New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 10:24 PM

Urdu Section ( 17 Jul 2014, NewAgeIslam.Com)

Take Care of Khaps not Shariah Courts شرعی عدالت کی نہیں کھاپ کی فکر کیجئے

 

 

حفیظ نعمانی ( لکھنؤ)

دارالقضا ء پر فاضل وکلاء کے حملے  آج نہیں برسوں سے ہورہے ہیں ۔ آئے دن کوئی نہ کوئی وکیل اس معصوم سےعمل کو عدالتوں کے متوازی نظام کے طور پر پیش  کردیتا ہے اور عدالتوں میں سنسنی پھیل جاتی ہے۔ سب سے زیادہ حیرت  کی بات ہے کہ کبھی کسی سبرامنیم  سوامی ذہنیت کے وکیل نے کسی دارالقضاء میں جاکر یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آپ لوگوں کا طریقہ کیاہے اور آپ مقدمات کے فیصلے  کیسے کرتے ہیں؟

مسلم پرسنل لاءبورڈ بننے سے پہلے برسہا  برس  سے امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کے اہتمام  میں یہ خدمت کی جارہی تھی ۔ یہ دونوں  ریاستیں انتہائی غریب ہونے کی وجہ سے ایسے معاملات کا شکار رہتی تھیں کہ چھوٹے چھوٹے معاملات کے لئے بھی  انہیں اتنا  خرچ کرنا پڑتا تھا کہ  جس کا معاملہ  ہو وہ تباہ ہوجاتا تھا ۔ ان ریاستوں میں زیادہ تر معاملے ایسی شادیوں  کے ہوتے تھے کہ کسی لڑکے نے شادی کی پھر سال دو سال  کے بعد وہ یہ کہہ کر کہیں چلا گیا کہ ممبئی جارہا ہے وہاں سے کماکر لائے گا یا تمہیں بھی بلالے گا اور پھر ایسا غائب ہوا کہ برسوں اس کی کوئی خبر ہی نہیں ملی۔اور وہ بد نصیب انتظار کرتے کرتے  کوئی غلط  قدم اٹھا بیٹھی یا وہ بھی کسی  کے ساتھ  بھاگ گئی ۔ امارت شرعیہ  نے اس پر روک  لگانے کے لئے پورے  بہار و اُڑیسہ  میں ہر شہر میں ایک مرکز بنایا  اور گاؤں گاؤں اعلان کرایا  کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ےہو تو امارت شرعیہ کے دفتر میں اس  کی   اطلاع  کی جائے ۔ اس کے بعد وہ ہفت روزہ نقیب  میں اس کا اعلان کرتے تھے او رپوری تفصیل کے بعد لکھ  دیتے تھے کہ اگر چھ مہینے  کے اندر خود حاضر ہو کر یا اپنے کسی  سرپرست  کے ذریعہ  یا اپنی  تحریر  میں اپنا بیان  نہیں درج کرایا تو آپ کو مفقود  الجز قرار دے کر آپ  کا نکاح فسخ  کردیا جائے گا اور آپ کی اہلیہ  کا کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کردیا جائے گا۔

امارت شرعیہ  نے اس کی  کامیابی کے بعد  چھوٹے چھوٹے طلاق یا ترکہ  کے مسائل  بھی اپنے ہاتھ  میں لے لئے  اور اس طرح دارالقضاء کی بنیاد پڑ گئی ۔ مسلم  پرسنل لاء بورڈ کیونکہ کل ہند  تنظیم ہے اس لئے  اس نے  جب اپنے اپنا یا تو کشمیر سے کنیا کماری تک  پورے ملک  میں اس کا جال پھیل گیا اور سوامی ذہن  کے ہندو وکیل  یہ سمجھنے  لگے  کہ اب مسلمانوں کو شاید  ہماری ضرورت ہی نہ رہے ۔ یا او رکوئی بات ہو؟

ہمیں یاد نہیں کہ کبھی کسی مسلمان وکیل  نےکسی  ہندو تنظیم کو یا کسی  بھی ہندوؤں  کے مسئلہ کو عدالت  میں اٹھایا ہو اور نہ ہمارے ہندو وکیلوں  کو یہ توفیق  ہوئی کہ وہ  ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے سامنے جاٹوں کی پنچایتوں یا کھاپ  پنچایتوں  کی تفصیل بیان کرتے ۔  عدالت نے مسلمانوں سےکہا کہ آپ کسی کو اس کی  عدم موجودگی  میں سزا نہیں دے سکتے ۔ لیکن کسی بھی شہر یا صوبہ  کی کھاپ پنچایت میں جو  سزائیں  دی گئی ہیں اس پر کسی نے نہ اعتراض  کیا  نہ ان کے پنچوں کو تاعمر جیل میں ڈالنے کاحکم دیا ۔ دارالقضاء زیادہ سے زیادہ مفقود الجزمان کر اس کی بیوی  کو دوسرا نکاح کرنے کی اجازت دے دیتا ہے لیکن کھاپ   پنچایت تو سزائے  موت دیتی  ہے اور اس پر عمل بھی کراتی ہے۔ پورا ملک جانتا ہے کہ درجنوں لڑکے اور لڑکیاں  گولی سے تلوار سے او رلاٹھیوں سے موت کے گھاٹ اتار دی گئیں او رنہ مارنے  والوں  کو سزا ہوئی نہ حکم دینے والے جاہل پنچوں کو۔ اسی  کھاپ پنچایت  نے ایک ایسی بھی سزا دی ہے جس کی  پوری دنیا کی عدالتوں  میں نظیر نہیں مل سکتی  ۔ کہ  ایک لڑکا  اور اسی گاؤں کی لڑکی گھروں سے بھاگ گئے مسئلہ  پنچایت  میں آیا تو  فیصلہ  کیا گیا کہ جو لڑکا  بھاگا  ہے اس کی جوان  بہن  بھاگنے  والی لڑکی کے بھائی کے پاس بیوی  کی حیثیت سے رہے گی او را س پر عمل  بھی کیا گیا لیکن کسی  کی غیرت  نے جوش نہیں مارا ۔

ہزار احترام کے ساتھ سپریم کورٹ  کا ہر حکم تسلیم  لیکن یہ  بھی عرض  کرنا ہے کہ کبھی اس نے اس  پر بھی غور کیا کہ درجنوں  لڑکیوں اور لڑکوں  کو قتل کو قتل کر دینے والوں ، قتل کرادینے والوں  اور قتل کا حکم دینے والوں  میں سے کسی  ایک کو بھی  پھانسی یا عمر قید کیوں نہیں  ہوئی؟  ا س کی وجہ صرف یہ ہے کہ جس متوازی  عدالتی  نظام کا مسلمانوں  پر الزام لگایا جارہاہے  اس سے زیادہ طاقتور متوازی  حکومت  کھاپ  پنچایت  ہے۔ ہر جوڑے کے قتل  کی تھانے  میں رپورٹ ہوتی ہے لیکن  گرفتاری  اس لئے نہیں ہوتی کہ یہ بتانے والا کوئی نہیں ملتا کہ کس کس نے قتل کئے  ؟ اور کوئی زبان اس لئے  نہیں کھولتا کہ جس نے زبان کھول  دی اس کا حقہ  پانی  بند یعنی وہ یا بھوکوں مرجائے یا خود کشی کرلے ۔ یہ پنچایتیں  اتنی طاقتور ہیں کہ ہر یانہ، راجستھان اور اتر پردیش  کی کسی حکومت یا کسی  مرکزی حکومت  کی ہمت نہیں  ہے کہ اس کے اوپر ہاتھ ڈال سکے اور اس  کے اُجڈ اور جاہل پنچ ڈنکے کی  چوٹ پر کہتے ہیں  کہ اگر کسی  حکومت  میں دم ہے تو وہ کھاپ  پر ہاتھ ڈال کر دکھائے۔

دارالقضاء کو شرعی عدالت  مسلمانوں  نے نہیں کہا  اس لئے  کہ شاید  شرعی عدالتیں  صرف سعودی عرب میں  ہوں ہندوستان میں تو یہ  کوشش صرف غریب مسلمانوں  کو چھوٹے چھوٹے معاملات کے لئے عدالتوں  میں جاکر ان کی ہستی کو مٹانے سے بچانے کے لئے کی گئی ہے اس میں زیادہ  تر طلاق اور ترکہ کے مسائل آتےہیں  اور ان کےمتعلق  اسلامی شریعت  میں اتنی تفصیل  دے دی گئی  ہے کہ جو حضرات فتوے  دینے کے ذمہ داری بنائے جاتےہیں ان کے پاس بہت بڑے بڑے مفتیوں کے فتوؤں  کی نظیروں کی جلدیں بھی ہوتی ہیں جس سے وہ ضرورت  کے وقت مدد لیتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں  کہ یہ فتنہ  اور  ایسے فتنے  اب سبرامنیم  مارکہ  حکومت  کے بعد اور زیادہ  کھڑے کئے جائیں گے لیکن ان سب کاجواب جاٹوں، گوجروں اور تیاگیوں کی پنچایتیں او ر کھاپ پنچایت ہے اور دو چار نوجوان مسلمان وکیل  زیادہ سے زیادہ  جہالت  سےبھرے  سزائے موت  کے فیصلے جمع کرکے  وہ عدالتوں میں پیش کردیں اور  دریافت کریں کہ ایسے فیصلے  دینے والی کھاپ  عدالتوں پر آپ کیوں  روک نہیں لگاتے اور حکومتیں  کیوں بے بس  او رلاچار ہیں ؟؟؟ تو شاید  ہماری انگلی  اُٹھنا بند ہوجائے ۔

14 جولائی ، 2014  بشکریہ : روز نامہ جدید خبر ، نئی دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/hafeez-nomani/take-care-of-khaps-not-shariah-courts--شرعی-عدالت-کی-نہیں-کھاپ-کی-فکر-کیجئے/d/98176

 

Loading..

Loading..