New Age Islam
Wed Oct 27 2021, 07:26 PM

Urdu Section ( 2 Nov 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Overcoming the Battleground of Divorce طلاق کے مسائل کا حل

 

حنا رضوی

31 اکتوبر 2016

کہا جاتا ہے کہ جب لفظ 'طلاق' بولا جاتا ہے تو پہاڑوں میں بھی زلزلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو اللہ کی نظر میں انتہائی ناپسندہ ہے، تاہم، اگر زوجین کے درمیان جب حالات ناقابل برداشت ہو جاتے ہیں تو ان کے درمیان یہی ایک راستہ بچتا ہے۔

یقیناً زوجین کو کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے خاندان کے تمام افراد کو اس میں شامل کر لینا چاہئے۔ اسلام طلاق کے حتمی فیصلہ تک پہنچنے سے پہلے زوجین کے درمیان مصالحت کے لیے ایک ثالثی قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جب طلاق دینے کا حتمی فیصلہ لے لیے جاتا ہے تو یہ مثبت یا منفی طور پر خاندان کے ہر فرد پر اثر انداز ہوتا ہے جس کے نتیجے میں وہ معاشرہ متاثر ہوتا ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔

اس فیصلے میں بچوں کو ترجیح دی جائے

طلاق کا فیصلہ لینے سے پہلے جن اہم ترجیحات کا دل و دماغ میں رکھنا ضروری ہے ان میں سے ایک ان کے بچے ہیں۔ کبھی کبھی والدین ایک دوسرے کے ساتھ مسائل میں اس طرح الجھ جاتے ہیں کہ وہ بچوں کی ضروریات کو بھول جاتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بچے کتنے بڑے ہو چکے ہیں، ان کی سب سے بڑی ضرورت ان کے والدین ہیں۔ ہم اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں پر جھگڑا کرتے ہیں جبکہ در حقیقت انہیں اپنے مسائل کو بھولنے اور ایک ساتھ خوش اسلوبی کےساتھ زندگی بسر کرنے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔

طلاق کو ایک میدان جنگ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ والدین کو اس مشکل ترین مرحلے کو بچوں کے لئے ممکنہ حد تک آسان بنانے کی کوشش کرنی چاہیے جو کہ یقیناً کہنا زیادہ آسان ہے اور کرنا مشکل۔ کبھی کبھی تو ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ زوجین بچوں کی خاطر ایک دوسرے کو طلاق دیتے ہیں اس لیے کہ وہ اپنے مابین رشتے کی اس تلخی کو اپنے بچوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم طلاق کے دوران اور طلاق کے بعد ان کا یہ فیصلہ ان کے بچوں کے لیے زیادہ نقصان کا سبب ہوتا ہے۔

کردار کُشی

بچوں کو متاثر کرنے والا ایک اور مسئلہ والدین کی کردار کشی ہے۔ دونوں میں سے ایک دوسرے کے خلاف اپنے بچے کو بھڑکاتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جبکہ وہ اس کے منفی نفسیاتی اثرات سے غافل ہوتے ہیں۔ یہ متعدد وجوہات کی بنا پر غلط ہے؛ یہ والدین سے بچوں کو دور کر دیتا ہے، اس سے ان کے اندر اپنے والدین کے تئیں منفی جذبات جنم لیتے ہیں، اس سے ان کے رشتے کی مضبوطی تباہ و برباد ہو جاتی ہے اور ان سب کے علاوہ یہ غیبت کی ایک شکل ہے جو کہ اسلام میں ممنوع اور ناپسندیدہ ہے۔ والدین ایک دوسرے کے بارے میں منفی گفتگو کر کے اپنے بچوں کو یہ دعوت فکر دیتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کے بارے میں ایسی بات کرنا قابل قبول ہے اور یہ ان کی ایک عادت بن سکتی ہے۔

جب چھوٹے بچوں کے سامنے اس قسم کی باتیں کی جاتی ہیں تو ہو سکتا ہے کہ ان کے دل و دماغ میں منفی احساسات پیدا ہو جائیں جن سے وہ ابھر بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی جو کہ ان کی زندگی میں کبھی بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اپنے چھوٹے بچوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے والدین کو یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے ان کا دماغ ایک اسفنج کی طرح ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کے مثبت اور منفی توانائی کو جذب کر لیں گے۔ منفی الفاظ اور اعمال ان کے دماغ میں ایک خاکہ کے طور پر محفوظ ہو جائیں گے۔ کسی بھی منفی یا نقصان دہ رویہ کا ظہور ان کے کردار اور ان کی شخصیت میں ہو سکتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے والدین کو ایک دوسرے کے خلاف ان کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا ہے لہٰذا یہ خصلت ان کے اندر بھی پیدا ہو سکتی ہےجس کی وجہ سے ان کے بہن بھائیوں اور دوسروں کے ساتھ مستقبل میں ان کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

باہمی عزت و احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا انتہائی ضروری ہے

زوجین کو ہمیشہ اور خاص طور پر اپنے بچوں کے سامنے ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مشکل ہو لیکن اس کے بدلے میں ان کے بچے اپنے خاندان کے دوسرے افراد کا بھی احترام کرنا سیکھیں گے۔ صرف اس وجہ سے کہ رشتہ ازدواج اب ختم ہونے کے دہانے پر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب ایک دوسرے کا احترام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ اس کی ضرورت اب خاص طور سے بچوں کی خاطر اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ جب والدین ایک دوسرے کے ساتھ مناسب طریقے سے برتاؤ کرنے کے قابل نہیں ہوتے ہیں تو غرور اور انا کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ بچوں کو نقصان دہ اثرات سے بچانے کے لئے اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ انہیں ان کے والدین کے بارے میں منفی باتیں بتائے جانے کی ضرورت نہیں، انہیں کسی ایک کی طرف داری پر مجبور محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کوئی بوجھ محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے والدین کو دھوکہ دینے والے بچوں اور نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے اس لیے کہ وہ تبادلہ خیال کے خلاء سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اگر والدین اب بھی ایک دوسرے کے ساتھ اچھی طرح بات چیت کرنے کے قابل ہیں اور دونوں اپنے بچوں کی پرورش میں اچھی طرح سرگرم عمل ہیں تو طلاق سے بچا جا سکتا ہے۔

آزاد مرضی بمقابلہ متعینہ قسمت

جب ایسے زوجین کے درمیان طلاق ہوتی ہے جن کے بچے ہیں تو اس وقت سب سے عام سوال جو ہمیشہ پوچھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ 'وہ اتنے بچوں کے بعد کیوں طلاق دے رہے ہیں؟' یا 'انہیں بچہ پیدا کرنے سے پہلے اس بات کا احساس کیوں نہیں ہوا کہ ان کا رشتہ کامیاب نہیں ہو سکتا؟

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہر بچہ اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر بچے کی پیدائش کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ طلاق کے وقت یا بعد کی زندگی میں والدین کے لیے اس وقت سب سے اہم معاون بن جائیں جس وقت انہیں ان کی انہیں ضرورت ہو۔ ہمارا مندرجہ بالا سوال اٹھانا اللہ کی حکمت الہیہ پر سوال اٹھانے کے مترادف ہے۔

اس میں ان کی اپنی آزاد مرضی بھی ہو سکتی ہے اور یہ پہلے سے ان کا مقدر بھی ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ طلاق پہلے سے ہی زوجین کی آزمائش کے لئے ان کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہو۔ ان کی اپنی آزاد مرضی کا کیا؟ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے فیصلے لیتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ یا اپنے ارد گرد دوسروں لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔

ماخذ:

themuslimvibe.com/muslim-lifestyle-matters/overcoming-the-battleground-of-divorce

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/hina-rizvi/overcoming-the-battleground-of-divorce/d/108964

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/hina-rizvi,-tr-new-age-islam/overcoming-the-battleground-of-divorce--طلاق-کے-مسائل-کا-حل/d/108990

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..