New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 07:04 AM

Urdu Section ( 26 May 2026, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

How to Become the Best Woman? – Part One بہترین عورت کیسے بنیں؟

کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام

(قسط اول)

26مئی،2026

·        عورت: ایک فرد نہیں، ایک نسل کی معمار

·        شوہر کی اطاعت: غلامی نہیں بلکہ حکمت، نظم اور خاندانی استحکام

عورت صرف ایک فرد کا نام نہیں بلکہ وہ ایک خاندان، ایک نسل اور پورے معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ وہ محض ایک انسان نہیں بلکہ ایک ایسی ہستی ہے جس کے وجود سے نسلیں سنورتی ہیں، کردار تشکیل پاتے ہیں اور معاشروں کی سمت متعین ہوتی ہے۔ ایک عورت بیٹی ہے تو گھر کی رحمت، بہن ہے تو محبت کا پیکر، ماں ہے تو جنت کا راستہ اور بیوی ہے تو زندگی کا سکون۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے عورت کو محض حقوق دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے انسانی معاشرے کی تعمیر و اصلاح کا ایک عظیم ستون قرار دیا۔

تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا کی بڑی تبدیلیاں صرف حکمرانوں، سپہ سالاروں یا فلسفیوں نے پیدا نہیں کیں بلکہ ان ماؤں نے بھی پیدا کی ہیں جنہوں نے عظیم انسانوں کی تربیت کی۔ ایک ماں کی گود وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں انسان بولنا، سوچنا، محسوس کرنا اور اخلاق سیکھتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ ایک مرد کو تعلیم دیتے ہیں تو ایک فرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے، لیکن اگر ایک عورت کو علم، شعور اور کردار دیتے ہیں تو درحقیقت ایک نسل کو سنوارتے ہیں۔

آج کا دور ایک عجیب فکری تضاد سے گزر رہا ہے۔ عورت کی کامیابی کو اکثر ظاہری حسن، شہرت، دولت، فیشن اور سوشل میڈیا کی مقبولیت سے ناپا جاتا ہے۔ اگر کوئی عورت مشہور ہوجائے، مادی آسائشوں کی مالک بن جائے یا ظاہری دلکشی حاصل کرلے تو اسے کامیابی کا معیار سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انسان کی اصل قدر و قیمت صرف انہی چیزوں سے متعین ہوتی ہے؟

اگر حسن ہی کامیابی کا معیار ہوتا تو بڑھاپا انسان سے عظمت چھین لیتا۔ اگر دولت ہی اصل کامیابی ہوتی تو دنیا کے امیر ترین لوگ سب سے زیادہ مطمئن ہوتے۔ اگر شہرت ہی انسان کی تکمیل ہوتی تو مشہور شخصیات ذہنی اضطراب اور بے سکونی کا شکار نہ ہوتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے کردار، اخلاق، ایمان اور تعلقات کو نبھانے کی صلاحیت میں ہوتی ہے۔

اسلام نے اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کی۔ اسلام نے عورت کو محض جسمانی حسن یا دنیاوی آرائش کا عنوان نہیں بنایا بلکہ اسے عزت، کردار، علم اور ایمان کا پیکر بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اسلام بہترین عورت کی تعریف کرتا ہے تو اس کی بنیاد ظاہری چمک پر نہیں بلکہ باطنی عظمت پر رکھتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: بہترین عورت کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ عورت کہ جب شوہر اسے دیکھے تو خوش ہو، جب حکم دے تو اطاعت کرے اور اپنی ذات اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے۔"

یہ حدیث بظاہر مختصر ہے لیکن حقیقت میں پورے خاندانی نظام کی حکمت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہاں صرف ایک بیوی کے چند فرائض بیان نہیں کیے گئے بلکہ ایک ایسی شخصیت کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جو محبت، اعتماد، وفاداری، خیرخواہی اور ذمہ داری کا حسین امتزاج ہو۔

بعض لوگ جب اس حدیث میں "اطاعت" کا لفظ پڑھتے ہیں تو فوراً یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اسلام عورت کو مرد کے تابع بنا دیتا ہے؟ کیا اسلام عورت کی آزادی کو محدود کرتا ہے؟ کیا یہ تصور عورت کی شخصیت کے خلاف نہیں؟

یہ سوالات اکثر اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کو ان کے اصل پس منظر سے الگ کرکے دیکھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا تصورِ اطاعت غلامی یا شخصیت کشی نہیں بلکہ نظم، حکمت اور اجتماعی زندگی کے استحکام کا اصول ہے۔

ذرا عقلی انداز سے غور کیجئے۔

دنیا کا کون سا منظم نظام ایسا ہے جو قیادت اور ذمہ داری کی تقسیم کے بغیر قائم رہ سکتا ہو؟

ایک ریاست میں آئین ہوتا ہے، حکومت ہوتی ہے، ذمہ داریاں تقسیم ہوتی ہیں۔ ایک ادارے میں سربراہ اور انتظامیہ ہوتی ہے۔ ایک تعلیمی ادارے میں نظم و نسق ہوتا ہے۔ ایک بحری جہاز میں کپتان مقرر کیا جاتا ہے۔

کیا اس کا مقصد باقی لوگوں کی توہین کرنا ہوتا ہے؟

ہرگز نہیں۔

اس کا مقصد انتشار سے بچانا اور اجتماعی مفاد کی حفاظت کرنا ہوتا ہے۔

فرض کیجئے کہ ایک جہاز میں پانچ افراد بیک وقت الگ الگ سمتوں میں چلانے لگیں۔ ایک شمال کی طرف موڑنا چاہے، دوسرا جنوب کی طرف، تیسرا مشرق اور چوتھا مغرب کی طرف۔ نتیجہ کیا ہوگا؟

جہاز منزل تک نہیں پہنچے گا بلکہ تباہی کے قریب ہوجائے گا۔

اسی طرح خاندان بھی ایک مکمل ادارہ اور انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ یہ محض چند افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، ذمہ داریوں، حقوق اور فرائض کا ایک حساس نظام ہے۔ اسلام نے اسی نظام کو استحکام دینے کیلئے ذمہ داریوں کی تقسیم کی تاکہ زندگی تصادم کے بجائے تعاون پر قائم ہو۔

قرآن کریم فرماتا ہے:

"مرد عورتوں پر نگران ہیں کیونکہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر بعض خصوصیات میں فضیلت دی ہے اور اس لئے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔"

اس آیت میں "قوامیت" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ بعض لوگ اس کا ترجمہ حکمرانی یا مطلق بالادستی کرتے ہیں، حالانکہ اس کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ متوازن اور ذمہ دارانہ ہے۔

یہاں قوامیت کا مطلب خدمت، کفالت، حفاظت اور جواب دہی ہے۔

اسلام نے مرد کو اعزاز سے زیادہ ذمہ داری دی ہے۔ اس پر معاشی بوجھ رکھا گیا، خاندان کی کفالت رکھی گئی اور حفاظت کی ذمہ داری دی گئی۔

گویا جہاں اختیار دیا گیا وہاں جواب دہی بھی عائد کردی گئی۔

اسلام کا حسن یہی ہے کہ وہ یکطرفہ نظام قائم نہیں کرتا۔

اگر مرد کو ذمہ دار بنایا گیا تو اسے بھی پابند کیا گیا کہ وہ حسنِ سلوک کرے، ظلم نہ کرے، عدل سے کام لے اور بیوی کے حقوق ادا کرے۔

یہاں ایک اور اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام نے اطاعت کو اندھی پیروی نہیں بنایا۔

شوہر کی اطاعت صرف جائز اور معروف امور میں ہے۔ اگر کوئی حکم شریعت، اخلاق یا انصاف کے خلاف ہو تو اسلام ایسی اطاعت کو لازم نہیں کرتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا:

"خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔"

یہ ایک عظیم اصول ہے۔

ایک طرف اسلام نے خاندان کو نظم دیا اور دوسری طرف ظلم و زیادتی کے تمام راستے بند کردیئے۔

مزید غور کیجئے تو عورت کی جائز اطاعت کمزوری نہیں بلکہ شعور، حکمت اور تعلقات کو سنبھالنے کی صلاحیت کی علامت ہے۔ دنیا کے کامیاب تعلقات صرف حقوق کے مطالبے سے قائم نہیں رہتے بلکہ ایثار، سمجھ داری اور باہمی تعاون سے قائم رہتے ہیں۔

زندگی کی ہر شراکت میں کبھی ایک فریق آگے بڑھتا ہے اور کبھی دوسرا۔ یہی توازن تعلقات کو خوبصورت بناتا ہے۔

ایک سمجھ دار عورت یہ جانتی ہے کہ بعض اوقات اپنی بات جیتنے سے زیادہ ضروری رشتے کو بچانا ہوتا ہے۔ ہر اختلاف کو انا کا مسئلہ بنانا دانشمندی نہیں۔ بعض اوقات ایک لمحے کا صبر، ایک نرم جملہ اور ایک قدم پیچھے ہٹ جانا بڑے بحرانوں کو ختم کردیتا ہے۔

اسلامی تصورِ اطاعت کو غلامی سمجھنا دراصل اس کی روح کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔ اسلام عورت کو بے وقعت نہیں بناتا بلکہ اسے خاندان کی سب سے مؤثر قوت قرار دیتا ہے۔ اطاعت کا مقصد کسی کو چھوٹا کرنا نہیں بلکہ زندگی کو بڑے انتشار سے بچانا ہے، کیونکہ جہاں نظم ختم ہوجاتا ہے وہاں محبت بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔

مختصراً بہترین عورت وہ ہے جو صرف حسنِ صورت کی مالک نہ ہو بلکہ حسنِ کردار، حسنِ اخلاق اور حسنِ تدبیر کی بھی مالک ہو۔ وہ گھر کو محض رہنے کی جگہ نہیں بلکہ محبت، سکون اور اعتماد کا مرکز بناتی ہے۔

اگلی قسط میں: شوہر کو خوش رکھنا: محبت کی نفسیات، قلبی سکون اور خاندانی استحکام  اور یہ کہ ایک عورت اپنی محبت، گفتگو اور حکمت سے گھر کو جنت کا نمونہ کیسے بنا سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کنیز فاطمہ اسلامک اسکالر (عالمہ و فاضلہ) نیز نیو ایج اسلام کی مستقل کالم نگار ہیں ۔

-------

URL: https://newageislam.com/urdu-section/how-become-best-woman-–part-one/d/140164

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..