New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 07:04 AM

Urdu Section ( 19 Nov 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Revolution of Karbala and its Global Impact واقعہ کربلا اور اس کے آفاقی اثرات

 

غلام رسول دہلوی ،  نیو ایج اسلام

24نومبر، 2012

انقلاب کربلا  کی معنویت، اس کے آفاقی پیغام اور  ہمہ جہت اثرات کا ادراک کرنے کے لئے  ہمیں ایک خالص دل و دماغ کا کی ضرورت  ہے ۔ اگر ہم اس عظیم انقلاب کا گہرا مطالعہ کریں  گے تو ہم پر یہ امر عیاں ہوگا کہ یہ انقلاب دنیا کے  تمام تاریخی انقلابات سے منفرد اور بے مثال ہے ۔ پوری تاریخ انسانیت میں ایسا کوئی لیڈر کبھی نہیں پایا گیا جسے مہم کی طرف پابہ رکاب ہوتے  ہی اپنی  موت کی بشارت مل  گئی ہو۔ لیکن امام حسین بہ رضا و رغبت اپنی شہادت کی طرف قدم بڑھاتے ہیں اور اس کے حصول کی طرف ہر ضروری قدم اٹھاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ آپ مکہ کے باشندوں کو خطاب کرتے ہوئے  یہ فرماتے ہیں کہ:

‘‘اے لوگو، اگر چہ میرے جسم  کو مقام کربلا کے ارد گرد نیزوں  اور تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے  کر دیا جائے، مجھے اس دن کےبارے میں کوئی فکر نہیں ہے جو کہ پہلے سے ہی مقدر ہو چکا ہے ۔ خدا کو راضی کرنا ہی ہم خاندان  نبوت کا مقصد حیات ہے ’’۔

کربلا کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے امام حسین نے اپنے پیروکاروں سے فرمایا :

‘‘اے لوگو، پیغمبر اسلام  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص ایک ظالم و جابر حاکم کو اللہ کےقائم کردہ حدود سے تجاوز کرتا ہوا اور لوگوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھاتا ہوا  دیکھتا ہے لیکن الفاظ یا اقدام کے ذریعہ حالات کو بدلنے کے لئے کچھ نہیں کرتا تو پھر اسے کیفر کردار تک پہنچانا اللہ کا کام ہے ۔ کیا تم یہ نہیں دکھتے کہ معاملات کس حد تک ابتر ہو چکے ہیں ؟ کیا تم اس بات کا مشاہدہ نہیں کرتے کہ لوگ حق کو چھوڑرہے  ہیں اور باطل بے حد و حساب پھیل رہا ہے ۔ جہاں تک میری بات ہے تو  میں زندگی کو شہادت حاصل کرنے کا ذریعہ مانتا ہوں۔ میں ظالموں کے درمیان زندگی کو ایک بیماری اور مصیبت سمجھتا ہوں ۔’’

امام حسین کی شہادت سے پوری امت مسلمہ کو زبر دست صدمہ پہنچا اور ان میں سوگ اور ماتم کی ایک فضا قائم ہو گئی۔ جس طرح امام حسین کو شہید کیا گیا اور  آپ  کے باعزت گھرانے کے ساتھ جتنا برا سلوک کیا گیا اس سے ان تمام مسلمانوں کے درمیان غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور ان کے درمیان افراتفری کا ایک ماحول پیدا ہو گیا جو  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اطہار سے گہری عقیدت و محبت رکھتے تھے ۔نتیجتاً پورے عالم اسلام نے ظالم و جابر حکمراں یزید سے خود کو علیحدہ کر لیا اور اس کے غیر اسلامی معمولات اور منصوبوں سے برأت کا اظہار کردیا ۔ ہر اس  شخص  نے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا تھا اہل بیت اطہار  کے قاتلوں کو لعن طعن  کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح حسینی انقلاب نے یزید کے غیر اسلامی عادات واطوار کو عوام کے سامنے بے نقاب کر  کے وقت کے سب سے اہم تقاضے  کو  پورا کیا جس کی وجہ سے اموی حکومت کی مطلق العنانی اور ظلم و ستم کے تعلق سے کسی کے بھی دل میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔ لہٰذا حسینی انقلاب  نے اموی حکومت کے اس غیر اسلامی سیاسی تصور کا خاتمہ کر دیا ۔

حسینی انقلاب آج کے دور میں اس بات کی ایک زندہ  و تابندہ  مثال ہے کہ اپنے ممالک میں مطلق العنانی، آمریت، ظلم، دہشت گردی اور نا انصافی جیسی  برائیوں سے کس طرح مقابلہ کرنا چاہئے ۔اس سے  ہمارے دلوں میں ایک جذبہ بیدار ہوتا ہے اور امن وسکون ، آزادی ، انصاف اور جمہویت حاصل کرنے کے لئے ایک اندرونی تحریک و  تشویق بیدار ہوتی ہے ۔امام حسین کی ذات  صرف مسلمانوں کے لئے ہی صبر و تحمل کی ایک بہترین شاہکار نہیں ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لئے ہے جن کے ساتھ نا انصافی کی جا رہی ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کا تعلق کس مذہب سے ہے اور نا انصافی کی ہیٔت کیا ہے ۔

تقریباً دنیا کے تمام اہم اور تاریخی انقلابات کو شہادت حسین سے تحریک ملی ہے ۔ اگر چہ امام حسین نے اپنی قربانی آج سے تقریباً1400 سال پہلے کربلا کے میدان میں پیش کی لیکن یہ اب بھی امن و انصاف قائم کرنے اور تشد اور دہشت گردی کو ختم کرنے کی ایک جیتی جاگتی اور آفاقی مثال ہے ۔ اس سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ  جو دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں، شدت پسندانہ سرگرمیاں انجام دیتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں، وہ صرف اور صرف دہشت گرد ہی ہیں اور  ان کی یہ تمام مجرمانہ سرگرمیاں حسینی جہاد کی حقیقی معنویت کے خلاف ہیں ۔

امام حسین کی انتہائی  حوصلہ بخش باتوں میں سے ایک  یہ ہے  جو انہوں کربلا میں دشمنوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا: ‘‘اگر تمہارا کوئی مذہب نہیں ہے تو تم اس دنیاوی زندگی میں غیر جانب دار بن جاؤ ’’، اس لئے کہ  متعصب کے مقالے میں ایک غیر جانب دار انسان زیادہ آسانی کے ساتھ اچھائی اور برائی میں تمیز کر سکتا ہے ۔

بابائےقوم گاندھی جی امام حسین سے بڑے متأثر تھے ۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ : ‘‘ مظلوم ہوتے ہوئے بھی فتح مند ہونا میں نے امام حسین سے سیکھا ہے ۔’’

ہمارے ایک عظیم ہندوستانی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کے مطابق امام حسین کی قربانی سے ہمیں روحانی آزادی کا سبق ملتا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ : ‘‘ حق وانصاف کو  زندہ رکھنے میں سلاح اور ہتھیار کے بجائے بالکل امام حسین کی طرح جانوں کی قربانی دے کر حقیقی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ اس قسم کی دائمی فتوحات  صرف وہ حاصل کر سکتا ہے جس کا خدائے تعالی پر ایمان کامل ہو ۔’’

یونیورسٹی آف کیمبریج میں عربک اینڈ اورینٹل اسٹڈیز کے پروفیسر ایڈورڈ جی براؤن نے ان الفاظ میں امام حسین کی تعریف کی ہے :

‘‘ کربلا ایک ایسے خونی معرکہ کی یاد دلانے والا واقعہ ہے جہاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو شہید کیا گیا، بھوک اور پیاس سے ستایا گیا  اور جہاں ان کے عزیز و اقارب  کی لاشوں سے ان کو گھیر دیا گیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک یہ واقعہ گہرے جذبات، اتھاہ غم و اندوہ اور روح کی اس رفعت و بلندی کو ابھارتا  ہے کہ جس کے سامنے تمام دکھ درد ، خطرات اور یہاں تک کہ موت بھی ایک ذرۂ ناتواں کی مانند لگتی ہے’’۔

(انگریزی سے ترجمہ ، مصباح الہدیٰ ، نیوایج اسلام)

[اے لٹریری ہسٹری آف پرسیا, لندن، 1919، صفحہ. 227]

URL for English article:

http://www.newageislam.com/islam-and-spiritualism/ghulam-rasool,-new-age-islam/the-revolution-of-karbala-and-its-global-impact/d/9428

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/the-revolution-of-karbala-and-its-global-impact-واقعہ-کربلا-اور--اس-کے-آفاقی-اثرات/d/34505

 

Loading..

Loading..