New Age Islam
Thu Apr 22 2021, 10:56 AM

Urdu Section ( 11 Aug 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Repentance Provides Relief to the Heart توبہ سکون قلبی کا باعث ہے

 

 

ہارون یحیی

18 اپریل2014

کافروں اور مومنوں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ مومن توبہ جیسی مذہبی ذمہ داری کو بکثرت انجام دیتے ہیں؛ چونکہ کافر خود کو گناہوں سے آزاد سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اسی لیے انہیں توبہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ جبکہ دوسری طرف مومن ایسے گناہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں جو اللہ کی ناراضگی کاسبب ہوں۔ تاہم مسلمان اگر فطرتاًکبھی عارضی طور پر دنیاوی خواہشات کا شکار ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بھی لے تو وہ اس پر نادم ہوتا ہے اور اپنے رب سے بخشش طلب کرتا ہے۔

اللہ نے انسان کو انتہائی بے بس مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے۔ انسان علم کی کمی کی وجہ سے غفلت کا شکار ہو سکتا ہے؛ وہ ان مضامین کو بھی بھول سکتا ہے جن میں وہ ماہر ہے؛ جان بوجھ کریا غلطی سے غلط فیصلے کر سکتا ہے یا کوئی غیرمناسب برتاؤ پیش کر سکتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ انسان کا ایک بے رحم دشمن ہے جو اللہ کے خلاف بغاوت پیدا کرنے اور لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کر کے انہیں سچے راستے سے گمراہ کرنے کی امید رکھتا ہے۔ انسان کی فطرت کا ایک پہلو وہ ہے جو انہیں مسلسل برائی کا ارتکاب کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ بے شک اللہ نے لوگوں کو ان کی دنیاوی خواہشات اور شیطان جو انہیں گمراہ کرتا ہے دونوں سے مقابلہ کرنے کا راستہ دکھایا ہے اور اللہ نے ایماندار لوگوں کو آسانی سے ان معاملات پر قابو پانے کی طاقت عطا کی ہے۔ جب تک انسان ان دونوں منفی قوتوں سے خود کی حفاظت کرتا رہے گا تب تک اسے اللہ کی رضامندی اور اس کی خوشنودی حاصل رہے گی۔

تمام معاملات میں اللہ نے لوگوں کو ایک ایسا راستہ دکھایا ہے جس سے وہ اپنی غلطیوں کی تلافی کر سکتا ہے اور وہ راستہ توبہ و استغفار ہے۔

اللہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی غلطیوں سے سیکھیں

مومن کی توبہ کا ایک اچھا پہلو یہ ہے کہ وہ اللہ کی پناہ حاصل کرتا ہے اور اپنی غلطیوں پر گہری ندامت ظاہر کر کے فوری طور پر اپنی ان غلطیوں کا دوبارہ ارتکاب کرنے سے پرہیز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں مسلمان ایک حقیقی اور پرخلوص توبہ کرتا ہے۔ توبہ کرنے کا مطلب اپنے ارادےاور اقوال میں سچا رہنا اور موت کے وقت تک اس راہ حق کی پیروی کرنا ہے جس سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہو۔ قرآن میں اللہ نے ان لوگوں کے لیے توبہ کے ایسے طریقوں کو بیان کیا ہے کہ جو لوگ اپنے توبہ میں مخلص ہیں انہیں ان طریقوں پر عمل کرنا چاہیے، ‘‘خدا انہیں لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھے ہیں۔ پھر جلد توبہ قبول کرلیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے۔ اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے .... (قرآن 4:17) ایک دوسری آیت میں اللہ کا فرمان ہے، "... اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے۔" (قرآن 3:135)

غلطیوں پر فوراً توبہ کرنا اور فوری طور پر اللہ کی پناہ حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔

قرآن کہتا ہے: "دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے۔" (قرآن،83:14)

لوگوں کو ان مہلتوں سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے جو انہیں عطا کی گئی ہے۔ جب لوگوں کو اس دنیاوی زندگی میں مہلت دی گئی ہے تو ضروری ہے کہ وہ توبہ اور استغفار کر کے نجات حاصل کر لیں۔ اس لیے کہ موت کے وقت ہو سکتا ہے کہ ایمان اور توبہ اللہ کی بارگاہ میں کام نہ آئیں۔ لہٰذا لوگوں کو ایسا برتاؤ کرنا چاہیے گو کہ کسی بھی وقت موت آ سکتی ہے اور انہیں اپنے اخلاقی اقدار کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی اپنی زندگی میں کون سے گناہ کرتا ہے، خواہ اس کے گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے جیسے ہی وہ انسان توبہ کرتا ہے اور اللہ غفور الرحیم کی طرف رجوع کرتا ہے جو کہ توبہ قبول کرنے والا اور برائیوں کو نیکیوں میں بدلنے والا ہے ہےتو اس بات کی امید ہے کہ اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دئے جائیں۔ اللہ ضرور توبہ کا جواب دے گا۔ اللہ توبہ کرنے والے کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیگا اور اس کے موجودہ اور مستقبل کے نیک اعمال کا اجروثواب سب سے بہتر طریقے سے عطا کرے گا۔

لوگوں کے مذہبی اخلاقی اقدار سے دور ہونے کی ایک غلط وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے خود کو ‘‘ناقابل علاج اور ناقابل اصلاح’’ سمجھنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ برے اعمال کی وجہ سے ان کے اندر پیدا ہونے والے احساس جرم کے جذبات ہیں۔ شیطان مسلسل ان لوگوں پر کام کرتا ہے جو قرآنی اخلاقی اقدار کے لحاظ سے معاملات کا جائزہ نہیں لیتے اور جو اللہ کی صفت رحمٰن و رحیم ہونے کو بھول جاتے ہیں جو کہ ہر توبہ کو شرف قبولیت بخشتا ہے اور بے حد و حساب بخشنے والا ہے۔ اور شیطان گناہ کا ارتکاب کرنے والے کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ "تم ایک گنہگار ہو اور تم بدل نہیں سکتے لہٰذا حقائق کو تسلیم کرو " پھر ا س کے بعد یہ کہہ کر اس شخص کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ‘‘تم نے ایک مرتبہ گناہ کر ہی لیا ہے تو دوبارہ گناہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے" اور اس کے بعد شیطان اسے ذلت کی پستی میں ڈال دیتا ہے۔

وہ لوگوں کی غلطیوں کا استعمال انہیں اللہ سے دور کرنے کے لیے کرتا ہے۔ تاہم شیطان کے تمام حربوں کی طرح یہ بھی ایک کمزور حربہ ہے اس لیے کہ گناہ کا ارتکاب کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ انسان سچا راستہ تلاش نہیں کر سکتا۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے کہ خدا ہر اس شخص کو معاف کرے گا جو خلوص دل کے ساتھ توبہ کرتا ہے، بخشش طلب کرتا ہے اور پھر اسی گناہ کے ارتکاب سے بچنے کی کوشش بھی کرتا ہے "اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرے اور نیکوکار ہو جائے تو خدا اس کو معاف کر دے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔" (5:39)

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ماخذ:

http://www.arabnews.com/news/557266

URL for English article:

http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/harun-yahya/repentance-provides-relief-to-the-heart/d/76721

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/harun-yahya/repentance-provides-relief-to-the-heart--توبہ-سکون-قلبی-کا-باعث-ہے/d/98525

 

Loading..

Loading..