New Age Islam
Tue Sep 28 2021, 12:01 AM

Urdu Section ( 7 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Afghanistan: On the Path of Peace افغانستان: امن کی راہ پرآہستہ رو پیش قدمی

حسن کمال

7ستمبر،2021

افغانستان میں طالبان کی حکومت کی واضح اور مکمل شکل تو سامنے نہیں آئی ہے ، لیکن اس کے خدو خال نظر آگئے ہیں۔حکومت کے قیام کا اعلان گزشتہ جمعہ ہی کو کیا جانا تھا،  لیکن اس وقت تک صوبہ پنج شیر میں مزاحمت اور مدافعت اپنے عروج پر تھی۔ طالبان دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ تمام افغانستان پر ان کا کنٹرول ہو چکاہے، اس لئے پنج شیر میں ہونے والی مزاحمت کے خاتمہ کا انتظار کیا گیا۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ اب پنج شیر بھی ان کے قابو میں آچکا ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سابق نائب صدر امر اللہ صالح اور باغی کمانڈر احمد ضیاء مسعود یا تو فرار ہو گئے ہیں یا روپوش ہو چکے ہیں۔گزشتہ  ہفتہ ان کالموں میں کہا گیا تھا کہ طالبان کی حکومت کی تشکیل کن ممالک کی مشاورت سے ہو سکتی ہے۔ چنانچہ سنیچر کو پاکستان آئی ایس آئی کے چیف جنرل فیض حمید کابل پہنچ گئے۔اعلیٰ پاکستانی افسروں کا ایک بڑا وفد بھی ان کے ساتھ تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ تمام کابینہ کا اعلان ۹ ؍ستمبر تک کر دیا جائے گا۔ فی الحال جو نقشہ نظر آرہاہے، اس کے مطابق  مُلاّعبدالغنی برادر حکومت کے سربراہ ہوں گے۔ مُلّا عبدالغنی برادر کا نام پہلی بار دنیا کو ۲۰۱۲ء میں ہندوستانی نژاد امریکی جرنلسٹ اور مہاراشٹر کے ایک معروف لیڈر ڈاکٹر رفیق زکریا کے بیٹے فرید زکریا نے بتایا تھا۔ اپنے ایک مضمون میں فرید زکریا نے بتایاتھا کہ ملا عمر کے بعد طالبان میں سب سے اہم نام ملا عبدالغنی برادر کا ہے۔ عبدالغنی برادر مرحوم ملا عمر کے برادر نسبتی ہیں۔ ان کی اہلیہ ملا عمر کی چھوٹی بہن ہیں۔ کابینہ کے اہم لوگوں میں ملا عمر کے بیٹے مولوی یعقوب، طالبان کے موجودہ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد، شیر محمد عباس ستانک زئی اور سراج الدین حقانی شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سابق صدر حامد کرزئی،کے علاوہ عبداللہ عبداللہ اور حزب اسلامی کے لیڈر گلبدین حکمت یار کو بھی کسی نہ کسی شکل میں شریک حکومت کیا جائے گا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عبدالرشید دوستم کو بھی سرکار میں شامل ہونے کی دعوت دی جا سکتی ہے۔ اس تمام قواعد کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ حکومت ہر لحاظ سے مخلوط ہے اور تمام عوام کی نمائندگی کرتی ہے۔

ٖافغانستان میں بھی اب ایرانی طرز کی مجلس شوریٰ وجود میں آچکی ہے۔مُلّا ہیبت اللہ اخند زادہ اسی طرح اس مجلس کے روحانی قائد بن چکے ہیں، جس طرح آیت اللہ خامنہ ای ایران کے روحانی پیشوا مانے جاتے ہیں ۔مُلّا ہیبت اللہ بھی  افغانستان کے سپریم کمانڈر ہوں گے۔ ان کے نیچے بارہ مذہبی رہنماء کی سپریم کونسل ہوگی، جو حکومت کی رہنمائی کرے گی۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ کونسل کابل کے بجائے قندھار سے کام کرے گی۔ ویسے افغانستان کے حوالے سے یہ نہ کوئی نئی بات  ہے نہ انہونی بات ہے۔افغانستان کے قبائلی معاشرہ میں اس طرح کا انتظام  تو ہمیشہ سے موجود رہا ہے، صرف دو باتیں نئی ہیں۔ایک یہ کہ اس کا نام مجلس شوریٰ ہے اور دوسری یہ کہ اس کا محور اور مرکز دین اور شریعت ہے۔ افغانستان میں جب بادشاہت تھی ،تب بھی اسی طرح کی صلاح کارٹیم ہوا کرتی تھی۔خان ظاہر شاہ کی صلاح کار  ٹیم لویا جرگہ کہلاتی تھی۔ اس میں مختلف نسلی قبائل کے سرداران شامل تھے۔ انتظامی امور پر یہی لویا جرگہ شاہ کو مشورے دیا کرتا تھا۔ جب حامد کرزئی صدر بنے تھے تو انہوں نے بھی ایسا ہی لویا جرگہ مشاورت کے لئے بنایا تھا، بعد میں جب امریکی حملے کی وجہ سے قبائل میں اختلافات پیدا ہونے لگے تو انہیں جرگہ  تحلیل کر دینا پڑا۔  اب رہا یہ سوال کہ اس مجلس شوریٰ کا مرکز اور محور دین ہے تو یہ بھی کوئی نئی اور انہونی بات نہیں ہے ۔تمام عرب ممالک میں قوانین شریعت کے دائرے کے اندر ہی تشکیل کئے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ ایران، پاکستان اور ترکی میں بھی، جہاں کسی نہ کسی شکل میں پارلیمانی  جمہوریت پائی جاتی ہے،وہاں بھی کوئی   ایساقانون نہیں بنایا جا سکتا جو قرآن کریم کے کسی حکم کی نفی کرتا ہو۔ تمام مغربی اور مشرقی ممالک نے ان سب ممالک سے سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔

ہندوستان کے لئے یہ بات ضرور باعث تشویش ہے کہ افغانی مجلس شوریٰ میں،یا اس کا جو بھی نام رکھا جاتا ہے، جو لوگ شامل ہیں تقریباََ وہ سب کے سب پاکستان میں پلے بڑھے ہیں۔ انہوں نے دینی تعلیم پاکستان کے دیو بندی مدارس میں پائی ہے۔ مُلّا ہیبت اللہ خود ایک پاکستانی مدرسہ میں مدرس رہ چکے ہیں۔ جو اسکول اور کالج   بھی  گئے ہیں وہ بھی پاکستان ہی کے اسکولوں اور کالجوں میں گئے ہیں، یعنی پاکستان سے ان کی دلی اور جذباتی رغبت ہے۔ اہم عہدوں پر فائز کئے جانے   والے کئی افراد جیسے گلبدین حکمت یار، شیر   محمد عباس ستانک زئی اور مُلّا عبدالغنی برادر بھی پاکستانی کالجوں سے فارغ التحصیل ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ افغان عوام کے دلوں میں  ہندوستان کے لئے کوئی رغبت نہیں ہے۔ ہندوستان نے افغانستان میں کئی تعمیراتی کام کئے ہیں، جن کے افغان عوام معترف بھی  ہیں۔ لاکھوں افغان عوام بالی ووڈ فلموں اور تینوں خان ،شاہ رخ، عامر اور سلمان کے  دیوانے ہیں۔ اب یہ حکومت ہند پر ہے کہ وہ اس رغبت کو کس طرح بروئے کار لاتی ہے۔

بہر حال اب جب کہ افغانستان  بہت آہستہ روی سے امن کی راہ پر پیش قدمی کرتا دکھائی دے رہا ہے ساری دنیا طالبان کے ہر قدم کو بہت غور سے دیکھ رہی ہے۔حکومت سازی کے بعد طالبان کے سامنے دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ دنیا ان کی حکومت کوکب تسلیم کرتی ہے۔ اس سلسلہ میں مغربی ممالک اور باقی دنیا کے رویہ  میں اختلاف دیکھا جا رہا ہے۔ یوں تو افغانستان کے ہمسایہ ممالک سمیت تمام دنیا  کو یہ اطمینان اور یقین کر لینا چاہئے  کہ طالبان کے اس دعوے میں کتنی حقیقت ہے کہ انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے اور وہ اب بدل چکے ہیں۔لیکن مغربی ممالک نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ اس دعوے کو عمل میں بدلتے دیکھ لینے کے بعد ہی طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں گے۔انسانی حقوق خصوصاََ نسوانی حقوق کی مکمل بحالی کے بغیر مغربی ممالک طالبان کو تسلیم نہیں کریں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان پر یہ دبائو رہنا ہی چاہئے۔ نظام حکومت میں خواتین کی شمولیت کے بغیر کسی قوم کی ترقی ممکن نہیں۔آج   افغانستان میں تعلیم یافتہ خواتین کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ ان کی تعلیمی لیاقتوں کی نفی کرنا طالبان کے لئے بھی  خسارے  کا سبب بنے گی۔ لیکن اسی کے ساتھ مغربی ممالک نے طالبان سے مسلسل رابطے قائم کئے رکھے ہیں ۔ دوحہ میں کسی نہ کسی یورپی ملک کا کوئی نہ کوئی وفد طالبان لیڈر شپ سے ملتا ر ہا ہے اور طالبان ان ملاقاتوں کی تشہیر بھی کرتے ہیں۔ قطر میں ہمارے سفیر دیپک متّل نے بھی طالبان لیڈر شیر محمد ستانک زئی سے ملاقات کی، لیکن نہ جانے کیوں طالبان ترجمان نے نہ اس کی تصدیق کی، نہ ہی تردید کی۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے،اس نے اپنا سفارت خانہ بند نہیں کیا ہے، دوحہ منتقل کر دیا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ اگر اس نے طالبان اور افغانستان سے رشتے منقطع کر لئے تو ایک بار پھر افغانستان القاعدہ اور داعش کی آماجگاہ بن سکتا ہے، جن سے امریکہ کو ہمیشہ کھٹکا لگا رہتا ہے۔امریکہ اتنا بڑا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ دوسری طرف تو روس، چین، ترکی، ایران اور پاکستان نے بد ترین جنگی جھڑپوں کے دور میں بھی کابل میں اپنے سفارت خانے کھلے رکھے۔ اسے ایک طرح سے طالبان حکومت کی نیم تسلیمی جیسی کیفیت کہا جا سکتاہے۔ صرف ان میں سے کوئی انفرادی طور پر تسلیمی کا باضابطہ اعلان نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ممالک جو بھی قدم اٹھانا چاہتے ہیں، ایک ساتھ اور اجتماعی طور پر اٹھانا چاہتے ہیں۔ اور ایک بار ان پانچ  ممالک نے کوئی فیصلہ کر لیا تو مرکزی ایشاء  کی ریاستیں  یعنی  تاجکستان،ترکمانستان،کرغستان اور ازبیکستان کو فیصلہ کرتے دیر نہیں لگے گی۔ مشرق وسطیٰ بھی اس کے بعد نئی افغان حکومت کو تسلیم کرتے دیر نہیں لگائے گا۔

7ستمبر،2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/afghanistan-path-peace/d/125324

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..