New Age Islam
Fri Aug 19 2022, 07:59 AM

Urdu Section ( 2 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Importance and Virtue of Dua, as well as the Wisdom of Delay in Its Acceptance دعا کی اہمیت ،فضیلت اور قبولیت دعا میں تاخیر کی حکمت

کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام

3 جون 2022

قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے جس طرح دیگر تمام عبادتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی فرضیت اور اہمیت کو جگہ جگہ بیان فرما کر لوگوں کو ان کے ادا کرنے کا حکم اور پورا ہونے پر جزا کا وعدہ فرمایا ہے ایسے ہی دعا جو کہ مخ العبادة ہے اس کا ذکر بھی کبھی اس طرح یقین دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ"اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ:میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرے" اور کبھی دعا کا سلیقہ بتاتے ہوئے فرماتا ہے"اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ- اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ" اور ساتھ ہی اس کی رحمت سے امید بھی رکھو " وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا:اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طمع کرتے۔} اس آیت میں دعامانگنے کا ایک ادب  یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جب بھی دعا مانگو تواللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کی رحمت کی طمع کرتے ہوئے دعا کرو۔

اسی طرح مزید بےشمار آیتیں اور بھی مذکور ہے جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دعا کی کتنی اہمیت اور فضیلت ہے۔

دعا مانگنے کے فضائل میں چند احادیث

(1) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بزرگ تر نہیں۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء فی فضل الدعاء، ۵ / ۲۴۳، الحدیث: ۳۳۸۱)

 (2) حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، حضور ِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کے لئے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا تو ا س کے لئے رحمت کا دروازہ کھول دیاگیا۔ اللہ تعالیٰ سے کئے جانے والے سوالوں میں سے پسندیدہ سوال عافیت کا ہے۔ جو مصیبتیں نازل ہو چکیں اور جو نازل نہیں ہوئیں ان سب میں دعا سے نفع ہوتا ہے، تو اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو! دعا کرنے کو(اپنے اوپر) لازم کر لو۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، باب  فی دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ۵ / ۳۲۱، الحدیث: ۳۵۵۹)

(3) حضرت جابر بن عبداللہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دے اور تمہارے رزق کووسیع کر دے ’’رات دن اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہو کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ (مسند ابو یعلی، مسند جابر بن عبد اللہ، ۲ / ۲۰۱، الحدیث: ۱۸۰۶)

دعا اتنی افضل عبادت ہے کہ انسان ایک دعا مانگ کر پانچ فائدے حاصل کر لیتا ہے

(1)…دعا مانگنے والا عبادت گزاروں کے گروہ میں شمار ہوتا ہے کہ دعا فِی نَفْسِہٖ یعنی بذاتِ خود عبادت بلکہ عبادت کا مغز ہے۔

(2)…جو شخص دعا کرتا ہے وہ اپنے عاجز اور محتاج ہونے کا اقرار اور اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی قدرت اور کرم کا اعتراف کرتا ہے۔

(3)…دعا مانگنے سے شریعتِ مطہرہ کے حکم کی بجا آوری ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا اور دعا نہ مانگنے والے پر حدیث میں وعید آئی۔

(4)…سنت کی پیروی ہو گی کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دعا مانگا کرتے اور اوروں کو بھی تاکید فرماتے۔

(5)…دعا سے آفات و بَلِّیّات دور ہوتی ہیں اور مقصود حاصل ہوتا ہے۔ (فضائل دعا، فصل اول، ص۵۴-۵۵، ملخصاً)

قبولیت دعا

جس طرح دیگر عبادات و اعمال کے ادائیگی کے کچھ احکام و شرائط ہیں اسی طرح دعا بھی ایک ایسا عمل ہے جس کی قبولیت کے لئے کچھ آداب مذکور ہیں: جیسا کہ خود اللہ ربّ العزت نے فرمایا:" وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا"

یعنی اگر بند اپنی عاجزی محتاجی اور عبدیت کو مانتے ہوئے اپنے خالق حقیقی کے سامنے ہاتھ پھیلا ہی لیا ہے تو ساتھ ہی قبولیت کی امید بھی دل میں لیے رہے سوال کرنے کا عرصہ کتنا بھی دراز ہو لیکن ناامیدی کو ہرگز جگہ نہ دے کیونکہ سورہ یوسف میں بہت ہی واضح انداز میں فرمایا گیا ہے کہ "لَا تَیاسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِؕاِنَّهٗ لَا یَیاْسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ(87)" اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ ۔

یقیناً اگر ہم ناامیدی چھوڑ کر یقین کامل رکھتے ہوئے کسی بھی دعا کو مانگتے رہیں تو ان شاء اللہ کبھی نہ کبھی ضرور قبول ہو گی جیسا کہ سورہ یونس میں حضرت موسیٰ اورحضرت ہارون علیہما السلام کو خوش خبری دیتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ ہوا "قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا:(اللہ نے ) فرمایا: تم دونوں کی دعا قبول ہوئی۔" اس آیت میں  دعا کی نسبت حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دونوں کی طرف کی گئی حالانکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دعا کرتے تھے اور حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آمین کہتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آمین کہنے والا بھی دعا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔یہ بھی ثابت ہوا کہ آمین دعا ہے لہٰذا اس کیلئے اِخفا ہی مناسب ہے۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۸۹، ص۴۸۳) یاد رہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا اور اس کی مقبولیت کے درمیان چالیس برس کا فاصلہ ہوا۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۸۹، ۲ / ۳۳۰) اسی لئے اس آیت میں آگے فرمایا گیا کہ ان لوگوں میں سے نہ ہونا جو قبولیت ِ دعا میں دیر ہونے کی حکمتیں نہیں جانتے۔

دعا قبول ہونے میں تاخیر ہونا بھی حکمت ہے

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دعا کی قبولیت میں یہ ضروری نہیں کہ فوراً ہی اس کا اثر ہوجائے بلکہ بعض اوقات حکمت ِ الٰہی سے اس میں ایک عرصے کی تاخیر بھی ہوجاتی ہے، نیز اس شخص کی دعا ویسے ہی قبول نہیں ہوتی جو شور مچائے کہ اس نے بڑی دعا کی مگر قبول نہیں ہوئی چنانچہ حدیث میں ہے، حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بندے کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ گناہ یا قَطعِ رحمی کی دعا نہ مانگے اور جب تک کہ جلد بازی سے کام نہ لے۔ عرض کی گئی: یا رسولَ اللہ!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جلد بازی کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا ’’ یہ کہے کہ میں نے دعا مانگی اور مانگی مگر مجھے امید نہیں کہ قبول ہو، لہٰذا اس پر دل تنگ ہوجائے اور دعا مانگنا چھوڑ دے۔(مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب بیان انّہ یستجاب للداعی ما لم یعجّل فیقول: دعوت فلم یستجب لی، ص۱۴۶۳، الحدیث: ۹۲(۲۷۳۵))

اسی لئے دعا کے آداب میں سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ قبولیت کے یقین سے دعا مانگو جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’تم اللہ تعالیٰ سے قبولیت کے یقین کے ساتھ دعا مانگا کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ غافل دل سے(دعا کرنے والے کی )دعا قبول نہیں فرماتا۔(ترمذی، کتاب الدعوات، ۶۵-باب، ۵ / ۲۹۲، الحدیث: ۳۴۹۰)

لہذا ہمیں قبولیت کی امید سے مسلسل دعا کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اگر ہمیں وہی چیزیں عطا نہیں بھی ہوئی پھر بھی تین باتوں سے خالی نہیں ہوتی ہے کوئی بھی دعا جن کا اللہ کے رسول ﷺ نے ذکر کیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ‘‘کوئی بھی مسلمان جب دعا کرتا ہے تو اگر اس میں کسی گناہ اور قطع رحمی کی دعا نہیں ہوتی، تو اللہ اس کو تین چیزوں میں سے کوئی چیز عطا کرتا ہے۔ یا تو بندہ نے جو مانگا اس کو پورا کردیتا ہے،یا اس کوآخرت کے لئے ذخیرہ بنا دیتا ہے، یا اس پر آنے والی کسی مصیبت کو ٹال دیتاہے۔ (أحمد: 11133).

اس لئے ہم سب کو چاہیے کہ اپنی ہر حاجت روائی کے لئے اپنے مالک حقیقی سے پختہ امید کے ساتھ سوال کرتے رہیں تاکہ ہماری عبادت بھی ہوتی رہے اور حاجت روائی بھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب کے صدقے ہم سب پر اپنی نظر رحمت فرماتے ہوئے ہماری مشکلات کو آسان فرمائے۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/importance-virtue-dua-wisdom-acceptance/d/127159

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..