New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 12:03 AM

Urdu Section ( 14 Jul 2015, NewAgeIslam.Com)

The Institution of Zakat in Islam and its Contemporary Applications اسلام میں نظام زکوة اور عصر حاضر میں اس کا نفاذ

 

 

 غلام رسول دہلوی، نیو ایج اسلام

13 جولائی 2015

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیوں زکوة کو ارکان اسلام میں سے ایک بنیادی رکن بنایا گیا ہے۔ کیوں ہر مالدار مسلمان پر کسی جسمانی عمل کے بجائے اس مالی عمل کو ایک فرض قرار دیا گیا ہے؟ اس بنیادی اسلامی اصول کے ایک گہرے تجزیہ سے ہمیں اس کی مختلف وجوہات کا پتہ چلتا ہے۔

 اس کی سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں نظام زکوة کا مقصد مالی مدد کے ضرورت مند غریبوں کو مالی اعانت کے ذریعہ مطمئن کرنا ہے۔ زکوة کی فرضیت کے پیچھے بنیادی نظریہ ہے کہ کسی انسان کے پاس جو کثیر دولت ہے اس کا مالک وہ خود نہیں ۔ جن چیزوں کے بارے میں ہمارا یہ گمان ہے کہ ان کے مالک ہم ہیں در اصل ان کا حقیقی مالک خالق کائنات ہے۔ مالدار لوگ صرف اس کے ٹرسٹی ہیں۔ لہذا، انہیں دولت اسی کی مرضی کے مطابق کمانا اور اسی کی مرضی کے مطابق خرچ بھی کرنا ضروری ہے۔ "اے ایمان والو! ان پاکیزہ کمائیوں میں سے اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے (اﷲ کی راہ میں) خرچ کیا کرو اور اس میں سے گندے مال کو (اﷲ کی راہ میں) خرچ کرنے کا ارادہ مت کرو کہ (اگر وہی تمہیں دیا جائے تو) تم خود اسے ہرگز نہ لو سوائے اس کے کہ تم اس میں چشم پوشی کر لو، اور جان لو کہ بیشک اﷲ بے نیاز لائقِ ہر حمد ہے" (قرآن: 2:267)۔

لہٰذا، غریبوں کے پاس مالداروں کے مال میں اس دولت کے اصل مالک یعنی اللہ تعالی کی جانب سے مقرر کردہ ایک مناسب اور قانونی حق ہے۔ لہذا، اس نے زکوة کی صورت میں اس کے تمام ٹرسٹیوں کے اوپر اس کی ادائیگی کو واجب قرار دیا ہے۔ اور خالق کائنات نے اس بات کو بھی بالکل واضح کر دیا کہ مستحقین زکوٰۃ کو اس پر ذرا بھی ذلت محسوس نہ ہو اس لیے کہ اس کا حصول ان کا حق ہے۔

 اس کی دوسری حکمت یہ ہے کہ  زکوة کو مال و دولت کی ملکیت میں توازن کو برقرار رکھنے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ یہ نہ تو صاحب مال کو اس کی تمام دولت اور جائیداد سے محروم کرتا ہے اور نہ ہی کلی طور سے تمام دولت کو انہیں کے اوپر چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے بجائے، زکوٰۃ ایک مخصوص شرح پر غریبوں اور مالداروں کے درمیان دولت کی شراکت کے ذریعے ایک توازن قائم کرتا ہے۔

 اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ  سماجی انصاف اور اقتصادی توازن کو برقرار رکھنے میں نظام زکوة کو ایک کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو  زکوة ادا کرنا یا غریبوں پر مال و دولت صرف کرنا محض کسی نیک مذہبی فعل سے کہیں زیادہ اہم ہے، اس لیے کہ یہ سماجی عدم مساوات میں توازن قائم کرنے میں ایک مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اس طرح، نظام زکوة ایک منصفانہ اور مستحکم معاشرے کی تخلیق میں ہمارا معاون ہوتا ہے اور ہمیں غریب اور معاشرے کے پچھڑے طبقوں کے تئیں انصاف کے لئے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

 زکوة کے فقہی حکم کے مطابق، ایک سال کی کل مجموعی دولت کا 2.5 فیصد حصہ ضرورت مند لوگوں میں تقسیم کیا جانا ضروری ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : "جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی اس نے اسے پاک اور محفوظ کر دیا"۔ غریبوں اور  محتاجوں کی فلاح بہبود پر زکوٰۃ کی اس رقم کو صرف کرنا تقویٰ اور تقرب الی اللہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ: "تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے۔" (3:92)

 زکوة کا تصور ہمیں اس بات کی رہنمائی عطا کرتا ہے کہ محض مال و دولت کا حصول ہی  زکوٰۃ کا مقصد نہیں ہے اور نہ ہی اسے حقیر مقاصد کے لئے ضائع کیا جانا چاہیے۔ خدا نے اعلی روحانی مقاصد کے حصول کے لیے بعض لوگوں پر اسے عائد کیاہے۔ ان کے لیے اس کا مقصد ذریعہ معاش کے اسباب پر اپنی اجارہ داری قائم کر کےسماج کے غریب و نادار لوگوں  پر قدرت حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ اس سے اللہ کی مرضی غریب و نادار لوگوں پر مالداروں کی مہربانی اور ان کی مالی اعانت کو یقینی بنانا ہے: "یہ وہ لوگ ہیں جو فراخی اور تنگی (دونوں حالتوں) میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں سے (ان کی غلطیوں پر) درگزر کرنے والے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے"(3:134)۔

لغوی اعتبار سے لفظ 'زکوة' 'تزکیہ' سے ماخوذ ہے جس کا مطلب یا 'صفائی' اور ‘طہارت’ ہے۔ کبھی کبھی زکوة کے لیے لفظ صدقہ بھی استعمال  کیا جاتا ہے، خاص طور پر اگر اس کی ادائیگی غیر واجب اور رضاکارانہ طور پر ہو۔ لفظ صدقہ "صَدق" یا "صِدق" سے ماخوذ ہے جس کا مطلب "سچائی" یا "اخلاص" ہے۔

اگرچہ یہ انسان کی ملکیت میں ہر قسم کی طہارت کو شامل ہے، لیکن اس سے خاص طور پر انسان کی کثیر مال و دولت مراد ہے۔ تاہم، یہ صاحب مال کی صرف مالا و دولت کو ہی نہیں بلکہ یہ صاحب مال کے دل و دماغ کو بخل، حرص و ہوس اور تمام خود غرض رجحانات سے بھی پاک کر دیتا ہے۔ ایک مشہور و معروف صوفی امام غزالی اپنی کتاب (احیاالعلوم الدین) میں فرماتے ہیں: "جس فرمان کے ذریعہ اللہ نے اپنے بندوں کو مال و دولت خرچ کرنے کا حکم دیا ہے، وہ بخل جیسی ایک مہلک برائی سے انسان کو نجات دلانے کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ اس کا خاتمہ صرف لوگوں کو رقم خرچ کرنے کا عادی بنا کر ہی کیا جا سکتا۔"

 سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زکوة حاصل کرنے والے مفلس و نادار لوگوں کے دل دشمنی اور بے چینی، حسد، اور بد اعتمادی سے پاک ہو جاتے ہیں، جو کہ ان کے دلوں میں معاشرے کے امیر طبقے کے پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اس سے ان کے دلوں میں زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے تئیں جذبہ خیر سگالی اور اخوت کو بھی فروغ ملتا ہے۔ اور خاص طور پر ان کے اندر ان کی مدد کرنے والوں کے لئے خصوصی دعا کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اور کم از کم ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ غریب، فقیر، یتیم یا مسکین کی دعا شاید ہی اللہ کی بارگاہ میں مسترد کی جاتی ہے۔

قرآن کے مطابق زکوة کے مستحقین میں  غریب، مسکین، یتیم،  مسافر (محتاج مسافر) اور مقروض وغیرہ شامل ہیں۔ قرآن میں واضح طور پر اس کا بیان موجود ہے: "اور اگر مشرکوں میں سے کوئی بھی آپ سے پناہ کا خواست گار ہو تو اسے پناہ دے دیں تاآنکہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر آپ اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیں، یہ اس لئے کہ وہ لوگ (حق کا) علم نہیں رکھتے۔" (9:6)۔

مذکورہ بالا قرآنی آیت میں زکوة کے مستحقین کے زمرے میں جن لوگوں کو شامل کیا گیا تھا وہ آج سے 14 سو سال پہلے سے موجود تھے۔ لیکن وہ آج ہمارے زمانے میں بھی حقیقی اختلافات کے ساتھ یکساں طور پر مستحق ہیں۔ مثال کے طور پر، زکوة کی ادائیگی غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے تاوان کے طور پر بھی کی جاتی تھی۔ نبی صلی اللہ علی وسلم نے زکوة کی شکل میں تاوان کی رقم ادا کرکے بڑی تعداد میں غلاموں کو آزاد کرایا ہے۔ لیکن یہ آج ہمارے زمانے میں جب کہ قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی غلامی کی رسم اب موجود نہیں ہے، قابل نفاذ نہیں ہے۔ آج، اس زمرے میں ان قیدیوں کو شامل کرنا بہتر ہوگا جنہیں غلط الزامات عائد کر کے جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اگر وہ خود کو آزاد کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تو زکوة کی رقم ان کی ضمانت کے لیے ادا کی جا سکتی ہے۔

اسی طرح قرآن میں مذکور مستحقین زکوٰۃ کے لیے ‘‘فی سبیل اللہ’’ (خدا کی راہ میں) کے زمرے میں عصر حاضر کے جہادیوں کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے، جیسا کہ آج غلط طریقے سے انہیں اس زمرے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ مستحقین زکوة کے اس زمرے میں جہادی سرگرمیوں اور اسلامی ریاست قائم کرنے کے لئے تمام دیگر منظم کوششوں سمیت مذہب اسلام کو فروغ دینے کے تمام ذرائع شامل ہیں۔ پریشان کن امر یہ ہے کہ عسکریت پسند اسلامی تنظیموں کو دی جانے والی زکوة کی بڑی رقم کے جواز میں جہادی مفتیوں (فقہاء) نے بھی فتوی جاری کیے ہیں۔ اپنے مذموم مقاصد میں آگے بڑھنے کے لیے انہوں نے ‘‘فی سبیل اللہ’’ (خدا کی راہ میں) کی تشریح اس طرح کی ہے کہ ان کے خیال میں، اس زمرے میں اسلام کو پھیلانے کے لیے جہادی سرگرمیوں کی مالی امداد کرنا اور نام نہاد اسلامی ریاستوں کے قیام کے مقصد سے انفرادی اور اجتماعی کوششوں کی حمایت کرنا بھی اس میں  شامل ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ‘‘فی سبیل اللہ’’ (خدا کی راہ میں) زکوٰۃ کا حکم ان دفاعی مہمات کے لئے تھا جنہیں مسلمانوں نے طاقت کے ذریعے اپنے مذہب کو پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ صرف اپنی بقا اور حفاظت کے لئے شروع کیا تھا۔

 در اصل، ایک وسیع تر معنوں میں، انسانی بنیادوں پر امداد کی تمام حلال سرگرمیاں اس زمرے میں شامل ہیں، خواہ وہ فقراء کی مدد ہو یا مسکین، یتیم،  مسافر (بے یار و مددگار مسافر) یا کسی مقروض کی امداد ہوجیسا کہ اس کا ذکر  قرآن میں ہے (9:6)۔

 URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/the-institution-of-zakat-in-islam-and-its-contemporary-applications/d/103884

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/the-institution-of-zakat-in-islam-and-its-contemporary-applications--اسلام-میں-نظام-زکوة-اور-عصر-حاضر-میں-اس-کا-نفاذ/d/103903

 

Loading..

Loading..