New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 01:49 PM

Urdu Section ( 10 Jan 2016, NewAgeIslam.Com)

Saudi Arabia Will Have To Fight A War Against Itself دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے سعودی عرب کو خود کے خلاف جنگ کرنا ہوگا

 

 

 

حیدر خوئی

7 جنوری، 2016

جمعرات، 10 دسمبر 2015 کو ریاض سعودی عرب کے جس ہوٹل میں شامی حزب اختلاف جماعتوں نے مذاکرات کا قیام کیا اس کے باہر سعودی سیکورٹی فورسز نے اپنے اہلکاروں کو تعینات کر دیا تھا، سعودی عرب کے وزیر خارجہ عبد الجبیر نے شام کے صدر بشار الاسد سے اس بات کا ایک تازہ مطالبہ کیا کہ یا تو وہ مذاکرات کے ذریعے استعفیٰ دیدیں ورنہ انہیں زبردستی اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا۔ عبد الجبیر نے جمعرات کو یہ بیان دیا جبکہ شامی حزب اختلاف کے رہنماؤں نے ویانا میں اسد کی حکومت کے ساتھ مجوزہ امن مذاکرات سے قبل ایک مشترکہ محاذ بنانے پر اظہار رائے کیا۔

اسلامی دہشت گردی کے خلاف سعودی عرب کا مبینہ 34 قومی اتحاد نہ تو اس سلسلے میں کوئی انقلابی قدم ہے اور نہ ہی یہ اسلامی دہشت گردی سے مقابلہ کرنے میں کوئی سنجیدہ کوشش ہے۔ سعودی سلطنت- کہ جس کا نام اس کے شاہی خاندان سے منسوب ہے- کے اندار عدم برداشت اور تشدد کے خلاف ایسی کسی اتحاد کی قیاد کرنے کی نہ تو معتبریت ہے اور نہ ہی صلاحیت ہے جس کی وہ خود حوصلہ افزائی کرتا ہے، حمایت کرتا ہے اور برآمدات کرتا ہے۔

یہ نام نہاد اتحاد ایک عوامی تعلقاتی حیلہ سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش میں ہے کہ سعودی عرب سنجیدگی کے ساتھ اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرگرم عمل ہونا چاہتا ہے۔ دہشت گردی کے الزامات میں 47 لوگوں کی حالیہ اجتماعی پھانسی- جو کہ 1980 کے بعد ملک میں سب سے بڑے پیمانے پر پھانسی تھی- سیاسی مزاحمت کو حقیقی دہشت گردی کے مساوی قرار دینے کی ایک شفاف کوشش تھی۔

یمن میں سعودی عرب کی قیادت والی فوجی اتحاد ان دہشت گرد جماعتوں کو انتہائی ضروری گنجائش فراہم کر کے جزیرہ عرب میں القاعدہ اور داعش کو مضبوط بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب یمنی حوثی باغیوں سے لڑنے کے لئے آسٹریلیائی اور کولمبیائی دہشت گردوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ اگر سعودی عرب اپنے ہی گھر میں لڑنے کے لیے غیر مسلم دہشت گردوں کو بھرتی کرتا ہے، تو یہ دیکھنا بہت مشکل ہو گا کہ کس طرح صومالیہ، موریطانیہ اور مالدیپ کا اسلامی اتحاد میں شامل ہونا ایک دکھاوے کے علاوہ کچھ اور ہے۔ یہاں تک کہ یمن اور لیبیا جو کہ فی الحال خانہ جنگی کی آگ میں جھلس رہا ہے، اس نے کچھ سوچے سمجھے بغیر  ہی اس اتحاد کا حصہ بننے کا اعلان کر دیا۔

جب اتحاد کا اعلان کیا گیا اس کے فوراً بعد کئی مسلم اکثریتی ریاستوں نے اس اتحاد کا حصہ بننے پر حیرت اور تعجب کا اعلان کیا تھا جس پر انہوں نے دستخط ہی نہیں کیا تھا۔ لبنان، پاکستان، ملائیشیا اور انڈونیشیا نے ان کے علم کے بغیر ایک اتحاد میں شامل کیے جانے پر عوامی سطح پر حیرت و استعجاب کا اعلان کیا تھا۔

اس اتحاد کا اعلان سعودی ولی عہد شہزادہ اور نائب وزیر دفاع محمد بن سلمان نے کیا تھا ۔ جرمن انٹیلی جنس ایجنسی نے عوامی سطح پر خبردار کیا ہے کہ حریف شہزادوں کے درمیان اندرونی اقتدار کی جدوجہد اور مداخلت پسند خارجہ پالیسی کی وجہ سے مشرق وسطی کے استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔ جرمن حکومت نے جب اس غیر معمولی اور سیاسی بیان بازی کے لیے  خود اپنی ہی ایجنسی کو ڈانٹ لگائی تو  جرمنی کے  وائس چانسلر نے  اس کے بعد دنیا بھر میں انتہاپسند وہابی مساجد کو فنڈ فراہم کرنے کے لئے سعودی عرب پر حملہ کیا اور یہ اعلان کیا کہ "نظر انداز کرنے کا  وقت ختم ہو گیا ہے"۔

مغرب کو ایک طویل عرصے سے سعودی عرب کے اس تخریبی کردار کا علم اور تجربہ ہے جو وہ دنیا بھر میں دہشت گرد جماعتوں کو مالی امداد کرنے اور انہیں اپنی حمایت فراہم کرنے میں ادا کرتا ہے۔ 2009 میں ایک لیک ہوچکے سفارتی دستاویز میں امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے لکھا ہے کہ سعودی عرب القاعدہ اور طالبان سمیت اسلامی عسکریت پسند جماعتوں کے لئے فنڈ فراہم کرنے کا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ کلنٹن نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ سعودی حکومت دہشت گرد تنظیموں کے لیے فنڈ کی فراہمی کو روکنے سے گریزاں ہے۔ ایک اور دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ نے جو کہ 2008 ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے لئے ذمہ دار ہے، کس طرح پنی سرگرمیوں کو فنڈ فراہم کرنے کے لئے سعودی عرب کی ایک کمپنی کا استعمال کیا ہے۔

مزید برآں، جون 2013 میں یورپی یونین پالیسی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں مشرق وسطی، شمالی افریقہ اور جنوب اور جنوبی مشرقی ایشیا میں انتہا پسند جماعتوں کو اسلحہ کی فراہمی میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ وہابیت کے ملوث ہونے کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کی رپورٹ میں سعودی حکومت کی طرف سے افغانستان میں موجود جہادیوں سے لیکر شامی جہادیوں تک کی دہشت گرد تنظیموں کے براہ راست استعمال، پریشان کن سرگرمیوں اور سازشوں کی تفصیلات بھی پیش کی گئی ہے۔

امریکی نائب صدر بائیڈن نے اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے گزشتہ سال کا اس بات کا ریکارڈ بھی پیش کر دیا کہ شام کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سعودی عرب سمیت امریکہ کے اتحادی تھے، جو اسد کو تخت حکومت سے بے دخل کرنے اور ایک فرقہ وارانہ شیعہ- سنی جنگ بھڑکانے کے لیے اس قدر پر عزم تھے کہ انہوں نے اسد سے لڑنے والوں کو کروڑوں ڈالر اور ہزاروں ٹن ہتھیار سے  مدد فراہم کیا۔ اس سے پالیسی القاعدہ مضبوط ہوا اور اس سے داعش کی تخلیق ہوئی اور اسے علاقائی توسیع بھی حاصل ہوئی۔

براہ راست فوجی اور انٹیلی جنس حمایت کے علاوہ سعودی عرب دنیا بھر کے ایسے مساجد اور اسکولوں میں بھی پیٹرو ڈالر کی سرمایہ کاری کرتا ہے جن میں مسلمانوں کی نوجوان نسلوں کو نفرت پر مبنی ان نظریات کی تعلیم دی جاتی ہے جن پر القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس جیسی مذہبی جماعتوں کی بنیاد قائم ہے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ داعش شام اور عراق میں اپنے مذہبی اسکولوں کے لیے ان سعودی نصابی کتابوں کو استعمال کرتا ہے جن سے دہشت گردوں کی اگلی نسل کو تعلیم دی جاری ہے۔

مغربی ممالک  توانائی کے تحفظ اور اس دیرینہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے جو اقلیتی حکومت اور تشدد اور آمریت کے ذریعے "استحکام" کو یقینی بنانے کے ارد گرد گھومتی ہے اسلامی دہشت گردی میں سعودی عرب کی تاریخی اور موجودہ سازش کے تمام واضح شواہد کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اپنا زیادہ تر پیٹرو ڈالر مغربی طاقت کے حلقوں میں اثر و رسوخ قائم کرنے پر خرچ کرتا ہے۔ سیاسی طاقت میں اس سرمایہ کاری کی وجہ سے دہشت گردی کے ساتھ سعودی عرب کے اس رسوا کن ربط اورتعلق پر لوگ خاموش ہیں اور اس کے تئیں روادار بنے ہوئے ہیں۔

سنجیدگی کے ساتھ اسلامی دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے سعودی عرب کو خود کے خلاف اعلان جنگ کرنا ہوگا اور اسے اسی عدم روادار طاقتوں سے لڑنا ہوگا جن کی انہوں نے حمایت کی ہے۔ یہ جنگ برسراقتدار  آل سعود خاندان کے لئے خود کشی کے  برابر ہو گی  جو 18ہویں صدی سے پوری سرگرمی کے ساتھ  ایک عدم روادار اور پرتشدد وہابی اسلام کو فروغ دے رہا ہے۔

ماخذ: The Indian Express

URL for English article:  http://newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/hayder-al-khoei/saudi-arabia-will-have-to-fight-a-war-againat-itself,-if-it-is-serious-about-defeating-terrorism/d/105899

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/hayder-al-khoei,-tr-new-age-islam/saudi-arabia-will-have-to-fight-a-war-against-itself---دہشت-گردی-کو-شکست-دینے-کے-لیے-سعودی-عرب-کو-خود-کے-خلاف-جنگ-کرنا-ہوگا/d/105939

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..