New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 12:32 AM

Urdu Section ( 21 Apr 2013, NewAgeIslam.Com)

Expired Medicine, Retired General and Old Tyre ایکسپائرڈ دوا، ریٹائرڈ جنرل او رپرانا ٹائر

 

حسین امیر فرہاد

اپریل، 2013

نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ۔ بہت دور سے، یا اوپر سے جب کوئی  دنیا  میں  (پاکستانی سیاہ ست کا اکھاڑہ) دیکھتے ہیں تو بہت سہانا اور دلفریب نظر آتا ہے ، گویا طالع آزماؤں کو قسمت آزمائی  کی دعوت  دیتا ہے ۔ پہلے زمانے  کی بات ہے کہ ایک شریف اور نیک آدمی ایئر مارشل اصغر خان صاحب  پیرا شوٹ کے ذریعے آسمان  سے اترے کچھ  یہ آرزو بھی تھی کہ ملک اور عوام کی حالت  میں بہتری  لائی جائے ،ابھی انہیں کوئی خاص پذیرائی  نہیں ملی تھی کہ انکی دیکھا  دیکھی ایک دوسرے شریف  انسان  (ایئر مارشل) نور خان سیاسی اکھاڑے میں  پیرا شوٹ کے ذریعے سلامتی  سے اتر گئے ۔ بغیر یہ دیکھے  کہ اکھاڑے میں  گھٹنے گھٹنے تک گندگی کی دلدل  ہے، جب محسوس  ہوا تو وہ بڑی  عقلمندی  سے نکل گئے ، انہیں  معلوم ہوگیا کہ جو عزت  ایئر فورس میں کمائی تھی وہ بھی جاتی رہے گی ۔ البتہ  اصغر خان صاحب کچھ دیر تک ٹکے رہے مگر فضاؤں  میں چہل قدمی  کرنے والوں  کو زمین  راس نہیں  آتی۔

حالیہ دور میں  طاہر القادری  صاحب گھن گرج  ک ساتھ تشریف لائے مگر انہیں  کہا گیا  (بے جا اک پاسے، تیرے جے بوت دکھے نے )  وہ ایک پاسے  بیٹھ گئے اب  بے چار ے کبھی کبھی  بول پڑتے ہیں وہ بھی اس لئے کہ لوگ بولیں گے کہ بولتا ہی  نہیں ۔ حالانکہ ( لب  بولنے کو دیئے ہیں خد انے )

ابھی کل پرسوں کی بات ہے کہ ایک نیا چہرہ  سیاست  کی سکرین  پر اُبھر ا یہ چہرا تھا جناب عبدالقدیر خان صاحب کا ، سلیم صافی صاحب ان سے انٹر ویو لے رہے تھے بغیر کسی لگی  لپٹی اور خجالت  کے انہوں نے اعتراف  کیا کہ وہ سیاست  میں آگئے ہیں ۔ تعجب  کی بات ہے کہ وحی  کا سلسلہ  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعد موقوف  ہوا، لہام قرآن  کریم  سے ثابت نہیں تو انہیں  کیسے علم  ہوجاتا ہے کہ یہ رہنمائی کےلئےفٹ ہیں ۔ انگریز بڑا شاطر تھا جب ہی تو دنیا کو غلام بنا رکھا تھا اور اچھے خاصے صحت مند کو ایک خاص عمر میں ریٹائر  کر دیتا تھاکہ تم اب کام کے قابل  نہیں رہے چاہے گورنمنٹ  ملازم ہو یا ڈیفنس فورس  کے ، ایک خاص عمر  کے بعد اسے  کہتے کہ اب تم گھر جاؤ کچن  کارڈن  میں گوڈی  کرو بچے جو پیار کے لئے منتظر ہیں انہیں پیار دو اور رات کی بچی ہوئی روٹی چوری  کرکے مرغیوں  کو کھلاؤ اور باقی عمر گھر میں گزارو۔

مگر یہ اپنی جان کے دشمن  بن کر چلے  آتے ہیں  قوم کی رہنمائی کرنے ۔ حالانکہ  جب یہ ایک پلاٹون  کی رہنمائی  اور کنٹرول  کے قابل نہیں رہتے تو انہیں پنشن دے کر فارغ  کردیا جاتا  ہے تو یہ قوم کی رہنمائی  کےلئے کیسے خم ٹھونک کر آجاتے ہیں؟ حالانکہ سول اور ملٹری  طرز زندگی  میں بڑا  واضح فرق ہے۔ ملٹری والے دشمن  کے سینے  پر گولی چلانے  میں ماہر  ہوتے ہیں  جیسے غالباً  جون 2011ء میں شہر کراچی  میں ایک نہتے شخص جو زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا اسے گولیاں مار کر ٹھنڈا کردیا تھا جس کی وجہ سے شوٹ کرنے والوں کے کمانڈر کو شرمندگی اٹھانی پڑی اور کئی دن تک معطل رہا ۔ دوسرا  کار نامہ خروٹ آباد بلوچستان کاتھا جب غیر ملکیوں پر فائرنگ کر کے انہیں ہلاک کیا گیا تھا جس میں دو مرد اور تین عورتیں  تھیں اور ایک حمل سے تھی ۔ ان مسلمان چیچن باشندوں کے پاس  سےروسی پاسپورٹ بر آمد  ہوئے ۔ پولیس اور F.C.  نے 170 گولیاں چلائی تھیں۔ جب کہ شہری زندگی  میں ناف سے نیچے نیچے  گولی  مارنی  پڑتی ہے۔ مانا کہ یہ کار نامہ انجام دینے والے لوگ اصلی ملٹری کے نہیں ہوں گے مگر یہ رینجر ز F.C. وغیرہ ریٹائر فوجی ہوتے ہیں۔ ان کے مقابلے پرسول زندگی میں اگر ضرورت پڑے تو پولیس مجرم  کو ناف  سے نیچے گولی مار سکتی  ہے کسی کو جرم کے ارتکاب  سےروکنے اور فرار ہونے  سے روکنے  کے لئے گولی چلائی جاتی ہے زندگی چھیننے کے لئے نہیں ۔

غالباً یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کوئی ملٹری ڈکٹیٹر کامیاب  نہیں ہوا۔ میری شریک حیات نے یہی تو مثال دی تھی جب اس نے کہا تھا کہ آج بچوں  کو کمپنی باغ (نوشہر ہ دریائے کابل کے کنارے) لے چلو۔ تو جب ہم تیار  ہوئے تو دیکھا گاڑی پنکچر تھی پنکچر یا ٹائر بھی پھٹا ہوا تھا، میں نے کہا  آج جانا ممکن  نہیں ہے کل  ٹائر کا انتطام کروں گا اگلے اتوار چلیں گے ۔بیگم نے کہا وہ جو پچھلے سال آپ نے دو ٹائر چھت پر پھینکے تھے ان میں سے کوئی لگالو۔

میں نے کہا اللہ کی بندی ذرا دماغ سے کام لو جس نے پچھلے سال دھوکہ دیا کام کے قابل  نہ رہا او رچھت  پر پھینک دیا گیا وہ اب کیا کام آئے گا؟۔۔۔کہا یہ ملٹری  کے جرنیل صاحبان جو آپ کے ٹائر کی طرح کام کے نہیں  رہتے تو انہیں ریٹائر کردیا جاتاہے پھر یہ رہنما بن کر میدان  میں آجاتے ہیں؟ اور اس وقت تک کار آمد رہتے ہیں جب تک زندہ ہوں ۔ میں  نے کہا اللہ  کی بندی موثر کے ٹائر  اور جنرل  ریٹائر ڈ میں فرق ہوتا ہے۔

کہا کوئی فرق نہیں ہوتا دونوں  ریٹائر کر ٹائر بن جاتے ہیں ۔ جو پلاٹون  کی قیادت  کے قابل نہیں رہتا  وہ قوم  کی قیادت کے قابل  بھی نہیں رہتا ۔ میں اس سے بحث کیا کرتا آپ کو بتاتا چلوں کہ صرف انگریز ہی ایک خاص عمر میں  سرکاری ملازم کو فارغ نہیں کرتے ۔ اللہ کا فرمان ہے ۔وَمَن نُّعَمِّرْه نُنَكِّسہُ فِي الْخَلْقِ أَفَلَا يَعْقِلُونَ (68۔36) اور جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت  (Shape) کو ہی ہم الٹ دیتے ہیں ( مجموعۃ صفات النفیۃ Moral )ہی بدل دیتے ہیں کیا، انہیں یہ دیکھ کر عقل نہیں آتی (65۔36)

دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلی  أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا(5۔22) اور کوئی بدترین عمر کو پہنچ جاتا ہے کہ جو کچھ یاد کیا ہوتا ہے وہ سب کچھ فراموش کر دیتا ہے ۔ اَرْذَلِ الْعُمْر۔ کے معنی  ہیں کہ کوئی تم میں سے ۔Reject, Discard, To cast off or away ریجیکٹ عمر کو پہنچ جاتا ہے۔ اب خود اندازہ لگائیں  کہ کیا اسے قوم کی قیادت سونپنی چاہیے؟ قائد کے انتخاب کی نشان دہی رب نے خود فرمائی ۔

وَقَالَ لھُمْ نَبِيّھُمْ إِنَّ اللّہ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۚ قَالُوا أَنَّی يَكُونُ لہ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنہ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَۃ مِّنَ الْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ اللّہ اصْطَفَہ عَلَيْكُمْ وَزَادَه بَسْطۃ فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللّہُ يُؤْتِي مُلْكۃً مَن يَشَاءُ ۚ وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (247۔2) اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے تم پر طالوت کو بادشاہ بنایا، یہ سن کر وہ بولے ہم پر بادشاہ بننے  کا وہ کیسے حقدار ہوگیا ہے اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں۔ وہ تو کوئی  بڑا مالدار آدمی نہیں ہے۔ نبی نے جواب دیا اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسے منتخب کیا ہے۔ اس کی دماغی  اور جسمانی اہلیتیں دونوں اسے فراوانی  سے عطاء  کی گئیں ہیں اللہ کو اختیار  ہے ہر چیز  اس کے علم میں ہے۔ عبدالقدیر خان صاحب کا علم تو مخصوص تھا اور جسم  تو اب وہ نہ رہا پچھلے  دنوں انہوں نے آپریشن  کرایا تھا ۔ جس کے بابت ہم نے اپنے  مارچ 2012 کے پرچے میں لکھا تھا ۔ ملاحظہ فرمائیے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان او ر کتاب اللہ

یہ کسی کے بس کی بات  بھی نہیں  ہے کہ وہ ہر فن مولا ہو یا ہر علم میں طاق ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ماہرین فنون  کو جب ٹی وی پر مدعو کیا  جاتا ہے۔ وہ اپنے میدان  عمل میں بے شک موتی بکھیر تے ہوں گے مگر دین کے متعلق  ان کا مبلغ علم واجبی  سا ہوتا ہے وہ ایک ٹھیلے والے ، چوکیدار، کسی نمازی  پرہیز گار یا دکاندار سے زیادہ نہیں جانتے۔ علامہ رحمت اللہ طارق  مرحوم نے بھی ڈاکٹر قمر زماں  صاحب  نے یہی کہا  تھاکہ میں خاندانی سنا رہوں  جوتے گانٹھنا نہیں  جانتا ۔ چلو مان  لیتے ہیں کہ دین کے بارے میں ایک شخص واجبی علم رکھتا ہے ، مگر جب وہ وہی واجبی  علم دوسروں پر ٹھونستا  ہے اور اس کے ثمرات  کے گن گاتا  ہے اور لوگوں کو اپنی طرف سختی سے مائل کرتا ہے اور ایسا کرنے والے کو سماج میں نمایاں  مقام ہو، عزت و احترام ہو اور عوام بھی روائتی مسلمان ہوں یعنی مسلمان  کے گھر میں پیدا ہونے سےمسلمان  کہلاتے ہوں ۔ تو لوگ  اس کی طرف نہ صرف متوجہ  ہوتے ہیں بلکہ اس کے کہنے پر عمل  بھی کرتے ہیں ۔

علاوہ اس کے کوئی بھی شخص جس موضوع پر دسترس نہ رکھتا ہو وہ اس پر بولنے  سے پر ہیز  کرتاہے مگر دین  ایک ایسا موضوع (Subject) ہے جس پر ہر شخص بے تکان بولتا ہے ۔ بے چارہ دین  ۔ یہ سطور تمہید  ہیں اس مضمون  کی جو ملک کے مایہ ناز  سائنس دان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب  کا تین کالمی مضمون  اخبار جنگ کراچی  میں دو قسطوں  میں ۔ 19 جور 26 دسمبر 2011 کو شائع ہوا ہے۔ مضمون  کا لب لباب یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی کمر میں درد تھا اور فوری  علاج کروانا چاہتے  تھے ۔ یہ ایک طویل مضمون ہے ، اس میں درجن بھر ڈاکٹروں کے نام ہیں جنہو ں  نے آپریشن اور علاج میں حصہ لیا اور درجنوں  سیاسی رہنماؤں   کے نام بھی جنہوں نے صحت یابی پر مبارک باد کے پیغامات اور  گلدستے بھیجے ۔ ان کی صحت یابی پر ہمیں بھی خوشی ہے۔

فرماتے ہیں کہ اگر ہمارا ایمان  اعتقاد پکاہے اللہ تعالیٰ پر تو ہر مصیبت  آسان کر دیتا ہے ۔ دیکھئے  اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر نفس کو مت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور ہمیں اسی کے سامنے حاضر ہونا ہے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر تکلیف کے ساتھ آرام ہے۔ حضرت ابوالقاسم القشیر ی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول  ہے کہ ان کا ایک بیٹا بہت شخت بیمار ہوگیا ، اور قریب المرگ  ہوگیا۔ آپ نے دعا مانگی  اور خواب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ تم آیات  شفاء سے کیوں  دور رہتے ہو کیوں ان سے استفادہ نہیں کرتے، میں بیدار  ہوگیا اور اس پر غور کرنے لگا  تو میں نے  ان آیات  شفاء کو کتاب الہٰی  میں چھ جگہ پایا ۔ (1) اللہ شفا دیتا ہے مومنین  کے سینوں  کو سورۃ توبہ آیت 14 (2) سینے میں  جو تکلیف  ہے ان سے شفاء ہے سورۃ یونس آیت 57 (3) ان (مکھیوں ) کیپیٹ سے نکلتی  ہے پینے  کی چیز  (شہد) جن کے رنگ مختلف  ہوتے ہیں لوگوں کےلئے ان میں شفاء  ہے سورۃ نحل  آیت  69 (4)اور قرآن میں ہم ایسی  چیز نازل کرتے ہیں جو مومنین کےلئے شفاء اور رحمت  ہے سورۃ بنی اسرائیل  آیت 83 (5) اور جب میں بیمار  پڑتاہوں تو اللہ شفاء دیتا ہے سورۃ الشعرا آیت 80 (6) فر ما دیجئے آپ صلعم  کہ مومنین کےلئے یہ ہدایت اور شفاء ہے سورۃ حم السجدہ آیت 44۔ حضرت قشیری نے فرمایا کہ میں نے ان آیات کو کاغذ پر لکھا  او رپانی میں گھول  کر بچے  کو پلادیا اور اللہ  نے اس کو جلدی  شفاء فرما دی گویا وہ بیماری  ہی نہ تھا ۔ بحوالہ مدارج النبوۃ۔

فرماتے ہیں  کہ ڈاکٹروں  نے میری بیگم  سے میری بے فکری  اور اللہ پر توکل کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ان کو اللہ تعالیٰ پر مکمل اعتماد و اعتقاد ہے وہ ہمیشہ سورۃ توبہ آیت  51 کا حوالہ دیتے ہیں۔ کہ ہمیں  کوئی گزند نہیں پہنچا  سکتا سوائے  اللہ کی مرضی کے اور وہی  ہمارا محافظ  ہے۔ قرآن  مجید کیے باترجمہ تلاوت  کرتے ہیں  اور پانچوں وقت کی نماز پڑھتے ہیں ۔

یہ تھی وہ تحریر  جو میرے لئے حیرانی کا سبب بنی  اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب اپنے گھر میں لیٹے ہوئے یہ اعتقاد رکھتے ،آیتیں پڑھ کر اپنے اوپر پھونکتے اور بغیر آپریشن  کے صحت یاب ہوجاتے۔ تو بات معقول  ہوتی مگر مختلف ہسپتالوں اور لاتعداد ڈاکٹروں ، سرجنوں کی خدمات لے کر صحت مند ہونے  والے قوم کو قشیری کے راستے  پر چلا کر قرآن  کریم کی آیات  سے علاج  کا مشورہ دیتے ہیں یہ ہے حیرانی کی بات اور خان صاحب کی اپنے پیشے  سے مخالفت، نا انصافی اور دشمنی ۔ اگر قرآن کی آیات میں علاج ہے تو ڈاکٹر صاحب ہسپتال گئے ہی کیوں؟ لا تعداد ڈاکٹروں  کی خدمات کیوں لی؟ بتوں سے تجھ کو اُمیدیں  خدا سے نا اُمید ی........ بتا تو مجھ کو سہی  اور کافر ی کیا ہے۔ قرآن  تو آیا ہی اس لئے تھا کہ جہالت  ، تو اہمات ، اور ہر قسم  کے اندھیروں کو دور کیا جائے ۔ فرمان الہٰی  ہے يھدِي بہ اللّہ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانہ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجھم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنہ وَيھدِيھمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (16۔5)اس قرآن کے ذریعے اللہ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب  ہیں سلامتی  کی راہیں بتاتا ہے او رانہیں اندھیروں سے نکال  کر اجالوں کی طرف لا تا ہے ۔ اور سیدھی راہ کی  طرف  رہنمائی کرتا ہے۔ او رڈاکٹر صاحب امت کو پھر اندھیروں کی طرف دھکیل رہے ہیں قشیریوں کے حوالے کررہےہیں۔ پہلی آیت کریمہ  جو ڈاکٹر صاحب نے امراض سینہ  کے لیے تحریر فرمائی ہے۔قَاتِلُوھمْ يُعَذِّبْھمُ اللّہ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِھمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيہمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ (14۔9) (1) اللہ شفا دیتا ہے مومنین  کے سینوں کو سورۃ توبہ آیت 14 سوال یہ  ہے کہ قرآن کریم صرف سینوں  کے لئے کیوں  شفا ء ہے  ، گردہ، پیٹ ، گھٹنا او ردانت کے دود کو کیوں فائدہ نہیں پہنچاتا ہے؟ یا بقیہ اعضاء سے قرآن  کو کوئی دشمنی ہے؟

عرض یہ ہے کہ قرآن کریم جسمانی عوارض کے لئے ہے ہی نہیں قرآن کریم کو جسمانی امراض کا علاج سمجھناایسا ہی ہے جیسے کوئی قلم سے پاجامے میں ازار بند ڈالے اور بضد ہو کہ یہ تو ہے ہی اسی لئے ۔ پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ان سے لڑو اللہ تمہارے ہی ہاتھ  سے انہیں سزا  دلوائے گا او رتمہیں ان پر فتح مند کرے گا۔ او ریہ ذلیل و خوار ہوں گے اور اللہ تمہارے (دل یا سینے ) ٹھنڈے کرے گا۔ اور ڈاکٹر صاحب کی تو کمر میں درد تھا سینے میں نہیں ۔ پھرکیسے صحت یاب ہوئے ؟ ڈاکٹر بھی پہلے تو مرض کی تشخیص کرتے ہیں بعد میں  علاج فرمایا ۔وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللّہ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا ھم بِمُؤْمِنِينَ (8۔2) اور ان لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان  لائے اور یوم آخرت پر مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایمان  نہیں لائے ۔ يُخَادِعُونَ اللّہَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَھْمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (9۔2) وہ اللہ او راہل ایمان  کے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں مگر درحقیقت  وہ اپنے ہی ساتھ دھوکہ کرتے ہیں انہیں شعور ہی نہیں  کہ کس طرح فِی قُلُوْ بِھِمْ مَّرَضً کیونکہ  ان کے دلوں میں بیماری  ہے ۔ فَزا دَھُمْ اللہُ مَرَضًا جسے اللہ نے ان کی جھوٹ کے سبب اور بڑھا دیا ہے ۔وَلھُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ (10۔2) ان کے لئے ایک درد انگیز عذاب  ہے اس جھوٹ بولنے کی وجہ سے ۔

اس آیت سے یہ تو پتہ چل گیا ہوگا کہ یہ بیمار ی Heart Disease  نہیں ہے یہ جھوٹ فریب دھوکہ دہی  والی بیماری  ہے ۔ جس کا علاج قرآن کریم میں ہے اگر اس کی صداقتوں پر کسی کا ایمان ہو تب۔ دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبھِم مَّرَضٌ فَزَادَتھُمْ (125۔9) البتہ جن لوگوں کے دلوں کو (نفاق کی ) بیماری لگ چکی ہے سورۃ حج میں ارشاد ہے۔ لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِھم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيۃِ (53۔22) ان لوگوں کے لئے جن کےدلوں میں بیماری  ہے اور وہ پتھر یلے ہوگئے ہیں۔ حالانکہ دل تو گوشت پوست کے ہوتے ہیں ۔ لیکن جس دل میں  اللہ کا خوف نہ ہو وہ سنگ دل کہلاتا ہے ۔ یہ اصلی  پتھر نہیں  ہوتا جن  لوگوں کا ذکر ہورہا ہے ان لوگوں کے دلوں میں ایسی کوئی بیماری  نہیں تھی جس کے لئے Cardiologist  کی ضرورت ہو تی ہے وہ ہٹے کٹے تھے ، تندرست تھے اور اس کے بعد بھی لمبے  عرصے تک زندہ  رہے ۔ بیمار ی ان میں یہ تھی کہ وہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ دھوکہ دہی چالبازی  فریب کرتے تھے۔ جس کے متعلق  اللہ نے فرمایا  يَا أَيّھا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظۃً مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُور (57۔10) مفہوم اے لوگو! ( جس کےدل میں اس قسم کا مرض  ہو) تمہارے  پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی ہے یہ وہ چیز  ہے جو دلوں  کے اس قسم  کے مرض کی شفاء ہے ۔ ڈاکٹر صاحب  کی پیش کردہ آیت نمبر (3) ملاحظہ ہو۔ ان (مکھیوں) کے پیٹ  سےنکلتی  ہے پینے کی چیز (شہید) جس کے رنگ مختلف  ہوتے ہیں  لوگوں  کے لئے ان میں شفاء ہے سورۃ نحل آیت 69۔ یہ آیت کریمہ ڈاکٹر صاحب کے تمام تانے بانے کو اُدھیڑ کر رکھ دیتی ہے۔

مہرباں جس کو سمجھتے  تھے ستمگر نکلا                                  لعل پہ جس کا گماں  کرتے تھے پتھر نکلا

اگر ڈاکٹر صاحب  اس موضوع پر قلم ہی نہ اٹھاتے تو بہتر تھا ۔ جب ڈاکٹر صاحب آیت  کے ترجمے  میں فرماتے  ہیں کہ اللہ  کا فرمان  ہے کہ شہد میں شفاء ہے تو اس پر ہر مسلمان کا ایمان  ہے کہ شہد کے استعمال  سے شفاء ملے گی لیکن  ڈاکٹر صاحب  کی تلقین  تو یہ ہے شہد  والی آیت کے پڑھنے  سے شفاء ملے گی؟ ظلم کے معنی  جور اور استبداد کے علاوہ بے قاعدگی ، غلط  (Wrong) بھی ہے۔ کسی بھی چیز  کا غلط استعمال  اپنی افادیت  کھو دیتا ہے ۔لیکن  کیا کیا جائے ہم من حیث القوم ہر چیز کے غلط استعمال  کے عادی  ہوچکے ہیں ، کوئی چیز  بھی ہم صحیح استعمال  نہیں کرتے ۔ قلم سے ازار بند ڈالتے  ہیں رومال لپیٹ  کر کان صاف کرتے ہیں ۔ ٹائم پیس کا الارم بجا کر روتے ہوئے بچوں کو چپ کراتے ہیں ، چھری کی نوک سے  پیچ کھولنے  کی کوشش کرتے ہیں، جوتے کی ایڑی  سے اخروٹ  توڑتے ہیں ، ہم ان غلط  راستوں پر ایسے چل نکلے ہیں کہ اللہ  کی آخری کتاب کو بھی ہم  نے نہیں بخشا اس سے ہم جسمانی علاج، درد ، تعویذ ، گنڈے  او ر عدالتوں  میں قسموں  کا کام لیتے ہیں  یا اس کے نیچے  سے دلہن کو گزارا جاتا ہے ۔ اور قرآن سے شادی بھی کرتے ہیں۔فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيھمْ ثُمَّ يَقُولُونَ ھٰذَا مِنْ عِندِ اللَّہ (79۔2)

تباہی  ہے ان  کے لئے جو لکھتے تو ہیں اپنے ہاتھوں سے اور کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔

قارئین کرام یہ تھے ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کے خیالات اور اعتقاد ات اگر ان خیالات کے مالک  کو پاکستان کے سٹیئرنگ وہیل  پر بٹھا دیا  جائے تو اس گاڑی  کا اور اس کی سواریوں  کا انجام کیا ہوگا؟ مجھ پر تو ابھی سے کپکپی  طاری ہونے لگی۔

اپریل ، 2013  بشکریہ : صو ت الحق ، کراچی URL:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/hussain-amir-farhad-حسین-امیر-فرہاد/expired-medicine,-retired-general-and-old-tyre-ایکسپائرڈ-دوا،-ریٹائرڈ-جنرل-او-رپرانا-ٹائر/d/11247

 

Loading..

Loading..