New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 02:22 PM

Urdu Section ( 12 Apr 2012, NewAgeIslam.Com)

Increasing Sectarianism Is Closing School Doors for Muslim Children بڑھتی ہوئی فرقہ واریت مسلمان بچوں کے لئے اسکول کے دروازے بند کر رہی ہے

ہیم بور کر

(ترجمہ: سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

5 اپریل، 2012

سماجی مقامات پر بڑھتی ہوئی فرقہ واریت مسلمان طالب علموں کے لئے تعلیمی مواقع کو محدود کر رہا ہے۔

دی ہندو اخبار میں "دہلی کی نرسری کلاسوں میں، مسلمان بچے نایاب ہیں" کے عنوان سے (19 مارچ، 2012) ایک نیوز رپورٹ شائع ہوئی تھی، اسی دن راجیہ سبھا میں اس پر ذکر بھی ہوا،  ایوان بالا میں اس کے نتیجے میں  "تیکھی بحث" اور "تو تو میں میں" ہوئی،  یہ مسلمانوں کی تعلیم کے معاملے پر عوامی بحث کی قطبیت کی علامت ہے۔ اس موضوع پر ہونے والی کوئی بھی بحث تقریبا: مذہبی بمقابلہ سیکولر، اخراج بمقابلہ منھ بھرائی، حقوق بنام سیاست، حقیقت مقابلہ بیانات، اور قدامت پرستی بمقابلہ نظام کے تحت امتیازی سلوک میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

ایک مطالعہ

2009-10 ء میں، قومی سی آر وائی (کرائی CRY) فیلو شپ پروگرام کے تحت، اسکولی تعلیمات کے انتخاب کی تشکیل کے سوال پر میں نے نئی دہلی کے ذاکر نگر میں رہنے والے 20 مسلمان خاندانوں کا انٹر ویو کیا تھا۔ متفقہ طور پر والدین نے جدید مرکزی دھارے کی تعلیم کو  واحد اور سب سے اہم عنصر مانا تھا جوان کے بچوں کے مستقبل کو بنائے اور ان لوگوں نے معروف پرائیویٹ اسکولوں میں اپنے بچوں کو بھیجنے کی ترجیح کو واضح طور پر بیان کیا تھا۔ تاہم ان کی کہانیوں میں "مسلمان" ہونے کے ناطے پیش آئی گو مگو حالت کا بھی ذکر تھا،  تزبزب  جو ظاہر کرتا ہے کی بڑھتی ہوئی فرقہ واریت نے پر اسرار طریقے سے ان کے لئے مواقع کو محدود کر دیا ہے یا انہیں تعلیم جیسے بنیادی معاملے میں لا موجود بنا دیا ہے۔

"ہم ایسے اسکول چاہتے ہیں جو ہمارے بچوں کے خلاف امتیازی سلوک نہ کرتے ہوں۔"

یہ بیان اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخلہ حاصل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات کے سبب  والدین  کے اندر بڑھ رہی لاچاری اور غصہ کے احساس پر روشنی ڈالتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے "احساس" کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ نجی اسکولوں نے پہلے سے ہی طے کیا ہے کہ  "بس اتنے ہی طے شدہ مسلمانوں کو لینا ہے اور مزید کوئی مسلمان نہیں لینا ہے" ، اور کچھ والدین نے اس بات کا بھی حوالہ دیا تھا کہ نجی اسکول کے قریب ہونے کے سبب ملنے والے پوائنٹس معمولی اہمیت والے لگتے ہیں، جبکہ اپنے بچوں کو  اسکول میں داخل کرانے کے لئے دوسرے لوگوں نے  "جگاڑ "   کے استعمال کرنے کے بارے میں بات کی تھی اور کہا تھا کہ  یہ عام مسلمان کے لئے دستیاب اختیار نہیں تھا۔

اقلیتی جذبات کا احترام

بہت سے لوگوں نے ہندووانہ سرکاری اسکول کے بجائے عیسائی اسکولوں کے انتخاب کے بارے میں شعوری طور پر بات کی، کیونکہ کسی نہ کسی سطح پر، عیسائی اسکول "اچھے" ہیں اور اقلیتی جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے عملیت کے تقاضے کے بھی تحت اپنے انتخاب کی وضاحت کی کہ عیسائی اسکول عام طور پر کون وینٹ ہوتے ہیں، ان کو انگریزی زبان پر اچھا عبور حاصل ہوتا ہے، اور نظم و ضبط (ڈسپلن) پر خاص زور دیا جاتا ہے۔

والدین نے اپنے بچوں کے تجربات کو بتاتے ہوئے کہا کہ  " انہیں غیر ضروری طور پر  اٹھایا جاتا ہے، ان کے ساتھیوں کے سامنے ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے  اور اساتذہ ہراساں کرتے ہیں۔" انٹرویو کے دوران بہت سے والدین نے اساتذہ کے ذریعہ مسلمان بچوں کی کھانے اور پہننے کی عادت (ہیڈ اسکارف یا اضافی لمبی اسکرٹ) کے بارے میں ہتک آمیز تبصرے کا  بار بار حوالہ دیا۔ اس کی تصدیق بچوں کی طرف سے بھی ہوگئی جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ اسکول کےبارے میں کیا چیز پسند نہیں کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے کہا کہ وہ کسی طرح ،ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنائے جانے کو پسند نہیں کرتے ہیں، مثال کے طور پر  ایک استاد حاضری لیتے وقت بچے کے نام میں "میاں" جوڑ دیا کرتے تھے ("میں نہیں جانتا ہوں کہ کیوں میرے استاد  میرے نام کے بعد 'میاں ' جوڑا کرتے ہیں... سب نے مجھے میاں کہنا شروع کر دیا") یا کرکٹ ٹیم کے کوچ کے ذریعہ کی جانے والی سخت ملامت (اس کو بائونسر مت دینا، سر توڑ دیگا۔۔۔۔۔ یہ سب گرم مزاج کے ہوتے ہیں) یا ایک 10 سال کی لڑکی نے کہا، "کوئی بھی اسکول میں میرے ساتھ آنکھ مچولی نہیں کھیلنا چاہتا ہے۔ ہر کوئی کہتا ہے راز کے معاملے میں مسلمانوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا ہے۔"

والدین نے خود ہی بتایا کہ وہ اپنے بچے کی تعلیم کے معاملے جیسے کہ، اسکول کا  ماحول کیسا ہے، کہاں اپنے بچے کو کھیلنے یا دینی تعلیم کے لئے بھیجنا چاہئے، کا انتخاب کرنے میں ہوش مندی اور ہوشیاری سے کام لیتے  ہیں۔  اکثر جو انتخاب دستیاب ہوتے ہیں وہ   دو جدا سرے کے طور پر ہوتے ہیں۔ "ضرورت سے زیادہ مذہبی" پڑوسی جو اسلامیات کی تبلیغ کرتے رہتے ہیں یا ضرورت سے زیادہ جدید جو اس طرح عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے دوسرے لوگ۔

بہت سے والدین کے لیے سب سے بڑی فکر تھی کہ کس طرح ان دونوں مبالغہ کو پر کیا جائے۔ ان کے ردعمل مسلسل "اچھے مسلمان"  اور "برے مسلمان"  میں درجہ بندی اور اس بات کو کہ ان کے بچوں کی پرورش "مسلم طریقے" اور قدامت پسندی کے جال میں پھنسے بغیر ہونے کو یقینی بنانے میں درپیش  مشکل کو سامنے لا رہی تھی۔ اصل میں اس تشویش کا اظہار انٹر ویو میں  کئی مقامات پر سامنے آئی۔  والدین  نے اپنے گھر کی تعلیم (عام طور پر جہاں وہ "مسلم ماحول" میں بڑے کنبے کا حصہ تھے) کو اپنے بچوں کی تعلیم ( دہلی میں، جہاں والدین کے طور پر، وہ اپنی ثقافت کے ساتھ شعوری طور پر  اپنے بچوں کو واقف کرانے کی کوشش کرتے ہیں) کو ملا کر رکھیں گے۔ بہت سے والدین نے ذکر کیا کہ ان کے خاندان،  "خاندانی اقدار" میں  ایک مخصوص اخلاقی نظم و ضبط اور مذہب  کی جانب لے جانا شامل تھا۔ یہ اکثر والدین کو  ایک عجیب حالات میں ڈالتا ہے اور ان کے انتخاب کو مسلمانوں کے ذریعہ منظم اسکولوں تک محدود کرتا ہے جو ان کی ثقافت کا احترام کرتے ہیں لیکن سیکولر بنیادیں مہیہ نہیں کر اتے ہیں  جس سے مستقبل میں بچہ خود کو معاشرے سے منقطع محسوس کرتا ہے۔

لڑکیوں کی تعلیم

بہت سے والدین نے لڑکیوں کے لئے مناسب اسکولوں کے انتخاب میں درپیش مشکلات کا اظہار کیا۔ والدین، جن میں سے بہت نے دیہی یا نیم شہری بہار اور اتر پردیش کے اپنے آبائی مقام سے جڑے رہنے کے لئے، ان کے لئے ایسے اسکولوں کو تلاشنا مشکل تھا جو ان کی لڑکیوں کو جدید سیکولر  تعلیم کا فائدہ فراہم کرانے کو یقینی بنائے اور جو کچھ حد تک قابل احترام شادیوں تک رسائی کو  یقینی بناتا ہو، اور  ضرورت پڑنے پر، اگر مناسب روزگار  مھیہ کرائے لیکن انہیں مغربی طریقوں کی طرف نہ لے جائے؛ ایک ادارہ جو مخلوط تعلیم پر مبنی نہ ہو، جس کا سادہ ڈریس کوڈ ہو اور جو گھر کے قریب ہو تا کہ دنگا فساد کی کسی صورت میں والدین فوری طور پر وہاں پہنچ سکیں۔  میں نے غور کیا کہ لڑکیوں کے معاملے میں، لڑکوں کے برعکس، ان معیار  کے مجموعہ کی غیر موجودگی کی صورت میں والدین عام طور پر اسکول کی تعلیم کے معیار پر سمجھوتے کرتے ہیں اور لڑکیوں کو  جامعہ نگر کے اندر ہی (اکثر غیر تسلیم شدہ) اسکولوں میں بھیجا جاتا ہے جس نے لڑکیوں کی تعلیم کا وعدہ کیا تھا (نہ کہ مخلوط تعلیم)، کلاس بھی اردو میں ہوتی ہے، اور اکثر دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور جہاں شلوار اور قمیض  پہن کر جانا ہوتا ہے۔ لیکن ان اداروں کی کمی یہ تھی کہ ضروری نہیں کہ یہ اسکول سی بی ایس ای یا آئی سی ایس ای بورڈ سے الحاق شدہ ہوں اور وہ 12ویں جماعت تک تعلیم دیتے ہوں۔

جبکہ روز مرہ کی یہ جدوجہد مسلمانوں کی تعلیم کے تجربے کی کسی طرح نمائندہ نہیں ہیں، یہ ضرور اس مسئلے کی نوعیت کو واضح کرتی ہیں۔ ایک طرف تعلیمی پسماندگی  کی پالیسی پر ہونے والی گفتگو میں مسلمانوں معشرے سے منقطع ہونے کے اصل یا خود ساختہ وجہ کے طور پر مانا جاتا ہے اور اس کے حل کے طور پر  سب کو ساتھ لے کر چلنے والی تعلیم کو بتایا جاتا ہے؛ جبکہ دوسری جانب حقیقی زندگی کے یہ حالات مسلمانوں کے ان مواقع کو حاصل کرنے  میں روزانہ پیش آنے والے مسائل کو ظاہر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں  سماج سے مزید علیحدگی، اخراج اور "مسلمانوں کے زیر  انتظام خدمات اور نیٹ ورکس " پر ضرورت سے زیادہ انحصار  ہوتا ہے۔

ہیم بورکر،  آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پر ڈی فل ( D.Phil ) کر رہی ہیں۔

 بشکریہ: دی ہندو، نئی دہلی

URL for English article:

http://www.newageislam.com/muslims-and-islamophobia/increasing-communalisation--shutting-the-school-doors-on-the-muslim-child/d/6994

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/increasing-sectarianism-is-closing-school-doors-for-muslim-children--بڑھتی-ہوئی-فرقہ-واریت-مسلمان-بچوں-کے-لئے-اسکول-کے-دروازے-بند-کر-رہی-ہے/d/7056

 

Loading..

Loading..