New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 03:30 AM

Urdu Section ( 5 Oct 2016, NewAgeIslam.Com)

The Stars Appear Different From What They Actually Are (ہیں کوا کب کچھ ...... (10

 

 

حسین امیر فرہاد

ذکر

اگر لفظ کا ترجمہ بھی غلط کردیا گیا تو سمجھ لیجئے گاڑی غلط پٹریوں پر چل پڑی اب دم بہ دم منزل سے دور ہوتی جائے گی ۔ عربی کے کسی لفظ کو اپنا جامہ پہنانا بھی خطرناک رجحان ہے۔ ہماری کمپنی (کویت) میں ایک مصری چوکیدار تھا جو ایک آنکھ سے کانا تھا ۔ پاکستانی اسے یہ کہہ کر اکثر تنگ کرتے تھے (وکان من الکافرین) اور ترجمہ یہ کرتے تھے کہ کانا کافر ہے۔ یہ رجحان درست نہیں ۔

یہ بھی عربی زبان کا لفظ ہے قرآن پاک میں اپنے مادہ کے تحت تقریباً دو سو اسّی بار آیا ہے ، معنی ہیں ‘‘یاد’’ یہ ‘‘نسی’’ یعنی بھول کی ضد ہے۔ اس لفظ کا غلط ترجمہ کر کے تسبیح گھما نے کا جواز پیدا کردیا گیا ہے۔ اس کے معنی ہیں کسی چیز کو محفوظ کرلینا، کسی بات کو یاد کرلینا اور تذکرہ کے معنی ہیں وہ جس سے کسی کو کوئی بات یاد دلائی جائے ( تبویب القرآن)

(تذکرہ سینما ئیہ) سنیما کا ٹکٹ اور (تذکرۃ الطائرہ) جمع تذاکر ہوائی جہاز کا ٹکٹ جو آپ کو وقت تاریخ سفر کی یاد دلاتا ہے ۔ یہ بھی کہ آپ کتنا سامان ساتھ لے جاسکتے ہیں اور کون کون سی چیز ممنوع ہے وغیرہ وغیرہ ۔ شہرت و شرف و عزت کا پہلو بھی اس سے نکلتا ہے جیسے قرآن کا ارشاد ہے وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (4۔94) اور تمہارا ذکر بلند کیا گیا ۔ جس کا مفہوم یہی ہے کہ معاشرے میں تمہیں بلند مرتبہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ قانون کےمعنوں میں بھی استعمال ہوا ہے اس اعتبار سے ذکر اللہ سے مراد قانون الہٰی ہے جس کے اتباع سے شرف و عزت او رغلبہ و قوت حاصل ہوتے ہیں ۔

نیز اقوام سابقہ کے وہ تاریخی شواہد جن سے عبرت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن کریم کو بھی اس لئے ذکر کہا گیا ہے ۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (9۔15) بلا شبہ ہم ہی نےنازل کیا ہے اس ذکر (قرآن) کو او رہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ قرآن کو ذکر اس لئے کہا گیا ہے کہ اس قرآن میں گزری ہوئی قوموں کی داستانیں محفوظ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈائری کو عربی میں مُذّکرہ کہتے ہیں اور ہر ڈائری کے اوپر مذکرہ او ر نیچے انگریزی میں ۔Memorandum لکھا ہوتا ہے ، کیونکہ اس میں ‘‘یاد’’ رکھے جانے والے یار دوستوں کے پتے ، ٹیلی فون نمبر او راہم ملاقاتوں او ر دیگر اہم یاد داشتوں کا اندراج کیا جاتا ہے ۔ کسی میموریل ہسپتال وغیرہ کے لئے عربی میں تذکاری کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ طوابع تذکاریہ یادگاری ڈاک ٹکٹ کو کہتے ہیں ۔ اور ‘‘حافظہ ’’ کو انگریزی میں Memory کہتے ہیں ۔ اسی طرح ‘‘ذکر’’ Remember۔ Mention اور Remind کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ ‘‘ذکر بات الماضی ’’ ماضی کی یادیں ۔ یہ ایک مصری کی لکھی ہوئی کتاب ہے ۔ ان تمام معنوں کو خوب اچھی طرح سے الٹ پلٹ کر دیکھ لیجئے ،ذکر کا وہ مفہوم کہیں نہیں ملے گا جو ہم نے ایجاد کیا ہے۔

ہمارے ہاں اللہ کے ذکر سے مراد ہوتاہے زبان سے اللہ اللہ کہتے رہنا اور اسے تسبیح کے دانوں پر گنتے جانا، یا خانقاہوں میں ‘‘ہو حق’’ کی ضر بیں قلب پر لگانا ، یہ ذکر اللہ کا قرآنی مفہوم نہیں ہے ۔ قرآن کریم کی روسے ذکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ انسان زندگی کے ہر شعبے میں سفر حیات کے ہر موڑ پر اللہ کو یاد رکھے اس کے قانون کو سامنے رکھ کر قدم اٹھائے۔ اللہ کے قوانین کو کبھی بھی نگاہوں سےاوجھل نہ ہونے دے ۔ اسے کہتے ہیں ‘‘ اللہ کی یاد’’ اللہ کا حکم ہے ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ (9۔55) اور انصاف سے تو لو وزن میں کمی مت کرو۔ اب اگر کوئی شخص صبح دکان کھولتا ہے صفائی وغیرہ کے بعد اگربتی سلگا کر بیٹھ کر قرآن کریم پڑھتا ہے یا تسبیح لے کر اللہ کا نام لیتا ہے (ہمارے ہاں تقریباً دکاندار کی یہی تصویر ہے) اور گاہک کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے ۔مگر کم تولتا ہے یعنی ترازو میں ڈنڈی مارتاہے ، یا عیب دار سودا بیچتا ہے ۔ یادودھ والا ڈبہ بسم اللہ پڑھ کر کھولتا ہے الحمداللہ پڑھ کر پانی ملاتا ہے،گاہک کےبرتن میں دودھ انڈیلتے وقت چاہے وہ ہر سانس کے ساتھ اللہ کا نام لیتا رہے درحقیقت اسے اللہ یاد نہیں ، وہ اللہ کو فراموش کر چکا ہے ۔ وہ اللہ کے ساتھ کھلواڑ کررہا ہے، اس کے احکام کا مذاق اڑارہا ہے ۔کیونکہ اس اللہ کا تو یہ حکم ہے فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ (7۔8۔99) ذرا برابر نیکی بدی کو سامنے لایا جائیگا یعنی حساب ہوگا ۔ او راللہ سے دلوں کی خیانت پوشیدہ نہیں ۔ وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ اس کے پاس غیب کی کنجیا ں ہیں جسے اور کوئی نہیں جانتا صرف وہ جانتاہے ۔وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ اور وہ تمام خشکی اور تری کا علم رکھتا ہے ۔وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ (59۔6) او رکوئی ایسا پتّا بھی نہیں جھڑتا جس کا اسے علم نہ ہو۔ ایسی ہستی کے ساتھ خیانت کرنا، زیب نہیں دیتا، اس سے تو وہ شخص بہتر ہے جو کم تولتا ہے مگر اللہ کے نام کا ورد کرکے کسی کو دھوکہ نہیں دیتا ۔

اللہ کا فرمان ہے ۔ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (22۔39) جن کے دل ذکر اللہ کی طرف سے سخت ہوجاتےہیں ، ان کےلئے تباہی ہے۔

یہ وہی لوگ ہوتے ہیں ، جو اللہ کے احکامات سے بخوبی واقف ہوتےہیں، پھر بھی اسے نظر انداز کرکے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتےہیں، یعنی چند پیسے زیادہ کمانے کےلئے وہ ایسا کرتے ہیں ۔ حالانکہ ایسے لوگوں کےمتعلق واضح حکم ہے وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ (124۔20) جس نے میرے ذکر سے اعراض برتا یعنی مجھے یاد نہ رکھا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی او راسے میں بروز قیامت اندھا اٹھاؤں گا ۔ سورۃ نساء کی آیہ (103) کہ تم بعد الصلوٰۃ کھڑے بیٹھے لیٹے اللہ کا ذکر کیاکرو، یعنی ہر کیفیت میں اللہ کو یاد رکھو۔

کچھ لوگ اس آیت کریمہ کا غلط مطلب لیتے ہیں ۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (152۔2) ترجمہ کرتےہیں کہ تو میرا ذکر کر تو میں تیرا ذکر کروں گا..... کیا خیال ہے اس ترجمے کےمتعلق ، یعنی ایک تسبیح چوہدری فضل کریم کےہاتھ میں ہوگی وہ اللہ اللہ کرتے رہیں ، اور دوسری اللہ کے ہاتھ میں ہوگی وہ جل جلالہ فرشتوں کے درمیان بیٹھا چوہدری فضل کریم، فضل کریم کرتارہے گا؟ او رمان لیتےہیں کہ بفرض محال رب کے اس طرح کے ذکر ہمارا کچھ فائدہ ہوگا ، مگر رب ہمارا ذکر کرے اس سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ اگر مجھے سیٹھ بدرالدین کہے کہ میں ہر رات سونے سے قبل تیرا ذکر کرتا ہوں سو بار تیرا نام ‘‘حسین امیر فرہاد’’ لیتا ہوں ۔ تو اس سے میرے کون سےسوکھے دھان میں پانی پڑ جائے گا۔ اگر مجھے فائدہ ہی پہنچا نا مقصود ہے تو کچھ رقم مجھے دیدے تین ماہ سے صوت الحق کی اشاعت کےلئے بیٹی سے مدد لے رہا ہوں ۔

پھر جس طرح ہم تسبیح ہاتھ میں لے کر اللہ کا ذکر کرتےہیں اگر اللہ کا مقصود یہی تھا تو اللہ جانتا ہے کہ اس کےلئے بہتر لفظ ‘‘فَاذْكُرُونِي’’ نہ تھا بلکہ ‘‘ عدّدونی ’’تھا یعنی عددونی عدد کم ۔ تم مجھے گنا کردیا میرے نام کوگنا کرو۔ میں تمہیں گنا کروں گا ۔یہی کچھ تو ہو رہا ہے ، جس کو دیکھو اللہ کے نام کی گنتی کررہا ہے۔ اللہ نے انسان کو آنکھیں دی ہیں یہ قدغن نہیں لگائی کہ اسے چوبیس گھنٹوں میں پچاس بار سے زیادہ استعمال نہیں کروگے ۔زبان کو چالیس بار استعمال کروگے اس سے زیادہ نہیں ۔ سانس ایک منٹ میں ساٹھ بار لے سکتے ہو اس سے زیادہ نہیں ۔ پانی کے پانچ گلاس سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے ۔ اگر اللہ نے اس قسم کی کوئی پابندی نہیں لگائی ہے، تو بندے کو کیا حق ہے کہ اس کا نام لے تو گن کر ۔ آج کل توآلہ بھی ایجاد ہوا ہے، دل میں اللہ کا نام لیتے رہو جیب میں رکھے ہوئے آلہ کو انگوٹھے سےدباتے رہو ہند سے تبدیل ہوتے رہیں گے ۔ اسے عربی میں مصباح العدادہ کہتے ہیں ۔ یعنی تسبیحی میٹر ۔

اگر آنے والے دوست سے ہم کہیں کہ ابھی آپ ہی کا ذکر ہو رہا تھا، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے ہاتھ میں تسبیح تھی اور ہم اس کےنام کا ورد کررہے تھے اگر ہم اپنے ساتھی سےکہیں کہ لما وصل السوق ذکر نی اشتری لحم جب ہم بازارپہنچیں تو ہیں یاد دلاناکہ ہم گوشت خریدیں ۔ تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میرا ساتھی تمام راستے لحم لحم کرتا رہے ۔ انسان جو بھی بُرا کام کرتاہے کسی کے سامنے نہیں کرتا، پردے میں کرتا ہے ، کراچی میں اب تو پتہ نہیں لیکن پہلے رمضان میں اکثر ہوٹل دوپہر کو کھلے رہتے تھے اور پردے کے پیچھے روزے خور کھانے میں مشغول رہتے تھے ۔ اگر کسی کو یہ یقین ہوجائے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے ۔ تو وہ حتی الامکان بُرائی سےاجتناب کرے گا ۔ اب آتےہیں مذکورہ بالا آیت کریمہ ‘‘فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ’’ کی طرف۔ اللہ تبارک تعالیٰ کا اشارہ یہ ہے کہ تم جو بھی کرو مجھے یاد رکھو، اگر تم پارچہ فروشی کرتے ہو اور گاہک کو پتہ نہیں کہ گز کیا ہے او رمیٹر کسے کہتےہیں ، تم اسے گز او رمیٹر کی مار مار سکتے ہو، مگر یاد رکھو کہ ایک طاقت تمہیں دیکھ رہی ہے، تم ناکارہ اور عیب دار کپڑا اس کے ہاتھ فروخت کرسکتے ہو، مگر یاد رکھو ایک طاقت تمہیں دیکھ رہی ہے او رتمہارے ہر الٹ پھیر کو اچھی طرح سمجھ رہی ہے ۔ اگر جوا خانے جارہے ہو ، یا میخانے جانے کا قصد ہے یارقص و سرود کی محفل کا ارادہ ہے ، یہ یاد رکھو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے تو گناہ تو اس وقت کئے جاتے ہیں جب کوئی نہ دیکھے ، جب یہ احساس ہوجائے کہ اللہ دیکھ رہا ہے تو پھر بُرائی کی طرف بڑھنے والے قدم رک جاتےہیں ۔ یہ ہوا اللہ کو یاد کرنے نہیں بلکہ یاد رکھنے کا نتیجہ ۔ اب رہا آیات کا دوسرا ٹکڑا ‘‘أَذْكُرْكُمْ ’’ میں تمہیں یاد رکھوں گا ۔ مفہوم یہ ہے کہ میں جب دنیا پر اپنی نعمتیں نچھاور کروں گا تو میں تمہیں یاد رکھو ں گا۔

تسبیح نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکبھی ہاتھ میں لی ہے نہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے ، یہودی مسیحی او رہندو قومیں تسبیح رکھتی تھیں ۔ سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمان کو دنیاوی کاروبار و عمل سےبے گانہ کرنے کے لئے اسے تسبیح پکڑائی گئی ہے۔ تاکہ یہ تسبیح و مناجات میں الجھا رہے ۔ اور تثلیث والے تسخیر کائنات میں معر کے سرکرتے رہیں تیل او رمعدنیات تلاش کرتے رہیں کیا کبھی کسی ایک تسبیح والے بزرگ نے تیل یا معدنیات کی تلاش میں مدد دی ہے؟ کوئی اجتماعی فلاح و بہبود کا کام کیا ہے؟

جون ، 2016 بشکریہ : صوت الحق ، کراچی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/hussain-ameer-farhad/the-stars-appear-different-from-what-they-actually-are--(ہیں-کوا-کب-کچھ--(10/d/108769

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..