سے بجلی ختم کر کے رہوں گا تو آپ اس کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے۔ دل یا دماغ میں نیکی یا گناہ کا صرف ارادہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم دماغ سے بھیجا نکال کر اسے پانی سے دھونا شروع کر دیں اور کہیں کہ آج ان ارادوں کا تمام مواد ختم کر کے ہی دم لیں گے تو لوگ کیا کہیں گے؟

تو یہ ہے حقیقت حضرت ابو ہریرہؓ، عبداللہ بن عمروؓ اور انس بن مالکؓ کے مجموعہ ہائے حدیث کی۔ صحابہ کے بعد  تابعین کا زمانہ آیا۔

 تذکروں میں مذکور ہے کہ مغیرہ شعبی اعمش اور قاسم جیسے علمائے تابعین جمع احادیث کو ناجائز سمجھتے رہے۔ امام بن شہاب الزہری المدنی (وفات 114ھ) پہلا محدث ہے جس نے عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے کچھ احادیث جمع کیں۔ آپ کے بعد ابن جریح نے مکہ میں ، ابن اسحق اور مالک نے مدینہ میں۔ ربیع بن صبیح سعد بن  عرویہ اور حماد بن سلمہ نے بصرہ میں سفیان ثوری نے کوفہ میں اوزاعی نے شام میں۔ میثم نے واسط میں۔ معمر نے یمن میں۔ جریر نے رے میں۔ اور ابن مبارک نے خراسان میں یہی کام  شروع کیا۔ لیکن امام مالک کے بغیر باقی سب کے مجموعے ضائع ہو گئے۔ دوسری صدی کے آخر میں چند اور مجموعے مرتب ہوئے مثلاً مسند  اسد بن موسی۔ مسند عبید اللہ بن موسی العسبی۔ مسند مسد بصری۔ اور مسند نعیم بن المحماد المخراعی۔ تیسری صدی کے آغاز میں  امام احمد بن حنبل۔ امام بخاری ۔ مسلم اور ابو داؤد وغیرہ تدوین احادیث کی طرف متوجہ ہوئے۔ ابن حنبل نے چالیس ہزار احادیث جمع کیں۔ ان کے راویوں کی تعداد اتنی  زیادہ تھی کہ وہ ان احادیث کو روایت و درایت کے معیار پر پرکھنے کے لئے وقت نہ نکال سکے۔ امام بخاری پہلے محقق ہیں جنھوں نے چھ لاکھ احادیث(امام بخاری تک صرف چھ لاکھ پہنچی تھیں ورنہ یحییٰ بن معین کو 14 لاکھ احادیث کا علم تھا) میں سے صحیح احادیث کا انتخاب کرنے کے لئے انتہائی کوشش کی۔ بعض اوقات ایک ایک حدیث کے لئے کئی کئی استخارے کئے۔ یعنی جو کچھ انسانی طاقت میں تھا انھوں نے کیا۔ لیکن جن احادیث کو مشتبہ سمجھ کر فاروقؓ و صدیقؓ جلا رہے تھے ، اڑھائی سو برس بعد کیسے صحیح بن سکتی تھیں۔ پھر اس عرصے میں ہزاروں جعلساز پیدا ہو سکے تھے۔ جن کا پیشہ ہی حدیث تراشی تھا۔ علامہ محمد طاہر گجراتی نے اپنی مشہور تصنیف "قانون الاخبار الموضوعۃ و الرجال الضفعار" میں تقریباً دو ہزار ایسے اشخاص کے نام دئیے ہیں جو زندگی بھر جھوٹی حدیثیں گھڑتے رہے۔ کسی نے ہزار تراشیں اور کسی دس ہزار۔ موضوعات کبیر میں ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ ابن عکاشہ اور محمد بن تمہیم نے دس ہزار احادیث وضع کیں تھیں۔ جب ابن ابی العواجا زندیق گرفتار ہوا تو اس نے اقرار کیا کہ میں چار ہزار احادیث گھڑ چکا ہوں۔ جب خلیفہ وقت نے دریافت کیا کہ وضع حدیث سے تمھارا کیا مقصد تھا ، تو کہا کچھ نہیں۔ صرف قرآن کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال بناتا رہا۔ بالکل درست کہا تھا۔ ابن ابی العواجا نے عام حدیث کو تو  جانے دیجئے صحاح ستہ میں بعض ایسی احادیث راہ پا چکی ہیں جو نہ صرف قرآن سے متصادم ہیں بلکہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند علم ، عظیم المرتبت شخصیت اور بے مثال کردار کے سخت منافی ہیں۔ تفصیل آگے آئے گی۔ اسی بنا پر مولانا عبید اللہ سندھی نے فرمایا تھا۔

 "میں ایک یورپین نو مسلم کو کتاب بخاری کیوں نہیں پڑھا سکتا ؟ اس کی وجہ میں مجلس عام میں نہیں بتا سکتا"

 (الفرقان شاہ ولی اللہ نمبر 285)

یہ نہ سمجھئے کہ حدیث تراشی کا کام صرف یہود ، منافق اور زنادقہ ہی کیا کرتے تھے۔ بلکہ بڑے بڑے قضاۃ بھی اس "کارِ خیر" میں شامل تھے۔ مثلاً ابن ابی یحییٰ مدینہ میں۔الواقدی بغداد میں۔ اورمقاتل بن سلیمان خراسان میں بیٹھ کر حدیثیں گھڑا کرتے تھے۔ علامہ ابن جوزی نے وضاعین کی ایک طویل فہرست دی ہے۔ جس میں قاضی وہب بن وہب۔ محمد بن سعید الشامی ۔ ابو داؤد النخعی۔ غیاث بن ابراہیم النخعی۔ مغیرہ بن سعید کوفی۔ احمد بن عبداللہ جوبیازی۔ ماعون بن احمد الہروی۔ محمد بن قاسم طالتافی اور محمد بن زیاد الیشکری جیسے "بزرگان قوم" شامل ہیں۔

(تذکرۃ الموضوعات۔علامہ محمد طاہر ص9)

جمال الدین المزنی فرماتے ہیں کہ قاضی ابو نصر بن دوعان کی تمام احادیث جھوٹی ہیں۔

(ابو جیزہ و تذکرۃ الموصوعات ص 9)

علامہ محمد طاہر کہتے ہیں کہ ابن ابی الدنیا۔ ابی نسطور الرومی۔ بشر۔ نعیم بن سالم۔ خراش۔دینار۔ ابان بن سفیان۔ ابراہیم بن اسمعیل۔ ابراہیم        بن بطیار الخوارزمی۔ ابان بن نہشل۔ ابراہیم بن رستم اور اسی قماش کے کئی ہزار بزرگ جھوٹی احادیث تراشا کرتے تھے۔

امام سیوطی اپنی مشہور کتاب لآلی میں لکھتے ہیں کہ ابان بن جعفر البصری نے تین سو احادیث وضع  کر کے امام ابو حنیفہ کا نام جڑ دیا تھا۔ الوجیز میں المزنی کہتے ہیں کہ حضور کا مشہور خطبہ جو خطبتہ الوداع کے نام سے مشہور ہے تمام تر جعلی ہے۔ اور اس کا واضع میسرہ بن عبدربہ ہے۔ علامہ ویلمی فرماتے ہیں کہ ابو الفضل جعفر بن محمد بن علی الحسینی کی کتاب العروس خرافات کا ایک پلندہ ہے۔ اور اس کی سب حدیثیں جھوٹی ہیں۔

 (تذکرۃ الموضوعات ص 10)

علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ احمد بن اسحاقب ابراہیم بن بلیط بن شریط کا مجموعہ احادیث خرافات ہے۔

(تذکرۃ الموضوعات ص 10)

مفرقہ علوم الحدیث (صفحہ 60) میں مذکور ہے، ابان نے جعلی احادیث کا ایک مجموعہ تیار کیا تھا۔ اور ہر روایت  میں حضرت انس بن مالک کا نام جڑ دیا تھا۔ مقام تعجب نہیں ، اگر حضرت انس کی وہ سینہ چیرنے والی حدیث بھی اسی قسم کے مجموعے سے نکل کر صحیح مسلم میں جا پہنچی ہو۔ علامہ ابو الخیر شمس الدین السخاوی "مقاصد" میں لکھتے ہیں

 "تفسیری احادیث کے دو مجموعے تیار ہو چکے ہیں۔ ایک کلبی کا اور دوسرا مقاتل بن سلیمان کا۔ کلبی کے متعلق احمد بن حنبل نے لکھا ہے کہ اس کی ایک بھی حدیث صحیح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض مفسرین اپنے عقائد  کے مطابق احادیث گھڑتے رہے۔ جن میں عبدالرحمن بن کیسان الاصم۔ الجبائی الرمانی۔ زفخشری (صاحب کشاف) ابی عبدالرحمن السلمیٰ۔ الثعلبی۔ اور الواحدی خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ ان لوگوں نے نہایت  دور از کار مطالب بیان کئے۔ اور ایسی احادیث وضع کیں کہ عقل سر پیٹ کر رہ جائے۔ مثلاً ایک  مفتر مرج البحرین یلتقیان (دنیا کے دو سمند آپس میں مل رہے ہیں) کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلعم فرماتے ہیں کہ بحرین (دو سمندر) سے مراد  حضرت علی اور فاطمہ ہیں۔ اور یخرج منھما اللولوء والمرجان (ان سمندروں سے موتی اور مرجان نکلتے ہیں) میں لولو و مرجان سے مراد حسین و حسن ہیں۔  (مقاصد و تذکرۃ الموضوعات ص 82)

ملاحظہ کیا آپ نے کہ وضع احادیث میں کیسے کیسے بزرگوں کی "دعا و ہمت" شامل تھی۔ منافقوں۔یہودیوں اور دشمنان اسلام کا تو ذکر ہی نہ کیجئے۔ ان کا تو مقصد ہی اسلام کے چشمہ مصفا کو مکدر کرنا تھا۔ بات کیجئے اپنے بڑے بڑے جبہ پوش قاضیوں کی اور خضر صورت واعظوں کی کہ نہ اللہ سے ڈرے، نہ رسول سے شرمائے۔ نہ نقصان مایہ کی فکر کی نہ شماتت ہمسایہ کا خیال آیا۔ اور چودہ لاکھ احادیث کا طور مار عظیم تر اش کر ملت کے سر پہ دے مارا۔ اور کہا کہ یہ ہے  تمھارا لائحہ عمل۔ قرآن وحی جلی تھا اور یہ وحی خفی۔ قرآن مجمل تھا اور یہ مفصل۔ خاکم بدہن قرآن ناقص تھا ( کہ اس میں ادائے صلوۃ کا طریقہ درج نہیں) اور یہ مکمل۔ اس لئے اسے اپنانا ہی پڑے گا۔

زندگی کی چند روزہ وجاہت اور چند ٹکوں کی خاطر  ان لوگوں نے تعلیم اسلام کا ستیاناس کر ڈالا۔ اور اللہ کے انقلاب انگیز، حیات آفرین اور سکون بخش پیغام میں وہ وہ اباطیل و خرافات داخل کر دئیے گئے کہ الامان و المحذور ملت کی ذہنیت  مسخ ہو گئی۔ تصورات حیات بدل گئے۔ اور حقائق نگاہ سے اوجھل ہو گئے۔ وہ مسلمان جو سطح ارضی پہ جہانگیر اخوت کی بنیاد ڈالنے آیا تھا وہ خود ایک تنگ و تاریک حجرے میں مقید ہو گیا۔ وہ جس نے ساحل سے اچھل کر بیکراں بننا تھا ایک جوئے کثیف بن کر رہ گیا۔ وہ  جس کے خرام ناز کا تماشہ تمام عالم نے دیکھنا تھا، گام اول ہی  پہ منزل سمجھ کر بیٹھ گیا۔ وہ جس نے نسل آدم  کو اوہام و اباطیل کی دنیا سے نکالنا تھا خود سب سے بڑا پرستار اوہام بن کر رہ گیا۔ اور وہ جس نے ظواہر و مناسک کے تمام بت توڑنے تھے، ہزاروں بت تراش کر خود ان کی پرستش میں محو ہو گیا۔ درست فرمایا تھا حکیم الامت نے

تمدن، تصوف ، شریعت کلام               بتان عجم کے پجاری تمام

یہ امت روایات میں کھو گئی                حقیقت خرافات میں کھو گئی

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

(اقبال ؒ)

URL: http://newageislam.com/urdu-section/iqbal-sheikh/transfiguration-of-hadees--تدوین-حدیث/d/102182

 

Loading..

Loading..