New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 01:07 PM

Urdu Section ( 17 Jan 2018, NewAgeIslam.Com)

There is No Such a Wild Animal as We Are ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

 

 

 

امام سید ابن علی ڈیٹرائٹ امریکہ ، نیو ایج اسلام

وہ لوگ جو محب وطن پاکستانی دیار غیر میں رہتے ہیں اپنے وطن ملک عزیز ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کی دن بدن گرتی حالت کو دیکھ کر خون کے آنسو روتے ہیں۔ جس سے بھی بات ہوتی ہے جو پاکستان کے حالات سے پریشان نظر آتا ہے اور اپنی محفلوں میں، میٹنگز میں پاکستان کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ کیا صرف ’’تشویش‘‘ کے اظہار سے ہی حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ عملی قدم کیا اٹھایا جاتا ہے؟

میں کوئی سیاسی آدمی نہیں۔ البتہ اپنے و طن سے محبت ہے، اس کی ترقی کے لئے دعا کرتا ہوں اور بہت سارے ایسے ہیں جو ایسا کرتے ہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ نہیں۔ لیکن دعائیں کارگر نہیں ہوتیں جب تک وہاں کے لوگ اپنے خیالات کو نہ بدلیں۔ جب انسان اپنی سوچ میں تبدیلی لاتا ہے تب حالات بدلتے ہیں۔ آج صبح کی خبر نے تو دل ہی دہلا کر رکھ دیا۔ اگرچہ ایسی خبریں متعدد مرتبہ پہلے بھی آچکی تھیں اور ہر خبر پر ایسا ہی ہوتا ہے لیکن کیا کیا جا سکتا ہے۔ پہلے تو دیکھا کہ پاکستانی TV کا ہر چینل وہی خبر دے رہا ہے، جب بی بی سی اردو میں دیکھا تو ایک شہ سرخی نے میری نظر کو گرفت میں لے لیا۔ بی بی سی 10جنوری کی خبروں میں یہ خبر تھی کہ

’’ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں‘‘

’’دس جنوری کی صبح سوشل میڈیا پر مقبول ترین ٹرینڈ میں ایک کم سن بچی کی تصاویر گردش کرتی نظر آئی جن میں ایک طرف چمکدار ہری آنکھوں کے ساتھ مسکراتی ہوئی زینب ہے تو دوسرے میں کچرے کے ڈھیر میں پڑی اس کی بے جان لاش۔‘‘ خبر میں مزید لکھا ہے کہ ’’صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں 8سالہ بچی کے ریپ اور پھر قتل پر جہاں شہر بھر کے لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے وہیں ’’جسٹس فار زینب‘‘ کے نام کے ہیش ٹیگ بھی پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ ہے۔

اس خبر پر بہت سارے لوگوں نے مذمت اور غم و غصہ کا اظہار کیا ہے اور ایک ٹوئٹر صارف ریاض الحق نے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے ایک شعر کا انتخاب کیا ہے۔

ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں

ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

یہ سات سالہ بچی زینب جمعرات سے لاپتہ تھی اور ان کی جنسی زیادتی کا شکار لاش منگل کو کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔ اللہ تعالیٰ بچی اور اس کے والدین اور لواحقین پر رحم فرمائے۔ آمین

اب تک کی تحریر لکھنے تک آپ کو شاید احساس نہ ہو کہ میرے قلم نے کتنی مرتبہ یہ بات لکھنے ہی میں جنبش کھائی اور میرے دل کی کیا حالت ہے۔ اور یہی حالت میں سمجھتا ہوں ہر پڑھنے والے اور جسے جسے بھی اس خبر کا پتہ چلا ہوئی ہو گی۔

اس واقعے پر سب سے پہلے تو ہم انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہیں اور صبر کا دامن تھامے رکھنے کی ہی تلقین کرتے ہیں، اس کے بعد ہم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا یہ ایک ہی واقعہ ہوا ہے۔ یا اس سے قبل بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔ اور اس پر کیا قدم اٹھایا گیا؟ ایسے وحشی درندوں نے تو قبرستان میں عورت کی قبر اکھیڑ کر اس سے بھی زنا کر لیا تھا۔ معاذ اللہ ۔ معاذ اللہ

ایسے واقعات کی ہر جگہ، ہر ملک میں مذمت ہوتی ہے اور ہونی چاہئے لیکن اسمبلیوں میں بیٹھ کر، دھرنوں میں تقاریر کر کے ارباب حل و اقتدار کے گلے پھٹ جاتے ہیں کہ ہم ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ میں رہتے ہیں، اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، پاکستان کا مطلب لا الٰہ الا اللہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن کیا صرف ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھنے سے وہ اسلامی بن جائے گا۔ کیا پاسداران ختم نبوت کی مہر لگا کر ہی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ آخر ان امور کا ذمہ دار کون ہے ؟

چند دن ہی پہلے پاکستانی چینل پر ایک پروگرام سن رہا تھا جس میں پروگرام کرنے والی خاتون نے اپنے پینل کے مہمان سے سوال کیا کہ ملک میں مذہبی جماعتوں کا کیا کردار ہے۔ اور یہ لوگ سیاست میں کہاں تک حصہ لیتے اور اپنے منشور کے مطابق کام کرتے ہیں۔‘‘

جواب دینے والے نے کہا کہ میں تو انہیں مذہبی جماعتیں ہی نہیں سمجھتا نہ مانتا ہوں۔ اور نہ ان کا کوئی عمل مذہب سے مطابقت رکھتا ہے، مذہب تو اخلاق کا درس دیتا ہے اور جتنی بے راہ روی ان مذہبی جماعتوں سے سرزد ہوتی ہے کسی دوسرے سے اتنی نہیں ہوتی۔

پاکستان کے جو آجکل حالات ہیں ان حالات کا کون ذمہ دار ہے؟؟ کیا اس بات پر کبھی کسی نے غور کیا۔

’’جب پیاز اگانے والے کرسی پر جا بیٹھیں تو پیاز نے مہنگا ہونا ہی ہے۔‘‘ ریڈیو پاکستان لاہور سے پنجابی دربار ایک پروگرام چلتا تھا بڑا مقبول تھا اس میں کسی نے سوال کیا کہ آجکل ملک میں پیاز مہنگے ہوگئے ہیں، تو اس کا جواب دیا گیا کہ جب پیاز اگانے والے کرسیوں پر جا بیٹھیں تو پھر پیاز تو نہیں ملیں گے۔ یہ شاید کسی کے لئے تفنن طبع ہو، لیکن ہے حقیقت۔

جن لوگوں نے معاشرے میں اخلاق سکھانا تھا وہ سیاست میں چلے جائیں تو پھر اخلاق محمدی گم ہو جائیں گے۔ اندھیرے میں چلے جائیں گے، اخلاق محمدی اپنے عمل سے ظاہر کرنا ہوتے ہیں پھر ایسے اخلاق جب تقویٰ کی مشعل سے منور ہو جائیں تو دوسروں کو روشنی بخشتے ہیں۔ یہ پکی بات ہے اور جو اس کے برعکس ہو گا اس کا حال وہی ہو گا جو اس وقت وطن عزیز کا حال ہے۔

رسول خدا حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ نے آخری زمانے کے فتنوں میں سے ایک فتنہ انہی علماء کے بارے میں فرمایا ہے۔ حضرت خاتم الانبیاء کی ’’ختم نبوت‘‘ پر تو جاں دینے کو تیار ہیں لیکن خاتم النبیین کے اخلاق اپنانے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ کیوں ان احادیث کا چرچا نہیں کیا جاتا جو حضرت خاتم الانبیاء نے بیان فرمائی ہیں اور جن کی صداقت میں کوئی شبہ تک نہیں ہے۔ ان احادیث کا متن ببانگ دہل آنحضرت ﷺ کی صداقت کا اعلان کر رہی ہیں ۔

اسد الغابہ میں یہ حدیث حضرت ثعلبہ بہرانیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛

عنقریب دنیا سے علم چھین لیا جائے گا یہاں تک کہ علم و ہدایت اور عقل و فہم کی کوئی بات انہیں سجھائی نہ دے گی، صحابہؓ نے عرض کیا، حضور ؐ علم کس طرح ختم ہو جائے گا جب کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہم میں موجود ہے اور ہم اسے آگے اپنی اولادوں کو پڑھائیں گے، اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کیا تورات اور انجیل یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس موجود نہیں وہ انہیں کیا فائدہ پہنچا رہی ہے۔ (اسد الغابہ زیر لفظ ثعلبۃ البھرانی)

اس سے مراد ہمارے پیارے آقا آنحضرت ﷺ کی یہ ہے کہ ان کے پاس یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مذہبی جماعتوں اور عوام الناس اور پارلیمنٹ کے لوگوں کے پاس قرآن تو ہو گا مگر قرآن کی تعلیم سے وہ بے بہرہ ہوں گے بلکہ یوں کہنا چاہئے ان میں سے اکثر پارلیمنٹ ممبران تو ایسے بھی ہیں جنہیں سورۃ اخلاص، سورۃ کوثر اور دیگر چھوٹی چھوٹی سورتیں بھی صحیح طور پر پڑھنا نہیں آتیں۔ مگر یہ سب لوگ دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کون مسلمان ہے، کون نہیں، کون جنتی ہے، کون جہنمی ہے ۔ اگر ایک فرقہ کے لوگ کسی دوسرے فرقہ کے لوگوں کے پیچھے نماز جنازہ ہی پڑھ لیں تو ان سب کے نکاح ٹوٹ جاتے ہیں۔ ہندوستان کے ایک گاؤں میں ایسا ہی واقعہ ہوا ہے۔

یہ بھی بڑی ہنسی اور مضحکہ خیز بات ہے کہ جب ایک مسلک کے لوگوں کے خلاف کوئی واقعہ ہو جائے تو سب سے پہلے اس کے نزدیک دوسرے لوگوں کا (جو متاثر ہوتے ہیں) نکاح ٹوٹتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا اثر نکاح پر ہی ہوتا ہے۔ آدمی نے باہر کوئی غلط کام کیا گھر بیٹھی بیچاری عورت کو جسے علم بھی نہیں، اس کا بیٹھے بٹھائے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ علمی قابلیت ہے مذہب کے ٹھیکیداروں کی۔ تو بتائیں کہ کیا رسول اللہ کی اس حدیث کی صداقت میں جو اوپر بیان ہو چکی ہے کوئی شک رہ جاتا ہے۔

مشکوٰۃ کتاب العلم کی ایک حدیث بڑی مشہو رہے اور کئی مرتبہ بیان بھی ہو چکی ہے کہ ’’علماؤھم شر من تحت ادیم السماء‘‘ ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ کیا اس حدیث کی صداقت میں بھی کسی کو شک ہے۔ تمام فتنے انہی سے اس وقت وطن عزیز میں پھوٹ رہے ہیں۔

کنز العمال کی ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میری امت پر ایک زمانہ اضطراب اور انتشار کا آئے گا لوگ اپنے علماء کے پاس راہنمائی کی امید سے جائیں گے تو وہ انہیں بندروں اور سؤروں کی طرح پائیں گے۔ یعنی ان علماء کا اپنا کردار انتہائی خراب اور قابل شرم ہو گا۔

بخاری کتاب الاعتصام والسنہ میں یہ حدیث بھی آتی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

’’تم لوگ اپنے سے پہلی اقوام کے طور طریقوں کی اس طرح پیروی کرو گے کہ سر مو فرق نہ ہو گا۔۔۔ یہاں تک کہ اگر بالفرض وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی گوہ کے سوراخ میں داخل ہونے کی کوشش کرو گے ہم نے عرض کیا، حضور! آپ کی مراد یہود و نصاریٰ سے ہے آپ ﷺ نے فرمایا اور کس سے؟ یعنی مسلمان یہود و نصاریٰ کی طرح بے غیرت اور اخلاقی اقدار سے دور ہو جائیں گے۔‘‘ (ریاض الصالحین احادیث 912-13-14-17)

ان احادیث کے مضامین سے اب کون انکار کر سکتا ہے۔ ان مضامین کی پوری تصویر کی پاکستانی معاشرے میں جھلک نظر آرہی ہے۔ اور جو لوگ معصوم ہیں، جو ان باتوں کو کراہت سے دیکھتے ہیں وہ اپنے اندر گونگی شرافت رکھے ہوئے ہیں، یا پھر ان کی کوئی سنتا ہی نہیں ہے۔

مسلمانوں کی حالت اس وقت ناگفتہ بہ ہے۔ 50 سے زائد اسلامی ممالک ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن اعمال کے لحاظ سے ایسے ہیں کہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ قیامت کے دن ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ قیامت کے دن میرے کچھ لوگوں کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا تو میں کہوں گا یا اللہ یہ مسلمان تھے، میری امت میں سے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملے گا۔ اے محمد ؐ تمہیں نہیں معلوم انہوں نے تمہارے بعد دین میں کیا کیا بدعتیں داخل کر لیں تھی اور اپنا ہی ایک الگ دین بنا لیا تھا۔ پاکستان میں ایسے لوگوں کی بہتات ہے۔ کاش میں اس مضمون کے ساتھ وہ ساری ویڈیو کلپ دے سکتا جو مجھے ملی ہیں۔

ایک ویڈیو میں ایک جگہ جلسہ ہورہا ہے اور داڑھی والے لوگ جنہوں نے سر پر پگڑیاں باندھی ہوئی ہیں سفید قمیص و شلوار میں ملبوس خیموں کے بانسوں پر اس طرح پھدکتے پھر رہے ہیں جیسا کہ بندر ایک درخت سے دوسرے درخت پر اور وہ اس حال میں مست ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ کچھ لوگ تقریر سن رہے ہیں اور کچھ بندروں کی طرح ٹینٹ کے بانسوں پر چڑھ رہے ہیں اتر رہے ہیں چھلانگیں لگا رہے ہیں۔ العیاذ باللہ۔

ایک اور ویڈیو کلپ میں ایک عرب مسلمان کو دکھایا گیا ہے جو مسلمانوں کی بدعتوں کے بارے میں بتا کر تصاویر دکھا رہا ہے جن میں ایک عرس کے موقع پر قران کی تلاوت کی جارہی ہے۔ اور پیسے نچھاور کئے جار ہے ہیں۔ گویا پیسوں کے لئے قرآن پڑھا جا رہا ہے۔ اس میں پھر دکھایا کہ ایک مزار کے اردگرد لوگ اس طرح ہی چکر لگا رہے ہیں جس طرح خانہ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے یہ ایک اور جگہ ایک مسجد میں مسلمان اکٹھے ہو کر بندروں کی طرح اچھل رہے ہیں، ڈانس کر رہے ہیں اور یہ ان کی عبادت ہے، پھر ایک اور مسجد میں ایک مولوی سفید کپڑوں میں اچھل رہا ہے جبکہ دوسرے لوگ اس کے اردگرد گھیرا بنا کر کھڑے ہیں، ایک اور جگہ مردہ کی قبر پر دعائیں مانگ رہے ہیں ایک اور جگہ لوگ ایک شخص کو سجدہ کر رہے ہیں اور میوزک چل رہا ہے۔

کیا یہ اسلام ہے؟ یا اسلام کی وہ تصویر پیش کی جارہی ہے جو آنحضرت ﷺ نے اپنے عمل سے پیش کی تھی۔ دل یہی کہے گا کہ ہرگز نہیں۔ نعوذ باللہ من ذلک

پس جن کی ذمہ داری تھی، انہوں نے ذمہ داری ادا نہیں کی۔ اور وہ خدا کے حضور جواب دہ ہوں گے۔

آخری بات کہہ کر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں جو کم سن زینب کے ساتھ ریپ اور اس کی لاش کو مسخ کر کے پھینک دیا گیا تھا شروع کی تھی کہ ’’لوگوں میں خوفِ خدا نہیں رہا‘‘ جب خدا کا خوف دل سے نکل جائے تو دل سخت ہو جاتے ہیں، پھر ان کا ہر عمل فسق و فجور کی انتہاء کو پہنچ جاتا ہے۔ پس آپ کچھ کر لیں۔ جب تک دلوں میں خوف خدا نہ ہو گا پاکستان کی نہ ہی تقدیر بدلی جا سکتی ہے اور نہ ہی حالات!

پاکستان میں اگر کچھ فکر ہے تو سیاسی لوگوں کو اپنی کرسی بچانے کی، مذہبی لوگوں کو ختم نبوت کی حفاظت کی اور ان کاموں کی حفاظت کے لئے کرپشن، جھوٹ، بے ایمانی، دھوکہ بازی، ملاوٹ، بے غیرتی، بے حیائی، لوٹ کھسوٹ، چوربازاری کر کے حفاظت کی جارہی ہے۔ آج اگر پاکستان کے حالت بدلنے ہیں تو مذہبی لوگوں کو سیاسی کرسیوں سے الگ کر دیں یا مولویت کو ختم کر کے ہی ایسا ہو سکتا ہے، جن سیاسی لیڈروں پر ان کا غلبہ ہو گا وہاں کسی کی کچھ پیش نہ جائے گی۔ اور یہ لوگ ایسی درندگی اور وحشت میں مزید بڑھیں گے اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ واحد علاج خدا کا خوف اور حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی تعلیمات پر عمل ہے ۔ اگر یہ نہیں تو صرف نام کا اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھنے سے کچھ نہ ہو گا۔ حالات کی تبدیلی ایسے نہیں آئے گی۔ یہ خدا کا ’’مسیحا‘‘ ہی تبدیلی لا سکتا ہے اور جب تک اس کی طرف توجہ نہ ہو گی ہر بات الٹا ہی نتیجہ پیدا کرے گی۔ آپؑ نے فرمایا:

صدق سے آؤ میری طرف اسی میں خیر ہے

ہیں درندے ہر طرف میں ہوں عافیت کا حصار

(درثمین)

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..