New Age Islam
Mon May 10 2021, 12:22 AM

Urdu Section ( 12 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

History of Namaz in Islam: Mosque (Part 22) (اسلام میں نماز کی تاریخ - مسجد (22

 

ناستک درانی ، نیو ایج اسلام

13فروری، 2014

مسجد وہ جگہ ہے جہاں مسلمان عبادت کرتے ہیں، آج کے دور میں اس لفظ سے یہی سمجھ آتا ہے،  یہ لفظ مسلمانوں کی عبادت گاہ کو ”کنیسہ“ اور ”توراۃ“ سے الگ کرتا ہے، اول الذکر نصاری کی عبادت گاہ کا نام ہے اور آخر الذکر یہودیوں کی، مسجد کو سجدے کو اعتبار میں رکھتے ہوئے یہ نام دیا گیا کیونکہ یہ عبادت کی جگہ ہے 1۔

لفظ ”مسجد“ بنی ارم اور نبطی زبان میں بھی ملتا ہے، اس کا معنی ہے عبادت کی جگہ 2، یہ عبرانی زبان میں بھی اسی معنی میں آیا ہے 3۔

ہجرت سے قبل مسلمانوں کی کوئی مخصوص مسجد نہیں تھی، کیونکہ وہ قریش کے خوف سے چھپے رہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ کی حدود سے باہر جاکر نماز ادا کیا کرتے تھے، گھروں میں اور ”ابن الارقم“ کے گھر میں بھی نماز پڑھی جاتی تھی، مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز ادا کی تھی، اسی طرح حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بھی کعبہ میں نماز ادا کی تھی تاہم ایسی کوئی مخصوص عمارت جس میں مسلمان جمع ہوکر نماز ادا کر سکیں فتح مکہ کے بعد ہی ممکن ہوسکا جہاں کعبہ اسلام کی سب سے عظیم مسجد بن گیا۔

مسجد قباء کو اسلام کی پہلی مسجد سمجھنا چاہیے کیونکہ اس کی تعمیر اس وقت ہوئی تھی جب آپ ابھی قباء میں ہی تھے اور مدینہ داخل نہیں ہوئے تھے، یہ مسجد اہلِ قباء کے لیے بنائی گئی تھی 4، جب قبلہ کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ قباء تشریف لے گئے اور اس کی دیوار بڑھا کر اس کی بنیاد ڈالی، آپ نے اس کی تعمیر کے لیے اپنے صحابہ کرام کے ساتھ پتھر ڈھوئے، آپ ہر ہفتہ کے دن یہاں پیدل آتے، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بروز پیر و جمعرات آتے 5، کہا جاتا ہے کہ یہی وہ مسجد ہے جسے تقوی پر بنایا گیا ہے جو قرآن میں مذکور ہے 6۔

دوسری مسجد جس کی آپ نے بنیادیں ڈالیں وہ مدینہ میں ان کی اپنی مسجد تھی، اس کی بنیاد ایک باڑے پر قائم کی گئی جو دو یتیموں کی تھی، آپ نے اسے خریدا پھر تعمیر کی، کہا جاتا ہے کہ: مسجد کی جگہ بنی النجار کی تھی، اس میں کھجور کے درخت، کھیتی اور جاہلیت کی قبریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو کھجور کے درخت کاٹ دیے گئے، کھیتی اجاڑ دی گئی اور قبریں اکھاڑ دی گئیں، اس دوران آپ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھا کرتے تھے یا پھر جہاں نماز کا وقت ہوجائے 7۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد خود تعمیر فرمائی جس میں صحابہ نے ان کی مدد کی، آپ ان کے ساتھ خود پتھر ڈھوتے، آپ نے اینٹیں بنانے کا حکم دیا تو بنا دی گئیں، بنیادوں کا حکم دیا تو کھود دی گئیں، بنیادوں کو زمین میں تقریباً تین گز کھودا گیا اور اس کی تعمیر اینٹوں سے کی گئی، لمبائی قبلے سے پیچھے کی جانب سو گز رکھی گئی اور دونوں اطراف میں بھی اتنی ہی رکھی گئی اس طرح وہ مربع شکل کی ہوگئی، کہا جاتا ہے کہ یہ سو سے کم تھی، باڑے میں دلدل تھا جسے برابر کر دیا گیا، مسجد کا قبلہ بیت المقدس کی طرف رکھا گیا اور اس کے تین دروازے بنائے گئے، اور کھجوروں کے تنوں سے اس کے شہتیر بنائے گئے اور چھت پر کھجور کی ٹہنیاں ڈال دی گئیں، اور اس کے پہلو میں اینٹوں سے گھر بنائے گئے اور ان کی چھت کھجور کے تنوں اور ٹہنیوں سے بنائی گئی، تو جب تعمیر سے فارغ ہوئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیاہ کر لے آئے 8۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پتھر ڈھوتے ہوئے فرماتے تھے: الہی آخرت کی بھلائی کے سوا کوئی بھلائی نہیں، انصار اور مہاجروں کی مدد فرما، اور کہتے: جتنی یہ مزدوری نتیجہ خیز ہے اتنی خیبر کی مزدوری نتیجہ خیز نہیں، اے ہمارے رب اس میں زیادہ نیکی ہے 9۔

یہ بھی آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی چھت کھجور کی ٹہنیوں سے بنائی اور قبلہ اینٹوں سے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نہیں بلکہ اوپر تلے لگائے ہوئے پتھروں سے، اور اس کے شہتیر کھجور کے تنوں سے بنائے گئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں شہتیر بوسیدہ ہوگئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ہٹوا دیا، پھر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے اسے چونے سے منقوش پتھروں سے بنایا اور چھت کو ساکھو کی لکڑی سے بنایا اور قبلے کی دیوار کو پتھروں سے تعمیر کرایا، جب بنو عباس کا دور آیا تو سنہ ایک سو ساٹھ میں محمد ابن ابی جعفر المہدی نے اس کی تعمیر نو کرتے ہوئے اسے کشادہ کیا اور اس میں اضافہ بھی کیا، پھر مامون نے سنہ دو سو دو ہجری میں اس میں مزید اضافہ کیا اور اس عمارت کو مضبوط کیا 10۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نو گھر تھے، ان میں بعض کو کھجور کی ٹہنیوں کو مٹی سے لیپ کر بنایا گیا تھا اور چھت کھجور کی ٹہنیوں کی تھی، اور کچھ گھروں کو اوپر تلے پتھر رکھ کر بنایا گیا تھا اور ان کی چھتیں بھی کھجور کی ٹہنیوں سے بنائی گئیں تھیں جو اونچائی میں پست تھیں، اور ان کے کمروں کو عرعر (سرو کی طرح کا ایک درخت) کی لکڑی میں بنی ہوئی گھاس کے ذریعے باندھ کر ڈھانپا گیا تھا، دروازوں کے کنڈے نہیں تھے لہذا یہ ہاتھ سے کھٹکٹائے جاتے تھے، جب نبی کریم کی ازواج مطہرات وفات پاگئیں تو عبد الملک کے دور میں کمروں اور مسجد کو ملا دیا گیا، جب ان کا اس بابت حکم نامہ آیا تو اہلِ مدینہ ایسے رو پڑے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے دن روئے تھے، اور ان کا بستر لکڑیوں کے تختے کا تھا جن پر کھجور کے درخت کی چھال بچھائی گئی تھی جنہیں امیہ کے دور میں فروخت کیا گیا اور ایک شخص نے اسے چار ہزار درہم میں خریدا 11۔

زہری سے مروی ہے کہ: سعد بن زرارہ نے باڑے کو ہجرت سے پہلے مسجد بنا لیا تھا اور اپنے دوستوں کے ساتھ اس میں نماز پڑھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کی آمد سے قبل انہیں جمعہ کے دن جمع کرتے تھے، تو جب آپ تشریف لائے تو آپ نے اسے بدلنے اور مالکان کی تلافی کا حکم دیا جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے 12، اگر ہم اس روایت کو مان لیں تو باڑہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی جگہ ہے اسلام کی پہلی باقاعدہ مسجد قرار پائے گی، رہی بات آپ کے گھر کی تو وہ مکہ میں آپ کی مسجد تھی جس میں آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، اور بیت الارقم بھی مسجد ہی تھا جس میں وہ لوگ نماز پڑھتے تھے جو اس چھوٹی سی جماعت میں سے حاضر ہوتے تھے جب نماز کا وقت ہوجاتا۔

آپ کے صحابہ کرام میں سے کچھ بے سہارا لوگوں نے جن کے گھر نہیں تھے آپ کی مسجد کو ٹھکانہ بنا لیا تھا وہ اسی میں سوتے اور رہتے تھے کہ ان کا اس کے سوا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کا کھانا کھاتے تو انہیں اپنے پاس بلا لیتے اور اپنے صحابہ میں تقسیم کر دیتے اور ایک گروہ آپ کے ساتھ کھانا کھاتا، ان لوگوں اصحاب الصفہ کا نام دیا گیا، ان کے مدینہ میں کوئی گھر یا رشتہ دار نہیں تھے اس لیے آپ نے ان کے لیے صدقہ کرنے کی تلقین فرمائی، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھوکے پیٹ نماز پڑھتے اور بعض کے شدت فقر سے جسم پر کپڑے تک نہ ہوتے 13۔

”مسجد الضرار“ نامی ایک مسجد بھی تھی، اسے بنانے والے بارہ لوگ تھے، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جبکہ آپ تبوک کی تیاری کر رہے تھے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے بیمار اور ضرورت مندوں کے لیے مسجد بنائی ہے جو انہیں بارش اور سرد راتوں سے بچائے گی، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ہاں آئیں اور اس میں نماز پڑھائیں، آپ نے فرمایا: میں سفر کی تیاری میں ہوں اور مصروف ہوں، یا فرمایا: ان شاء اللہ جب ہم واپس لوٹیں گے تو تمہارے پاس آکر اس میں نماز پڑھیں گے 14، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ کو مسجد کی خبر دی گئی جس پر آپ نے اپنے دو صحابہ کو حکم دیا: ان ظالم لوگوں کی مسجد میں جاؤ اور اسے گرا دو اور جلا دو، تو صحابہ گئے اور اسے جلا دیا اور گرا دیا، اس مسجد کو نو ہجری میں گرایا گیا تھا 15۔

اس مسجد پر یہ آیت نازل ہوئی: وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِن قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَىٰ ۖ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ (ترجمہ: اور (ان میں سے ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنوائی کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لیے گھات کی جگہ بنائیں۔ اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی۔ مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں) 16۔

یہ مذکورہ لوگ اور ان کے ساتھی مسلمانوں کے خلاف سازش تیار کر رہے تھے، جب وہ مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں ہوتے تو خبریں چراتے اور آپس میں سرگوشیاں کرتے، کچھ صحابہ نے ان کی یہ حرکت محسوس کر لی، اس لیے انہوں نے مسجد ضرار بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ الگ ہوجائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کو آسانی سے بھڑکا سکیں، عبد اللہ بن نبتل نامی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنتا اور منافقوں تک پہنچاتا تھا 17۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کی خبر ہوگئی، آپ کو معلوم ہوا کہ: ابا عامر جسے الراہب بھی کہا جاتا تھا نے انہیں کہا کہ: اپنی مسجد بناؤ اور جتنی طاقت اور اسلحہ جٹا سکو جٹاؤ، میں قیصرِ روم کے پاس جا رہا ہوں تاکہ روم کی فوج لا سکوں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اس کے صحابہ کو یہاں سے نکال سکوں 18، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوگئی، آپ نے انہیں مسجد بنانے دی پھر اسے تباہ کرنےکا حکم دے دیا۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مسجدِ نبوی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے مسجد کی توسیع کی، آپ نے حضرت عباس بن عبد المطلب سے اپنا گھر فروخت کرنے کی بات کی تاکہ مسجد کو توسیع دی جاسکے، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا گھر اللہ اور مسلمانوں کو ہبہ کردیا چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مسجد میں شامل کردیا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں پتھروں اور شاخوں سے اس کی تعمیر کرائی، ستون پتھروں کے اور چھت ساکھو کی لکڑی سے بنائی گئی۔

مسجدِ نبوی میں اذان کی جگہ سب سے پہلے مروان بن الحکم نے منقوش پتھروں سے بنوائی، اس کے بعد سے عمارت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی حتی کہ الولید بن عبد الملک کا دور آگیا، انہوں نے مدینہ میں اپنے عامل عمر بن عبد العزیز کو لکھا کہ مسجد گرا کر دوبارہ تعمیر کرے، اس کے لیے انہوں نے عمر بن عبد العزيز كو مال، پچی کاری، سنگِ مرمر اور اہلِ شام سے تعلق رکھنے والے اسی رومن اور قبطی کاری گر ارسال کیے، چنانچہ عمر بن عبد العزیز نے اس کی تعمیرِ نو کی اور مسجد کی ذمہ داری واخراجات ”صالح بن کیسان“ کے سپرد کی، اس تعمیرِ نو کی تاریخ ستاسی ہجری اور اٹھاسی ہجری بتائی جاتی ہے، پھر مہدی کی خلافت تک کسی خلیفہ نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

واقدی کہتے ہیں کہ: مہدی نے عبد الملک بن شبیب الغسانی اور عمر بن عبد العزیز کے بیٹوں میں سے ایک آدمی کو مسجدِ نبوی کی توسیع کے لیے مدینہ بھیجا، اس وقت جعفر بن سلیمان ابن علی والی مدینہ تھے، انہوں نے ایک سال تک کام کیا اور مسجد کے عقبی حصہ میں سو گز کا اضافہ کیا اس طرح مسجد کی لمبائی تین سو گز اور چوڑائی دو سو گز ہوگئی، علی بن محمد المدائنی کہتے ہیں کہ: مہدی نے جعفر بن سلیمان کو مکہ، مدینہ اور یمامہ کا والی بنایا، انہوں نے مکہ میں مسجد الحرام اور مدینہ میں مسجدِ نبوی میں اضافہ کیا، مسجدِ نبوی سنہ ایک سو باسٹھ ہجری میں تعمیر کی گئی، مہدی سنہ ایک سو ساٹھ ہجری کو مدینہ آئے 19، اور اذان کی جگہ کو اکھاڑ کر مسجد میں شامل کرنے کا حکم دیا 20۔

حوالہ جات:

1- المفردات برائے راغب الاصفہانی 223۔

2- Cooke, North Semtic Inscriptions, P., 238, Sorter Ency. of Islam, P., 330.

3- Sorter Ency. of Islam, P., 330.

4- المقریزی، امتاع الاسماع 46/1، تاریخ الطبری 383/2 دار المعارف، الروض الانف 11/2۔

5- طبقات ابن سعد 244/1۔

6- التوبۃ آیت 108۔

7- الطبری 396/2، الروض الانف 13/2۔

8- طبقات ابن سعد 239/1، الطبری 397/2، المقریزی امتاع الاسماع 47/1۔

9- طبقات ابن سعد 240/1۔

10- الروض الانف 13/2۔

11- الروض الانف 13/1۔

12- طبقات ابن سعد 239/1۔

13- طبقات ابن سعد 255/1۔

14- الطبری 110/3، نہایۃ الارب 427/16، ابن سید الناس 222/2۔

15- الطبری 109/3، نہایۃ الارب 427/16، المقریزی، امتاع 480/1۔

16- التوبۃ 107۔

17- المقریزی، امتاع الاسماع 482/1۔

18- زاد المعاد 10/3۔

19- مطبوعہ اصل میں لکھا ہے: اور مہدی ساٹھ قبل از ہجری کو مدینہ آئے، جو یقیناً غلط ہے، ابن سید الناس، عیون الاثر 196/1۔

20- عیون الاثر 196/1۔

URL for Part 21:

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--namaz-for-rains-and-safety-from-eclipse-(part-21)-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---نمازِ-استسقاء-اور-خسوف-وکسوف-(21/d/35714

URL of this article

http://www.newageislam.com/urdu-section/nastik-durrani,-new-age-islam/history-of-namaz-in-islam--mosque-(part-22)-(اسلام-میں-نماز-کی-تاریخ---مسجد-(22/d/35735

 

Loading..

Loading..