New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 11:47 AM

Urdu Section ( 15 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Who Bothers, Everything is Just OK کون پوچھتا ہے ، یہاں سب چلتا ہے

 

 

 

امیر حسین فرہاد

ابن انشاء کہتے تھے کہ کسی ملک کو اگر دیکھنا ہو تو ان کی سبزی منڈی جاکر دیکھ لو۔ کہا میں  چین میں سبزی منڈی گیا تو میں نے دیکھا کہ پاک صاف لباس میں پاک صاف عورتیں سیمنٹ کے پتھڑوں پر بیٹھی  سبزی فروخت کررہی ہیں ۔ ہر چیز ڈھلی ہوئی، فرش پر کہیں ایک پیلا پتا یا سڑا گلا ٹماٹر نظر نہیں آیا، اس کےلئے ڈرم رکھے ہیں وہ ان میں ڈالتے  ہیں۔ سبزی ایسی کہ گویا مفت بک رہی ہے۔ دراصل چین میں تیسرا ہاتھ نہیں ہے انہوں نے تیسرا ہاتھ (آڑھتی)  کا کاٹ دیا ہے ۔ عورتیں ڈائریکٹ کھیت سے گدھا گاڑی میں دھلی دھلائی سبزیاں لاتی ہیں ۔ ٹائل لگے پتھڑوں  پر سجا کر بیچتی  ہیں اور چلتی بنتی ہیں۔

ایک کراچی کے سبزی منڈی  تھی جس میں کوئی شریف آدمی چل نہیں سکتا تھا، پیروں  کے نیچے گلے سڑے ٹماٹر آلو پیاز آتے تو ان کی دھار سے ساری پتلون کا ستیاناس ہوجاتا تھا ۔ کئی سال  ہوئے کراچی  سبزی منڈی پیر کالونی  سے شفٹ ہوگئی ہے اور حکومت  نے سبزی منڈی  کی جگہ ایک خوبصورت ( عسکری پارک) بنادیا ہے۔ ، مگر پیاز   آلو ٹماٹر کی بدبو وہاں سے اب تک نہیں گئی۔

برنارڈ شانے بالکل سچ کہا تھا کہ قانون تار عنکبوت (مکڑی کا جالا ) ہے۔ جس میں مکھی مچھر جھینگر وغیرہ پھنس کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتےہیں اور چھپکلی چوہا وغیرہ  جال کو توڑ کر نکل جاتے ہیں ۔ قانون کے جال میں بھی سوسائٹی کے ہلکے خفیف افراد پھنس جاتے ہیں ، اور بھاری شخصیات  نکل جاتی ہے۔ وہ قانون  خرید بھی سکتے ہیں اگر کبھی اتفاقاً پھنس بھی جائیں تو ملک کے مایہ ناز وکلاء کی فوج ان کے بچاؤ کے لئے میدان  میں آجاتی ہے۔ اگر بیمار ہوجائیں تو یوکے اور امریکہ جاکر موت کو شکست دے دیتے ہیں ۔ وہ بھی اپنے پیسے  سےنہیں حکومت  کے خزانے سے ۔ جب  ملک کے بڑے علاج باہر کراتے ہیں ، جب بڑوں  کی اولاد باہر تعلیم حاصل کرتی ہے ۔ تو تعلیم اور علاج معالجے پر توجہ کون دے؟ کیوں دے؟ ۔ جس کوئیں  کاپانی  نہیں پینا ہے اس کی صفائی پر توجہ  دینا بے کار عمل ہے۔

پاکستان میں تین مرحلوں میں سوچنے  سے دل ڈوب جاتا ہے۔ دلیر آدمی  بھی قدم  نہیں بڑھاتا ، ہر آدمی اس سے اجتناب  کرتاہے

(1) سرکاری اسکول میں بچوں کو داخل کرانا ۔

(2) سرکاری ہسپتال سے علاج کروانا۔

(3) چوری، ڈاکے یا ریپ کی رپورٹ تھانے میں درج کرانا ۔

ہمارا گاؤں پاکستان بھر میں ایک مثالی گاؤں ہے۔ اس پر ڈاکو کومنٹری  فلم بھی بنی ہے۔وہاں ایک بار سرکاری اسکول جانا پڑا۔ باہر آواز آرہی تھی سر اجدین استاد بچوں کو پڑھا رہے تھے ۔ محمد بن قاسم کو دیکھ کر راجہ داہر کے حوصلے پست ہوگئے ۔ بچوں نے دہرایا حوصلے پست ہوگئے پھر پشتو میں سمجھایا محمد بن قاسم کو دیکھ کر راجہ داہر کے اسلحے پست ہوگئے ۔ پھر کہا محمد بن قاسم  نے راجہ داہر کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔ بچوں نے دہرایا، ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔ پھر پشتو میں ترجمہ سمجھا رہے تھے ۔ محمد بن قاسم نے راجہ داہر  کے رہڑ کا دُھرا توڑ دیا۔ بچوں نے یہ سبق  بھی دہرایا ۔ اندر جاکر میں نے سر اجدین سے پوچھا  کہ یہ تم کیا پڑھا رہے تھے؟ یہ راجہ داہر کے رہڑے کا دھرا کہا ں سے آیا ؟۔

کہا فرہاد بھائی ہم نے جیسے پڑھا ہے ویسے ہی تو پڑھا رہاہوں ۔ وہی تو ان کو منتقل کررہا ہوں ۔میں نے کہا یا ر یہ ظلم  نہیں کہ ماں باپ نے ان بچوں کو حصول تعلیم کے لئے بھیجا ہے اور آپ نے ایک سے میرے لئے کرسی منگائی دوسرے کو چائے کے لئے بھیجا؟ کہا فرہاد بھائی آپ کو کیا پتہ یہ وہاں گھر میں ماں باپ کو چین لینے نہیں دیتے ، وہ ان سے تنگ آئے ہوئے  ہوتے ہیں، وہ اپنی جان چھڑانے کے لئے انہیں ہمارے پاس  بھیج دیتے ہیں، کہ یہ تعلیم حاصل  کریں یا نہ کریں ۔ ہمارا یہ احسان کیا کم ہے کہ ہم نے انہیں چھ گھنٹے ڈھک کر ان کےماں باپ کو سکون و آرام پہنچایا ہے۔ اتنے میں ایک لڑکا آیا ۔ استاد  کو درانتی  پکڑائی کہا آپ کی بھینس کو چارا ڈال آیا ہوں ۔ استاد نے کہا شاباش  ۔ یہ ہے ہونہار شاگرد۔

میں  اس لڑکے منّور کے والدین کے پاس گیا، میں نے کہا آپ اپنےبچے سے پوچھتے ہیں کہ اس نے اسکول میں کیا کام کیا ؟  ، اس کے استاد سے دریافت کرتے ہیں کہ اُس نے اِسے کیا پڑھایا ہے؟ وغیرہ وغیرہ ۔ کہا بھائی صاحب آپ  کو کیا پتہ یہ کیسا شریر ہے لڑکوں کو مارتا پیٹتا ہے ۔ کسی کا سر پھوڑتا ہے کسی کے کپڑے پھاڑتا ہے روزانہ میرے لئے ایک نئی مصیبت  پیدا کرتاہے ۔ چند گھنٹے اسکول میں رہتا ہے تو مجھے سکون ملتا ہے ۔ پڑھے نہ پڑھے مجھے کیا ۔ بڑے ہوکر تو اِس نے کھیتوں  میں باپ کا ہاتھ ہی بٹانا ہے۔ کوئی افسر  تو نہیں بننا ہے۔ واضح  رہے کہ نصیر اللہ بابر صاحب کاتعلق بھی اسی گاؤں ( پیر پیائی) سے  تھا ۔

یہ ایک مثالی گاؤں کی تصویر ہے ۔ غیر مثالی گاؤں  کس طرح ہوں گے؟ آپ خود اندازہ لگائیں ۔ دو تین استاد روزانہ غائب ہوتے ہیں ۔ میں نے ہیڈ ماسٹر سے پوچھا آپ کیسے برداشت کر لیتے ہیں؟کہا فرہاد صاحب میں بھی تو بندہ بشر ہوں میرے بھی پچاسوں کام ہوتے ہیں میں بھی دو تین دن ہفتے میں غائب رہتا ہوں ا س لئے ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتا ۔ پھر ایک ہی گاؤں  کے ہیں ۔ بھائی بندی ہے، میں بھی ریٹائر ہوکر کھیتی باڑی  کروں گا بچوں نے بھی یہاں سے نکل کر کھیتی باڑی  کرنی ہے او رکھیتی  باڑی  کے لئےتعلیم ضروری نہیں ہے۔ بس اللہ کا فضل ہے دوسرے سے خط لکھوانے کی زحمت سے بچ گئے ہیں خود لکھتے ہیں ، اب تو اس کی بھی ضرورت نہیں  رہی موبائل  ہر ایک کے پاس موجود ہے۔

میں نے پوچھا میاں گل  صاحب ڈائریکٹر وغیرہ  یہاں کا دورہ نہیں کرتے؟۔ کہا اس صوبے میں یہ مصیبت  ہے کہ گرمی بہت ہے اور سردیوں  میں سردی بہت  ہوتی ہے۔ اس لئے وہ  لوگ اپنے دفتروں سے کم نکلتے ہیں حالانکہ  محکمے  کی طرف سے گاڑیاں ہر ایک کو ملی ہیں ۔ یہاں ایک ہی کاروبار زوروں پر چلتا ہے  ۔ استاد وں  او رکلرکوں  کے تبادلے ۔ اس سے کیا ہوتاہے میں نے پوچھا؟۔

پھر لوگ پریشان ہوتے ہیں صبح  پانچ بجے گھر سے چلتے ہیں دو بسیں بدل کر او رپیدل پہاڑی راستہ طے کر کے کام پر پہنچتے ہیں پھر بھی لیٹ ہوتے ہیں۔ واپس اپنی جگہ  تبدیلی کا رٹ دس پندرہ ہزار روپیہ ہے یہ ہر ٹیچر  کو دینا پڑتاہے چاہے مرد  ہو یا عورت۔ اور آپ یقین نہیں کریں گے کہ محکمہ تعلیم کے بابو لوگ  اور افسران خواتین  اساتذہ کی تنخواہوں پر پل رہے ہیں۔ بہت  سی خواتین تو کا م چھوڑ دیتی ہیں کیونکہ رشوت کے پیسے دے نہیں سکتیں اور دور دراز  سنسان  کچے راستوں پر تنہا آنے جانے  میں وہ عزت جسے محفوظ رکھنے کے لئے وہ ملازمت کرتی ہیں وہ  محفوظ نہیں رہتی ۔ اور پشتو ن لڑکی  کے لئے یہ ایک ہی دروازہ کھلا ہے یعنی تدریس کا۔ یہاں یہ سہولت  ہے کہ رشوت کو رشوت ہی کہتے ہیں سنا تھا کراچی  میں تو اس کا نام بدل دیا ہے وہاں ڈونیشن کہتے ہیں ، اس کے بغیر داخلہ کالج اور یونیور سٹی میں ناممکن ہے؟۔

ہاں مگر تمہارا زخم دیکھ کر اپنا زخم تو خراش معلوم ہوتا ہے۔ مجھے انداز ہ ہوا کہ سرکاری تعلیم پر حکومت بے کار پیسہ ضائع کررہی ہے ۔ اس کا حاصل کچھ نہیں ہے۔ اگر یہ ختم کردیا جائے تو حکومت کو بہت فائدہ ہوگا۔ جو تعلیم کے مد میں امداد ملتی ہے وہ بند ہوجائے گی اسی گاؤں میں سرکاری ہسپتال ہے جس میں  آٹھ ڈاکٹر ہیں  دو تین ڈاکٹر ہمیشہ غائب رہتے ہیں ان کے خلاف رپورٹ درج نہیں ہو سکتی کیونکہ کوئی کسی اسمبلی ممبر کا بیٹا ہے کوئی کسی وزیر کا سالا  بہنوئی  ہے۔ مریض کو رنگین پانی دیتے ہیں  جس سے کوئی بیمار  شفایاب  نہیں ہوتا، دوائیاں  تو ہسپتال میں ہوتی نہیں ۔ بڑے ہسپتال صوبہ میں دو ہیں۔ لیڈی ریڈنگ اور شیر پاؤ ۔ جو لوگ اپنے کسی  بوڑھے والدین سے تنگ آجاتے ہیں وہ اُسے وہاں داخل  کرا دیتے ہیں پھر جلدی جلدی کفن دفن کا انتظام بھی کرلیتے ہیں ۔ کیونکہ  وہاں سے پھر اُس کی لاش ہی آتی دیکھی ہے۔ اپنے پیروں پر کم ہی کوئی آتا دیکھا ہے۔

گاؤں والے ہسپتال ایک بار جانا ہوا دیکھاکہ ہمیش گل ڈینٹسٹ  کی کرسی پر بیٹھا تھا یہ پہلے  ٹھیلے پر سبزی بیچا کرتا تھا ۔ میں نے پوچھا یہاں کیا کررہے ہو؟ ڈاکٹر مارے گا مریضوں  کی کرسی پر بیٹھ جا۔ کہا میں ہی ڈاکٹر ہوں ، اصلی ڈاکٹر تو اپنے مطب نو شہرہ میں ہوتاہے کبھی کبھی آتا ہے مجھے یہ کام  سکھا گیا ہے یہ افغانی کیمپ والے مرد عورتیں  آتی ہیں انہی  پر سیکھ گیا ہوں دانت نکالنا کئی کیس خراب بھی ہوتے ہیں مگر یہ اچھے  لوگ ہیں کہتے ہیں یہ اللہ کو منظور ہوگا بیٹے تم نے تو اپنی کوشش کی تھی ۔

میں نے پولیس کے آئی جی صاحب ( یوسف خان) سے ملاقات  کی تھی ۔ میں نے کہا کہ کیا آپ نے اس بات پر غور کیا کہ کوئی پولیس والا اگر مارا جاتاہے۔ ایکسیڈنٹ میں ، یا ڈاکوؤں لیٹروں کے ہاتھوں، اور اس کی لاش  سڑک یا میدان میں پڑی ہو تو اس پر کوئی آنسو  نہیں بہاتا ، ماسوائے  اس کے اہل خانہ  کے ۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ حالانکہ کسی عام آدمی کی لاش کو دیکھ کر دیکھنے والوں کی آنکھیں پرُ نم ہوجاتی ہے ۔ پولیس والا بھی انسان ہے اس کے بھی بیوی  بچے ، بہن بھائی ماں باپ منتظر ہوں گے ، مگر وہ اب ہیڈ کوآفس میں ، کسی تھانے میں، کسی گلی کسی روڈ ناکے پرکہیں نظر نہیں آئے گا، منوں مٹی کے نیچے جا سوئے گا۔ یہ افسوسناک بات نہیں؟ ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ عوام میں سے کسی کے دل میں اس کے لئے ہمدردی  نہیں ہوتی؟ ۔ بلکہ اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ چلو ایک موذی تو کم ہوا۔ اگر کسی فلم میں کسی پولیس والے کو مار پڑتی ہے تو دیکھنے والے کہتےہیں کہ اور مارو حرام خور کو۔ ایسا کیوں ہے؟ آئی جی صاحب! کیا آپ پولیس کے لئے عوام کے دلوں سے یہ نفرت ختم کرکے ہمدردی پیدا کرسکتے ہیں ؟۔

آئی جی  نےکہا میری  سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کس  طرح ہوگا ۔؟ آپ بتائیں۔ میں نے کہا چونکہ اسکارٹ لینڈ یا رڈ تک کا چکر لگا چکا ہوں ، 18 سال  میری فارن  پولیس  کی سروس ہے۔ وہاں اگر کوئی پولیس میں بھرتی  کی خواہش رکھتاہے تو وہ کہتاہے میں پولیس سروس میں آنا چاہتاہوں ۔ یہاں اگر کوئی پولیس میں بھرتی ہونے کی خواہش رکھتا ہے تو کہتا ہے میں پولیس فورس میں آناچاہتا ہوں ۔ بس ان دو لفظوں میں سب کچھ پوشیدہ  ہے۔ سروس  ۔ یعنی خدمت۔ فورس یعنی  طاقت ۔ اگر پولیس نے سروس کی راہ اختیار کی تو عوام کے دلوں میں ہمدردی کا دریا موجزن  دیکھیں گے۔ اور اگر  فورس کی راہ اپنالی تو نفرت  اور بڑھتی جائے گی ۔

 عوام چاہتی ہے کہ ہم کچھ بھی کریں،  ہماری پولیس مکےمدینے  جیسی ہونی چاہئے ۔ جیسا دودھ ہوگا ویسی  ہی دہی بنے گی ۔ ہماری  پولیس  ہم سے بنی ہے ظاہر ہے ہم جیسی ہوگی ۔ ذاتی فائدے  کے لئے ہم سب کچھ کر لیتےہیں ۔ کوئی موقع  جانے نہیں دیتے ۔ پولیس کیوں موقع ضائع کرے ۔ لہٰذا مردہ خانے سے بیٹے  کی لاش بھی بغیر رشوت دیئے نہیں  ملتی۔

ٹی وی نے کئی بار بتایا کہ کراچی میں جگہ جگہ غیر قانونی مذبحہ خانے کھلے ہیں۔ بیمار جانور ذبح کئے جاتے ہیں ڈاکٹر رشوت لے کر گوشت  پرمہر لگا دیتےہیں وغیرہ وغیرہ ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ تو پاکستان میں جگہ جگہ ہورہا ہے، لیکن معمولی فرق کے ساتھ ۔ مثلاً صوبہ خیبر  پختونخواہ میں دیہاتوں سے لے کر شہروں تک یہی کچھ  ہورہا ہے ۔ صرف چھاؤنی  کی مارکیٹ میں مہر لگانے کا رواج ہے۔ لیکن  اس طرح کے ہر قصائی کے پاس مہر ہوتی ہے۔رانیں لٹکانے کے بعد قصائی اُن پر جگہ جگہ مہر لگا دیتا ہے یہ مہر ڈاکٹر نے دی ہے اور ہمیں ہدایت کی ہے کہ دیکھ بھال کر لگانا۔ ڈاکٹر  کابیان ہے کہ یہ ان حرامخوروں نے خود بنوائی  ہوگی ۔ کسی دوسرے ملک  میں کسی ادارے  کی مہر بنوانے کے لئے اتھارٹی لیٹر لے جانا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہی قانون ہے ، مگر تیس روپے زیادہ  دو تو جہاں سے جی  چاہے جیسی چاہے مہر بنوالو۔ اتھارٹی لیٹر کی کوئی ضرورت نہیں ۔

قطر کی بات ہے کہ رسم خان نے گلاب خان سے کہا کہ جعلی  ڈرائیونگ لائسنس تو میں نے بنوالیا ، اب مہر کی کسر رہ گئی حیران ہوں کہ مہر کا کیا کروں ؟ گلاب خان نے کہا کہ یہ کونسی مشکل بات ہے وہ سامنے نوکری میں سے ایک آلو اور چھری دینا ۔ اس نے دونوں چیزیں پکڑائیں ۔ گلاب خان نے آلو کو کاٹا پھر چھری کی نوک سے گولائی  میں کٹے ہوئے آلو پر نشانات لگائے ۔ کہا اب  ٹھیک ہے ۔ اس نے  پہلے آلو سےکاغذ پر مہر لگائی ، پھر جعلی  لائسنس پرلگائی، کہا اب ٹھیک ہے ۔ بالکل اپنے وطن کی سرکاری مہر بن گئی ۔ کمال کی بات یہ ہے کہ رستم خان کو آلو والی مہر  کے استبدال  میں لائسنس مل گیا۔ ا س کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کی اکثر مہریں پڑھی نہیں جاتیں ۔ انداز ے لگانے پڑتےہیں  کہ یہ مہر ہوگی۔

کویت  میں ہماری کمپنی کے مصری چوکیدار سے اس کے چچازاد نے پاسپورٹ مانگا  کہا وطن جاناپڑگیا مگر میرا پاسپورٹ اقامہ کے لئے گیا ہے۔ اپنا پاسپورٹ چار پانچ  دن کے لئے دے دینا۔ اس نے دے دیا مصری نے اپنے چچازاد کے فوٹو پر اپنا فوٹو چسپا ں کرلیا، اُسے خروج میں امیگریشن والوں  نے پکڑ لیا ، ہمارا چوکیدار بھی گرفت میں آیا کیونکہ  پاسپورٹ اس کا تھا ۔

میں کمپنی  کا  مندوب تھا اسے چھڑا نے گیا تو امیگریشن آفیسر  اُسے کہہ رہا تھا ۔ اخرب بیتک یا حمار واحد اذاترید تعمل ھذا تزویر کان اعطیت الجواز الیٰ احد البا کستانی ۔ تیرا خانہ خراب ہو، اے گدھے ، اگر تونے یہ حماقت کرنی تھی تو کسی پاکستانی کی خدمات لی ہوتی۔ یہ  ہے بیرونی  ممالک میں ہماری پہچان ۔

اس موضوع  پر بہت کچھ لکھنے کو دل چاہتا  ہے ۔ مگر ڈر یہ ہے کہ جو لوگ وطن سےباہر  گئے ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کےدل میں  وطن  کی یاد دریا کی موج کی طرف اٹھتی ہے اور وہ واپس آنے کے لئے پر تولتے  ہیں کہیں  وہ ارادہ بدل کروہیں کے ہونہ جائیں ۔ مجھے ایک بد بخت (سرفراز خان) نے دھوکہ دیا تھا، کہا آپ واپس آجائیں، اب حالات  پہلے جیسے نہیں ہیں، سوناہوا میں اچھالتےہوئے بازار میں سے گزریئے کوئی پوچھتا تک نہیں ۔ اگر سونا گر پڑے تو ہفتہ تک وہیں پڑا رہے گا۔ لوگ دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز پڑھنے جاتے ہیں، سونے سےلدی ہوئی عورت  پشاور  سے کراچی تک جائے تو کوئی خطرہ نہیں ۔

افسو س میں آیا تو پتہ چلا کہ سب جھوٹ ہے ۔ یہاں  تو منہ میں سونے  کاذانت  نہیں چھوڑتے ، سونے سےلدی ہوئی عورت چھوڑ کتابوں  کےساتھ کوئی لڑکی اسکول کالج تک نہیں جاسکتی ، دکانیں کھلی چھوڑ کر نماز  کا تصور  کتنا بڑا جھوٹ اور فریب ...... یہاں ہر دکان کے آگے اسلحہ سے لیس باوردی سیکیوریٹی گارڈ بیٹھا ہوتا ہے اور دکان  پھر بھی لٹ جاتی  ہے۔ ہر گلی میں دوباوردی گارڈ ڈیوٹی  دے رہے ہوتے ہیں۔ یومیہ نوسو، ہزار موبائل فون چھینے جاتے ہیں لاتعداد موٹر سائیکلیں او رموٹریں چھینی جاتی ہیں ۔ نقدی اور زیورات  سے لوگوں  کو محروم ہونا پڑتا ہے ۔ کتنا بڑا دھوکا دیا خانہ خراب سرپھرازخان  نے ۔ میں پستول لے کر اُس دھوکے باز کو ڈھونڈتا رہا مگرپتہ چلا کہ وہ دبئی  گیا ہے۔

کس خرابی یا مرض کا علاج نہیں ہے ؟ علاج ہے اگر حکومت ہر شہری کو اپنی حفاظت کےلئے اسلحہ  رکھنے کی اجازت دے دے۔ جہاں بس لوٹنے  والوں میں سے ایک دو کو مار گرایا جائے تو سب درست ہوجائے گا۔ مگر یہاں قانون ہے کہ ڈاکو بیچارے کو کیوں مارا، پستول لائسنس  والا ہے یا بغیر لائسنس ، اگر لائسنس والا ہے تو باہر کیسے  لائے؟ ۔ اسلحے کی نمائش قانوناً  جرم ہے۔ اسےکہتے ہیں  پتھروں  کو باندھ کر رکھنا اور کتّوں کو کھلا چھوڑ نا۔ ڈاکو، لُٹیرے کو مارنے پر حکومت کو انعام دینا چاہئے۔

اور لوڈنگ او ر دھواں دینے والی گاڑیاں چلانا قانوناً جرم ہے۔ مگر حالت  یہ ہے کہ کراچی  کی جس بس  کو دیکھو تو چھت پر، پیچھے کی طرف، دائیں بائیں، پائیدان  پر آدمی اس طرح لٹکے اور چپکے ہوئے ہوتے ہیں جیسے  گڑکی ڈلّی پرمکھیاں بیٹھی ہوتی ہیں ۔ یہ حالت 1952 سے ہے جب کراچی  کی آبادی ندی کے پار نہیں  تھی ، آج تک سر موفرق نہیں آیا ۔ جو تبدیلی  لاسکتے ہیں  ، وہ اور ان کے خاندان والے بسوں  میں سفر نہیں کرتے، ان کی اولاد کے پاس بھی گاڑیاں ہوتی ہیں ۔ اور جو بسوں میں پھرتے  ہیں، گرتے ہیں، مرتے ہیں اُن بے چاروں کے ہاتھ میں تبدیلی کی چابی  نہیں ہوتی۔ اوپر والے جان کر انجان  ہیں۔ یہ بھی غالباً خاندانی منصوبہ بندی کی ناکامی کی وجہ سے ہے۔ آبادی کم ہی نہیں ہوتی۔

جب میں پشاور میں تھا تو بالوں  کی سفیدی  کم کرنے کے لئے کالا کولا لگایا کرتا تھا ، اب اس کی ضرورت نہیں پڑتی، کسی بھی بس اسٹاپ پر دس پندہ منٹ کھڑے ہوجائیے بسیں  اتنادھواں چھوڑتی ہیں کہ بال قدرتی طور پر کالے ہو جاتےہیں ۔ افسوس کہ بسوں کی چھتوں پرتیس چالیس آدمی اور گاڑھا گاڑھا دھواں ہر شخص کو نظر نہیں آتا ۔ پولیس کی بنیاد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رکھی تھی ۔ اور بھیس بدل کر رعایا کاحال معلوم کرتے تھے ۔ اگر آئی جی اور ڈی آئی جی  صاحبان  کبھی کبھی سفید کپڑوں  میں بسوں  میں سفر کیا کرتے تو انہیں یہ بھی پتہ چل جاتا کہ ٹریفک پولیس والے جب کسی بس کورکوا کر ڈرائیور اور کنڈیکٹر  کو بس کے پچھواڑے کا غذات  لانے کو کہتے ہیں تو وہ کس قسم کے کاغذات ہوتے ہیں؟  اور ڈرائیور کنڈیکٹر  جب واپس آتے ہیں تو بڑ بڑاکر گالیاں کس کو دیتے ہیں؟۔

ایک بار کراچی  سے بس کے ذریعہ پشاور  جانا ہوا، میاں والی کے قریب ڈرائیور  نے ایک بیکارہوٹل  کے سامنے گاڑی روکی، جس نے دال روٹی کے ہر مسافر سے ساٹھ ستر روپے  وصول کئے  ۔ گاڑی کے عملے کو پردے کے پیچھے بٹھایا انہیں بھنا مرغ، ایک ایک جوس اور سگریٹ  کاپیکٹ دیا دو زندہ مرغیاں دی۔ ڈرائیور  نے کہا بھی  کہ اس کی کیا ضرورت ہے ۔ ہوٹل والے نے کہا ، یار گھر  جاکر کھا لینا ، راستہ کے کسی کے بھی ہوٹل میں بس والوں  سے پیسہ  نہیں لیا جاتا ۔ یہ اس کا صلہ ہوتا ہے کہ بس والے نے اس کے ہوٹل کا انتخاب  کیا بس روکی ہوٹل  والے کی ڈیڑھ پونے دو ہزار روپے کی کمائی ہوئی۔ زندہ مرغیوں  کے پیر بندھے  تھے میرے  سامنے والی  سیٹ کے نیچے وہ ہل جل رہی تھیں ۔ آگے شہر  کے قریب  ٹریفک پولیس والوں نے گاڑی روکی، ڈرائیور  اور کنڈیکٹر  کو کاغذات لانے کو کہا .........جب وہ واپس آئے تو بہ آواز  بلند کہا یارو! یہ کیسا ظلم ہے ۔ ہم ان کو ہفتہ بھی دیتے ہیں پھر بھی پچاس پچاس روپیہ ہم سے لے لیا ۔ میں نے کہا ظلم تو ہے،  یہی بات مجھ  سےان مرغیوں  نے کہی ۔ کنڈیکٹر نے حیران ہوکر پہلے مرغیوں  کی طرف دیکھا  پھرمیری طرف دیکھا ، کہا کیا کہہ رہے ہوبھائی صاحب؟ میں نے کہا دیکھو تم  نے ہم کو اس پھٹیچر ہوٹل والے کے ہاتھ فروخت کیا ، اس نے پندرہ روپے  کے کھانے کا ہم سے اسی روپے  وصول کئے اس کے صلے میں تمہیں کھانا پینا جوس، سگریٹ اور زندہ مرغیاں ملی۔ یہ تم نے ظلم کیا، تم ظالم ہو۔ تو اللہ نے ہر ظالم فرعون  کے لئے ایک موسیٰ  کا انتظام کر رکھا ہے، پولیس والے نے تمہارا  گلا دبا یا اور ہوٹل میں کھایا پیا اگلوایا۔ جو کچھ  پولیس والے نے تم  سےلیا، رہے گا اُس کے پاس بھی نہیں ۔اس کی بیوی کے گرُدے میں اچانک درد اٹھے گا۔ تم سے لی ہوئی رقم سے دگنی تین  گنی اس سے ڈاکٹر لے لے گا؟ یہاں ہر ایک کاہاتھ دوسرے کی جیب میں ہے۔ ہمارا معاشرہ  بھیڑیوں کامعاشرہ بن چکا ہے ۔ برٹینڈ رسل کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بالکل بھیڑ یوں کا معاشرہ بن چکا ہے ۔ کینیڈا  میں برفانی موسم  میں تمام جانور اپنی اپنی پناہ گاہوں  چھپ جاتےہیں ، بھیڑیئے مارے پھرتے ہیں شکار نہیں ملتا ۔ تب  یہ دائرے میں بیٹھ کر ہانپتے  ہیں اور رال بہتی رہتی ہے ، اِن میں جو بھوک پیاس اور نقاہت سے نڈھال  ہوکر اونگھ جاتاہے سب ہی اُس  پر جھپٹ کر اس کی تکیہ بوٹی کرلیتے ہیں ۔ پھر انتظار کرتے ہیں جب دوسرے کی آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں اس میں پر جھپٹا مارتے ہیں ۔ ہو بہو یہی  حالت ہماری ہوگئی ہے ۔ رسل  صاحب اپنے  معاشرے کا ذکر کرتے ہیں انہوں نے ہمارا معاشرہ دیکھا ہی نہیں۔

ایک بار ریل گاڑی  میں پشاور سے کراچی  جانا ہوا۔ حالت  یہ تھی کہ کوریڈ ور اور سیٹوں کے بیچ آدمی ہی آدمی بھرے تھے لیٹر ین میں اور دروازوں کے آگے بھاری بھاری صندوق رکھے تھے نہ کوئی باہر جاسکتاتھا نہ اندر آسکتا تھا ۔ عورتیں  او رمرد سب پریشان۔ ایک جیالے نے گارڈ کو پکڑا کہا جناب یہ کیا ظلم  ہے ہم نے لیٹرین جانا ہے؟ گارڈ نے کہا جاؤ ناکس  نے منع کیا ہے؟ ۔ پسنجر اسے لیٹر ین  لے گیا کہا دیکھو جناب ، لیٹرین میں صندوق اور دیگر سامان بھرا تھا کہا دیکھو جناب کہاں جائیں اور  اس میں پانی  بھی نہیں ہے۔ گارڈ نے کہا آپ  تھوڑا سا انتظار کریں آگے جنگل آرہاہے وہاں ہم گاڑی کھڑی کردیں گے آپ  لوگ اتر جائیں وہاں  آپ کو طہارت  کے لئے برسات  کا کھڑا پانی بھی ملے گا۔

جیالے نے کہا اگر آپ نے انتظار نہیں کیا تو ہم ریلوے وزیر بجا رانی سے آپ کی شکایت کریں گے۔ مجھے تعجب ہو ا کہ آگے ایسی جگہ مل ہی گئی گارڈ  نے وعدے کے مطابق گاڑی رکوائی اور لوگ جوق در جوق اتر گئے، برسات کا پانی  بھی کھڑا تھا لوگ اپنا کام کر کے واپس آئے تو گاڑی چل پڑی ۔لاہوری جیالا کہہ رہا تھا حرامخور ،کہیں  کے گاڑی ہم نے رکوائی تھی اور سو ڈیڑھ سو لوگ اتر کر کام کر آئے ہیں ۔ یہ 1930 کا واقعہ ہے ضیائی  دور کا واقعہ  ہے ۔ کس کس ادارے  کا ذکر کیا جائے، آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ مجھے گارڈ نظر آیا تو میں نے اسے ٹھہرایا میں نے کہا حضور کیا آپ کو علم تھا کہ  آگے لیٹرین کا انتظام ہے؟ وہ بڑا نفیس آدمی تھا ۔ اس نے مسکراکر کہا روز کا آنا جانا  ہے یہاں کے چپّہ چپّہ سے میں واقف  ہوں برسات  کے پانی کا بھی علم  تھا اور یہ کہ یہاں کھیت بھی ہیں زنانہ  رفع حاجت  کا بھی  انتظام ہے ۔ ہر ڈبے  کا یہی حال ہے ۔ ہر ہفتے  میں یہیں گاڑی  رکواتا ہوں مجبوری  ہے۔ کیا کریں  ۔ کھیت والے کابھی فائدہ  ہوجاتا ہے اسے مفت  میں طاقتور  کھاد مل جاتی ہے۔

دلدار پرویز بھٹی نے بتایا کہ میرا کلاس فیلو  جواب پولیس میں انسپکٹر ہے ہم دونوں  نے ایک فنکشن  میں جانا تھا اس  نے موٹر سائیکل  تھانے کے قریب روک دی  کہا دو منٹ میں آیا ضروری کام ہے۔ میں نے دیکھا  کہ پولیس نے ایک آدمی کے ہاتھ  چار پائی کے پایوں  تلے دبائے ہیں اور  چار پائی پر چار پولیس والےبیٹھے  ہیں اور اسے مکوں  سے مار رہے ہیں کہ بتا تیرے پاس 500  روپے آئے کہاں سے ۔ جب میرا دوست آیا تو میں نے پوچھا  یہ کیا معاملہ ہے ؟ کہا یہ ایک فلم  ڈائریکٹر کا نوکر ہے اُس کی جیب سے ۔ 500 روپے نکال لئے گئے ہیں اس نے رپورٹ درج کرائی ہے اب اس سے پوچھا جارہا ہے ۔ مگر پولیس والا تو تھانے دار سے کہہ رہا تھا اس کے اپنی  بھابی سے ناجائز تعلقات ہیں؟  اویاران جھمیلوں میں مت پڑ، اس کا کوئی بھائی نہیں ہے تو بھابھی کہا ں سے آئی۔  مگر وہ  تو مان گیا ۔ اگر تمہیں مار پڑے گی تم بھی مان جاؤ گے۔

اگست ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی 

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/who-bothers,-everything-is-just-ok--کون-پوچھتا-ہے-،-یہاں-سب--چلتا-ہے/d/98578

 

Loading..

Loading..