New Age Islam
Wed Oct 27 2021, 12:46 PM

Urdu Section ( 1 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Maula Monastery and The Movement Of Hazrat Shah Hamdan (RA) خانقاہ مولیٰ اور حضرت شاہ ہمدانؒ کی تحریک

حکیم محمد شیراز

1 اکتوبر،2021

خانقاہ حضرت شاہ ہمدانؒ

----

بروز جمعہ راقم کو خانقاہ مولیٰ،(جسے شاہ حمام مسجد او رخانقاہ معلی کے نام سے بھی جانا جاتاہے اور) جو کشمیر میں پرانے شہر کی سب سے قدیم مسجدوں میں سے ایک ہے، جانے کا موقع ملا۔ یہ خانقاہ فتح کدل اور زعنا کدل کے درمیان، دریائے جہلم کے دائیں کنارے پر واقع ہے۔ 1؎وہاں پہنچ کر عجیب ساسکون، نورانیت وروحانیت محسوس ہوئی۔ یوں تو کشمیرکی درسی کتابوں میں اس خانقاہ کا تذکرہ پڑھا تھا مگر اس کا مرکز روحانیت پر پہنچنے کا موقع پہلی بار لگا بلکہ ایسا لگا کہ ؎

وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلع انوار

عمارت کی اندر و باہر کی نقاشی بے مثال ہے۔ یہ سب سے پہلے، 1395 عیسوی میں سلطان سکندر کی طرف سے تعمیر کی گئی تھی۔ یہ کشمیر کی لکڑی کی تعمیر کی بہترین مثال ہے او راسے پاپیرمیش سے سجایا گیا ہے۔

خانقاہ کے اندر کچھ لوگ ہمہ تن اللہ کے ذکر میں مشغول تھے بلکہ ایسا لگا کہ ”عینا یشرب بھالمقر بون“ کا نظارہ ہے۔ مگر یہاں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ جگہ ایک وقت میں حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کی دینی و اصلاحی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے۔

زبان پہ بار خدا! یہ کس کا نام آیا

کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے

یوں تو کئی مرتبہ دل میں آیا کہ داعی کبیر حضرت امیر کبیر ؒ کی سیرت سے متعلق کچھ لکھوں،مگر پچھلے پانچ سال کی مصروفیات نے موقع نہیں دیا۔ اب جوحضرت کی خانقاہ کا دورہ کیا تو میری تصنیفی فطرت بے چین ہوگئی اور بطور تبری کے حضرت کی سیرت مختصر اً الفاظ کی شکل میں نوک قلم کے سپر د کررہا ہوں۔

حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ:

یہ بات واضح کرتا چلوں کہ شروع ہی سے اسلام کے قلب و جگر اور اس کے اعصاب پر ایسے حملے ہوئے ہیں کہ کوئی دوسرا مذہب ان کی تاب نہ لاسکتا تھا، لیکن اسلام نے اپنے ان سب حریفوں کو شکست دی،اور اپنی اصل شکل پر قائم رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہر دور میں ایسے افراد پیدا ہوئے،جنہوں نے تحریفات و تاویلات کا پردہ چاک کردیا اور حقیقت اسلام اور دین خالص کو اجاگر کیا۔ عقائد باطلہ کی بے باکانہ تردید اور مشرکانہ اعمال ورسوم کے خلاف علانیہ جہاد کیا، مادیت اور نفس پرستی پرکاری ضرب لگا ئی،تغیشات اور اپنے زمانے کے مترفین (آسوہ حال لوگ) کی سخت مذمت کی او رجابر سلاطین کے سامنے کلمہ حق بلند کیا، عقلیت پرستی کا طلسم توڑا او راسلام میں نئی قوت اور اسلام میں نئی قوت و حرکت او رمسلمانوں میں نیا ایمان او رنئی زندگی پیدا کردی۔ یہ افراد دماغی، علمی اخلاقی اور روحانی اعتبار سے اپنے زمانے کے ممتاز ترین افراد میں سے تھے او رطاقتور او ردلآویز شخصیتوں کے ممالک تھے، جاہلیت او رضلالت کی ہر نئی ظلمت کے لیے ان کے پا س کوئی نہ کوئی ”یدبیضا“ تھا، جس سے انہوں نے تاریکی کا پردہ چاک کردیا اور حق رو شن کیا۔ حضرت امیر کبیر بھی انہیں افراد میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے امت کی ہدایت کے لیے قبول کیا۔ مجددین او رمصلحین میں آپ کا شمار ہے۔2؎

حضرت کا وطن:

آپ 12 رجب 414 ھ 12اکتوبر،1314 ء کو ایران کے شہر ہمدان میں پیدا ہوئے۔ حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ کا اسم مبارک ”علی“ کنیت ابومحمد اورالقاب امیرکبیر و شاہ ہمدان تھے۔ آپ کا وصال 6  ذوالحج،786 ھ بمطابق 19 جنوری،1387 ء کو ہوا او ر کولاب،ختلان (تاجکستان) میں مدفون ہیں۔ ختلان ما وراء النہری کے علاقہ میں سمرقند سے قریب شہروں کا ایک مجموعہ ہے، جو دریائے جیحوں کے بالائی حصہ پر واقع ہے، اس ضلع کے ایک شہر یا مقام کو ختل بھی کہتے ہیں،جمع کے موقع پر ختلان کہتے ہیں۔

ابتدائی تعلیم:

ابتدائی تعلیم اپنے خالو سید علاؤالدین اور اس وقت کے بزرگ شرف الدین مزدقانی سے حاصل کی۔

داخلہ طریقت و سلسلہ اصلاح:

آپ پہلے شیخ تقی الدین دوستی کے مرید تھے بعد میں شرف الدین محمود مزدقانی سے بیعت ہوئے آپ جب اپنے پیرومرشد شرف الدین مزدقانی کے پاس آئے چونکہ آپ حاکم ہمدان کے بیٹے تھے تو مرشد نے کہا اگر آپ بحیثیت آقا آئے ہیں تو میں خدمت کرنے کو تیار ہوں او راگر بحیثیت خادم آئے ہیں تو پھر اس خانقاہ کے خاکروب کی حیثیت اختیار کریں آپ کو مرشد نے دنیا کے سیر اور مختلف اولیاء سے فیض حاصل کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

حضرت امیر کبیر قطب الدین محمد مدنیؒ (متوفی 677ھ) ابولجناب حضرت نجم الدین کبریٰ (م 610ھ) کے خلفاء میں سے تھے، جن کے سلسلے میں امیر علاؤالدوالہ سمنانیؒکی شاخ پر ثمر سے امیر کبیر میر سید علی ہمدانیؒ (م 786ھ) منسلک ووابستہ تھے، یہ سلسلہ سہروردیہ تھا، جو کشمیرمیں کبروی،بہار میں فردوسی اوردکن میں جنیدی کہلاتا ہے۔ آپ کے والد ماجد کا نام گرامی میر سید شہاب الدینؒ او روالدہ ماجدہ کا اسم گرامی فاطمہؒ تھا آپ کا سلسلہ نسب سترہویں پشت میں حضرت رسالتمآب ؒسے جاملتاہے۔آپ نجیب الطرفین سید ہیں۔ والد اور والدہ دونوں سادات اور دونوں نسباً سید تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے ماموں حضرت سید علاؤالدین سمنانیؒ سے حاصل کی او ران ہی کی تربیت میں رہ کر قرآن پاک حفظ کیا۔ اسلامی علوم، حدیث و تفسیر وفقعہ وعقاید کی تعلیم بھی مکمل کی ساتھ ساتھ علم و عرفان، تزکیہ نفس اور روحانی کمالات کے منازل میں طئے کرتے رہے۔ اس کے بعد اپنے بلند مرتبہ ہم درس شیخ تقی الدین سے مکمل استفادہ حاصل کیا اور ان ہی کے مریدبن کر باطنی علوم حاصل کئے اور روحانی کمال پایا۔ اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے شیخ شرف الدین مزدگانیؒ کی صحبت اختیار فرمائی اور ان ہی کے حکم سے دنیا کے تبلیغی ممالک میں پھرتے رہے اور وسط ایشیا میں اپنے پر اثر تبلیغوں سے اسلام کا نور پھیلا دیا اس دوران آپ ؒ کشمیر بھی آتے رہے۔5؎

کشمیر آمد:

روایات کے مطابق حضرت امیر کبیرتبلیغ دین اسلام کی خاطر پہلی بار اپنی سیاحت کے دوران 780ھ یا 781 ھ میں سلطان شہاب الدین کی حکومت کے دوران وارد کشمیر ہوئے او ریہاں چار ماہ کے قیام کے بعد حج بیت اللہ کو چلے گئے،بعد ازاں دوبارہ 783 ھ میں،سات سو افراد جن میں سادات کرام، اولیاء عظام او رعلماء کی خاصی تعداد شامل تھی، اس کے ساتھ کشمیر آئے۔ روایات کے مطابق اس وقت یہاں کے سلطان قطب الدین ولی عہد تھے۔ اس بارآپ نے اپنے ساتھ لائے خلیفوں کو کشمیر کے طول عرض میں پھیلا دیا جو تبلیغی مشن میں کافی سرگرم رہے جس کے نتیجے میں بے شمار غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ڈھائی سال بعد آپ تبلیغ دین کی خاطر لداخ کے راستے ترکستان گئے۔ تیسری بار 785ھ میں پھر تشریف فرما ہوئے او ریہاں ایک سال قیام فرمایا۔ اپنے مریدین اور خلفاء کو بڑی شدت کے ساتھ ان پر عائد ذمہ داریوں کا احسا س دلایا۔ سنتوں کا اہتمام، بدعات، او ربرے رسومات سے سختی سے اجتناب برتنے اور دعوت الی اللہ و عبادات میں پابندی جیسے اہم امورات پر توجہ مبذول رہی۔ یہ تیسرا اور آخری اور سفر کشمیر تھا۔

تصنیفات:

سید علی ہمدانی ایک درویش، صوفی او رمبلغ اسلام ہونے کے ساتھ مصنف بھی تھے۔ آپ نے عربی اور فارسی میں تقریباً 1000 کے آس پاس کتابچے لکھے۔”تحائف الابرار“ میں آپ کی تصنیف کردہ کتب کی تعداد ایک سو ستر 170 بیان کی گئی ہے۔ ان میں سے کئی کتب برصغیر پاک و ہند پر مغلیہ دور حکومت میں شامل درس رہی ہیں۔ تقریباً ستر 70 کتب موجود ہیں جب کہ باقی نایاب ہیں، بہت سی کتب کے قلمی نسخے،برٹش میوزیم لندن، انڈیا آفس لائبریری، دیانا، برلن، پیرس، تہران، تاشقند، تاجکستان، پنجاب یونیورسٹی لائبریری، بہاولپور، ایشیا ٹک سوسائٹی بنگال، میسور او ربانکی پورہ انڈیا میں موجود ہیں۔ جن میں آپ کی مشہور کتاب ذخیرۃ الملوک کے کئی زبانوں میں ترجمے بھی ہوچکے ہیں۔کچھ دوسری مشہور تحریریں ذیل میں دی گئی ہیں:

ذخیرۃ الملوک: اچھی حکومت چلانے کے اصول اور اخلاقیات سیاست

سیاست

”کتاب الاسرار“ ”آداب المریدین“

رسالہ نوریہ: غور وفکر پر ایک تحریر

رسالہ مکتوب: سید علی ہمدانی کے سلاطین، امراء اور مرید ین کو لکھے گئے 22 خطوط پر مشتمل کتابچہ ہے۔

درمعرفت صورت و سیرت انسان: انسان کی ظاہری او رباطنی حالت پربحث۔

درحقائق توبہ: سچی توبہ کے متعلق رسالۃ الاصطلاحات: روحانیت پر کتابچہ

حل النصوص عل الفصوص:

علم الکیفیہ: اس کی ایک نقل میں موجود ہے۔

اورادالفتیحہ:اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور صفات کے بارے میں اورادفتحیہ حضرت امیر کامشہور رسالہ ہے،کشمیر کی مساجد میں توحید سے لبریز ا س رسالے کا ورد پچھلے چھ سو سال سے کیا جاتاہے، مورخوں کے مطابق اورادشریف ان وظائف کامجموعہ ہے جو حضرت امیرؒ نے ایک ہزار چار سو اولیائے کرام سے استفادہ کرکے جمع کئے تھے۔

حضرت امیر کیبر، علامہ اقبال کی نظر میں:

معلوم ہوتاہے کہ علامہ اقبال امیرکبیر سے متاثر تھے، فرماتے ہیں:

سید السادات،سالار عجم          دست اومعمار تقدیر اسم

(علامہ اقبال، جاوید نامہ، آں سے افلاک، زیارت شاہ ہمدان امیر کبیر سید علی ہمدانی)

حضرت امیرکبیر،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی نظر میں:

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، کیا خوب کہہ گئے ہیں:

نہائے ازگلستان محمد چمن آرائے بستان محمد

دم تیغ علی المرتضیٰ ہست        فروغ افزائے شمع فاطمہؓ ہست

(تحفہ الامیر،شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ)

حضرت امیر کبیر،مولانا علی میاں ندویؒ کی نظر میں:

مولانا علی میاں ندویؒ نے اپنے سن 1981 ء کے دورہئ کشمیر کی تقریر میں فرمایا تھا:

”حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانیؒ کو ختلان سے کون سی چیز یہاں کھینچ لائی،اس حسین وادی کا حسن کھینچ کرلایا؟ کیا سلسلہ ہمالی کی چوٹیوں کی بلندی اور وادیوں کی شادابی کھنچ کرلائی؟ آپ کو معلوم ہونا چاہئے وہ جس خطہ سے آئے تھے، وہ بھی حسین خطہ تھا، پھلوں اور پھولوں سے بھرا ہوا تھا، پھر کیا چیز ہے، جو ان کو یہاں لائی تھی؟آپ ہر وقت ا ن کا نام لیتے ہیں، اللہ کا شکر ہے،آج صدیاں گزرنے کے بعد بھی آپ کا ان سے تعلق قائم ہے، او رمیں سمجھتا ہوں کہ ان کی کوششوں اور اخلاص وروحانیت کی برکت سے ابھی یہاں اسلام محفوظ ہے۔“

مزید کہا ”میں آپ کو بتاؤں کہ وہ کون سی چیز تھی، جو ان کو کھینچ کر لائی، وہ ایک غیرت تھی، تو حید کی غیرت جس کو اپنے محبوب سے زیادہ محبت ہوتی ہے، اس کی ذات و صفات کی زیادہ معرفت ہوتی ہے، او را س کے محاسن او رکمالات پر زیادہ یقین ہوتاہے، اس میں اتنی ہی اپنے محبوب کے بارے میں غیرت ہوتی ہے۔ چونکہ حضرت امیرکبیر میر سید علی ہمدانیؒ قدس سرہ، عارف باللہ تھے، ولی کامل تھے، عاشق خدا تھے، عاشق رسول تھے، خدا شناس، دین کے مزاج سے آشنا او رنباض تھے، اس لیے آپ کو دین کے بارے میں غیرت بھی ایسی تھی کہ لاکھوں کروڑوں آدمیوں ایسی نہیں ہوتی، انہوں نے سنا کہ کشمیر ایک طویل وعریض وادی ہے، وہاں کے لوگ خدا سے ناآشنا ہیں، وہاں خدا کی ذات کے سوا،خالق کائنات کے سوا، وحدہ لاشریک کے سوا بہت سی چیزیں پوجی جارہی ہیں، اصنام کی پرستش ہوتی ہے، کچھ چیزیں زمین کے اندر ہیں، کچھ چیزیں زمین کے اوپر ہیں کچھ کھڑی ہیں کچھ لیٹی ہیں، لوگوں نے جس میں ذرا سی طاقت دیکھی، نفع نقصان پہنچانے کی صلاحیت دیکھی، کوئی خصوصی امتیام دیکھا، ذرا سا حسن جمال دیکھا، اسی کے سامنے جھک گئے“۔

مزید فرمایا ”میرا خیال ہے کہ اگر وہ یہاں نہ آتے شاید خدا اور رسول ان کا دامنگیرنہ ہوتا، اس لئے کہ وہ جہاں رہتے تھے، وہاں سے لے کر اس وادی کشمیر تک بڑے بڑے دین کے روحانی مراکز تھے، ہمالیہ کے دامن میں پورا ہندوستان پڑا ہوا تھا، جہاں ہزاروں عالم سینکڑوں مدرسے اور خانقاہیں تھیں لیکن عالی ہمت یہ نہیں دیکھتے کہ تنہا ہم پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے یا نہیں؟ وہ اس فریضہ کو اپنا ذاتی فریضہ سمجھ لیتے ہیں، ہزار کوئی ان کو روکے، ان کے راستے پر ہزار کوئی رکاوٹ کھڑی کرے، پہاڑ ان کے راستے میں حائل ہوں، دریا سدّ راہ ہوں، وہ کسی کی بھی پرواہ نہیں کرتے، گویا کوئی آسمانی آواز تھی، جو انہوں نے سنی کہ سید! کشمیر جاؤ اور وہاں توحید پھیلاؤ“۔

حضرت امیر کبیرؒ نے اس سرزمین کو بزور شمشیر فتح نہیں کیا، محبت سے فتح کیا ہے، روحانیت سے فتح کیا ہے، خلوص اور درد سے فتح کیا ہے۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیر میں اسلام کے آفاقی پیغام کو عام کرنے میں حضرت امیر کا بہت بڑا حصہ ہے۔ آپ کا کشمیر آنا اور یہاں دین حق کی دعوت نیز اللہ کی وحدانیت کے پیغام کو عام کرنے کے لئے منصوبہ بند تبلیغی اور فنی سرگرمیاں انجام دیتا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا بلکہ روایت میں آیا ہے کہ کشمیر میں انقلاب آفرین دعوتی کام کرنے کے سلسلے میں ان کو باطنی اشارے ملے تھے۔ ان دنوں حضرت عبدل رحمان بلبل شاہؒ اور کچھ دیگر صالحین سے کشمیرکے لوگ اسلام سے متعارف ہوچکے تھے تاہم مسلمان اپنے معاملات میں اپنی انفرادیت قائم نہیں کرسکے تھے۔ لوگ اسلامی قانون اور طور طریقوں سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ اس وقت کے سلطان نے اسلام کی صحیح تعلیم سے ناواقفیت کی وجہ سے بیک وقت دوسگی بہنوں سے نکاح کر رکھا تھا جسے آنجناب کے حکم سے دونوں بیویوں کو طلاق دے کر الگ کردیا اوربادشاہ اور اس کے درباریوں نے امیر کبیرؒ کے حکم سے تمام غلط کاریوں اور مشرکانہ طریقوں کو ترک کردیا۔حضرت امیر نے اپنے ساتھ لائے ہوئے سینکڑوں مبلغوں کو تبلیغ کی غرض سے جگہ جگہ بھیج دیا اور اہل علم کو درس و تدریس کے کام میں معمور کیا۔ مسلمانوں کو صنعت و حرفت سے روشناس کرایا۔ خود دریائے جہلم کے کنارے ایک جگہ، جو بعد میں خانقاہ فیض پناہ کے نام سے مشہور ہوئی اور جسے آج خانقاہ معلّیٰ کہتے ہیں تشریف فرما ہوکر وہاں رشد و ہدایت کا مرکز بنایا، یہاں بیٹھ کر آپ ؒ نے سخت عبادات وریاضت فرمائی۔ مورخین کے مطابق سلطان کشمیر بھی اپنے امیر وں وزیروں اور درباریوں کے ہمراہ آنجناب کی خدمت میں حاضر ہوکر فیضیاب ہوتاتھا۔خانقاہ معلّیٰ میں آج بھی ہزاروں عقیدت مند حاضری دیکر فیض حاصل کرتے ہیں۔ مورخین لکھتے ہیں کہ حضرت امیر کبیرؒ کی اسلامی دعوت کے نتیجے میں ہزاروں غیر مسلم اسلام کے نور سے منور ہوئے متعدد نے بعد ازاں مبلغوں کا کام کیا اور اسلام کی روشنی کو پھیلانے میں اہم رول ادا کیا۔

حضرت امیر کبیر انقلاب آفرین شخصیت کے مالک تھے۔کشمیر میں قیام کے دوران آپ کافی مجاہدے کئے ہر جگہ مساجد تعمیر کرائی عو ام الناس کو اسلام کی عظمت سے روشناس کرایا۔ قاضی ابراہیم کے مطابق حضرت شاہ ہمدانؒ نے جب کشمیر سے واپس جانے کا قصد فرمایا تو سلطان قطب الدین کی ا لتماس پر مولانا محمد قاری جو آپؒ کے ہمراہ تھے کو یہی اقامت کرنے کا حکم دیا۔ آخری مرتبہ یہاں ایک سال قیام فرمانے کے بعد 786 ھ میں حج بیت اللہ کی غرض سے روانہ ہوئے۔ پگھلی پہنچ کر سخت علیل ہوگئے۔ پانچ روز اسی حالت میں رہ کر آخر 6 ذلحج رات کو نماز عشا ء کے بعد نصف شب آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ حضرت امیر کی وصیت کے مطابق ان کے جسد خاکی کو ختلان پہنچایا گیا اور اسی مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا، جو انہوں نے خو د خرید اتھا او رجو آج بھی مرجع خلائق زیارت گاہ عالم و عالمیان ہے۔ ہر سال ذوالحجہ کی 6 تاریخ کو پوری وادی کشمیر میں حضرت شاہ ہمدانؒ کا عرس مبارک نہایت ہی عقیدت و احترام سے منایا جاتاہے۔ اس سلسلے میں وادی کے اطراف و اکناف عقیدت مندان کے تئیں والہانہ محبت او رعقیدت کا اظہار کررہے ہیں۔ اس روز تاریخی خانقاہ مولیٰ سرینگر میں ہزاروں کی تعداد میں لو گ جمع ہوکر اور ادفتحیہ کا ورد کر کے رب کا ئنات کی وحدانیت، بزرگی اور برتری کا اعتراف کرتے ہوئے حضرت شاہ ہمدانؒ کے بے پناہ احسانات کو یاد کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ مسلمانوں کو صحیح معنوں حضرت امیر کبیر کی تعلیمات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین

مراجع و مصادر:

1۔ خانقاہ مولیٰ،دائرۃ المعارف۔

2۔ تاریخ دعوت وعزیمت،مولانا علی میاں ندویؒ

3۔ تحفہ کشمیر، مولانا علی میاں ندویؒ

4۔ حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی، دائرہ المعارف۔

5۔ حضرت شاہ ہمدان۔اصلاح و انقلاب کے امام۔کشمیر عظمیٰ۔سنیچر 16 /صفر 1443ھ۔

1 اکتوبر، 2021، بشکریہ: چٹان، سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/maula-monastery-hazrat-shah-hamdan/d/125487

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..