New Age Islam
Fri May 14 2021, 01:41 PM

Urdu Section ( 4 May 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Importance of Ijtihad in the Eyes of Iqbal اقبال کی نظر میں اجتہاد کی اہمیت


ابن آدم

04مئی 2012

اقبال نے اپنے عہد میں یہ محسوس کیا کہ مسلمان تقلید اور جمود کی وجہ سے زوال کا شکار ہیں جب کہ دنیا کی دوسری قومیں عقل اور تحقیق کی بنیاد پر ترقی کرکے بہت آگے نکل گئے ہیں ۔ اقبال نے مسلمانوں میں تحریک پیداکرنے   کےلئے اجتہاد کی ضرورت پر زوردیا ہے۔ اقبال کے تصور اجتہاد پر فلسفیانہ بحث کرنے کی بجائے مناسب ہے کہ اقبال کے اپنے الفاظ میں اجتہاد کی اہمیت اور ضرورت کو بیان کردیا جائے ۔ انہوں نے اجتہاد کا مفہوم ان الفاظ میں بیان کیا ۔

‘‘اجتہاد کے معنی کوشش کرنے کے ہیں لیکن فقہ اسلامی کی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے وہ کوشش جو کسی قانونی مسئلہ میں آزادانہ رائے قائم کرنے کے لیے کی جائے۔’’ (1)

اقبال اس سوچ کے خلاف تھے کہ مذہب کے متعلق عقیدہ جتنا سمجھا جانا تھا وہ مکمل ہوچکا ۔ اب کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کے بارے میں مزید تحقیق اور اجتہاد کرے۔ اقبال نے کہا ۔

‘‘دین مکمل ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ضروریات زندگی کے متعلق سینکڑوں برس پیشتر ایک خاص ماحول اور خاص معاشرہ کے تقاضوں کے مطابق جو جزئیات مرتب ہوئی تھیں وہ ابدی طور پر غیر متبدل رکھی جائیں گی’’۔(2)

اقبال نے 1904میں ‘‘قومی زندگی’’ کے عنوان مضمون لکھ کر اجتہاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔

‘‘حالات زندگی میں ایک عظیم الشان انقلاب آجانے کی وجہ سے بعض ایسی تمدنی ضروریات پیدا ہوگئے ہیں کہ فقہا کے استدلات ، جن کے مجموعے کو عام طور پر شریعت اسلامی کہا جاتا ہے ، نظر ثانی کے محتاج ہیں ۔ میرا یہ عندیہ نہیں کہ مسلمان مذہب میں کوئی اندرونی نقص ہے جس کے سبب سے وہ ہماری موجودہ تمدنی ضروریات پر حاوی نہیں ہیں بلکہ میرا یہ مدعا ہے کہ قرآن شریف واحادیث کے وسیع وصول کے نام پر جو استدلال فقہانے وقتاً فوقتاً کیے ہیں ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو خاص خاص زمانوں کے لئے واقعی مناسب اور قابل عمل تھے مگر حال کی ضروریات پر کافی طور پر حاوی نہیں ہیں۔ قانون اسلامی کی جدید تفسیر کے لئے ایک بہت بڑے فقیہہ کی ضرورت ہے جس کے قوائے عقلیہ اور متخیلہ کا پیمانہ اس قدر وسیع ہو کہ وہ مسلمان کی بنا پر قانون اسلامی کو نہ صرف ایک جدید پیرائے میں مرتب و منظّم کر سکے بلکہ تخیل کے رو سے اصول کو ایسی وسعت دے سکے جو حال کے تمدنی تقاضوں کی تمام ممکن صورتوں پرحاوی ہو۔ اگر اس بات کی اہمیت کو دیکھا جائے تو معلو م ہوتا ہے یہ کام ایک سے زیادہ دماغوں کا ہے اور اس کی تکمیل کے لے کم از کم ایک صدی کی ضرورت ہے۔(3)

اقبال مورخہ 4جون 1925کو آفتاب احمد خان کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں۔

‘‘فرد کی حیثیت ، اس کی فکری آزاد ی اور طبعی علوم کی غیر متنا ہی ترقی ، ا ن چیزوں میں جو تبدیلی واقع ہوئی ہے، اس نے جدید زندگی کی اساس کو یکسر متغیر کردیا ہے۔ چنانچہ جس قسم کا علم کلام او رعلم دین ازمنہ متوسطہ کے مسلمان کی تسکین قلب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ وہ آج تسکین بخش نہیں ہے۔اس سے مذہب کی روح کو صدمہ پہنچانا مقصود نہیں ہے۔ اگر مسلمانوں کی زندگی کو دوبارہ تازہ اور اجتہادی گہرائیوں کو دوبارہ حاصل کرنا مقصود ہے تو فکر دینی کو از سر نو تعمیر کرنا قطعاً لا زمی ہے’’۔(4)

اقبال کو اس بات کی  شدید قلق رہا کہ عوام الناس کی مذہبی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری جن مولوی حضرات پر ہے وہ بوجوہ نامکمل تعلیم یافتہ اور بیشتر صورتوں میں اپنے حقیقی منصب کے اہل نہیں ہوتے۔ اپنے مضمون ‘‘قومی زندگی’’ میں ایسے ہی مولوی صاحبان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

مولوی صاحبان کی یہ حالت ہے کہ اگر کسی شہر میں اتفاق سے دوجمع ہوجائیں تو حیات مسیح یا آیات ناسخ ومنسوخ پر بحث کرنے کےلئے باہمی نامہ وپیام ہوتے ہیں اور اگر بحث چھڑ جائے اور بالعموم بحث چھڑ جاتی ہے تو ایسی جوتیوں میں دال بٹتی ہے کہ خدا کی  پناہ۔ پرانا علم وقضل جو علمائے اسلام کا خاصہ تھا، نام کو بھی نہیں رہا ۔ ہاں مسلمان کافروں کی ایک فہرست ہے کہ اپنے دست خاص اس روز بروز اضافہ کرتے رہتے ہیں ۔’’(5(

جدید تقاضوں کے مطابق آزاد انہ رائے قائم کرنے کے اُصول کی وضاحت کے لیے  اقبال ایک حدیث مبارکہ پیش کرتے ہیں جس کی روایت کے مطابق جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا عامل مقرر کیا تو فرمایا ‘‘ مقاملات کا فیصلہ کیسے کروگے ؟ انہوں نے کہا ۔کتاب اللہ کے مطابق لیکن اگر کتاب اللہ نے ان میں تمہاری رہنمائی نہیں کی تو پھر ؟ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ۔لیکن اگر سنت رسول صلی للہ علیہ وسلم بھی ناکافی ٹھہری تو ؟ اس پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا تو پھر میں خود ہی کوئی رائے قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔’’(6)

اقبال بتاتے ہیں کہ احترام ماضی کے غلط تصور اور افراد کا اپنی بصیرت پر عدم اعتماد پیدا کرنے کا باعث بے جا نظم وضبط کہ جو اسلام کی اندرونی روح کے منافی تھا، ایک بڑے ردعمل کا متقاضی تھا اور یہ رد عمل ہوا۔ ا س ضمن میں اقبال امام ابن تیمیہ رضی اللہ عنہ نے مذاہب اربعہ کی قطعیت سے انکار کرتے ہوئے اُن کے پیدا کردہ جمود پر ضرب لگائی اور فقہ کے بنیادی مآخذ یعنی قرآن وسنت کی طرف رجوع کر کے اپنے حق اجتہاد کو استعمال کیا۔(7)

اقبال ایران کے جمہوری سیاسی نظام کے حق میں نہیں تھے۔ وہ لکھتے ہیں۔

‘‘ایران کے 1906کے آئین میں یہ دفعہ شامل تھی کہ علما کی ایک الگ دینی اعلیٰ کمیٹی ہو جودنیاوی امور سے آگاہی رکھتی ہو۔ اس کمیٹی کو مجلس کی قانون سازی کی کاروائیوں پر نگرانی کا حق ہوگا۔ میری رائے میں یہ خطرناک انتظام غالباً ایران کے آئینی نظریہ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس نظریہ کے مطابق بادشاہ اس علاقے کا محض امانت دار ہے جو حقیقتاً امام غائب کی ملکیت ہے ۔امام کے نمائندوں کی حیثیت سے علما اپنے کو اُمت کی زندگی کے تمام شعبہ ہائے حیات کی نگرانی کا حق دار سمجھتے ہیں ۔اگرچہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب تک نبوت کی جانشینی ثابت نہ ہو وہ امام کی نمائندگی کا دعویٰ کس طرح ثابت کرسکتے ہیں تاہم ایرانی نظریہ آئین کچھ بھی ہو یہ انتظام خطرے سے خالی نہیں او رسنی  ممالک میں اسے محض عارضی طور پر آزمایا جائے ’’۔(8)

علامہ اقبال سمجھے تھے کہ علما کو اس طرح کااختیار دینےسے ایک طرف تو پاپائیت یا مذہبی پیشوائیت کی راہ کھلے گی۔دوسرے اس سے اسلامی سیاسی ڈھانچے کی جمہوری روح ختم ہوجائے گی۔ اس کی بجائے وہ علما کو جمہوری عمل کا حصہ بنانا چاہتے تھے چنانچہ علما کی علیحدہ علیحدہ مجالس کے قیام کی بجائے ان کی تجویز تھی کہ ‘‘علما کو مسلم قانون ساز اسمبلیوں کا لازمی حصہ بنانا چاہئے تاکہ وہ قانون سے متعلق حالات میں آزادانہ بحث میں مدد اور راہنمائی مہیا کرسکیں ۔’’(9)

لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس 21مارچ 1932کو صدارتی خطبہ میں اُنہوں نے فرمایا ۔

‘‘ میں تجویز کرتا ہوں کہ علما کی ایک مجلس تشکیل دی جائے جس میں مسلم قانون دانوں کوبھی شامل کیا جائے جنہوں نے جدید اُصول قانون کی تعلیم پائی ہو۔ اس کامقصد یہ ہے کہ اسلامی قانون کی حفاظت اور توسیع اور اگر ضرورت ہوتو جدید حالات کی رو شنی میں اس کی تعبیر نو کی جائے ۔ اس میں اس روح کے قریب رہا جائے جو اسلامی قانون کے بنیادی اُصولوں میں کارفرما ہے۔ اس مجلس کو آئینی تحفظ حاصل ہونا ضروری ہے تاکہ مسلمانوں کے شخصی قوانین کے سلسلے میں کوئی بل اُس وقت تک اسمبلی میں پیش نہ ہوسکے جب تک وہ مجلس کی نظروں سے گزر نہ جائے’’ ۔(10)

اقبال اپنے آرٹیکل ‘‘ملت بیضا پرایک عمرانی نظر’’ میں ا یک بار پھر خیرا لا مم کے اتحاد ویگانگت کے لیے اقتصادی بہبود کے ساتھ ساتھ ،فقہ کی تدوین نو کے حوالے سے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ  کے اجتہادی کام کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں او رزمان ومکاں کے احوال و ظروف میں ماضی سے رشتہ منقطع کیے بغیر جدید مسائل کے حل کے خاطر فقہ پراز سرنو غور کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے ‘‘ معتقدات مذہبی کی وجوہات’’ کو اسلامی تہذیب کی یک  رنگی کے لیے لازمی قرار دیتے ہیں۔(11)

اقبال اسلامی یونیورسٹی کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

‘‘ ہندوستان میں اسلامی یونیورسٹی کا قائم ہونا ایک اور لحاظ سے بھی نہایت ضروری ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ ہماری قوم کے عوام کی اخلاقی تربیت کا کام ایسے علما اور واعظ انجام دے رہے ہیں جو اس خدمت کی انجام دہی کے پوری طرح اہل نہیں ہیں۔ ا س لیے کہ ان کا مبلغ علمی اسلامی تاریخ اور اسلامی علوم کے متعلق نہایت محدود ہے۔ اخلاق اور مذہب کے اصول وفروغ کی تلقین کے لیے موجود ہ زمانے کے واعظ کو تاریخ ،اقتصادیات اور عمر انیات کے حقائق عظیمہ سے آشنا ہونے کے علاوہ اپنی قوم کے لٹریچر اور تخیل میں پوری دسترس رکھنی چاہئے ۔ الندوہ ، علی گڑھ کالج، مدرسہ دیوبند اور اسی قسم کے دوسرے مدارس جو الگ الگ کام کررہے ہیں اس بڑی ضرورت کو رفع نہیں کرسکتے ۔ ان تمام بکھری ہوئی تعلیمی قوتوں کا شیراز ہ بند ایک وسیع تر غرض کا دارالعلوم ہونا چاہئے جہاں افراد قوم نہ صرف خاص قابلیتوں کو نشو نما دینے کا موقع حاصل  کرسکیں بلکہ تہذیب کا وہ اُسلوبی سا نچا تیار کیا جاسکے جس میں زمانہ ، موجود کے ہندوستانی مسلمانوں کو ڈھلنا چاہئے ، جس کے لیے اعلیٰ تخیل ،زمانے کے رجحانات کا لطیف احساس او رمسلمانوں کی تاریخ او ر مذہب کے مقہوم کی صحیح تعبیر لازمی ہے۔’’ (12)

اقبال نے اسلامی قانون کے چار بنیادی مآخد بیان کیے، قرآن مجید ، حدیث شریف اجماع امت قیاس ، اقبال نے صوفی  تبسم کے نام خط میں تحریر کیا۔

‘‘ میرا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگا ہ سے زمانہ حال کے جیورس پروڈینس پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا، وہی اسلام کا مجدد ہوگا اور بنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم بھی وہی شخص ہوگا۔ (13)

اقبال نے اپنے چھٹے خطبہ میں تحریر کیا:

‘‘اگر اسلام کی نشاۃ ثانیہ ایک حقیقت ہے او رمیرا ایمان ہے  کہ اسلام کا احیا ایک حقیقت ہے تو ہمیں بھی کسی نہ کسی دن ترکوں کی مانند اپنے روثے کی قد ر وقیمت کا از سرنو جائزہ لینا ہوگا۔ پہلی صدی کے تقریبات نصف سے لے کر چوتھی صدی کے آغا ز تک انیس فقہی مذاہب موجود تھے ۔ اس حقیقت سے ہمیں بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے قدیم علما نے ارتقا پذیر اسلامی تہذیب کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کس قرر جاں فشانی سے کام لیا تھا ۔ اسلامی فتوحات کے نتیجے میں اسلامی نقطہ نگاہ کی وسعت اور اسلام قبول کرنے والی نئی قوموں کی عادات او رمقامی حالات کی بنا پر علما کو مذہب کی تعبیر اور تشریح کرنا پڑی ۔ آج کل عالم اسلام نئی نئی قوتوں سے دوچار ہے جو انسانی حالات کے غیر معمولی ترقی کے بنا پر سرگرم عمل ہیں ۔ اس حالات میں فقہ کی خاتمیت پر یقین رکھنا معقول بات نہیں ۔ کیا فقہی مذاہب کے بانیوں نے کبھی اپنے دلائل اور تعبیرات کو حرف آخر ماننے کا مطالبہ کہا؟ ہر گز نہیں ۔(14)

اقبال نے اپنے اشعار میں اجتہاد کے بارے میں کہا :

ہر نئی تعمیر کو لازم ہے تخریب تمام

ہے اسی میں مشکلات زندگانی کی کشود

آئین تو سے ڈرنا طرز کہن پراڑنا

 منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے

نہ کہیں لذت کردار نہ فکر عمیق

حلقہ شوق میں وہ جرات اندیشہ کہاں

 آہ محکومی و تقلید و زوال تحقیق

خود بدلتے نہیں قرآن  کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب

کہ سکھائی نہیں مومن کو غلامی کے طریق

حوالہ جات

1۔ محمد اقبال: تشکیل جدید صفحہ 229

2۔ پرویز: اقبال اور قرا۔ صفحہ 82

3۔ جاوید اقبال: خطبات اقبال صفحہ 204

4۔ شیخ عطا اللہ: مکاتیب اقبال صفحہ 524

5۔محمد اقبال: تشکیل جدید صفحہ 288

6۔محمد اقبال: تشکیل جدید صفحہ 255

7۔ محمد اقبال: تشکیل جدید صفحہ 176

8۔ محمد اقبال: اسلام کی تشکیل نو صفحہ 176

9۔ ایضاً

10۔ اے آر طارق: Speeches and Statements of Iqbal صفحہ 14

11۔ ایضاً صفحہ 228

12۔ اقبال کے نثری افکار صفحہ 236

13۔ شیخ عطا اللہ: اقبال نامہ صفحہ 98

14۔ محمد اقبال: تشکیل جدید

بشکریہ : اعتدال ، پاکستان

URL:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/importance-of-ijtihad-in-the-eyes-of-iqbal--اقبال-کی-نظر-میں-اجتہاد-کی-اہمیت/d/7231

 

Loading..

Loading..