New Age Islam
Fri Apr 23 2021, 02:10 AM

Urdu Section ( 5 Nov 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Extreme Of Enlightenment Is Also A Flaw روشن خیالی کی انتہا پسندی بھی مذموم عیب ہے


حسن کمال

3 نومبر 2020

یہ زائرین حریم مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے

ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھؐ سے نا آشنا رہے ہیں

(ڈکٹر علامہ اقبالؒ)

مسلمانوں کا نبی آخری الزماں احمد مصطفیٰ سید مجتبیٰؐ سے جنون کی حد تک عشق ایک ایسی صفت ہے ، جسے بے نظیر ہی کہا جاسکتاہے۔مشہور کمیونسٹ مفکر ڈکٹر اشرف نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ یہ عجیب بات ہے کہ اگر کوئی کسی مسلمان کے سامنے خدا کی شان میں بد گوئی کرے تو عین ممکن ہے کہ وہ مسلمان غضبناک ردعمل کا اظہار نہ کرے یا یہ سوچ کر خاموش بھی رہ جائے کہ اس سے تو اللہ خود ہی سمجھ لے گا، لیکن اگر کسی مسلمان کے سامنے کوئی نبی کریم ؐ کی شان میں گستاخی کرے تو پھر چاہے وہ نام ہی کا مسلمان کیوں نہ ہو ،فوراغضبنا ک اور مشتعل ہو جائے گا۔ڈاکٹر اشرف کے اس قول کی تردید مشکل ہی سے کی جا سکے گی۔ ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کوئی خواہ کتنا ہی مشتعل یا غضبناک ہو جائے، اسے قانون ہاتھ میں لینے یا تشدد پر اتر نے سے ہر حال میں باز رہنا چاہئے۔ صرف اس لئے نہیں کہ یہ مہذب معاشرے کے اصولوں کا تقاضا ہے، بلکہ اس لئے بھی کہ ہم اس رحمت اللعالمین کے امتی ہیں، جس نے اس شخص کو بھی معاف کر دیا تھا، جس نے حدیبیہ کے صلح نامے پر ان کے نام ؐ کے آگے سے رسول اللہ کا لقب بھی کٹوا دیا تھا۔ فتح مکہ کے بعد یہ شخص عمرو بن سہیل مسلمان بھی نہیں ہوا تھا اور اس نے اللہ کے نبیؐ سے مصر جانے کی اجازت مانگی ، جو اسے مل بھی گئی۔ ہمارے پیارے نبیؐ نے تو ہندہ جگرخورکو بھی معاف کر دیا تھا، جس نے ان کے محبوب چچا حضرت امیر حمزہؓ کو شہید کر کے ان کاکلیجہ چبا ڈالاتھا۔ اسے بس یہ سزا دی تھی کہ وہ کبھی ان کے سامنے نہ آئے۔

ان دنوں ساری دنیا میں ایک رونگٹے کھڑے کردینے والا واقعہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ پیرس کے ایک تعلیمی ادارے میں ایک ٹیچر نے اپنی کلاس میں نبی کریمؐ کا ایک نازیبا خاکے کی نمائش کی تو ایک مسلمان طالبعلم نے اس کا سر دھڑ سے جدا کر دیا۔ اس نے ایسا کیسے اور کس ہتھیار سے کیا؟ اس کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آسکی ہے۔ اس کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا اور اس طالبعلم کو بھی گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یقینااس طالبعلم کی اس حرکت کو کسی بھی حال میں جائز نہیں کہا جا سکتا۔ کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا کوئی حق نہیں تھا۔ لیکن اسی کے ساتھ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے جو کچھ کیا، وہ بھی ناقابل معافی تھا۔ انہوں نے اس واقعہ کی بجا طور پر مذمت کی ، لیکن اسی کے ساتھ انہوں نے اس ٹیچر کی حرکت کی مذمت کرنے کے بجائے یہ کہہ کر مدافعت کی کہ اس ٹیچر نے اظہار رائے کی آزادی کے اس بنیادی حق کا استعما ل کیا تھا ، جو اسے آئین فرانس نے ودیعت کیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس وقعہ کو اسلامی دہشت گردی کا نام بھی دے دیا۔ ایک بڑے ملک کے سربراہ کو یہ یکطرفہ بیانی زیب نہیں دیتی۔ اس طالبعلم نے یقینی طور پر ایک جرم کا ارتکاب کیا تھا اور اسے اس کی سزا بھی ملنی چاہئے تھی، لیکن ایک ٹیچر کو بھی یہ معلوم ہونا چاہئے تھا کہ اس کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے، جہاں دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے۔ صدرمیکروں کو اس ٹیچر کی بھی مذمت کرنی چاہئے تھی۔ طالبعلم کے والدین کا کہنا تھا کہ اگر فرانس میں مقدس ہستیوں کی تقدیس پامال کرنا جرم سمجھا جاتا اور ایسا کوئی قانون ہوتا تو یہ سانحہ پیش نہ آتا ، کیونکہ اس سورت میں لڑکا اسکول کے ذمہ داروں سے اس ٹیچر کی شکایت کر سکتا تھا۔ لیکن فرانس میں تو اظہار رائے کی آزادی کے سوا کسی چیز کو تقدیس ہی حاصل نہیں ہے۔

ایک حقیقت کو جان لینا اور سمجھ لینا ضروری ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک میں مذہب بیزاری کے رجحان میں روز افزوں اضافہ جاری ہے۔ پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ عوماً سائنس پڑھنے والے اور کمیونسٹ بے دین ہو جاتے ہیں۔ لیکن گزشتہ پچاس برسوں سے بھی زیادہ عرصہ سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ بے دین افراد کی اکثریت سائنس پڑھنے والوں کی یا کمیونسٹوں کی نہیں ہے۔ اکثریت ان لوگوں کی ہے جو خالص سرمایہ پرست اور سرمایہ دارانہ نظام کے ماننے والے ہیں۔اس کے اسباب تو بے شمار ہیں، لیکن ایک وجہ وہ نام نہاد روشن خیالی بھی ہے، جس نے بڑھتے بڑھتے بے راہ روی کی شکل اختیار کر لی ہے۔مغربی معاشرے میں مذہب بیزاروں کو کشادہ دل،کشادہ ذہن اور محترم سمجھا جانے لگاہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم جنس پسندی، عورت اور مرد کا شادی کے بغیر جنسی رشتے قائم کر لینااور ہم جنسوں کی آپس میں شادی جیسی خلاف مذہب اور خلاف فطرت  باتیںمعاشرے میں تسلیم کی جانے لگیںہیں۔

یہ نام نہاد روشن خیالی علم یا مطالعہ کا نتیجہ نہیں ۔ یہ خالصتافیشن بن چکی ہے۔کوئی تیس سال قبل چند گلوکار نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے ایک گروپ بنایا تھا جوACDCکے نام سے جانا جاتا تھا۔ پورا نام Anti Christ Devil,s Childrenیعنی عیسیٰ مخالف شیطان کی اولادیں تھا۔اس گروپ نے حضرت عیسیٰؑ کی شان میں گستاخی کے گانوں کے کئی البم بنائے اور سیکڑوں اسٹیج پروگرام کئے ، جو بہت مقبول بھی ہوئے۔اسی طرح ایک اور تفریحی گروپ بنا تھا جو KISSکے نام سے جانا جاتا تھا۔  اس کا پورا نام Knights in Servicr of Satanجس کا مطلب ’شیطان کے بیحد معزز خدمت گار‘ہوتا ہے، یہ بھی یورپ اور امریکہ میں بہت مقبول ہوا۔ یہ دونوں گروپس آج بھی موجود ہیں،مگر اب ان کی مقبولیت بہت کم ہو گئی ہے۔ ان کی جگہ اب ایک اور گروپ Illuminati ’شیطان کے پجاری‘نے لے لی ہے۔ مبینہ طور پر کچھ بالی ووڈ کے لوگ بھی اس گروپ کے ممبر ہیں۔ پر یہ بھی ہے کہ ایسی تمام حرکتیں پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے کچھ ذیلی فرقے ہی کرتے ہیں، جنہیں یہودیت سے قریب سمجھا جاتا ہے۔ پروٹسٹنٹ عیسائی بی بی مریم کو وہ اہمیت نہیں دیتے، جو کیتھولک عیسائی اور مسلمان دیتے ہیں۔ کچھ تو ان کے کنواری ماں کی حیثیت کو بھی تسلیم نہیں کرتے اور یہ مانتے ہیں کہ بی بی مریم اپنے بچپن کے منگیتر جوزف کی منکوحہ تھیں اور حضرت عیسیٰؑ ان ہی کی اولاد تھے۔ ایک پروٹسٹنٹ عیسائی ادیب ڈین برائون کا ایک ناول ’ڈا ونچی کوڈ‘ دس بارہ سال پہلے ایک عالمگیر ہنگامہ آرائی کا سبب بنا تھا۔ ناول کا تھیم یہ تھا کہ ایک اطالوی مصور ڈا ونچی کی ایک تصویر میں یہ دکھایا گیا تھا کہ بی بی مریم میری میگڈلین بہت غصیلی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ ناول میں اسی تصویر کی تشریح کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ میری میگڈلین ایک عصمت فروش عورت تھی، لیکن ایک دن حضرت عیسیٰؑ کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان لے آئی اور پھر باقی عمر ایک نہایت پارسا عابدہ بن کر زندہ رہی۔ ناول میں کہا گیا تھا کہ در اصل حضرت عیسیٰ ؑنے میری میگڈلین سے ازدواجی تعلقات قائم کر رکھے تھے اور اس کے بطن سے ان کے اولاد بھی تھی اور اس اولاد کا خاندان آج بھی موجود ہے۔ ناول پر کیتھولک عیسائیوں اور مسلمانوں نے سخت اعتراض اور احتجاج کیا تھا۔ اس طرح مغرب کی مذہب بیزاری اسلام اور مسلمانوں تک ہی محدود نہیں رہی ہے۔کیتھولک عیسائی بھی اس کا ہدف بنے رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مغرب کی اظہار رائے کی یہ تمام آزادی اس وقت نہ جانے کہاں فناہو جاتی ہے جب کوئی غلطی سے بس اتنا کہہ دیتا ہے کہ ہٹلر کے حراستی کیمپوں میں یہودیوں کی ہلاکت کی جو تعداد بتائی جاتی ہے وہ تحقیق طلب ہے۔ یورپ ہو یا امریکہ ایسا کہنے والے کو فوراجیل میں بند کر دیا جاتا ہے ۔ اس دوہرے معیار کی کوئی منطق نہیں بتائی جاتی ہے۔ بہر حال فرانس کے حالیہ سانحہ کے بعد ایک تبدیلی نظر آئی ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان ایک ہو کر احتجاج کر رہے ہیں۔ تمام مسلم ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ ہو رہا ہے۔ کویت، دبئی، قطر اور ترکی میں دوکانداروں نے تمام فرانسیسی مصنوعات دوکان سے باہر کر دی ہیں۔ ترکی اور پاکستان کی پارلیمنٹوں نے فرانس کے صدر کے رویہ کی سخت مذمت کی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم نے بھی ایک مذمتی تجویز پاس کی ہے اور مسلمانوں سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ یہ بالکل درست اور قابل تقلید رد عمل ہے۔ دیکھناہے کہ فرانسیسی تاجر کب تک یہ خسارہ برداشت کر پائیں گے، کیونکہ عرب دنیا کا بائیکاٹ کسی چھوٹے موٹے خسارے کا باعث نہیں ہوگا۔

3 نومبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/hasan-kamal/extreme-of-enlightenment-is-also-a-flaw-روشن-خیالی-کی-انتہا-پسندی-بھی-مذموم-عیب-ہے/d/123386


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..