New Age Islam
Sat May 15 2021, 02:21 AM

Urdu Section ( 22 Jul 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Quranic Commandments and the Prevailing Human Rules قر آنی احکامات اور رائج الوقت انسانی احکامات

 

حسین امیر فرہاد

جولائی، 2013

یہ بتانا شاید ضروری نہ ہو،  آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ جب انبیاء  کرام  کا سلسلہ ختم ہوا تو اللہ کے قوانین و احکامات کے مجموعے کو قرآن کریم میں محفوظ  کر کے،  انسانیت کو دے دیا گیا اور یہ بات بخوبی واضح کردی گئی کہ ۔ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّہ فَأُولَٰئِكَ ھمُ الْكَافِرُونَ (44۔5) الظَّالِمُونَ (45۔5) الْفَاسِقُونَ (47۔5) جو شخص  اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق فیصلہ  (حکم) نہ کرے تو ایسے ہی لوگ کافر، ظالم اور فاسق ہیں ۔ یہ تینوں آیاتِ کریمات  سورہ ٔ مائدہ  کی ہیں۔ان تینوں  آیاتِ  کریمات میں نہایت  تاکید  اور زور سے یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین  کے مطابق  حکومت  نہیں چلاتے ، وہ کافر  ، ظالم اور فاسق ہوتے ہیں ۔ ہر وہ ملک جو قوانین  الہٰی  سے اعراض  کرکے، اپنے وضع کردہ قوانین  کے مطابق حکومت چلائے گا، اس ملک میں کفر، ظلم اور فسق  تینوں  حالتیں  پائی جائیں  گی ۔ یہی ہے بنیاد ایک مسلم کی ۔ بہتر تھا کہ ریٹرنگ آفیسر بنیادی سوالات اُمید وار سے پوچھتا نہ کہ دعا ئے قنوت پڑھیے ۔ دعائے قنوت مسلمانی  کی شرط تو نہیں ہے۔ تارک نماز کافر نہیں  ہے، گنہگار ہوسکتا ہے۔ بالفرض اگر یہ شرط قرار دی جائے تو پھر ان  امیدوار وں کو اسمبلی  میں بھر دیا جانا چاہیے جو دعائے  قنوت  جانتے ہوں اور امور مملکت کی شدھ بدھ ہو یا نہ ہو۔ کیا ایسا کرنا درست ہوگا؟ ۔بہتر ہوگا کہ امیدوار سے دینی بنیادی سوالات پوچھے جائیں یا قنوت ذاتی افعال ہیں مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الہٰی احکام جنہیں  قابل توجہ نہیں سمجھا گیا ہے۔

بمقابلہ انسانی احکامات جن پر عمل ہورہا ہے۔

(1) زنا کار کی سزا۔الزَّانِيَۃ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھمَا مِائَۃ جَلْدَة  وَلَا تَأْخُذْكُم بِھمَا رَأْفَۃ فِي دِينِ اللّہِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ  وَلْيَشْھدْ عَذَابَھمَا طَائِفَۃ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ (2۔24) زنا کا مرتکب چاہے وہ مرد ہو یا عورت ‘‘ دونوں کو سو سو کوڑے مار و اور دین کے معاملہ  میں تمہیں  ان پر رحم نہیں آنا چاہیے ۔ اگر  اللہ  اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور چاہے کہ دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہو’’ جو اپنی آنکھوں  سے سزا  دیکھے ۔ اگر تم مومنین ہو۔ ہمارے ہاں ایسا عمل نہیں ہوتا ،لہٰذا مومنین  میں تو ہمارا شمار نہیں ہوتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسانی حکم جس نے حکم الہٰی  کو نا قابل عمل کردیا ۔ یہ  کہ شادی  شدہ کو سنگسار کیا جائے اور غیر شادی شدہ کو بے شک  سو چھڑی مارو ۔ اگر چار عینی شہود نے یہ عمل  اپنی آنکھوں  سے دیکھا  ہو ، اور عوام میں مشہور  کیا کہ یہ اللہ کے بندے  اور رسول کا حکم  ہے ۔ جب کہ اللہ کا فرمان ہے۔مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَہ اللّہُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّة ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّہ (79۔3) کسی بشر کو یہ حق  نہیں چاہے اسے اللہ نے کتاب دی ہو یا نبوت ، کہ وہ لوگوں سے کہے کہ بجائے اللہ کے میرا حکم مانو۔ اور اگر ایسا  ہوا تو یاد رکھو ۔وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ (44۔69) لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْيَمِينِ (45۔69)ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِينَ (46۔69) اگر اس (پیغمبر نے اپنی) باتیں ہم سے منسوب کی ہوتیں  تو ہم اس کا داہناہاتھ  پکڑ کر اس کی رگ جاں (Aorta) کاٹ کر رکھ  دیتے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(2) شادی کی عمر ۔ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا (21۔4) رب نے شادی  کو گہرا معاہدہ کہا ہے کہ فریقین  بالغ ہو ں ، نا بالغ  کا معاہدہ در خور اعتنا ء ہی  نہیں ہوتا۔ قرآن کریم نے بلوغت  کے معنی ہی نکاح  کی عمر بتائی  ہے ۔ قرآن  کریم کا واضح  حکم ہے۔ وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللّہ لَكُمْ قِيَامًا .......(5۔4) اور نا سمجھ لوگوں کو تم ان کا مال نہ دو جن کا اللہ نے تمہیں  سہارا بنا یا ہے ...... اگلی  آیت ملا حظہ ہو ۔ وَابْتَلُوا الْيَتَامَی حَتَّی إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْھمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْھمْ أَمْوَالَھمْ (6۔4) اور یتیموں کا امتحان لیتے رہو  یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر  کو پہنچ جائیں تب اگر تم ان میں عقل کی پختگی  پاؤ تو ان کے مال  ان کے حوالے کردو۔

یعنی  ان میں سوجھ بوجھ  پیدا ہوجائے جب ۔ اس آیت کریمہ  کی رو سے اللہ نے نکاح کی عمر، لوغت کے ساتھ  مشروط کردی اور بلوغت  کی وضاحت  یہ بتائی کہ جب لڑکا  یا لڑکی سماجی معاملات  کے سمجھنے کی اہلیت  رکھتے ہوں ۔ اب للہِ بتائے کہ نو سال یا دس سال کی بچی  یا بچہ اس قابل ہوتےہیں کہ ان سےکوئی معاملہ طے کرے؟ قارئین ایک جگہ  تو یوں لگتا ہے کہ رب نے بلوغت کی عمر چالیس سال رکھی ہے۔ فر مایا اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ  بھلائی  کا حکم دیا ہے۔ اس کی ماں نے اس کو تکلیف کے ساتھ پیٹ  میں رکھا اور تکلیف  ہی کے ساتھ جنا اور اس کا پیٹ میں  رہنا اور دودھ چھوڑنا او راڑھائی برس میں ہوتا ہے ۔ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّه وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَۃ (15۔46) یہاں تک کہ وہ خوب جوان ہوکر چالیس سال کو پہنچ جاتاہے۔ قوامیس  میں بالغ  کا ترجمہ ۔ Mature  اور بلاغت کے لئے Maturity لکھا ہے کہیں  Adult  کہیں   Major or age  لکھا ہے۔ چھ یا نو سال کی عمر  کہیں نہیں  لکھی ہے ۔ یہ تھی قرآن  کی رو سے  بلوغت اور شادی کی عمر ، اب ملاحظہ ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قرآن کے بالائی حکم کے خلاف انسانی حکم ملاحظہ ہو : بقول راوی  عروہ نے اپنے والد  سے سنا کہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ  فرماتی ہیں  ۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح  (6) برس  کی عمر میں ہوا ۔ واد خلت علیہ و ھی تسع ۔ اور دخول صحبت  (9) برس کی عمر میں ہوا۔ (بخاری ، جلد سوم ، باب 68، حدیث  نمبر 120، صفحہ 93)

یہ بات ماخذات کی تمام کتابوں میں درج ہے ۔ اس کے راوی  ہشام بن عروہ یا ابن  شہاب زہری  کو بتایا جاتا  ہے ۔ جو تحقیق  سےثابت ہے کہ وہ مجوسی  ہے۔ یہ وہی  زہری  ہے جس نے اسلام میں زہر گھول دیا ۔

میرے نزدیک ( النسآء۔5) میں درس عبرت  پنہا  ہے کہ جب تک معاملہ کی شدھ بدھ نہ ہو کسی  کو فریق نہ بنایا جائے اور نکاح  تو کہتے ہی عقد کو ہیں  یعنی فریقین  کے درمیان  (Contract ) کیا بالغ اور نا بالغ  کے درمیان کسی قسم کا کنٹر یکٹ یا ایگر یمینٹ  ہوسکتا ہے ؟ اور اسے دنیا  کی کوئی بھی عدالت  درست اور صحیح  تسلیم کرے گی؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(3)حکمرانی کے لئے  اللہ کا معیار ۔ زندگی کے بلند  مقاصد کے حصول اور لوگوں کی رہنمائی (Leader ship ) کے لیے بہترین ‘‘ علم اور جسم’’ کی ضرورت  ہوا کرتی ہے۔ اس بات کو قرآن کریم  میں جناب طالوت کے حوالے سےبیان کیا گیا ہے۔جب قوم بنی اسرائیل کے نبی  نے طالوت کو فوج کی Leader ship دی تو رؤسا ء نے اعتراض کیا کہ یہ شخص تو مالی  لحاظ سے کمزور ہے ، اسے کیوں مشن (Mission) کی سربراہی  سونپی گئی ہے۔ اس وقت  کے نبی نے کہا کہ : قَالَ إِنَّ اللَّہ اصْطَفَاہُ عَلَيْكُمْ وَزَادَه بَسْطَۃ فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ (247۔2) ‘‘ انہوں نے کہا کہ اس شخص کواللہ نے تم پر Leader ship کے لیے اس وجہ سے منتخب  کیا ہے کہ یہ بہترین علم اور جسم رکھتا ہے ۔’’ میرا اشارہ نگر ان حکومت کے وزیر اعظم  کی طرف نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سے پاکستان معرض  وجود میں آیا ہےکیا کوئی ایک سر براہ ان شرائط پر پورا اُترا ہے؟ ہمارے ہاں تو یہی ایک شرط ہے کہ جسےاکثریت پسند  کرلے ۔جب  کہ اکثریت کے متعلق تو رَب کا فیصلہ ہے۔ فرمایا ۔وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّہِ ۚ (116۔6) (اے نبی) اگر تم اکثریت کے پیچھے چلو گے تو زمین پر اکثریت تو گمراہوں  کی ہوتی ہے وہ تمہیں بھی گمراہ کردیں گے۔ ہم نے اللہ کے بتائے ہوئے راستے کو درخور اعتناء نہیں سمجھا اسی لیے تو ہم در بدر خاک  بہ سر پھر رہے ہیں ۔ کیا انگریز کی طرز حکمرانی اللہ کی  طرز حکمرانی  سے بہتر ہے؟ ۔ یہ اللہ کی مہربانی  ہے کہ  آیت  ( 116۔6) پر کسی مولوی صاحب کی نظر نہیں پڑی ورنہ وہ جمہوریت  سے  انکاری ہوتا ہے ۔ ہاں وہ مولوی صاحبان جو سیاست میں ہیں اور امید  سے ہیں  وہ اس آیت سے صرفِ نظر کرتے ہیں ۔ طالبان نے یہ آیتِ کریمہ دیکھی ہے ا س لیے  وہ جمہوریت  کو نہیں  مانتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(4) مرتد اُسے کہتے ہیں جو اسلام کو چھوڑ دے۔ قرآن میں مرتد کے لئے سزا  ہے ہی نہیں ۔ مثلاً ایک خوب صورت باغ ہے ہر آدمی کادل اندر جانے کو چاہتاہے ، لیکن باغ پر بورڈ لگا ہے آئیے باغ سے لطف اندوز ہو ئیے مگر ایک  بار اندر آگئے تو باہر نکلنا منع ہے۔ آنے والا اگر باہر سے   نکلے گا  تواس کا سرکاٹ  دیا جائے گا ۔ کون  بے وقوف ہوگا جو اپنی  آزادی  سلب  کوائے گا؟ اگر اسلام  کی بھی یہی  شرط ہوتی ہے کہ جو داخل ہوا اگر وہ باہر نکلے گا تو اس کا سر کاٹ دیا جائے گا ۔ تو کوئی اسلام  میں داخل ہی نہ ہوتا ۔

مرتد کا قتل قرآن کے خلاف ہے او رکسی حال میں بھی جائز  نہیں ہے۔ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ (29۔18) تمہارے رب کی طرف سے یہ حق ہے جس کا جی  چاہے ایمان لے آئے جس کا جی چاہےکفر اختیار کرے۔ اللہ کا فر مان ہے ۔ إِنَّا ھدَيْنَاه السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا (3۔76)ہم نے راستہ دیا اب چاہے شکر کرنے والا  بنے یا کفر  اختیار کرے۔ انسان کو پورا پورا اختیار فرما دیا گیا ہے۔

فرمایا :إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّہ لِيَغْفِرَ لَھمْ وَلَا لِيَھدِيَھمْ سَبِيلً (137۔4)

جو لوگ ایمان لائے اس کے بعد پھر کافر ہوگئے، پھر ایمان لائے  اس کے بعد پھر کافر ہوگئے اور پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے تو نہ اللہ ان کی مغفرت کرے گا اور انہیں راہ راست کی ہدایت ہی کرے گا۔ یہاں صرف ایک بار مرتد ہونے کا  ذکر نہیں ہے بلکہ  دو بار مرتد  ہونے کا تذکرہ ہے۔ اگر ار تداد کی سزا قتل  ہوتی تو پہلی بار ارتدا د کے بعد قتل کردیا جاتا  دوسری بار ارتداد  کی نوبت  ہی نہ  آتی ۔ مرتد کے متعلق  یہ حکم نہیں دیا گیاکہ انہیں  قتل کردہ بلکہ یہ فرمایا کہ ان کی  بخشش  نہیں  ہوسکے گی ۔ یہ ٹکڑا ہمارے دین کے دشمنوں  نے لگایا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر بندوں کا حکم  یہ ہے کہ جو اسلام سے پھرگیا اس کا سرتن سے جدا کیا جائے ۔ یہ بھی حقیقت  ہے کہ ہر مذہب کے نزدیک دوسرے مذہب کا پیرو کار کافر اورمرتد ہے۔ رجال الدین  کے ہاتھوں قتل ہونے والے ایسے  ہی فتوؤں  کی رو سے قتل  کئے جاتے رہے ہیں ۔ اس وقت لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہورہے تھے دین کے دشمن فکر مند ہوئے  کہ اس سلسلے  کو کس طرح روکا  جائے ؟ ان کی سمجھ میں  یہی آیا کہ مرتد ( اسلام سے نکلنے والے) کی سزا والی بات اگر پھیلادی  جائے، کہ جو اسلام سے نکلے  گا اس کا سرقلم کردیا جائے گا ۔ تو  بلاشبہ  کچھ فرق پڑا مگر یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(5) قرآن کریم کا حصول  تعلیم ہر مسلمان کے لیے یکساں ہے ۔طالبُ العِلمِ عَلٰی کُل مُسلِم وَ مُسْلِمَۃً علم کا حصول  ہر مسلمان مر داور عورت  کا حق ہے۔ ہر فرد کو یکساں مواقع ملنا اس کا حق ہے ، عرب ممالک میں ایسا ہے۔ بادشاہ اور چوکیدار  کا بیٹا ایک ساتھ پڑھتے ہیں اور امور مملکت کے لئے معیار ہے۔ قَالَ إِنَّ اللَّہ اصْطَفَاه عَلَيْكُمْ وَزَادَهبَسْطۃً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ (247۔2) ‘‘انہوں نے کہاکہ اس شخص کو اللہ نے تم پر Leader ship کے لیے اس وجہ سے منتخب کیا ہے کہ یہ بہترین   علم اور جسم رکھتا ہے ۔ ’’  اور ماضی کا بے داغ ہونابھی لازم  ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب  نبوت کا دعویٰ کیا تھا تو مخالفین نے  ثبوت  مانگا تھا کہا ہم کیونکر یقین کرلیں کہ  آپ سچے ہیں تو ان کے جواب کو اللہ نے قرآن میں محفوظ کرلیا ۔ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِہ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (16۔10) ( میں تم میں کوئی اجنبی  نہیں ہوں) میں نے تم میں ایک عمر گزاری  ہے ۔ میرا ماضی تمہارے سامنے ہے۔ کیا  میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے ، وعدہ  خلافی کی ہے،  کسی کا حق مارا ہے ، کسی کو دھوکہ دیا ہے۔ اگر نہیں تو میرا یہ قول بھی سچا ہے کہ میں نبی ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مگر ہمارے وطن  میں حکمرانوں کی اولاد یورپ کی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرتی ہے ۔ اس لئے کہ انہوں نے  پڑھ لکھ کر حکومت کی باگ ڈور سنبھالنی  ہوتی ہے۔اغنیاء کی اولاد مشنری کے تحت  قائم شدہ اسکولوں میں پڑھتی ہے اور سرکاری اسکولوں میں کلرکوں کی کھیپ تیار ہوتی ہے ۔یہاں اسلامی احکامات دوربین  میں بھی نظر نہیں آتے ۔ رہی  یہ آیت کہ حکمرانی کے لئے ۔ زَادَهبَسْطۃً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ (247۔2) ‘‘ بہترین علم اور جسم کا ہونا’’ اس سے مراد ہم نے یورپ اور امریکہ کی تعلیم کو سمجھا  ہے جہاں غریب کی پہنچ ہی نہیں ہے۔ ہے نا عظیم تضاد۔ علم تو علم ہے اس میں اسلامی اور غیر اسلا می نہیں ہوگا ۔اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ  اطلب العلم لوکان بالصین تعلیم  حاصل  کروچاہے اس کے لئے چین جانا پڑے۔ تو چین میں دینی تعلیمی درسگاہیں تو نہ تھیں ۔ یہی  کائناتی علوم تھے  جس سے انسانی زندگی  میں آسانیاں پیدا ہوں ۔ اور کائناتی پوشیدہ قوتیں  تسخیر  ہوں اور ان سے کام لیا جائے ۔ چین سے بھی یہ مراد لیا جاسکتا ہے کہ چاہے  حصول علم کے لئے  تمہیں  دور دراز کا تکلیف  دہ سفر کیوں نہ  اختیار کرنا پڑے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(6) اسلام کے صدر اول  میں سقیفہ  بنو سعد  میں انتخاب ہوا تھا جسے  عربی میں ( اصوات) کسی کے حق میں آوازیں بلند کرنا اور انتخاب بھی کہتے ہیں ۔ ووٹ  کو تصویت او ر الا قتراح ۔ کہتے ہیں  اُس بابرکت اور زریں  دور میں  کسی نے اپنے آپ کو اقتدار  کےلئے پیش نہیں کیا ۔تاریخ گو اہ ہے کہ حضرت عمر بن رضی اللہ عنہ  خطاب  کو خنجر لگنے  کے بعد   جب جانشین کی بات اٹھائی گئی تو ایک  شخص نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ ‘‘ عبداللہ بن عمر’’ ( عمر رضی اللہ عنہ  کے صاحب زادے) کوخلیفہ بنایا جائے ۔ حضرت  عمر رضی اللہ عنہ  نے جواب دیا ‘‘ میں نے تمہارے  ساتھ کیا براکیا ہے جو تم مجھے یہ صلاح دےرہےہو۔ اگر خلافت بری چیز  ہے تو عمر  نے بھگت لیا،  اگر اچھی چیز  ہے تو اوروں کو بھی یہ مو قع ملنا چاہئے ’’ ۔........... انہوں نے فرمایا تھا کہ ایک سربراہ  کو اقتدار سے پہلے ایسے  نظر آناچاہیے جیسےوہ سردار ہو۔ اقتدار کے ملنے کے بعد وہ ایسے لگے جیسے وہ انہی میں سے ایک عام فرد ہو۔ یا خادم۔ وہ خالی  جیب اقتدار کے لئے آتے تھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارے دور میں عوام کی خدمت  کےلئے  وہ زرضمانت لئے گھنٹوں قطار  میں کھڑے رہتے ہیں ، اگر ٹکٹ نہ ملے یعنی  لٹیا ڈوب جائے تو زار وقطار روتے ہیں ایسے  ہیں کہ یار دوست ٹشو پیپر کا ڈبہ ساتھ  لئےپھر تے ہیں ۔ ٹکٹ  مل جائے تو پھر کروڑوں روپے الیکشن میں خرچ کرتےہیں۔اگر ناکام ہوئے تو  گھر  میں صف  ماتم بچھ جاتی لوگ تعزیت کے لئے آتے ہیں ۔ پرانے صوبہ سرحد  اور نئے خیبر پختو نخواہ  میں ایک ہار ے  ہوئے امید  وار کو میں نے  کہا بڑا افسوس ہوا آپ  ہار گئے وہ لڑنے مرنے کو تیار ہوگئے ۔ میں نے ان کے چھوٹے بھائی سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے آپ  کے  بھائی صاحب  آپ سے باہر  ہوگئے ؟

کہا آپ  کو اایسا نہیں  کہنا چاہیے تھاکہ آپ ہار گئے ۔ آپ کو  یہ کہنا چاہیے تھاکہ  افسوس  ہے آپ  پیچھے رہ گئے ۔ یا کم ووٹ ملے ہیں۔ دیکھا  جائے تو اس محاذ پر ہمارے پاکستانی جانثاری میں صحابہ  کرام  سے دوتین میل آگے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(7) طلاق  کے متعلق اللہ تعالیٰ  نے فرمایا ۔الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (229۔2) شادی شدہ جوڑے میں طلاق  تو دو دفعہ  ہے اس کے بعد ( سوسائٹی میں معروف طریقے سے ) اسے ہاتھ سے پکڑ کر گھر میں بٹھا لو یا احسان کے ساتھ رخصت کردو۔ اگر تیسری بار بھی طلاق دی جائے تو پھر رشتہ ازدواج کا بندھن ٹوٹ جائے گا ۔ یہ تھا اللہ کاحکم  جو قرآن کریم میں  مذکور ہے۔ اب انسانوں  کا رائج طریقہ ملاحظہ کیجئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(8) رب نے طلاق  مرتٰن یعنی دو مرتبہ کی رعایت دی ہے۔ انسانوں نے رب  کی عطا ء کردہ  رعایت ٹھکرادی ۔ اور دو یا تین مرتبہ کا کام ایک ہی مرتبہ میں نمٹا  دیا ۔اگر ڈاکٹر کسی مریض  کو دوا دے اُس بوتل میں جس پر خوراک کانشان لگا ہوتا ہے اور کہہ دے (ثلاثہ جر عات فی یوم واحد) تین خوراک  ایک دن میں تو اس کا مطلب ہےآپ کو یہ دو ایک  ہی بار حلق  سےنیچے اتا رنا نہیں ہے  بلکہ  آپ نے دن کو تین  حصوں میں تقسیم کرکے ایک ایک خوراک لینی ہے۔ نہ کہ ایک ہی  بار تین خوراک  لینی ہے۔ ایک با ر تو پوری بوتل  پی لیجئے  ایک ہی خوراک شمار ہوگی۔

طلاق مرتٰن  کا یہ مطلب  کہا سے نکلتا ہے کہ آپ ایک ہی نشست میں تین طلاق دے کر فارغ ہوجائیں، نہ تو ڈاکٹر نے ثلاثہ  جرعات بالمرۃ ( تین  گھونٹ ایک ہی مرتبہ) کہاہے۔ اور نہ رب نے الطلاق بالمرۃ (طلاق ایک ہی مرتبہ کہا ہے)لیکن  ہمارے ملک کا قانون یہی  ہے کہ یہ جادوئی  لفظ منہ سے نکلا بیوی گئی ہاتھ سے ۔ طلاق کے معنی ہیں چھوڑ نا یا آزاد کرنا میں جب عرب فورس  میں تھا تو سال میں دو چاند ماری کے لئے جاتا  تھا ۔ ہمیں  دو قسم  کے حکم ملا کرتے تھے ۔ خمسہ رھی راقدً اطلق طلقہ طلقہ علی ھدف ۔  پانچ گولیوں  کولیٹ کرطلاق دو یعنی آزاد کردو ( طلقہ طلقہ) گاایک ایک کرکے ھدف پر ۔ سٹین گن میں 32/30 گولیاں ہوتی تھیں ۔ 32 گولیوں سے ایک بار گی جان چھڑا نےوالے کو سزا  اور برخواست بھی کیا جاتا  تھا ۔  دوسرا حکم ہوتا تھا ۔ خمسہ رمی راقدً اطلق سریع بالمرۃ علیٰ ھدف ۔  یعنی پانچ گولیاں لیٹ کر سرعت سےایک بار ھدف پر چھوڑ دو یعنی  طلاق دو۔

جس نے طلقہ طلقہ  کے حکم ملنے پر ایک ہی بار ساری بندوق خالی کردی اسے فیل کردیا  جاتاتھا ، جو اللہ کی طرف سے دو بار کی رعایت قابل توجہ نہیں سمجھا ایک ہی بات تین  طلاق  کہہ کر اسے تین طلاقیں  سمجھ  کر بیوی کو فارغ کردیتا ہے ۔ وہ کیسے  پاس ہوسکتا ہے کینڈیڈیٹ سے  اس قسم کے سوالات  پوچھنے چاہئیں  نہ کہ مردہ کیسے نہلا یا جاتا ہے یا دعائے قنوت پڑھ کر سنائیے یاد رہے کہ ایک ہزار طلاق بہ یک نشست ایک ہی طلاق کہلائے گی ۔ طلاق کہنے  کی چیز یا پڑھنے کی چیز نہیں  ہے ۔ یہ عمل ہے اس عمل کے لئے میاں بیوی  ایک ساتھ مجاز اتھارتٹی  کے پا س جائیں  اور کہیں  ہم علیحدگی  چاہتےہیں  ۔ وہ  رجسٹر میں درج بھی کر دے گا اور فارغ کردے گا رب کا بھی  یہی حکم  ہے آپ اکیلے  میں ( طلق رَأساً)Immediately  یہ عمل نہیں کرسکتے ۔ نہ آپ نکاح  اکیلے میں کیا تھا ۔ جب نکاح کا بندھن توڑنا ہو تو اس کے لئے قرآن کا حکم ہے ۔ وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِھمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَھلِہ وَحَكَمًا مِّنْ أھلھَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللّہ بَيْنَھمَا (35۔4)  اور اگر میاں بیوی  کے درمیا ن علیحدگی   کا خدشہ ہوتو دو حاکم عورت  کی طرف سے اور دو شوہر کی طرف سے  لو وہ صلح کرائیں اللہ  مواقفت  پیدا کرے گا۔ اگر فیصلہ  نہ ہوسکا تو بات طلاق تک پہنچے گی۔ یہ ہے اللہ کا حکم  جو طلاق سے پہلے لازم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(9) اللہ کا حکم ہے ۔ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُولَٰئِكَ ھمُ الْكَافِرُونَ (44۔5) جو اپنے فیصلے  اللہ کے نازل  کردہ کتاب کے مطابق نہیں کرتے وہ کافر ہیں ۔ حکومت کا فرمان ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت ہے خلا ف نہیں ہوگا۔ یہ  کتنی اچھی  بات ہے۔ اسلامی ملک اسلامی  قانون ۔ مگر یہ ایسا ہے جیسے میم کو لا چا پہنا کر مطمئن ہوجائے کہ گلو ر یا ولسن الحمد اللہ مسلمان  ہوگئی۔ یا صلیب  کو زمزم سےدھوکر پہن  لیا جائے ، اب پہننے  میں حرج  نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوپر اللہ کی جس کتاب  کا ذکر ہے وہ تو بالکل ایسا ہے جیسے  ہم خط کے اوپر ( 786) لکھتے ہیں ۔ ہمارے ہاں عدالتوں  میں فیصلے  قانون  کے مطابق ہوتے ہیں  پہلے رومن  لاء اب محمڈن لاء جوڈی ایف  ملایعنی  ڈینش فریدون ملاکی لکھی  ہوئی کتاب ہے جو ایک پارسی ہے ۔ کسی مسلم  ملک کے لئے قانونی کتاب ایک پارسی  لکھے  یہ تو ایسا ہی ہے کہ ہم کھانے کےلئے  گائے  کسی  بلونت سنگھ سے ذبح کرائیں ۔ وکلا ء حضرات عدالتوں  میں بعض اوقات حوالے ہندوستان اور برطانیہ  کے دیتے ہیں ۔ مکے مدینے یا قرآن کریم کا حوالہ کہیں نظر نہیں  آیا ۔ قرآنی قوانین  کی رو سے  کسی مجرم  کو استثنیٰ حاصل نہیں  ہے ۔ یہ  صدر اور گونر  یا وزراء صاحبان کو ہر قسم  کے جرم سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ اعتزاز احسن  صاحب نے ( جیوٹی وی) پر فرمایا تھا کہ اگر سربراہ بیوی  بچوں کو قتل کردے یا بندوق  اٹھا کر لوگوں پر گولیاں برسانا شروع  کردے تب بھی اس پر مقدمہ نہیں چلا  یا جاسکتا اور گورنر وں  کو بھی یہی  استثناء حاصل ہے  ۔کیا  یہ قرآن و سنت کے موافق عمل ہے؟۔

ہماری عرض  صرف اتنی ہے کہ جو کچھ کرنا ہے کرتے جاؤ مگر قرآن کا نام بیچ  میں نہ لو،یا اپنے عمل  کو اللہ رسول کی سپورٹ نہ دو یہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنی  گندگی کو صاف کرنے کے  لئے  زمزم  کا پانی استعمال  کرے ۔ کیونکہ عمل جب قرآن کے خلاف کرنا ہے واجبی  مسلمانوں  کو یہ تاثر ملتاہے کہ واقعی  یہ قرآن کاحکم ہوگا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(10)   ہمارے ہاں وزراء اور صدورصاحبان  منصب  سنبھا لتے وقت حلف اٹھاتے ہیں ۔ آ ج کل تو حلف برداری  کی رسم  انگریزی  زبان  میں ہوتی ہے مجھے اس پر اعتراض   نہیں  ہے آخر امریکہ جیسی بڑی حکومت  کے صدور اور گورنر  وغیرہ  سنا ہے ( اردو) میں حلف اٹھاتے ہیں اور بسم اللہ سے تقریر شروع کرتے ہیں سائیں بابا  لوگ کہتے  ہیں ان  کی بخشی ہوئی حکومت  کی حلف برداری  کی رسم انگریزی میں لازم ہے، تاکہ انہیں  بھی پتہ  چلتا رہے  کہ ہماری قائم کردہ حکومت کی کار کردگی اُن  خطوط پر برابر چل رہی ہے جو انہوں نے دیئے تھے  ۔ جب ہی تو با با لوگ پیسہ دے گا۔ خیر میں سائیں بابا  کے کہنے  پر یقین نہیں کرتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میری عرض  اتنی ہے کہ کیا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور علی  رضی اللہ عنہ بن ابی طالب  نے حلف اٹھا یا تھا؟  انہوں نے حلف نہیں اٹھایا تھا اورتابناک  کردار  کے نقوش چھوڑ گئے ہیں۔ ہمارے ہاں حلف اٹھایا جاتا ہے   اور ہمارے کردار گندے  ، ہماری زندگی  مجرمانہ  ہمارے دھندے غیر قانونی ہماری  ڈگریاں جعلی دنیا میں جتنی برائیاں  ہیں وہ ہم میں  کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں۔ اگر بھگوان داس اسمبلی   ممبر برُے دھندے کرتا ہو تو لوگ کہیں گے  مسلمان نہیں تھا حلف نہیں اٹھایا تھا اس  لئے اب بھی برے دھندے کررہا ہے۔ لیکن جو مسلمان  حلف اٹھانے کے بعد برُے دھندے کرے ان کے متعلق لوگ کیا کہیں گے؟ ظاہر ہے کہ اسلام کو بدنام کریں گے۔

 میں بادشاہ  کے باڈی گارڈ ز میں فرینکفر ٹ گیا تھا وہاں ایک ہوٹل میں پوری منزل بک کی تھی  ہم حرس الشرف ۔ Honorary Guards ایک ہال میں بیٹھے چائے پی رہے تھے  بے خیالی میں  میں نے سگریٹ چائے کی خالی پیالی میں بجھا یا۔ میرے پیچھے ایک بارودی ویٹر کھڑا تھا وہ آگے بڑھا مجھ  سے پوچھا عربی  ؟ میں سمجھ  گیا کہ غلطی  ہوگئی مگر اپنے وطن کو بدنام نہیں کرنا چاہتا  تھا ۔ میں نے کہا  عربی! وہ ایک چھوٹے سےکمرے میں گیا اور ایک کارڈلا کرمیرے  سامنے رکھا ۔  پر عربی میں لکھا  تھا :

اذانت شخص من ھذا القبیل  تطفاء سجارتک فی کوب الشائے فلما تزور موۃ ثانیۃ نقدم لک  شائے فی منفضۃ السجائر ۔ اگر تم اس قسم کے آدمی ہو کہ سگریٹ چائے کہ کپ  میں بجھاتے ہو ، تو آئندہ جب آپ  آئیں گے تو آپ کو چائے  ایش ٹرے میں پیش کی  جائےگی۔

مجھے شرمندگی ہوئی غلط  کام بھی کیا اور جھوٹ بھی بولا۔ مگر ایک خوشی ہوئی کہ اپنا وطن بدنام نہیں کیا۔ یہ کس قسم کے لوگ ہیں کہ اسمبلی  کی باوقار عمارت  میں حلف اٹھا کر اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ کرپشن بدکرداری  ٹیکس چوری، ان کے ماتھے کا جھومر ہے، جعل سازی  ان کا فن ہے جعلی ڈگریوں پر حلف  اٹھا کر اسمبلیوں میں بیٹھے  ہیں، بحث  کرتے ہیں تومیدان جنگ کا گمان ہوتاہے جب بکنے  پر آتے ہیں  تو گھوڑے  ان سے شرما تے ہیں پہلے  تو  ہارس  ٹریڈنگ ہوتی تھی ، اب سنا ہے  اصطبل کا سودا ہوتاہے۔ میری درخواست ہے حکومت سے ۔ ان سےجو کچھ  کرانا ہے تو بغیر حلف کے کرایئے ۔ ان سے حلف  لینا دین اور قرآن کو بدنام کرنا ہے۔ ان سے بھی التجا ء ہے اگر  حلف لینا ہی  پڑ جائے تو کہہ دیں کہ میرا نام پر کاش ، ورما، شرما یا بلبیر سنگھ ہے۔

جولائی، 2013  بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL:

https://www.newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad-حسین-امیر-فرہاد/the-quranic-commandments-and-the-prevailing-human-rules--قر-آنی-احکامات-اور-رائج-الوقت-انسانی-احکامات/d/12720

 

Loading..

Loading..