New Age Islam
Thu May 19 2022, 11:14 AM

Urdu Section ( 8 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

We Indian Muslims Need No Sermons From The Al-Qaeda Chief Ayman Al-Zawahiri ہم ہندوستانی مسلمانوں کو القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے کسی خطبے کی ضرورت نہیں ہے

گریس مبشر، نیو ایج اسلام

7 اپریل 2022

ایمن الظواہری کا پیغام ایک وحشی قاتل کی مانند ہے جو انسانی زندگی کو صرف تباہی و بربادی ہی دے سکتا ہے

اہم نکات:

1.     ہم ہندوستانی مسلمان آئین کے عطا کردہ اپنے حقوق کے دفاع کے لیے کبھی بھی خارجی حمایت کی تلاش میں نہیں رہتے

2.     ہندوستان جمہوریت اور تکثیریت کا سب سے بڑا مندر ہے

3.     القاعدہ کے سپریم کمانڈر ایمن الظواہری نے ہندوستان میں حجاب کے تنازع پر ایک الگ بیان جاری کیا ہے

4.     اسلام کسی بھی دوسرے مذہب کی طرح قوانین اور ثقافتی ارتقاء کے لحاظ سے تبدیلیوں کو قبول کرتا ہے

-------                                     

شروع میں ہی یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی طرف سے لگائے گئے فضول الزامات کی واضح طور پر تردید کرتا ہوں۔ ہم ہندوستانی مسلمان آئین کے عطا کردہ اپنے حقوق کے دفاع کے لیے کبھی بھی خارجی حمایت کی تلاش میں نہیں رہتے۔ ایمن الظواہری کا پیغام ایک وحشی قاتل کی مانند ہے جو انسانی زندگی کو صرف تباہی و بربادی ہی دے سکتا ہے۔

Ayman al-Zawahiri, the chief of the terror group Al Qaeda

-----

تھیوکریٹک آمرانہ حکومتوں کے برعکس، جو آپ قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں غلط اور بےبنیاد مذہبی احکام کو بنیاد بنا کر انفرادی آزادیوں کا گلا گھوٹ دیا جاتا ہے، ہندوستان جمہوریت اور تکثیریت کا سب سے بڑا مندر ہے۔ ہمارے ملک کے پاس اپنے داخلی اختلافات کو جذب کرنے اور اسے ختم کرنے کی کافی صلاحیت ہے۔

اپنی فطری موت کی خبروں کو جھٹلاتے ہوئے القاعدہ کے سپریم کمانڈر ایمن الظواہری نے ہندوستان میں حجاب کے تنازع پر ایک اور بیان جاری کیا ہے۔ یہ ایک ایسے ادارے کے سربراہ کا بیان ہے جس نے خواتین کو اسکولوں سے نکال کر ان کی آزادی کو ختم کرنے کی حمایت کی ہے، جیسا کہ آج افغانستان یا ان افریقی ممالک میں ہو رہا ہے جہاں القاعدہ کا اثر ورسوخ ہے۔ کچھ دنوں تک اعتدال پسندی کے دکھاوے کے بعد، القاعدہ کی حمایت یافتہ طالبان حکومت نے، جو افغانستان میں امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد مضبوط ہوئی ہے، سخت گیر لوگوں کے دباؤ کے سامنے جھک چکی ہے۔ اس نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ اب بھی شہری آزادیوں اور متعدد مذاہب کے حوالے سے اسی فرسودہ قبائلی اسلامی نظریات پر کاربند ہے۔

اگرچہ وہ پہلے ہی ہندوستان کا ذکر اپنی تقریروں مبہم انداز میں کر چکے ہیں، لیکن خاص ہمارے ملک کے مسئلے پر ان کے اس نشر کردہ پیغامات پر خاطرخواہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ نے خطے میں جمہوریت کے لیے وقفے وقفے سے پیدا ہونے والے عدم اطمینان کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی خاطر کون کون سے ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں۔ اسلامی خلافت قائم کرنے کے ان کے خیال خام میں ہندوستان اور اس کی بڑی مسلم آبادی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ کمیونٹی کے لیڈروں اور سیکورٹی اہلکاروں کو خاص طور پر سائبر دنیا میں بنیاد پرستی کے ان ابتدائی رجحانات کو ختم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہو جانا چاہیے۔

القاعدہ کا اسلام

 القاعدہ کے مذہبی نظریات کی ہلکی پھلکی سمجھ بھی پیغامات کو سیاق و سباق کے اندر بہتر طریقے سے سمجھنے میں مددگار ہوگی۔ القاعدہ نسلی قبائلی اسلامی روایات پر یقین رکھتا ہے جو مشرق وسطیٰ سے برآمد کی گئی ہے اور جسے سخت گیر سلفیت نے پروان چڑھایا ہے۔ یہ تکثیریت پسند مذہبی تشریحات کے خلاف ہے اور جس میں غیر لچکدار اسلامی شریعت کی پیروی کی تعلیم دی جاتی اور جو مذہب کی روح تصوف سے مکمل طور پر خالی ہے۔ پدرسرانہ نظام پر مبنی قبائلی روایات کی پیروی کرنے اور جنگ سے حاصل ہونے والی مال غنیمت پر گزر بسر کرنے والے یہ لوگ اسلام کی سخت گیر تشریحات پر یقین رکھتے ہیں۔

اسلام کسی بھی دوسرے مذہب کی طرح قوانین اور ثقافتی ارتقاء کے لحاظ سے تبدیلیوں کو قبول کرتا ہے۔ القاعدہ وقت اور حالات کے تقاضے کے مطابق مذہب کے اندر کسی بھی نئی چیز کی تردید کرتا ہے اور انہیں بے بنیاد اختراعات قرار دیتا ہے کیونکہ وہ ایک خالص مذہب پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی سیاسی اسکیم میں پشتون اور دیگر افریقی نسلوں کو بالادستی حاصل ہے۔ وہ ایک انتہائی غیر لبرل پدرسرانہ سماجی نظام کی پیروی کرتے ہیں اسی لیے خواتین کو عوام سزا دیتی ہے۔

وہ القاعدہ کی اسلامی تشریح کے مطابق جس بھی چیز کو 'شرک' سمجھتے ہیں اسے تباہ و برباد کرنے کے لیے تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ آسانی کے ساتھ اسلام کی تکثیری اور کثیر ثقافتی تعلیمات کو فراموش کر دیتے ہیں۔ اپنے بنیاد پرست نظریات کو پھیلانے کے لیے اسلام پرست خلافت کا قیام ان کے سیاسی نظریہ کا مرکز و محور ہے۔ القاعدہ کے مطابق، جو کہ سیاسی سلفیت سے خاصہ مشابہت رکھتا ہے، اسلام سیاسی حکومت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

 ہندوستانی مسلمان القاعدہ کے نظریات کو مسترد کرتے ہیں

القاعدہ کے پاس ہندوستانی مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے اخلاقی بنیاد پر کوئی جواز نہیں ہے۔ ہندوستانی جمہوریت کے مبادیات کی سمجھ کے بغیر القاعدہ نقصان میں ہے۔ ہندوستانی جمہوریت کو اس لیے نہیں مانا جاتا کہ یہ داخلی تضادات کو ختم کرنے والی ہے؛ بلکہ اس لیے کہ اس کے اندر عملی اقدامات کے ذریعہ اختلافات کو ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

 ظواہری کا خطبہ اگرچہ بنیادی طور پر حجاب کے مسئلے سے متعلق تھا، لیکن یہ پس پردہ جمہوریت کو بدنام کرنے اور اس نظام کو تباہ کرنے کا پیغام دینے کی ایک مذموم چال تھی۔ اس نے اپنے خطبے میں درحقیقت زن بیزار اور تھیوکریٹک سیاسی پیغامات کی تبلیغ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستانی جمہوریت پر کافر ہندو مت کی حمایت کرنے کے الزامات صریحاً گمراہ کن ہیں اور القاعدہ جیسی کٹر تھیوکریسی بقائے باہمی کے تصور کو ہضم نہیں کر سکتی۔

حجاب دینی اعتبار سے ضروری ہے یا نہیں اس پر مذہب اسلام میں اختلاف ہے۔ لیکن پدرسرانہ نظام کے حامی القاعدہ کے لیے حجاب مسلم خواتین کی نمائش کو محدود کرنے کے لیے ایک عملِ ناگزیر ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ کا لازمی یونیفارم کے ساتھ اسکولوں میں حجاب پر پابندی کا فیصلہ خود ہندوستانی نظام کے اندر اختلاف رائے کی گنجائش کو ظاہر کرتا ہے۔ ہندوستانی نظام عدلیہ میں پرامن طریقوں سے شکایات کے ازالے کی کافی گنجائش موجود ہے۔ یہ معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ جا چکا ہے۔

انتہاپسند ہندوتوا کی عسکریت پسندی ملک کے تصور کے لیے وجودی خطرات کا باعث بنتی جا رہی ہے، لیکن ملک کے پاس اس طرح کے فسادات کو معمول بننے سے روکنے کی طاقت ہے۔ اگرچہ اکثریتی قوم پرستی کی حالیہ لہر شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے، لیکن اس ملک کے پاس آئین کو نافذ کرنے کا شعور بھی ہے جو مذہبی پہچان سے قطع نظر سب کے ساتھ انصاف کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن اس بےہنگم صورت حال کو بنیاد بنا کر القاعدہ کے سربراہ کا ہندوستانی قومیت کے نظریہ کی تذلیل کرنا سورج پر تھوکنے کے مترادف ہے۔ اس سے درحقیقت مسلم کمیونٹی کو ہی نقصان پہنچا ہے، جیسا کہ کرناٹک کے وزیر داخلہ کے بیان سے ظاہر ہے جنہوں نے حجاب کے احتجاج کو 'بیرونی مداخلت' قرار دیا ہے۔

ہندوستانی اسلام، اسلام کی متعدد تشریحات میں سے ایک ہے۔ یہ جامعیت، مقامیت اور ہم آہنگی کے لحاظ سے بنیادی طور پر القاعدہ کے خالص پرست عقائد سے مختلف ہے۔ ہندوستانی اسلام قابل عمل ہے اور وقتی ارتقاء کے موافق ہے جیسا کہ ایک مذہب کو ہونا چاہئے۔ یہ کثیر ثقافتی معاشرے اور کثیر ثقافتی اخلاقیات کو روا رکھتا ہے۔ ہندوستانی مسلمان غیر یقینی کی چکی میں پس رہے ناہموار خطوں سے رہنمائی حاصل کرنے پر مجبور نہیں ہیں۔

Muskan and her father during an interview

-----

الظواہری کی ہتھیار اٹھانے کی دعوت کو ایک خود ساختہ مبلغ کی صدا سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ کثیر مذہبی معاشروں میں بنیاد پرستی پر مبنی بغاوتوں کو فروغ دینے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔ ہندوستانی مسلمان اس سے قبل کافر ملک سے لڑنے کے لیے داعش میں شامل ہونے کے مطالبے کو مسترد کر چکے ہیں۔ مسلم کمیونٹی کو ’’بیرونی طاقتوں‘‘ کی بنیاد پرستانہ کارروائیوں سے مزید محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ حکومتوں کی آئینی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اقلیتی برادریوں کے خدشاد دور کریں تاکہ سب کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

 قابل ذکر ہے کہ ایک ویڈیو سامنے آنے کے فوراً بعد، جس میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری، بی بی مسکان خان کے حجاب پہننے کے اپنے حق کا دفاع کرنے پر ان کی تعریف کر رہے ہیں، منڈیا کی طالبہ کے والد نے اسے منہ توڑ جواب دیا ہے۔ اپنے ویڈیو میں ظواہری ایک نظم کے ذریعے مسکان کی تعریف کرتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں جو انہوں نے مبینہ طور پر خود ہی لکھی ہے۔ مسکان کے والد محمد حسین خان نے کل نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ کسی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ سے کوئی تعریف نہیں چاہتے۔ خان نے کہا کہ "ہم اس [ویڈیو] کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ، ہم نہیں جانتے کہ وہ (الظواہری) کون ہے"۔ "میں نے اسے آج پہلی بار دیکھا ہے۔ وہ عربی میں کچھ کہتا ہے...ہندوستان میں ہم سب بھائیوں کی طرح پیار اور اعتماد کے ساتھ امن سے رہتے ہیں۔ محمد حسین خان نے کہا کہ ان کے (ظواہری کے) بیان کا مقصد اختلاف پیدا کرنا اور ہم ہندوستانیوں میں تفرقہ ڈالنا ہے۔ مسکان کے والد نے کہا کہ اس اختلاف نے میرے خاندان کا سکون غارت کر دیا ہے اس لیے ہم مسکان کو ایک ایسے کالج میں داخل کرنے پر غور کر رہے ہیں جس میں طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت ہے۔

یاد رہے کہ فروری مہینے میں جب حجاب کا مسئلہ زوروں پر تھا، منڈیا کے ایک کالج میں زیر تعلیم بی کام کی سال دوئم کی طالبہ مسکان کو زعفرانی شال پہنے طلباء کے ایک جھنڈ نے اس وقت ہراساں کیا جب وہ حجاب پہن کر کالج میں داخل ہو رہی تھیں۔ مسکان نے ’’جئے شری رام‘‘ کے نعروں کا جواب ’’اللہ اکبر‘‘ کے نعروں سے دیا تھا۔ جس سے وہ دنیا بھر میں اور خاص طور پر پاکستان میں اسلام پسند بنیاد پرست عناصر کے لیے ایک ہیرو بن گئی تھی۔ گزشتہ ماہ آئی ایس آئی ایس میگزین وائس آف ہند نے بھی اپنی کور اسٹوری میں ہندوستان میں جاری حجاب تنازعہ کا حوالہ دیا تھا۔ اور یہی کام القائدہ ان دی انڈین سب کانٹننٹ نے اپنے میگزین نوائے غزوہ ہند میں بھی کیا تھا۔ یہ تمام دہشت گرد جماعتیں موجودہ حالات میں ہندوستان کے اندراپنے لیے ایک موقع دیکھ رہے ہیں۔ وہ پرامن مسلمانوں کو اپنے گروہ میں شامل ہونے پر بھڑکانا چاہتے ہیں۔ یہ مشتعل پانی میں مچھلی پکڑنے کی ایک کوشش کی مانند ہے۔ لیکن مسکان کے والد کے دوٹوک جواب نے یہ بتا دیا ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنے ملک کے اندرونی معاملات میں کسی پردیسی کی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے۔ ہندوستان اب بھی میں مضبوط عدالتی ادارے ہیں جو مسلمانوں کی کسی بھی شکایت کا ازالہ کرسکتے یں۔

English Article: We Indian Muslims Need No Sermons From The Al-Qaeda Chief Ayman Al-Zawahiri

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/indian-muslims-sermons-al-qaeda-ayman-al-zawahiri/d/126759

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..