New Age Islam
Sat May 15 2021, 08:54 PM

Urdu Section ( 8 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Democracy: A point of View جمہوریت ایک نقطہ نظر

 

حسین امیر فرہاد

ابھی خون باقی ہے اس مردہ تن میں               وہ پھر نشتروں کو سنبھالے ہوئے ہیں

جی ہاں آج کل پھر ٹی وی کے سکرین پر جمہوریت  کی راہ پرگامزن ہونے کی باتیں ہورہی ہیں انسان نے جب  سے غاروں میں رہائش  ترک اور متمدن زندگی گزارنے لگا ، تب سے اپنے لئے مختلف  قسم کے نظام تخلیق  کرتا رہا اس امید  پر کہ انسانی گروہ پرُ امن  ، آسودہ اور خوشحال زندگی گزارنے کے قابل ہوجائے۔ چونکہ انسانی سوچ اور فکر کادائرہ محدود ہے عقل  کے ساتھ انسانی  جذبات بھی شامل  ہوجاتےہیں تب وہ تحفظ خویش ‘‘ ذاتی مفاد ’’کے آگے سوچ بھی نہیں سکتا ۔ جو ڈنے انسانی عقل کو کتّے کے پیروں  سے تشبیہ  دی ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ کتّا ناک سے سونگھتا ہے  کہ گوشت  کہاں ملے گا، اُس کے پیر اسی سمت چلتے ہیں  جہاں ناک لے کر چلے۔ انسان ہوگا تو جذبات بھی ہوں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانوں  کے بنائے ہوئے نظام  ہائے عالم ناکام ہوکر رہ گئے  کیونکہ وہ انسانی دماغ کی اختراع  تھے اور انسانی دماغ  اپنے فائدے سے آگے نہیں  سوچ سکتا ۔

عقل کی اہمیت  سے انکار نہیں ، عقل  تو چشم بنیا ہے، لیکن اگر روشنی نہ ہوتو بینا  اور نا بینا  میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا ۔ اللہ  تبارک وتعالیٰ نے وحی کو روشنی  ( نور)  کہا ہے۔ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ (5:15) بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ‘‘ نور’’ کتاب روشن  آچکی ہے۔ كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ (14:1) یہ کتاب تم پراس لئے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے تم انسانیت  کو تاریکیوں  سے نکال  کر نور ‘‘ روشنی’’ کی طرف رہنمائی  کرو ۔ قرآن کریم نور ( روشنی) ہے اس روشنی  کے بغیر انسان تنہا عقل کے ساتھ ٹامک ٹوئیاں  مارتا رہا ۔ مختلف تجربات کرتا رہا ناکام ہوتا رہا بار بار تجربات کرتارہا  لیکن ناکام ہوتا رہا۔ بلاشبہ  وہ اس  قدر ے بہتر زندگی گزار نے لگا مگر اس طرح قرآن  ہا قرن لگ گئے جب کہ  وحی  کی رہنمائی  میں یہ سفر  چند ساعت کا ہوتا ہے۔  بد نصیب ہیں  وہ لوگ  کہ اللہ  کی رہنمائی ‘‘ وحی’’  کے ہوتے ہوئے انسانوں کی تخلیق  کردہ راہوں   پر گامزن ہیں ۔ انسانوں  کی تخلیق  کردہ راہوں  میں سے ایک راستہ یونانی جمہوریت  کا ہے۔ آج کل ریڈ یو، ٹی وی کھولئے  یا اخبار اٹھائیے  یا اسمبلی  کے ارکان  کی سنئے یا منتشر  ارکان  کے بیانات  پڑھئے ۔ ہر ایک جمہوریت  کے قیام و دوام ، بقاء و پائیدار ی کے لئے کوشاں  نظر آتا ہے ۔یعنی جمہوریت کے یونانی پودے کو پانی دیتا نظر آتا ہے ، تڑپ رہا ہے بے چین و بے قرار ہے۔ یہی  ایک آرزو ایک ہی خواہش اور تمنا رکھتا ہے کہ روٹھی ہوئی جمہوریت پھر سےواپس آکر اس گلستان  کو آباد کرے۔ لیکن  مقابل میں اسلام کا پودا سوکھ رہا ہے ،مرجھا  رہاہے۔ اس کی طرف کوئی دھیان ہی نہیں دیتا کہ اسے بھی پانی ،  کھاد یا گوڈی کی ضرورت ہے۔ غیر تو غیر  اپنے بھی  اس کاذکر  زبان پر لانے سے گھبراتے ہیں ۔ کہ کہیں  امریکہ نہ سن لے ؟ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔

ہے وہی سازِ کہن مغرب  کاجمہوری نظام          جس کے پردوں میں نہیں غیر از  نوائے قیصری

دیو استبداد  جمہوری قباء میں پائے کوب           تو سمجھتا  ہے یہ آزادی  کی ہے نیلم پری

آئیے مختصر لفظوں میں اس کاجائزہ لیں تاکہ اصل  مقصد کی وضاحت  میں آسانی ہو۔ مغربی  نظام جمہوریت  جن بنیادوں  پر قائم ہوتی ہے اسے الیکشن  کہتے ہیں ۔ انتخاب  اور اختیار  بھی عربی الفاظ  ہیں مگر  عرب میں اسے ‘‘اصوات’’ کہتے ہیں یعنی جس کے حق  میں زیادہ اصوات ( آوازیں) بلند  ہوں۔ اقتدار اعلیٰ یا اختیار  مطلق  اس پارٹی کا حق ہے۔ قوم تمام اختیارات  اپنے منتخب نمائندگان  کو تفویض کردیتی ہے۔ یہ نمائندگان یا ان کی اکثریت  جس قسم  کے قوانین  چاہیں وضع کرسکتے ہیں ۔ ان کی قانون سازی پر کسی قسم کا کنٹرول  نہیں کوئی  حدود و قیود   نہیں ۔ یہ قوانین جب نافذ ہوجاتے ہیں تو ملک کا ہر باشندہ ان کی اطاعت  کا پابند ہوتا ہے وفادار وہی ٹھہرتا ہے جو ان قوانین کی پابندی  اور اطاعت کرے ۔ غدا ر اور باغی وہ کہلاتا ہے جو ان کی اطاعت  سے انکار کرے۔ عوام  کے منتخب  نمائندے خود بھی ووٹ کے ذریعہ منتخب ہوتے ہیں اور پارلیمنٹ  میں تمام فیصلے  یا قانون  سازی بھی ووٹ  کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اگر پوری قوم یا تمام دنیا ایک کام کو غلط سمجھتی ہے لیکن کسی پارلیمنٹ  میں 51 فیصد نمائندگان  اس  حق میں ووٹ دے دیتے ہیں ، تو وہی غلط  کام اس ملک  کے عوام اور باشندوں کے لئے جائز حلال اور قانونی اجازت بن جاتا ہے۔ پھر اس ‘‘ متفقہ غلط ’’  کام کو غلط  کہنےوالا  ان نمائندگان اور پارلیمنٹ کی توہین کا مرتکب ٹھہرتا بلکہ قانونی  مجرم اور غدار قرار پاتا ہے ۔ ایک مثال سے اس کو سمجھئے ۔ اغلام بازی  ( مردے سے مرد کا جنسی تعلق ) ساری دنیا میں برا، مکروہ  ، قابل نفرت اور گھناؤنا سمجھا جاتا ہے ۔لیکن  برطانوی  پارلیمنٹ  کینیڈا اور ساؤتھ  افریقہ  نے اسے جائز  قرار دے دیا بلکہ ہر شخص کو اختیار دے دیا کہ وہ جس طرح چاہے جنسی آسودگی  ( Sexual Satisfaction ) حاصل کرسکتا ہے ۔ ( تین شرائط کے ساتھ ) (1) مفعول کا بالغ ہونا (2) شارع عام پر نہ ہونا (3) اہم رضا مندی سے ہونا ۔ اب اگر کوئی وہاں  یہ نعرہ لگائے کہ یہ ناجائز ہے برائی ہے حرام ہے میں اسے تسلیم نہیں کرتا ۔ تو یہ پارلیمنٹ اور عوام کے نمائندگان کی توہین کے مترادف  ہے۔ ایسا شخص سزاکا مستوجب قرار پائے گا۔

یہ ہے وہ جمہوریت  جس میں اللہ کے بندوں کو اللہ پر فوقیت دی جاتی ہے اور اللہ کاکلیسا معبد او رمسجد تک محدود بلکہ  محبوس کر دیا جاتا ہے ۔اس جمہوریت کے حمد و ستائش  کے قصیدے انگریز نے ہمارے  دور غلامی  میں ہمارے کا نوں میں ڈال کر ہمارے دل کی گہرائیوں  میں جانشین کئے  ۔ اب وہ چلا گیا مگر ہم نے جمہوریت  کو عین اسلام  قرار دیا ۔ ہم یہ بھول  جاتے ہیں کہ اسلامی حکومت وہ ہوتی ہے جس میں حکمرانی صرف اللہ  کی ہوتی ہے۔  إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ (12:40) حق حکومت  صرف اللہ کو حاصل ہے ۔  وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا ( 18:26) اپنے اس حق حکومت میں وہ کسی کو شریک نہیں کرتا ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت  اور اسلام و متضاد نظام ہیں اسی لئے مغربی  اقوام جمہوریت  کی صحت  کا بڑا خیال  رکھتےہیں ۔ جو ممالک  اس کی صحت  کا خیال نہیں رکھتے ۔ مغربی  ممالک  اس ملک  کی ہر قسم کی امداد  بند کردیتے ہیں بعض اوقات حقہ پانی  بھی بند کر دیا جاتا ہے ۔ یہ پرسوں کی بات ہے کہ کامن ویلتھ میں ہماری ممبر شپ کی درخواست کو اس وجہ سے نامنظور  کردیا گیا کہ ہمارے ہاں صحیح  طور پر جمہوریت  بحال نہیں ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ میر ظفر اللہ خان  جمالی صاحب  کو بیرونی  ممالک  سے وزیر اعظم  بننے پر جو مبارک باد ملی تھی  تو اس  کے ساتھ یہ پیغام بھی ملا کہ ہمیں امید  ہے کہ آپ کی قیادت میں پاکستان  جمہوریت  کی راہ پر گامزن  ہوگا ۔

کوئین وکٹوریہ  نے ہندوستان  میں اقتدار سنبھالنے  کے بعد دہلی  میں اپنی پہلی تقریر میں کہا  تھا کہ ‘‘ ہندوستانیوں  کو مکمل  مذہبی آزادی ہوگی ’’ مگر 1947 کے بعد بھی ہمیں یہ آزادی  نہیں ملی ہم پر اپنا نظام تھوپا جارہا ہے ۔ہمیں  اپنی اترن پہنائی جارہی ہے؟  آخر ہمیں  اپنے طور پر جینے کیوں نہیں دیا جاتا ۔ یہ تو مذہبی آزادی نہ ہوئی ۔

ہمارے رب کا بڑا واضح فرمان ہے۔ اے پیغمبر  وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ( 6:116) زمین پر اکثریت تو گمراہوں کی ہے ۔ ( اے نبی ) اگر تم اکثریت کاکہا مانو گے تو یایہ تمہیں  بھی گمراہ  کر دینگے ۔ اس واضح آیت کے بعد تو اکثریت  کی بناء پر جو جمہوریت وجود میں آتی ہے، اس کی جڑ کٹ گئی ۔ ستی ہوگئی راکھ بن  گئی ۔ اور پھر ۔

جلا ہے جسم  جہاں دل بھی جل گیا ہوگا             کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے

اپنی اپنی بیماری  ہے اپنا اپنا علاج ہے، جس طرح آدمیوں کے مختلف  مزاج  ہوتے ہیں اسی طرح  قوموں کے بھی مختلف  مزاج  ہوتے ہیں اہل یورپ قبض کے لئے اکثر بروک کھاتےہیں ۔ ہمارے ہاں  جمال گھوٹا  او رہمدرد  کی مفتا بھی یہ کام کر لیتی ہے ۔ کچھ لوگ رات  کو سوتے وقت  ایک گلاس  گرم دودھ  سے یہی کام  کرلیتےہیں ۔فلسطین  والے دو چمچے  تیل زیتون  کے پی کر کام چلا لیتے ہیں ۔

اہل یورپ ہم پر اپنی  جمہوریت  کیوں ٹھونستے ہیں؟  کیا ہماری  حالت زار  پر انہیں ذرا بھی  ترس نہیں آتا؟  ان کی جمہوریت کیوجہ سے ہمیں ایسے  حکمران  ملتے رہے جو خود تو  امر بیل کی طرح امر  ہوگئے اور قوم کو سوکھے  کی بیماری  لگاگئے ۔ جن کی اولاد  بلادالغرب میں پڑھتی ہے ، دولت مغرب  کے بنکوں  میں محفوظ ہے۔ جائیداد یں ہر جگہ بنا رکھی ہیں، زکام کا علاج  بھی یورپ  اور امریکہ جاکر کراتے ہیں وہ بھی حکومت  کے خرچے پر ۔ خالی خزانے کو بھرنے کے لئے مہنگائی کے ذریعہ اپنے عوام  کی مومیائی  نکالی جاتی ہے ۔ حضرت علامہ فرماتے ہیں ۔

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے تو لانہیں  کرتے

اس مغربی طرز کی جمہوریت میں کھوپڑیاں گنی جاتی ہیں ان میں دماغ  نہیں دیکھا جاتا ۔چیف جسٹس اور اس کا ڈرائیور، مالی، اور ْخانساماں سب  کا ایک ہی  ووٹ  ہوتا ہے۔ جبکہ اللہ کے ترازو کا تقاضا کچھ اور ہے۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ (49:13) تم میں صاحب اکرام و عزت والا  وہ ہے جو متقی ہو ۔ متقی  سے مراد وہ شخص نہیں جس کی تصویر  عام آدمی کے ذہن میں ہے۔ یعنی ماتھے پر سجدے کانشان لمبی داڑھی ڈھیلا ڈھالا کرتہ اور ایڑیوں میں سے دامن بچا کر نکلے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ  نے جب ایران  سے لائے  ہوئے مال غنیمت  کاڈھیر دیکھا ( مال غنیمت  کا اتنابڑا ڈھیر جس کے ایک طرف کھڑا  آدمی دوسری طرف کے آدمیوں کو نظر  نہیں آسکتا  تھا ) تو کہا یا رب میں یہ نہیں کہتا کہ میرے دل میں اس مال کی محبت  نہیں ہے۔ مجھے  توفیق  عطا ء فرما ۔ کہ یہ میں تیرے  راستے پر خرچ کروں ۔ وہ رضی اللہ عنہ چاہتے تو ہر چیز اپنے قبضے  میں لے لیتے ۔ مگر وہ اس لعل وزمر د جڑی ہوئی سنہری سرنگ  میں سے خالی  ہاتھ نکلے ۔کیا  پاکستان بننے  سے لے کر آج تک ہمیں  اس قسم کا متقی  سربراہ ملا ہے؟۔

متقی وہ جو اپنی پوری زندگی قرآن کے چوکھٹے میں گزار دے۔ جو شاہراہ  زندگی  پر قدم اٹھانے سےپہلے کئی بار سوچے کہ میرا  ہر اٹھنے والا قدم اللہ کی رضا میں اٹھ رہا ہے یا ا س کی مخالفت  میں ۔ جو راستہ چلے تو لوگ اُس کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ کریں کہ وہ دیکھو اللہ کامتقی بندہ جارہا ہے ۔ حضرت علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب تصویر پیش  کی ہے۔ فرماتے ہیں ۔

قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت                    یہ چار عناصر ہوں تو بنتاہے مسلمان

یہ راز کسی کو نہیں معلوم  کہ مومن                                 قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم!       دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں  وہ طوفان

یعنی  متقی وہ جو ایک چلتاپھرتا قرآن نظر آئے ۔ کیا ہمارے  رہبر اس ترازو پر پورا  اترتے ہیں؟ اگر  نہیں تو حالات کیسے اور کیونکر تبدیل ہوں گے؟ ایک واقف کار نے دانشور سے پوچھا کہ ٹیلی ویژن  کے ذریعہ روزانہ صبح چھ  بچے تلاوت  کلام پاک  کے بعد بڑے خصو ع خشوع و عاجزی  و انکساری کے ساتھ دعا مانگتے ہیں ، پھر بھی حالات  بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اس کی کیا وجہ  ہے؟ دانشور نے کہا کہ میں  نے بھی ایک ہفتہ  سے چوہے دان میں پلاسٹک کا بناہوا ٹماٹر اور ایک عد دمرچا رکھا ہوا ہے مگر کوئی  چوہا پھنستا  ہی نہیں  ۔  ٹی وی کی دعا  ہو یاپلاسٹک  کے ٹماٹر  یا ہمارے  سربراہوں  کے مثالی  کردار اور اعمال  ۔ اس سے کیا تبدیلی  آئے گی ۔ جب قادر مطلق نے کہہ دیا کہ  إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ( 13:11) لاریب کہ اللہ اس قوم کی حالت نہیں  بدلتا  جو خود اپنے آپ میں تبدیلی لانے  کی خواہشمند نہ ہوں ۔ تو یہ امید  لگائے  رکھنا کہ اللہ ہماری حالت  میں تبدیلی  لائے گا  ، خوش فہمی کے سوا اور کیا ہے۔

ہم بیٹھے تو ہیں نیو کراچی کی بس ( 4-K) میں اور تمنا  رکھتے ہیں کہ ہم کلفٹن  پہنچ جائیں یہ کیسے  ہوسکتا ہے ۔ کلفٹن  جانے کے لئے کوئی  دعا ء  کام نہیں آئے گی ۔ ہمیں بس بدلنی ہوگی کلفٹن کی بس  میں بیٹھنا ہوگا تب  کہیں کلفٹن کی آرزو رکھنی ہوگی ۔

اکثریت کے شیدائی او رجمہوریت  کے فدائی کیا اس آیت  کریمہ  پر غور فرمائیں گے ؟ وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ( 6:116) زمین پر اکثریت تو گمراہوں  کی ہے۔ اگر تم ان کاکہا مانو گے تو یہ تمہیں بھی گمراہ کر دینگے ۔ لہٰذا بارِ حکومت  اس کے کاندھوں پر ڈالا جائے جو اس کے اٹھانے  کے لائق  قابل ہو اور جو اللہ کے ترازو پر پورا اترتا ہو؟ ۔ اگر انگریزی مکتب کے پڑھے  ہوئے لوگ جمہوریت  کی زلف  گرہ گیر کے اسیر ہیں تو کوئی تعجب  کی بات نہیں  مگر رجال  دین جمہوریت  کی ایک  جھلک پرتن من نچھاور کررہے ہیں  ، یہ بڑی حیران  کن بات ہے۔ کیا ان نظروں  سے قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ  نہیں گزری  ہو گی ۔بلاشبہ مغرب  ہمیں اپنے  رنگ میں رنگنا  چاہتا ہے مگر اس  ملت  کے متعلق  علامہ اقبال رحمۃ علیہ  کا فرمان ہے۔

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب نہ کر               خاص ہے ترکیب  میں قومِ رسول ہاشمی صلی اللہ علہ وسلم

مصر میں ایک بادشاہ گزرا ہے جس کا نام قرے قوش  تھا،  سنا ہے وہ بڑا جمہوریت کا پرستار تھا مگر لوگ اسے بے وقوف سمجھتے  تھے ۔ ایک بار اس کے دور میں قحط پڑ گیا ۔ لوگ شمعون نام  کے یہودی کے پاس گئے جس کے گودام میں غلہ بھرا تھا کہا ہم بھوکے مررہے ہیں غلہ دو ورنہ ہم تمہیں زندہ دفن کردیں گے ۔ اس نے کہا جو چا ہوکر و میں غلہ نہیں دینے کا ۔ ہجوم نے اسے چار پائی پر باندھا اوپر چادر ڈال دی  ، کہا ہم تمہیں دفن کرنے والے ہیں بتاؤ کوئی آخری خواہش  ہے؟ چالاک یہودی نے کہا ہاں میری  آخری  خواہش  یہ ہے کہ میرا جنازہ  بادشاہ  کے محل  کے نیچے سے گزارا  جائے ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ بادشاہ بالکونی میں کھڑا تھا اس  نے پوچھا ومن ھذا یہ کون  ہے جس کے پیچھے پورا قاہرہ لگاہے ۔ اتنے لوگ تو ہمارے جنازے میں ہونے چاہئییں تھے ؟

لوگوں نے کہا  یہ یہودی شمعون  بن جبار ہے، بے چارہ مر گیا ہے ، ہم اسے دفن کرنے لے جارہے ہیں ۔ یہودی نے منہ  سے چادر  ہٹائی  کہا بادشاہ  سلامت دہائی ہے ، یہ لوگ  مجھے زندہ دفن کرنے جارہے ہیں  مجھے بچائیے ۔ بادشاہ نے اس کے جنازے  کے ہجوم کو دیکھا پھر اس کی بات پر غور کیا ۔ پھر کہا دیکھو شمعون ہم بے وقوف مشہور ہیں مگر اتنے بھی نہیں  کہ ہم تمہارے کہنے پر یقین کرلیں کہ تم ز ندہ ہو۔ کیا  یہ سب لوگ جھوٹ بول رہے ہیں تم اکیلے سچ بول رہے ہو ۔ ہجوم  کو حکم دیا کہ دفن کر دو اس جھوٹے  کو۔ یہ ہے جمہوریت ۔ علامہ اقبال  نے ایک قصہ  بیان کیا کہا  کہ جب محمود غزنوی سومنات کے بڑے بت کو گرزمارنے لگا تو پرہتوں نے کہا اس کو نہ توڑئیے مہاراج یہ ہمارا حاجت  روا ہے او رہماری باتوں کا جواب  دیتاہے ۔ محمود نے کہا حاجت روا تو رب  کی ذات ہے ، مگر یہ باتوں کا جواب کیسے دیتا ہے؟ ذرا ہم بھی تو سنیں ۔

پروہت نے کہا ابھی  لو سرکار، کہا اے بھگوان آج کون سادن ہے؟ بت سےآواز آئی آج منگل کا دن ہے ۔ محمود حیران ہوا کہ بت  نے  جواب کس طرح دیا۔ بت دیوار سے ایک فٹ  کے فاصلہ پر تھا، محمود سمجھ گیا کہ گڑبڑی دیوار ہی میں ہے ۔ اس نے دیوار  کو بجا کر دیکھا تو ایک جگہ سے کھوکھلے پن کی آواز آئی، اس نے وہیں اپنا گرز مارا جب پلاسٹر ٹوٹا تو محمود  نے دیکھا کہ پرلی طرف تین سادھو بیٹھے چنڈوپی رہے ہیں ۔ وہ ایک پائپ کے ذریعے جو بت سے منسلک  تھا  باتوں  کا جواب دیتے تھے ۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں  کہ جمہوریت  کی دیوار پرجب بھی محمود ی گرز سے وار کروگے او رپلاسٹر ٹوٹے گا تو  پرلی طرف  چند گنے چنے  مکروہ  او رگھناؤنے  چہرے نظر آئیں  گے ۔ وہ ہر قانون او رپالیسی اپنے مفادات کو سامنے  رکھ کر بناتے ہیں ۔ اس جمہوریت  میں عوام کے نمائندے  منتخب  ہونے  کے بعد عوام کی صف  سےنکل کر خواص  کی صف  میں جا کھڑے ہوتےہیں ۔

جولائی ، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق  ، کراچی

URL:

https://newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad/democracy---a-point-of-view--جمہوریت-ایک-نقطہ-نظر/d/98494

 

Loading..

Loading..