New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 09:21 AM

Urdu Section ( 29 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

Quran Kareem: Global Manifesto of Human Rights قرآن کریم: حقوق انسانی کا بے مثال عالمی منشور


حفظ الر حمٰن قاسمی

26 اگست، 2012

دوسری عالمی جنگ کے تجربات اور نتائج سے متاثر ہوکر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  نے 10 دسمبر 1948کو عالمی پیمانے پر حقوق انسانی  (Human Rights) کے تحفظ  کے تعلق سے ایک بل پاس کیا جس کو  Universal Declaration of Human Rights نام دیا گیا۔ اس اعلامیہ میں تمام انسانوں کے پیدائشی حقوق کو یقینی بنانے کے لئے جو دفعات پیش کی گئی ہیں وہ بنیادی طور پر تین تصورات پر مبنی  ہیں: ( 1)انسانیت (2) فرد کا احترام (3) جمہوری اقدار پر مبنی سماجی نظام ۔

اس علامیہ کے بعد پوری دنیا اور خاص طور پر سے مغرب میں  Human Rights کی اصطلاح اس قدر عام ہوئی کہ تمام سیاسی اور سماجی جماعتوں کے نعروں کے لیے جزو لا نیفک بن گئی۔ یہاں تک کہ اب حقوق انسانی کا پورا تصور ہی سیکولر اور غیر  مذہبی تناظر میں دیکھا جانے لگا ہے ۔ بشمول بہت سے مسلم ممالک کے مشرق و مغرب میں حقوق انسانی کے علمبردار یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ حقوق اور انسانی کا تصور صرف سیکولر ماحول اور غیر مذہبی تناظر میں ہی زندہ رہ سکتا ہے، مذہبی فریم  ورک میں اس کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ  پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے مسلم ممالک میں بھی بہت سے سیکولر ذہنیت کے حامل حقوق انسانی کے حامبین تبصرے کرتےہوئے سنے جاتے ہیں کہ ‘حقوق انسانی اور اسلام’جیسے موضوعات پربات کرنا قطعاً بے معنی ہے، کیونکہ مذہبی حیثیت سے اسلام نے ہمیشہ ایسی  اقدار و روایات کو فروغ دیا ہے  جو‘ عالمی اعلامیہ حقوق انسانی ’کے  بنیادی تصورات سےاہم آہنگ نہیں ہیں، لیکن جو لوگ حقوق انسانی کے مذکورہ بالا اعلامیہ کو انسانی حقوق اور مساوات کا سب سے اعلیٰ اور مثالی  منشور سمجھتے ہیں اور حقوق انسانی کےاصول اور اسلامی تعلیمات کے درمیان تضاد مانتے ہیں ان کے لئے ضروری  ہے کہ ایک بار پھر ان اصول اور انسانیت کے تعلق سے قرآنی تعلیمات کا غیر جانبدارانہ نقطۂ نظر سے تقابلی  مطالعہ کریں۔

جب ہم ‘انسانی حقوق اور اسلام ’ یا ‘ انسانی حقوق اور قرآن ’ کے موضوع پر بات کرتے ہیں تو درحقیقت ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ حقوق انسانی کو اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ہیں ، کسی بادشاہ یا قانون ساز اسمبلی  کی طرف سے عطا کردہ نہیں  ہیں۔ جو حقوق کسی بادشاہ یا قانون ساز اسمبلی  کی طرف سے عطا کیے جاتےہیں وہ کبھی منسوخ بھی ہوسکتے ہیں ۔ اسی طرح بسا اوقات کوئی آمر جب خوشگوار موڈ میں ہوتا ہے تو رعایا کے لئے بے انتہا حقوق کا اعلان کردیتا ہے لیکن جب وہ ان خوشگوار جذبات کے حصار سے نکل کر منفی جذبات کا شکار ہوتا ہے تو یکلخت تمام حقوق چھین لیتا ہے ، مگر اسلام اور قرآن نے انسان کو جو حقوق دیئے  ہیں وہ درحقیقت اللہ کی جانب سے  عطا کردہ ہیں، اس لیے دنیا کی کسی بھی حکومت ، مقنّنہ اور عدلیہ کو ان حقوق میں ترمیم یا تنسیخ کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ مزید براں یہ کہ اسلام میں عطا کردہ بنیادی انسانی حقوق نہ تو محض دکھاوے کے لئے ہیں جو مقصد براری کے بعد عملی زندگی میں بے معنی  ہوجاتے ہیں اور نہ ہی فلسفیانہ موشگافیوں پرمبنی ہیں جو عملیت پسندی سے بعید ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ حقوق انسانی کے چار ٹر اور اللہ کی طرف سے عطا کردہ حقوق انسانی کے قرآنی منشور کے درمیان دوسرا فرق یہ ہے کہ مقدم الذ کر کسی بھی انسان کو تعمیل کی راہ نہیں دکھاتا جب کہ مؤخر الذ کر مسلمانوں کو تعمیل پر مجبور کرتاہے۔ قرآن کے ذریعہ پیش کردہ انسانی حقوق کےاصول مذہب اسلام کا بنیادی حصہ ہیں۔ ہر مدعیٔ اسلام کے لئے خواہ وہ حاکم ہو یا محکوم ان اصول کا انطباق اور پاسداری لازمی ہے ۔ جو مسلمان ان حقوق کا انکار کرتا ہے یا ان میں ترمیم کرتا یا عملی طور پر ان کی پامال کرتا ہے تو اس کے لئے قرآن کریم کا فیصلہ ہے۔ ‘‘جو لوگ اللہ کے ذریعہ نازل کردہ کتاب  کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے  وہ کافر ہیں ۔ ’’ ( مائدہ :44)

قرآن پاک نے انسانی زندگی کو اس قدر تقدس عطا کیا ہے کہ وہ ایک فرد کی زندگی کو پورے معاشرہ کے مساوی سمجھتا  ہے۔ چنانچہ قرآن کی رو سے لازمی  ہے کہ ہر فرد کے ساتھ شفقت و محبت اور انتہائی نگہداشت کا برتاؤ کیا جائے۔ اب ذیل میں مثال کے طور پر کچھ بنیادی  عنادین کے تحت ان حقوق کی وضاحت کی جاتی ہے جو قرآن نے انسان کو عطا کیے ہیں۔

(1)              جان و مال کے تحفظ کا حق :  حجۃ الوداع کے موقع پر خطاب فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ‘‘تمہاری جان او رمال ایک دوسرے کے لئے حرام ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن تم اپنے رب سے ملو’’۔ یاد رہے کہ یہ بات صرف مسلمانوں کے تعلق سے نہیں ہے بلکہ غیر مسلمین جو اسلامی اسٹیٹ میں رہتے ہیں ، ان کے بارے میں بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ‘‘جو شخص ایک ذمی کو قتل کرتا ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا۔’’

(2)               عزت نفس کے تحفظ کا حق: آج جو لوگ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت حقوق انسانی کا نعرہ لگا تے ہیں ان کی نگاہ صرف انسان کی زندگی  پر مرکوز ہے۔ اس سے آگے کی بات نہیں کرتے جبکہ قرآن نے آج سے چودہ سو سال قبل انسانی زندگی  کے ساتھ ساتھ اس کی عزت نفس کو بھی کس قدر اہمیت دی ہے اس کا اندازہ قرآن کے ان فرامین  سے ہوتا ہے ۔ ارشاد  ہے: (1) اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے۔ (2) ایک دوسرے کو بدنام نہ کرے۔ (3) غلط القاب استعمال کر کے کسی کی بے عزتی نہ کرے۔ (4) ایک دوسرے کی  غیبت او ربرائی نہ کرے۔

(3)              ذاتیات کے تحفظ کا حق :قرآن کریم انسان کی ذاتیات ( Privacy) کو اس کا بنیادی اور پیدائشی حق تسلیم  کرتا اور اس کے تحفظ کے لئے اصول بیان کرتا ہے ۔ (1) ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ پڑو۔(2) کسی کے گھر میں داخل نہ ہوجاؤ الایہ کہ اہل خانہ سے اجازت مل جائے۔

(4)               ظلم کے خلاف احتجاج کا حق: اسلام انسانوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ حکمراں طبقہ کے ظلم و تعدی او ربد عنوانی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ قرآن پاک کا ارشاد  ہے : اللہ ا س بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کا اعلانیہ برا کہے الایہ  کو وہ مظلوم ہو۔

اسلامی نقطۂ نظر سے ہر طرح کی قوت اور اقتدار خالص اللہ کا حق ہے۔ انسان اس طاقت  اور اقتدار کا صرف متولی اور بر بنائے نیابت الہٰی معاشرہ میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لئے اس طاقت کے استعمال کا مجاز ہے۔ چنانچہ جس شخص کے ہاتھ میں اقتدار آتا ہے وہ اپنی رعایا کے سامنے جو ابدہ ہوجاتا  ہے اور رعایا اس سے باز پرس کا حق رکھتی ہے ۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے اسی نکتہ  کو ملحوظ نظر رکھتے  ہوئے خلیفہ بننے  کے بعد  اپنے  پہلے خطاب عام میں فرمایا  تھا: اگر کسی معاملہ میں میرا موقف درست ہوتو میرا تعاون کریں اور اگر غلط ہوتو میری  اصطلاح کریں، میری  اطاعت اسی وقت تک کریں جب میں اللہ اور اس کے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کا متبع رہوں اور اگر میں راہ راست سے ہٹ جاؤں تو مجھ سے الگ ہوجائیں۔

(5)              حق عدل :قرآن نے ہر شخص کو انصاف کا حق دیا ہے۔ چنانچہ حصول انسان کے حق اور انصاف کرنے کے سلسلے میں اللہ نے بڑی تاکید کے ساتھ جا بجا ارشاد فرمایا ہے ۔ انصاف کے سیاق میں قرآن کریم عام طور پر دو الفاظ کا استعمال کرتا ہے، عدل اور احسان ۔ ان دونوں ہی الفاظ کے  ذریعہ  قیام انصاف کی تعلیم دی گئی ہے اور دونوں کے دونوں نظریہ توازن کی طرف مشیر ہیں، مگر معنوی اعتبار سے دونوں میں کچھ فرق ہے۔ احسان عام ہے  جب کہ عدل فرد کی خوبیوں کے تسلیم کرنے سے متعلق ہے۔ قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے کہ خوبی کا تعین حسب و نسب ، جنس  مال اور دنیاوی  کا میابی سے نہیں ہوتا بلکہ خوبی کا معیار تقویٰ  ہے جو ایمان  او رعمل صالح دونوں ہی کا مجموعہ ہے۔

(6)              اظہار خیال کی آزادی کا حق:  اسلامی مملکت میں  رہنے والے تمام انسانوں کو اسلام فکر وخیال اور  اظہار رائے کی آزادی عطا کرتا  ہے ، بشر طیکہ  اس حق کا استعمال سچائی اور نیکی کے فروغ کے لئے ہو، اس کا مقصد برائی کی اشاعت اور فتنہ انگیزی  نہ ہو۔ اظہار رائے کی آزادی کا تصور جو اسلام میں موجود ہے وہ مغربی تصور سے بدر جہا اعلیٰ اور بہتر ہے۔ اسلام کسی بھی حالت میں برائی اور فتنہ کی اشاعت کے لئے اس حق کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا ۔ اسلام چونکہ ہر مسئلہ میں اعتدال اور توازن کو پسند کرتا ہے ، اس لئے  یہ تنقید کے نام پر کسی بھی شخص کو گندی اور غیر اخلاقی زبان کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا ۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں صحابہ رضی اللہ عنہ کا طریقہ تھا کہ وہ کسی بھی امر کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت  فرماتے آیا اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا کوئی فرمان نازل ہو ا یا نہیں ۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب نفی میں ہوتا تو صحابہ رضی اللہ عنہ اس خاص مسئلہ  میں فوراً اپنی رائے  کا اظہار کردیا کرتے تھے ۔

بنیادی طور پر اسلام میں اظہار رائے کی آزادی کے حق کا مطلب سچ بولنے کاحق ہے اور سچائی کے لئے قرآنی اصطلاح ‘حق’ ہے جو اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت ہے او رسچ بولنے کی آزادی نہ صرف یہ کہ ہر انسان کا حق ہے بلکہ مسلمانوں کی ذمہ داری  ہےکہ ہر حال میں سچ بولیں خواہ ظالم و جابر حکمراں کے سامنے  بولنا پڑے۔ قرآن مسلمانوں کو حق کے لئے ثابت قدم رہنے کا حکم دیتا ہے او رسماج کو اس بات سے روکتا ہے کہ کسی بھی شخص کو سچ بولنے کی پاداش میں تکلیف  دے۔

(7)              عقیدہ اور مذہب کی آزادی  کا حق: قرآن نے ایک عام اصول بیان کیا ہے ‘‘دین میں جبر نہیں  ہے۔’’اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن اس حقیقت سے بخوبی  واقف  ہے کہ عقیدہ  کا تعلق دل سے ہے اور دل پر کسی طرح کا جبر  کار آمد نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف آمرانہ سماج  (Totalitarian Societies) میں فرد کی ہر قسم کی آزادی کو سلب  کر لیا جاتا ہے اور انسانیت کو ایک نئی قسم کی غلامی کے شکنجہ میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ کسی زمانہ میں غلامی  کامطلب ایک انسان پر دوسرے انسان کا مکمل اختیار تھا۔ اب اس قسم کی غلامی قانونی طو رپر باطل قرار دے دی گئی ہے، مگر اس کی جگہ پر آمرانہ سماج نے انسانوں پر ایک نئی غلامی  تھوپ دی ہے۔

(8)              مذہبی  جذبات کے تحفظ کا حق: عقیدہ او رضمیر کی آزادی کے علاوہ اسلام نے انسانوں کے مذہبی  جذبات کی بھی قدردانی کی ہے۔ چنانچہ قرآن پاک مسلمانوں کو ایسی باتیں  کہنےسےمنع کرتا ہے جس سے دوسرے مذاہب کے متبعین کے جذبات مجروح ہوں۔ قرآن پاک کے متعدد آیات اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری صرف پیغام حق پہنچا تا تھا کسی کوایمان پرمجبور کرنا نہیں  تھا ۔ لہٰذا قرآن نے ہر اس طرز عمل کو ممنوع قرار دیا جو کسی بھی غیر مسلم کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرے۔ ایسا ممکن تھا کہ کوئی غیر مسلم اسلامی مملکت میں رہتا ہو تو اس کے جذبات کو مجروح کیا جائے تاکہ وہ مجبور ہو کر حلقہ بگوش  اسلام ہوجائے، لیکن قرآن نے ان تمام خرافات کی جڑ ہی  کاٹ ڈالی ۔ ارشاد خداوندی  ہے: ان لوگوں کو گالی مت دو جو اللہ کے علاوہ  دوسرے معبود کو پکارتے ہیں۔

(9)              آزادی نفس کا حق: انسان پیدائشی  طور پر آزاد ہے او رآزادی اس کا فطری حق ہے ۔ انسان کے اس حق کی سب سے بڑی گارنٹی اسلام میں یہ ہے کہ سوائے اللہ کے اس آزادی کو کوئی بھی شخص محدود نہیں  کرسکتا اور یہ نظر یہ قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے جس میں اللہ کا ارشاد  ہے کہ معروف او رمنکر کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ کو ہے۔ اسی لئے نہ تو اسلامی مملکت کی عدلیہ او رنہ ہی مقنّنہ کسی بھی شہری کو بے جا تا بعداری پر مجبور  کرسکتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ عوامی معاملات میں قرآن نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عوام سے مشورہ کا حکم دیا۔

(10)          حق تعلیم : تعلیم  انسان کو ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تمام ممالک تعلیم کو شہریوں کے بنیادی حقوق میں شمار کر رہے ہیں ، لیکن قرآن نے ابتدائے نزول سے ہی حصول تعلیم  پر زور دیا ہے۔ چنانچہ سب سے پہلی آیت اپنے مخا طبین کو حصول تعلیم کی تلقین کرتی ہے ۔قرآن کی رو سے تعلیم ہی  وہ جوہر ہے جو ایک صالح، پر امن او رمبنی  برعدل  معاشرہ کی تشکیل  کرسکتا ہے ۔ اس لئے قرآن  انسان کو خطاب کرتا ہے کہ تعلیم حاصل کرو، کیونکہ جاننے والے او رنہ جاننے والے برابر نہیں ہوسکتے۔

یہ وہ کچھ باتیں تھیں جو بطور مثال پیش کی گئیں۔ حقیقت  یہ ہے  کہ قرآن کریم نے کھلے  الفاظ میں انسان کو وہ تمام حقوق دیئے  ہیں جو اس کو بحیثیت انسان ملنے چاہئیں ۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص مغربی نگاہ  سے قرآن  پڑھے تو اسے یقیناً قرآن پر اعتراض ہی ہوگا، لیکن اس سے قرآن کی اہمیت  کم نہ  ہوگی، اس  لئے  کہ چمگادڑ کو اگر دن  میں کچھ نظر نہ آئے تو اس میں قرص خورشید  کا کوئی گناہ نہیں ہے۔

26 اگست ، 2012   بشکریہ : صحافت ، نئی دہلی

URL: 

http://www.newageislam.com/urdu-section/quran-kareem--global-manifesto-of-human-rights--قرآن-کریم--حقوق-انسانی-کا-بے-مثال-عالمی-منشور/d/8494

 

Loading..

Loading..