New Age Islam
Mon Oct 19 2020, 10:57 PM

Urdu Section ( 5 Jun 2009, NewAgeIslam.Com)

Rule of Contitution آئین کی حکمرانی جناب،آئین کی حکمرانی

ہارون الرشید

نہیں جناب ریاست میں مسخر ے پن کے ساتھ نہیں چلتی ۔ ایک جماعت وہابیوں کی ، ایک ایک دیوبندیوں ، بریلویوں کی۔ اللہ کی کتاب کہتی ہے: ہم نے تمہارا نام مسلم رکھا۔ ہمارا جواب یہ ہے : جی نہیں ، مسلمان نہیں ہم بریلوی ،دیوبندی ، شیعہ اہلحدیث ہیں۔ عام مسلمان تو بے شک روا دار ہیں مگر فرقہ پرست مولوی کا تمام تر انحصار ہی نفرت کے فروغ پر ہے۔ ادھر ایک دوسرا عذاب ہےکبھی روس اور کبھی امریکہ کے لئے کورس میں گانے والے۔ عدالتی فیصلہ سرآنکھوں پر ۔ ججوں نے چھان پھٹک لیا ہوگا۔ ۔یقیناً انہوں نے انصاف کیا ہوگا لیکن سوال دوسرا ہے۔ اگر حافظ محمد سعید جیسے لوگ موجودہ ابتلاکے ذمہ دار نہیں تو اور کون ہے۔ جی چاہتا ہے آدمی اپنا گریبان چاک کردے۔ پاکستانی ریاست کے چلانے والوں نے پے درپے ایسی ہولناک غیر ذمہ دار یوں کا ارتکاب کیا کہ خدا کی پناہ۔ جہاد کے نام پر فرقہ پرستوں کے لشکر بنائے گئے اور ان کی قیادت غیر ذمہ دار، غیر تربیت یافتہ لوگوں کو سونپ دی گئی۔ دولت، اختیار اور شہرت ۔اگر وہ آپے سے باہر ہوتے تو کیا ہوتے۔ سیاسی حرکیات اور تاریخی شعور سے بے بہرہ لوگ۔ جب فوج سیاست کے فیصلے کرے گی تو ایسے ہی کرے گی۔جب سیاستدان امریکہ سے پوچھ کربروئے کار آئیں گے تو اسی طرح بروئے کار آئیں گے۔

 سید ابوالاعلیٰ مودودی نے سچ کہا تھا کہ ریاست جہاد کی ذمہ داری قبول کرے،خو د اعلان جنگ کرے۔ حکومت پاکستان ملوث رہی مگر چوروں کی طرح ۔ جہاد جیسا جلیل فیصلہ اور جھوٹ کے ساتھ؟ نجات سچ میں ہےجھوٹ میں نہیں۔ جھوٹ میں ہلاکت ہے۔ آدمی خود کو دھوکا دیتا ہے دوسروں کو نہیں ۔ پیہم حماقتیں کرتے ہوئے آخر ہم وہاں آگئے جہاں خانہ جنگی ہے اور معیشت برباد ۔ تعصب کا عالم یہ کہ مذہبی لوگ قاتلوں کی مذمت کرنے میں حائل ہیں۔ نام نہاد ترقی پسند چیخ رہے ہیں مارڈالو، ہرداڑھی والے کو مار ڈالو۔ مصیبت میں گھبراہٹ اور ہیجان کا مطلب ہوتا ہے، مزید مصائب، مزید مشکلات ،ڈھلوان کا سفر۔ نجات کا راستہ اعتدال کا راستہ ہے۔ قانون کی حکمرانی کا، اداروں کا قیام اور جمہوریت کا فروغ ۔ یہ جومولوی حضرات کے بے قابو گروہ  ہیں ،بخدا یہ اسلام نہیں چاہتے صرف اقتدار چاہتے ہیں ۔ رسوخ اور شہرت، ریاست کے اندر ریاست ،فسادتی الارض ۔اسلام چاہتے تو امت کو متحد کرتے، متفرق نہیں۔ اگر وہ اسلام چاہتے تو عالی جناب ﷺ کی راہ پر چلتے ۔ عالی مرتب ﷺ کا راستہ دلیل کا راستہ ہے، انس، الفت، ایثار، خیر خواہی، رواداری۔طاقت سے نہیں حسن کردار کی ضیافت کرتے۔ انہیں مسجد میں قیام کی اجازت دیتے ۔خواتین بے تکلفی سے چلی آتی تھیں۔ ۔ گاہے ان میں سے کوئی اپنے شوہر کی شکایت کرتی اور اسے طلب کیا جاتا۔

مٹی کے بنے اپنے چھوٹے سے کمرے میں سے تنہا نکل کر گلی میں وہ پیدل چلتے اور بچوں سے باتیں کیا کرتے۔ راہ گیر انہیں روک لیتے ۔ ان کے اصحاب میں فکر ونظر کا اختلاف ہوتا ۔ اللہ اور رسولﷺ کے وہ اطاعت گزار تھے اور سچے دل سے مگر ایک لشکر کے مانند نہیں بلکہ طالب علموں کی طرح۔ عرض کیا ،یارسول اللہ ﷺ ،عمر سے بخشی۔ اپنی صاحبزادی سے برہم ہوئے تھے کہ بے شک تم امہات المومنین میں سے ایک ہومگر تمہاری مجال کیا کہ عائشہ صدیقہؓ کی ہمسری کرو۔ہو ابوبکر کی لخت جگر ہیں۔ انہیں حکم دیا جاتا تو اطاعت کے سوا کیا کرتے مگر آپ ﷺ نے کہا تو یہ کہا ‘‘کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ لوگ ابوبکرؓ کو میرے لئے معاف کردیں’’۔جسے حکم کا اختیار اللہ نے دیا تھا ، اس کا عالم تو یہ تھا کہ پیہم تعلیم اور دائم صبر وتحمل ۔ دائم سچائی مگر دائم صبر کے ساتھ، حکمت اور حسن اخلاق کے ساتھ۔ ہمارے ‘‘مجاہدین ’’ کیا ہیں؟غیظ وغضب کے پیکر ۔حضرت مولانا صوفی محمد ہی کا علم واجبی نہیں، ان سب کا ۔ فرقہ پرستی کے مارے۔ کیا ان میں ایک بھی ہے جو بے گناہ مسلمانوں کے قتل کی دل سے مذمت کرے۔ وہ کہتے ہیں ،امریکہ سفاک ہے ۔جی ہاں سفاک ہے۔بھارت سازشی، جی ہاں سازشی۔ کابل میں روس اور پھر امریکہ کے در آنے سے طوفان جاگا ۔بالکل بجا ارشاد ،مگر اس کا مطلب یہ کیسے ہوا کہ لوگ اپنے گروہ بنالیں اور بے گناہ انسانوں کو قتل کرتے پھریں ۔سکھوں سے وہ جزیہ وصول کریں بلکہ مسلمانوں سے بھی ۔سیکڑوں واقعات ہیں کہ طالبان نے جبراً شادیاں کیں ۔ بچوں کو اٹھاکر لے جاتے ہیں۔ لاہور، اسلام آباد اور پشاور کے خود کش حملے الگ، کیا کسی کو حق تھا کہ نیویارک کے بے گناہ شہریوں کو زندہ جلادے۔ حد ہو گئی ، کوئی پورا سچ بولنے والا نہیں ۔ کوئی نہیں کہتا کہ فسادیوں کے یہ گروہ ملک کو برباد کردیں گے، وہ دشمن کے مددگار ہیں، منشیات وہ بیچتے ہیں، بھتہ وہ لیتے ہیں ،امریکہ دشمن ہے مگر وہ بھی تو دشمن ہیں۔

فوجی حکمران مجرم تھے، عام فوجی تو نہیں۔ جاں باز مقتل میں کھڑے ہیں ۔ آج پشت پناہی کرنی چاہئے یا مذمت ۔باتیں بہت کڑوی ہیں مگر اتنی ہی سچی ۔سفید جھوٹ ہے کہ سوات میں فوج شہریوں کو دانشتہ قتل کرتی ہے، کیوں کرے گی۔ اپنے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے؟ اہل سوات کی اذیت پہ دل دکھتا ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ غنڈوں کو انہوں نے گوارا کیا۔ ریاست ذمہ دار تھی مگر عام شہری بھی۔ رہے بدکردار سیاستدان تو ان کا وقت قریب آلگا ۔دانا آدمی وہ ہوتا ہے اور دانا قوم ہو ہے جو مصیبت اور بحران میں اعصاب پہ قابو رکھے۔ غور وفکر سے کام لے۔ تدبرادر تفکر ،ہیجان اور چیخ وپکار نہیں ۔ ان لوگوں پر خدا رحم کرے جو آج بھی سستی مقبولیت کی تمنا میں ریاکار ہیں ،جو آج بھی تعصبات کے ساتھ آسودہ ۔مذہبی جنوبی ریاست کو مانتے ہی نہیں اور ریاست توبہر حال بچا نی ہے کہ امن ریاست میں ہی ممکن ہوتا ہے، ورنہ خانہ جنگی ،ورنہ انار کی ، ورنہ خاکم بدہن وطن خونخوار دشمن کے لئے ترنوالہ ۔ پاکستان کمزور نہیں ،انتشار اسے کمزور کرتا ہے۔ اسے متحد کرنا ہے اور اتحاد اصولوں پرہوتا ہے ۔ فساد ی گروہوں سے نجات ،طاقتوروں کی من مانی سے نجات ۔آئین کی حکمرانی ،جناب آئین کی حکمرانی ۔مکانی حضور ،مکالمہ اور غور فکرحرف آخر ۔ بزرگوں کا ارشاد ہے کہ میں شیخ پانہ ہوں اور انہیں معاف کردوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں بالکل آسودہ ہوں۔ میں نے انہیں معاف کیا۔مود بانہ گزارش یہ ہے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو معاف کردیں ۔ آدمی کو عزت کا انحصار ، اس کی روش پر ہوتا ہے۔

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/rule-of-contitution-آئین-کی-حکمرانی-جناب،آئین-کی-حکمرانی/d/1445

 

 

Loading..

Loading..