New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 12:02 AM

Urdu Section ( 7 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Global Warming and Islam گلوبل وارمنگ اور اسلام

حنا فرحین مومن

8 اکتوبر،2021

اس دنیا کے بنانے والے حکیم مطلق نے اسے اتنہائی حکیما نہ انداز سے مرتب کیا ہے۔ خلاؤں کی بے کرانی میں موجود ستاروں او رکہکشاؤں کی حرکت ہو،درختوں پہاڑوں او ردریاؤں کے پرکشش مناظر ہوں، طائروں کی دلکش ومترنم آواز ہو یامختلف النوع حیوانات کی زندگی میں موجود نظم و ضبط کائنات کی ہر شے زبان حال سے یہ بیان کررہی ہے کہ اس کے تخلیق کارنے اسے کس بہترین ترتیب و توازن سے بنایا ہے کہ اس میں کہیں کوئی سقم یا کجی دکھائی نہیں دیتی، ساتھ ہی اس مہربان رب نے یہ بھی فرمادیا کہ توازن میں خلل نہ ڈالو۔(سورہ رحمن:8)لیکن کیا کہئے حضرت انسان کی فطرت ہوس پرست کو کہ اس نے نت نئی آسائشوں کے حصول کو ممکن بنانے کے لئے اس حسین ومتوازن کرہئ ارض کی ترتیب کو کچھ اس طرح بے ترتیب کردیا کہ بے شمار معاشرتی، معاشی و ماحولیاتی مسائل صفحہ ہستی پر نمودار ہونا شروع ہوگئے۔ عالمی حدتان ہی ماحولیاتی مسائل میں سے ایک سنگین مسئلہ ہے۔زیر نظر مضمون میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ عالمی حدت درحقیقت کیا ہے اور اس مسئلہ کو سلجھانے میں اسلام ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ ماجرا یوں ہے کہ عالمی حدت دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کا نام ہے، جس کی بنیادی وجہ سبز گھر اثرات (گرین ہاؤس ایفکیٹ) ہیں حالانکہ گرین ہاؤس ایفیکٹ فی نفسہ کوئی منفی مظہر نہیں۔ یہ گیسوں کے ذریعہ سورج کی تپش کوروکے رکھنے کا عمل ہے، جس کے نہ ہونے پر دنیا کے رکھنے کا عمل ہے، جس کے نہ ہونے پر دنیا کے منفی 18 /ڈگری سیلسیئس پر جم جانے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ مسئلہ اس اثر میں ہونے والا مسلسل اضافہ ہے۔جو مختلف انسانی سرگرمیوں کے ذریعے گرین ہاؤس گیسو ں کے بے تحاشا اخراج کی وجہ سے ہورہا ہے۔

عالمی حدت کی ایک نسبتاً چھوٹی وجہ اوزون تہہ میں ہونے والی تخفیف بھی ہے جو ان ہی گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے ہورہی ہے۔ اوزون تہہ دراصل ایک حفاظتی غلاف ہے جو کرہئ اہوا کی قائمہ تہہ میں موجود ہے، اور سورج کی ضرر رساں بالائے بنفشی شعاعوں کو 99 فیصد تک جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن گرین گیسیں قائمہ تہہ میں پہنچ کر اوزون کے ساتھ کیمیائی تعامل کرتی ہیں۔ نتیجتاً اوزون گیس آکسیجن کے ایک آزاد سالمہ کی صورت میں ٹوٹ جاتی ہے۔ جس سے بالائے بنفشی شعاعیں براہ راست زمین پر پہنچ کر نہ صرف جانداروں کو متاثر کرتی ہے بلکہ زمین کی حدت میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہیں۔درختوں کی بے تحاشہ کٹائی بھی کرہ ہوا میں سبز گھر گیسوں کے بڑھنے کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ مسئلہ کی جڑگرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہے جو بڑی مقدار میں روایتی ایندھن کے جلنے سے پیدا ہو رہی ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، گلورو فلورو کاربن میتھین،فریونز او رہیلو نز وغیرہ گرین ہاؤس گیسیں کہلاتی ہیں۔عالمی حدت صرف اس دنیا میں گرمی بڑھ جانے کا نام نہیں ماہرین کا انتباہ ہے کہ اس کے اثرات اس قدر سنگین ہیں کہ دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی کو ختم ہوجانے کا خطرہ لاحق ہے۔ گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے گزشتہ صدی کے دوران سطح سمندر میں 18/ سینٹی میٹر کا اضافہ ہوچکاہے اور اس صدی کے خاتمے تک اس میں ایک میٹر تک کے اضافہ کا امکان ہے۔ عالمی حدت بڑھنے سے قدرتی آفات میں اضافہ ہورہا ہے۔طوفان اور سیلاب تواتر کے ساتھ دنیا کے مختلف حصوں میں آرہے ہیں۔یہی نہیں بلکہ مستقبل قریب میں عالمی تپش میں اضافے سے دنیا کے کچھ حصے قحط سالی کی زد میں ہوں گے اور کچھ حصے سیلابی علاقے بن جائیں گے۔قحط سالی کی وجہ سے بھکمری کے حالات پیدا ہوں گے اور بڑے پیمانے پر ہلاکتیں واقع ہوں گی اسی طرح زیادہ بارش والے علاقوں میں زمینیں دلدلی بن جائیگی،ان میں حشر ات کی بہتات ہوگی جس سے بیماریاں پھلیں گی اور اموات ہوں گی۔ عالمی حدت انسانی معیشت کو بھی بے حد نقصان پہنچا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق 2050 ء تک 250/ ملین لوگوں کو موسمی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہجرت کرنی پڑے گی کیونکہ سطح سمندر میں اضافے سے سینکڑوں جزائر اور ساحلوں پر آباد علاقے زیر آب آجائیں گے۔ عالمی حدت صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ دیگر حیاتی تنوع کے لئے بھی بے حد تباہ کن ہے کیونکہ درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے تمام ماحولیاتی نظام بڑی تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں او راسی نظام میں موجود جانداروں کو غذا کی تلاش میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔آئیے اس مسئلہ کو ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ دین اسلام ہی وہ ضابطہ حیات ہے جو ہمیں گود سے گور تک زندگی بسر کرنے کی سیدھی او ر سچی راہ دکھاتا ہے۔مندرجہ بالا پیش کردہ حقائق کی روشنی میں یہ امر اظہر ممن الشمس ہے کہ اس مسئلہ کااصل سبب گرین ہاؤ س گیسوں کا بے تحاشہ اخراج ہے۔ آخر ان سبز گھر گیسوں کے اخراج کی وجہ کیا ہے؟ معدنی ایندھن کا احتراق او ریہ کیوں ہورہاہے کیونکہ کوئلے اور تیل پر ہی عالمی معیشتوں کا استحکام قائم ہے۔ مان لیجئے کہ معاشی ترقی کے تمام راستے اسی راہ گزر سے ہوکر گزرتے ہیں او راس معاشی ترقی کی اندھی دوڑ میں افراد ہوں یا اقوام اندھا دھند دوڑے جارہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ حاصل کرلینے کی ہوس نے آج انسانی ذہنیت کو اس قدر مادہ پرست بنا دیا ہے کہ اس کے لئے وہ جائز اور ناجائز میں تمیز بھول بیٹھا ہے اور اسی خود غرضانہ ذہنیت نے موسمی تبدیلی اور عالمی حد ت جیسا خطرناک عفریت پیدا کیاہے۔

 اسلام ہمیں سکھاتاہے کہ اعتدال کا راستہ ہی فلاح کا راستہ ہے۔ اسلام نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں درمیانی راستہ اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ اعتدال اورمیانہ روی اسلام کی ایسی صفات ہیں جو اس کے ہر معاملے اور حکم میں جلوہ گر نظر آتی ہیں جس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ توانائی جو ختم ہوسکتی ہے اس کے استعمال میں کس قدر ذمہ دارانہ طرز عمل اور احتیاط ضروری ہے۔قرآن کریم میں جو رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے، کم وبیش 200/ آیتیں ماحول سے متعلق ہیں جو بتاتی ہیں کہ قدرتی ماحول کس طرح ہمارے لئے بیش بہا عطیہ خداوندی ہے او ریہ تمام وسائل ہمارے لئے مسخر کئے گئے ہیں، ہم ان کے استعمال کے لئے آزاد ہیں نہ کہ استحصال کے لئے۔قرآن کریم میں جابجا ارشاد ہواہے ”حد سے تجاوز نہ کرو“ جو واضح اشارہ ہے کہ ہمیں وسائل کے استعمال میں ایک حد قائم رکھنا ہے۔

درختوں کی کٹائی جو گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہی ہے، کہ متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ اگر قیامت برپا ہوجائے اورتم میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو اوروہ لگا سکتاہو تو اسے لگا دینا چاہئے۔ یہ فرمان ظاہر کرتاہے کہ درختوں کی کیا اہمیت ہے اور کیسے درخت لگانا انسان کے لئے صدقہئ جاریہ بن سکتاہے۔ اسلام ہمیں وسائل کاذمہ دارا نہ استعمال سکھاتاہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے وقت پانی کے بے جا اسراف پر تنبیہ فرمائی، جس سے ظاہر ہوتاہے کہ ہمیں وسائل کو کس قدر احتیاط سے زیر استعمال لانا ہے۔ اسلام اپنے پیرکاروں میں جواب دہی اور ذمہ داری کااحساس پیدا کرتاہے کہ انسان اپنے ہر عمل کے لئے بروز آخرت اس عظیم ہستی کے آگے جوابدہ ہے جس نے یہ تمام نعمتیں اسے عطا کی ہیں۔ جب یہ احساس کسی انسان میں پیدا ہوجاتاہے تو وہ از خود ذمہ دار بن جاتا ہے۔ القصہ مختصر اسلامی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ عالمی حدت پر قابو پانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم وسائل کا ذمہ داری کے ساتھ،احتیاط سے استعمال کریں ختم ہوجانے والے وسائل کے متبادل ذرائع استعمال کریں۔اپنی ساری معاشی سرگرمیاں چاہے وہ صنعتیں ہوں، زراعت ہو، نقل و حمل ہو یا کان کنی ا س طرح قابو میں کریں کہ گرین ہاؤس گیسیں کم سے کم خارج ہوں، ہمیں اپنے ماحولیاتی نقش پا (Ecological foot Print) کو کم کرنے کی ضرورت ہے دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اپنی ترقی کی رفتار کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ او رہمیں ترقی کے تصور کو پائیدار ترقی کی بنیادوں پر از نو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔یقین کیجئے اس راہ پر گامزن ہونے میں ہی ساری انسانیت کی فلاح مضمر ہے۔

8 اکتوبر، 2021، بشکریہ: روز نامہ چٹان، سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/global-warming-islam/d/125529

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..