New Age Islam
Sun Oct 25 2020, 03:52 AM

Urdu Section ( 13 May 2009, NewAgeIslam.Com)

This is Madness not Jihad جہاد نہیں یہ جنون ہے

ہارون رشید

جہاد نہیں یہ جنون ہے کہ جہاد کی اخلاقی شرائط ہیں۔ دائمی اور ابدی کہ قرآن کریم کا کوئی فرمان اور اللہ کے آخری رسول کا کوئی ارشاد ،عارضی،سطی اور مقامی نہیں ہوتا۔ گردش لیل ونہاد میں وہ دائم برقرار رہتا ہے ۔ جہاں دوسروں کی سانس ٹوٹنے لگتی ہے، بھلے شاہ وہاں سے ابتدا کرتا ہے ، یہ اسی کا مصرعہ ہے۔

‘‘سچ آکھیاں بھانجفر مچدااے’’

سچ بولا جائے تو شعلے بھڑک اٹھتے ہیں ،سچ صرف یہ نہیں کہ افغانستان اور اس کے عم زاد قبائلی علاقوں میں فتنوں کا دروازہ امریکی حملے سے کھلا ۔ سچ یہ بھی ہے کہ سفاک سوویت یونین کی سرخ افواج نے افغانستان میں ڈھائی سو برس سے چلے آتے ،احمد شاہ ابدالی عہد کے عمرانی معاہدے کا تاروپود بکھیر دیا تھا۔یہ بھی جنگ کے میدان میں ایک عشرے تک خم ٹھونک کر کھڑے رہنے والے افغانی مجاہدین کے رہنما نیا عمرانی معاہدہ تخلیق  نہ کرسکے جو اجتماعی زندگی کو درکار کم از کم رواداری کے لئے لازم ہوتا ہے۔ اتنی ہی بڑی صداقت یہ بھی ہے کہ سوویت یونین کی پسپائی کے بعد امریکہ نے افغانستان پر اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنے کی کوشش کی ۔ایسی حکومت جس کا افغان عوام کی امنگوں اور احساسات سے دور کا واسطہ بھی نہ ہو اور یہ کہ اس مرحلے پر اول بینظیر بھٹو اور پھر میاں نواز شریف کی حکومتو ں نے کما ل درجے کے اخلاقی افلاس کامظاہرہ کیا۔ یہ بھی نہ صرف امریکہ ، روس، یورپی یونین اور ایران بلکہ پاکستانی حکمرانوں نے افغانی عوام کی بجائے اپنے مفادات کو ملحوظ رکھا ۔ ان سب نے بھلا دیا کہ دوسروں کی طرح افغان سرزمین پر بسنے والے بھی جیتے جاگتے ہیں اور سے زیادہ گڑوا سچ یہ ہے کہ اسلام کے نام پر جہاد کرنے والے تمام افغان اگر چہ مخلص تھے مگر ان کے رہنما اپنے گروہی اور قبائلی تعصبات سے رہائی نہ پاسکے۔ خانہ جنگی کے خلاف طالبان اور رد عمل تھے مگر ردعمل ہی ۔ وہ قدامت پر ست مذہبی لوگ تھے مگر اپنے عصر کے حقائق سے ناآشنا۔ ڈاکٹر اسرار احمد سے لے کر ڈاکٹر جاوید اقبال تک اورجنرل حمید گل سے لےکر قاضی حسین احمد تک، سبھی نے ان کی مدد کی مگر ایک سچ یہ بھی ہے کہ جب تک ملا عمر اقتدار میں رہے، یکطرفہ تائید کے باوجود قاضی حسین احمد ، طور خم کے اس پارنہ جاسکتے تھے ۔2000میں اسامہ کے کیمپ پر حملے کے بعد افغان سفارتکاروں نے دوسروں کے علاوہ اس ناچیز سے رابطہ کیا تو انہیں پشاور میں امریکہ کے خلا ف کل جماعتی کانفرنس کا مشورہ دیا گیا۔وہ دوسروں کو مدعو کرنے پر آمادہ تھے مگر حیرت کی انتہا نہ رہی  جب افغانی سفارت خانے کے فرسٹ سیکر یٹری فوزی نے عمران خان اور قاضی حسین احمد کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ تعجب کے ساتھ میں نے ان سےسوال کیا کہ کیا اعانت قبول کرنے پر بھی وہ شرائط لگائیں گے۔ قاضی حسین احمد کے بارے میں ان کا ارشاد یہ تھا کہ امیر المومنین اس کی اجازت عطا نہ کریں گے اور عمران خان کے بارے میں یہ کہاتھا کہ وہ گولڈ سمتھ کا داماد ہے۔ میں نے کہا ۔فوزیہ صاحب ! گولڈ سمتھ کا داماد، امریکی استعمار سے پاکستان کی رہائی چاہتا ہے اور وہ میچ فکس کرنے والا آدمی نہیں ۔ ایک دوست کے ہاں، ان کی ملاقات کا اہتمام کیا کہ اس کا گھر سفارت خانے اور عمران خان کی رہائش کے وسط میں واقع تھا۔ عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس کی پارٹی اعتدال پسند ہے مگر وہ افغانستانوں کے حق حکمرانی کی حمایت کرے گا۔ اور مسلسل کرتا رہا مگر قاضی حسین احمد سے بات کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ کل جماعتی کانفرنس دھری کی دھری رہ گئی۔ اعتدال واحتیاط کہاں، حکمت ودانائی کہاں فقط زعم تقویٰ ۔امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو ایک بزرگ نے مجھ سے کہا کہ کیا تم افغان سفارت خانے کی کچھ مدد کرسکتے ہو کہ اخبارات کیلئے وہ اپنا موقف مرتب کرلیا کریں۔ دوبار میں پہلے سے وقت لے کر سفیر افغانستان ملا ضعیف کی خدمت میں حاضر ہوا مگر دونوں باران کے پاس وقت نہ تھا ۔ دونوں بار انہوں نے مجھ سے صرف دولفظ کہے۔‘‘صبر کرو’’ ان کے ایک نائب نے ایک بار اس پر اضافہ کیا۔‘‘ ہم جہاد میں ہیں اور ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ ہماری مدد کرے۔’’گلبدن حکمت یار تہران میں تیز روشنیوں تلے، معلوم نہیں کتنے خطرات مول لے کر طالبان کی مدد کرتے رہے مگر طالبان کا تقاضا برقرار رہا ۔‘‘ بیعت کرو، بیعت’’ آدمیت کی تاریخ نے ایسے حکمران کب دیکھے ہوں گے کہ حالت جنگ میں اگر ان کی مدد کرنا چاہو ،تب بھی شرائط ان کی ۔حکمت نہ للم ، فقط اصرار ،فقط اپنی عظمت پراصرار ۔جولائی 1992میں کابل کے ایک ہوٹل کے جنرل منیجر نے مجھ سے کہا۔‘‘ایک طرح کے پاگل چلے گئے اور دوسری طرح کے آگئے۔’’جنرل پرویز مشرف ذمہ دار ہیں ۔ 4مئی سے کوئٹہ کے ایک ہوٹل میں پڑاہوں ۔سارا دن اخبار نویسوں ،دانشوروں اور سیاسی کارکنوں سے اس شخص کے کارنامے سنتا ہوں، جو ‘‘ڈرتا ورتا’’ کبھی نہ تھا مگر جس نے پاکستان کو امریکہ کے قدموں میں ڈال دیا ۔ جس نے بلو چستان کی روح پر وہ زخم لگائے کہ مندمل کرنے کو مرہم بنالی جائے تب بھی سالہا سال درکار ہوں گے ۔سچ میں ایک دن جنرل اشفاق پرویز کیانی کی پریفنگ کیلئے راولپنڈی گیا اور ایک مصرعہ دہرا تا ہوا لوٹ آیا۔

کھل گئے زخم کوئی پھول کھلے یانہ کھلے

عمران خان اور سید منور حسن نے سچ کہا کہ کوئی فوج اپنے عوام سے برسر پیکار نہیں ہوا کرتی مگر سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ سوات کے ‘‘مجاہد اسلام ’’ نے کوئی باقی رہنے دی تھی؟ نظام عدل قبول، قاضیوں کی من پسند تقرریاں قبول ،وکلا کی بیروزگاری قبول ،مزید کیا حکم ہے میرے آقا ؟فرمایا۔‘‘جمہوریت کفر ، عدالتیں کفر، آئین کفر، قرآن کریم قرار دیتا ہے ۔وعدہ پورا کیا کرو کہ روز جزا وعدے کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ انہوں نے معاہدہ کیا اور باہم پیغام بھیجے کہ دکھاوے کیلئے ادھر ادھر ٹل جاؤ ۔ ایسی ڈھٹائی اور ایسی سینہ زوری ۔محض فقہی اختلاف پر انہوں نے اپنے حریف کی لاش قبر سے نکالی اور سولی پر لٹکادی ۔قوم کے خون پسینے سے بنائے گئے تعلیمی ادارے بموں سے اڑا دیئے اس پر بھی ان کی بات مان لی گئی تو مطالبات کی ایک نئی فہرست وجود میں آگئی اور بچے جننے لگی۔ انسانوں کے درمیان تنازعات ہوتے ہیں اور ساری دنیا میں انہیں طے کرنے کا ایک ہی قرینہ ہے۔ بات چیت لیکن اگر معاہدے کے باوجود اعلان کے باوجود ایک حریف من مانی پرتلا رہے؟ اللہ کی ‘‘آخری کتاب کیا کہتی ہے؟’’کہ ان میں صلح کرادو ،پھر اگر ایک فریق انحراف کرے تو سب مل کر اس سے لڑو۔ اس خدا کی قسم ،جس کے قبضہ قدرت میں انسانوں کی جان اور آبرو ہے، مولانا فضل اللہ اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قبر خود کھودی ہے اور وہی سواتی عوام کی اذیت کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ حد ہوگئی گھر کے دروازے پر ڈاکو اسلحہ تانے کھڑے ہیں اور گھر میں ایک ایسا بھی ہے جس نے خاندان ہی کو یرغمال بنالیا کہ ڈاکوؤں کا مقابلہ اس کی مرضی سے ہوگا۔ سچائی ،صبر اور حکمت سے نہیں، جیسا کہ انسانوں کو ا ن کے پروردگار نے حکم دیا ہےکہ جنو ن سے ۔بجا کہ مجرم امریکہ ہے اور اس کے کارندے ۔ بجاکہ عوام کی عدل سے محرومی اور حکمران طبقے کی بے حسی سب سے برا مسئلہ ہے۔ اس میں ہرگز کوئی کلام نہیں کہ گیدڑوں کی ایک قابل ذکر تعداد امریکہ کیے دریوزہ درگر اور بدعنوان ہے مگر اس کا یہ مطلب کیسے ہوا کہ بیگناہوں کو قتل کیا جائے۔ پاکستان کے امریکہ مخالف اور افغانیوں کی آزادی کے حامی عوام کا جرم کیا ہے؟پورا سچ کوئی نہیں بولتا ،صرف اللہ کی کتاب اور اس کا سچا رسول۔ اللہ کے آخری رسول نے تیرہ برس تک طعنے سنے ، گالیاں کھائیں ، اذیتیں برداشت کیں۔ دس برس مدینہ منورہ میں یلغار کا سامنا کیا۔ بغض وعنا د اور نفرت کی آخری حد کا ۔ مکہ میں فاتحانہ قدم، رکھا تو یہ کہا ۔‘‘آج تم سے کوئی باز پرس نہ ہوگی ۔امان ہے۔ ابوسفیان کے گھر میں ، اپنے کواڑ بند کرنے والے کو اور حرم میں پناہ لینے والے کو ۔ اللہ اور اس کے پیغمبر کو ماننے والے یہ کیسے لوگ ہیں کہ ان سے پناہ کی کوئی صورت ہی نہیں ۔ ان کی ساری بات مان لو، یہ تب بھی نہیں مانتے ۔ نہیں بخدا ،جہاد نہیں ،یہ جنون ہےکہ جہاد کی اخلاقی شرائط ہیں۔ دائمی اور ابدی کہ قرآن کریم کا کوئی فرمان ،اللہ کے آخری رسول کا کوئی ارشاد وقتی ،عارضی ،سطحی اور مقامی نہیں ہوتا۔

(مضمون  نگار پاکستان کے معروف اسلامی اسکالر ،صحافی وکالم نویس ہیں)

URL for this article:

 

Loading..

Loading..