New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 07:45 AM

Urdu Section ( 9 Jun 2013, NewAgeIslam.Com)

Religious Tolerance and the Power of Words مذہبی رواداری اور الفاظ کی طاقت

 

امام جوہری عبدالملک

18 نومبر، 2011

لاٹھی اور پتھر آپ کی ہڈیوں کو توڑ سکتے ہیں  لیکن الفاظ کبھی بھی آپ کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ کتنی  معمولی بات ہے! الفاظ میں زیادہ طاقت ہے۔ الفاظ ہماری دنیا اور ہمارے نظریہ کا احاطہ کرتے ہیں۔ وہ متحد یا تقسیم کر سکتے ہیں۔ وہ تکلیف یا آرام پہنچا  سکتے ہیں ۔

بائبل (جان 1:1) میں مذکور ہے " آغاز میں لفظ تھا" اور قرآن سکھاتا ہے کہ ہر چیز لفظ کے ساتھ ہی وجود میں آئی ہے۔

عرب اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے بہت سارے ممبران کے ساتھ، فالس چرچ کی مسجد ملک میں سب سے بڑی ہے ۔ وہ  تنازعات اور سوالات کے سامنے سینہ سپر ہے، جس کی  تجدید  انورالاولقی کی ڈرون حملے میں  قتل کے ذریعہ ہوئی وہ  وہاں کا ایک سابق امام تھا  جو انتہا پسند اور  امریکہ مخالف ہو گیا تھا۔

میٹروپولیٹن واشنگٹن، کے انٹر فیتھ کانفرنس  (IFC) بورڈ کے  ممبر کی حیثیت سے میں نے  بہت سے بین المذاہب اجتماعات میں شرکت کی ہے ۔ اللہ (خدا) نے، اسرائیل کے بچوں، عیسی علیہ السلام کے پیروکاروں اور مریم کے بیٹے کے حوالے سے،  قرآن میں اہل کتاب جیسی ایک معزز اصطلاح استعمال کی ہے ۔ لیکن، اکثر میں نے سنا ہے لوگ  خود کے حوالے سے ،خود کو "غیر مسلم" "غیر عیسائی " یا "غیر یہودی " کہتے ہیں ۔ یہ ان لوگوں کی تعریفیں ہیں جو " نہیں ہیں" ۔ اگر میں ایک دعوت طعام میں شرکت کروں اور میزبان مجھے اپنے " غیر سفید دوست " کے طور پر متعارف کرائے، مجھے  نہیں لگتا ہے کہ میں مصافحہ کرنے کے لئے وہاں زیادہ دیر تک رہ پاؤں گا۔ میں  کچھ اس سطح پر ہوں گا  جو میلکم ایکس نے ایک بار کہا ،‘‘ مجھے‘ ایک لفظ’ سے بلایا میں نے اتنا سوچا کہ یہ میرا نام ہے"۔

کچھ ایسے لوگ ہیں  جو دنیا کو مسلم دنیا اور مغرب دنیا میں تقسیم کرتے ہیں۔ "دار الاسلام" یا ‘‘دارالسلام’’ اسلام کی زمین - امن کی زمین بمقابلہ دارالحرب  جنگ کی زمین ،یا اسی طرح دارالایمان - ایمان کی زمین بمقابلہ دارالکفر  خدا پر ایمان نہ رکھنےکی زمین ۔ ڈیئر بورن مشی گن، کہاں موزوں ہوتا ہے؟

615 CE کا وہ زمانہ یاد کریں  نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مظلوم پیروکاروں سے کہا، ‘  حبشہ (ایتھوپیا) جائیں ، وہاں آپ کو ایک عیسائی بادشاہ ملے گا  جو منصف ہے’۔ قرآن نے انکشاف کیا ہے کہ پوری دنیا نماز کی ایک جگہ ہے ۔ بہت سے امریکی مسلمانوں نے امریکہ کا راستہ دیکھا، جیسا کہ  مکہ سے ابتدائی مسلمان مہاجرین نے ایتھوپیا کا راستہ دیکھا تھا ۔

میں نے سفارش کی ہے کہ ہم ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جس سے  کہ ایک دوسرے کا احترام ظاہر ہوتا ہے ۔ اگر آپ عیسائیوں، کیتھولک یا یہودیوں سے براہ راست بات کر رہے ہیں تو ایسا کہیں یایہ کہیں، 'ہندو ، بدھ، جین، سکھ، ملحد، لاادری،موحد معتقد نجات کل یا  بہائی  وغیرہ ۔

ہم، ایمان والے، دیگر عقائد کے لوگ ، دوسری روایات کے لوگ، با شعور  لوگ، با یقین  یا خیر سگالی کے لوگ، جیسے دوسرے الفاظ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن براہ مہربانی "غیر ۔۔۔۔۔۔۔۔"  کا نہیں ۔

اس  سے زیادہ ہمیشہ ہمیں وہ الفاظ بولنے کی  ضرورت پڑتی ہے جو کہ متحد کرتے ہیں ۔ ہماری قوم کی عظمت وہ  ہے جو کہ ہم نے "بہت سے عقائد اور یقین کے لوگوں " کے لئے ہم نے بنائی ہے،ابھی بھی ہم لوگوں کو اجتماعی بھلائی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے طور دیکھ سکتے ہیں ۔ چلیں ہم ایک دوسرے کو ان کے  بہترین ناموں سے یاد کریں، ایسے نام جو ہمارے مثبت خود خیالی کی توثیق کرتے ہیں، ایسے الفاظ بولیں جو ہمیں  متحد کرتے ہیں ، اس کے علاوہ  ہمارے تنوع کا احترام کریں ۔

امام جوہری عبدالمالک، فالس چرچ، ورجینیامیں آؤٹ ریچ فار دی دارالہجرۃ  مسجد کے ڈائریکٹر ہیں

ماخذ: واشنگٹن پوسٹ

URL for English article:

http://www.newageislam.com/interfaith-dialogue/religious-tolerance-and-the-power-of-words/d/5942

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/imam-johari-abdul-malik-امام-جوہری-عبدالملک/religious-tolerance-and-the-power-of-words--مذہبی-رواداری-اور-الفاظ-کی-طاقت/d/11981

 

Loading..

Loading..