New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 10:57 PM

Urdu Section ( 15 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Shrine-Visitors are not Grave-Worshippers زائرین مزارقبر پرست نہیں ہیں

 

غلام رسول دہلوی ، نیو ایج اسلام

11 مئی 2013

( انگریزی سے ترجمہ۔ نیو ایج اسلام)

صوفی روایت زیارت(مقدس افراد  کی قبروں پر حاضری )  کو ہر زمانے میں، مرکزی دھارے کے علماء اسلام کی توثیق اور  سفارش حاصل ہے۔ اس کے ثبوت میں انہوں نے  قرآن اور احادیث دونوں سے خاطر خواہ دلائل فراہم کئے ہیں۔ اس کے متعلق قرانی آیات اور نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کےاقوال کا باریک بینی کے ساتھ  ایک مطالعہ ہمیں یہ  یقین کرنے پر  مجبور کردیتا ہے کہ متقی افراد  کی قبروں اور خاص طور پر حضرت محمد (صلی اللہ رعلیہ وسلم ) کی قبر پر حاضری نیکی ، خدا کا فضل  اور خدا کی خاص رحمت  حاصل کرنے کا ایک عظیم ذریعہ ہے ۔

اخلاقی اور روحانی اثرات

یہ عمل لوگوں کے ذہنوں پر کچھ اہم اخلاقی اقدار اور روحانی اثرات مرتب کرتا  ہے۔ قبر کے زائر کو ایک ایسےخاموش قبرستان کی دیکھتے ہوئے  جہاں تمام لوگ خواہ وہ غریب ہوں یا امیر، کمزور ہوں یا طاقتور، صرف تین ٹکڑے کپڑے کے ساتھ مدفون ہیں، دل و دماغ کی تطہیر کا  موقع حاصل ہوتا  ہے, اور وہ حرص و طمع ، بغض، اور غرور و تکبر  کی برائیوں جیسی دنیاوی خواہشات کو شکست  دے سکتا ہے ۔ نبی  اکرم (صلی اللہ  علیہ وسلم) نے ایک روایت میں اس اہم نکتے کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ :

    "قبروں پر حاضری دو؛ اس لئے کہ قبروں پر حاضری دینے سے آخرت کی یاد آتی ہے "۔ [1]

قرآن بھی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہدایات دیتے   ہوئے قبروں پر حاضری کے اس نظریہ کو  تقویت فراہم کرتا ہے :

"اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ یہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی نافرمان (ہی مرے)۔ "(9:84)

اس آیت کا نزول منافق سردار عبداللہ بن ابئی بن سلول، کے ایک خاص مسئلے میں ہوا  ہے ۔ اللہ نے  منافقوں کو قبول نہ کرنے  اور ان میں سے کسی کی موت پر ان کی نماز جنازہ  کی ادئیگی سے باز رہنے کا  اور ان  کے لئے اللہ سے استغفار اور ان کے لئے اللہ سے بخشش چاہنے سے گریز کرنے کا  نبی اکرم  (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو  حکم دیا ۔ مزید سمجھنے اور اس وحی کے پس منظر کی گہرائی میں جانے کے لئے ، اس مندرجہ حدیث  پر ایک نظر ڈالنا بہتر ہو گا جس کی روایت اور  تصدیق  صحیح بخاری میں امام بخاری نے کی ہے ۔

" جب عبداللہ بن ابئی کی موت ہوئی  تو  ان  کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ، اللہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)کے پاس آئے  اور اپنے  والد کے  کفن کے لئے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ان کی قمیض کا مطالبہ کیا ، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے ایسا  کیا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ سے  اپنے والد کی نماز جنازہ بھی پڑھانے کے لئےکہا ، اور اللہ کی رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو  پکڑ لیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے جا رہے جب کہ آپ کے رب نے آپ کو ایسا کرنے سے منع کیا ہے ؟ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہےاس لئے کہ اللہ کا فرمان ہے کہ :

"تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے)۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔(9:80) "

بے شک، میں (اس کی بخشش کے لئے) ستر سے زیادہ دفعہ دعا کروں گا ۔ عمر نے کہا کہ یہ ایک منافق ہے، کہا! ' لیکن رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان کی نماز جنازہ ادا کی۔ اوس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمایا :

"اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مر جائے تو کبھی اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ یہ خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی نافرمان (ہی مرے)۔ "(9:84)"

اس آیت میں، خدا نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ  وسلم ) کو  نماز (نماز جنازہ) ادا کرنے  اور قیام (تدفین کے وقت یا تدفین کے بعد قبر پر کھڑے ہونے ) دونوں سے منع کیا ہے۔ جو کہ   اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دونوں  طرز عمل یعنی ‘ نماز پڑھنا ’ اور ‘کھڑے ہونا ’ دونوں جائز اور غیر منافق مومنوں کی قبروں کے لئے سزا وار ہیں ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حرمت کی منسوخی

جو لوگ شدت کے ساتھ  زیارت کے رواج کی مخالفت کرتے ہیں وہ اتنے فرسودہ  دلائل اور کمزور شواہد پیش کرتے ہیں  جو تحقیق کے معیار پر کھرے  نہیں اترتے ۔ ان کے پاس  اپنے  مدعیٰ کو  ثابت کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ  وہ  منسوخ احادیث مبارکہ ہیں جن میں  قبروں کی حاضری  سے اوائل دور کے مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے ۔ لیکن وہ ناسخ (کسی حدیث منسوخ کرنے والے  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے  اقوال) کو نظر انداز کرتے ہیں ،جو کہ بعد میں پہلی احادیث کو منسوخ کرتے ہوئے اور زیارت قبور کی اجازت دیتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے  ذریعہ بیان کی گئیں ہیں۔ در اصل نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے عارضی وجوہات کی بنا ء پر  زیارت قبور کو  ممنوع قرار دیا تھا، اور بعد میں اس کے روحانی فوائد کی وجہ سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت  دی اور باقاعد طور پر ایسا کرنے لے لئے لوگوں کی  حوصلہ افزائی فرمائی۔

ان کی ممانعت کی وجہ یہ تھی کہ نو  مسلم اپنے مرنے والوں کی  قبروں پرنا مناسب نوحے اور مرثیے  لکھتے تھے  اور غیر اسلامی باتیں کہتے  تھے جو کہ غالباً  مشرک اور بت تھے ۔ لیکن جب   اسلام نے کامیابی کے ساتھ  مسلمانوں کے ذہنوں کو روشن کردیا اور ان کے دانشورانہ شعور کو وسیع  کردیا تو  اس ممانعت کو ختم کردیا گیا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ وسلم  کی طرف سے، روحانی فوائد حاصل کرنے کے لئے زیارت قبور کی ایک عام اجازت کو،  مسلم عوام کے لئے، منظوری دے دی گئے ۔ وہیں اور اسی وقت  رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے اصحاب سے خطاب کیا اور کہا کہ:

"میں نے  تمہیں قبروں پر حاضری  دینے سے  منع کیا تھا۔ لیکن اب  تم زیارت کے لیے جا سکتے ہو،اس لئے کہ  یہ تمہیں  اس دنیا سے غیر منسلک ہونے کا احساس دلائے گا  اور آخرت کی یاد دلائے گا ، "(مسلم، جنائز، 106؛ابو داؤد جنائز ، 77؛ ترمذی ، جنائز ، 7؛ نسئی، جنائز ، 100، ابن ماجہ، جنائز ، 47؛ احمد بن حنبل، ، 147، 452، III، 38، 63، 237، 250، V، 35، 355، 357

نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وسلم ) خود زیارت قبور کے لئے   جایا  کرتے  تھے خاص طور پر چودہویں شعبان کی رات (لیلۃ البراءۃ) کو  زیارت قبور لئے   جایا  کرتے  تھے ۔ وہ باقاعدہ طور پر اپنی  ماں کی قبر پر حاضری دیا کرتے تھے  اور ان کی محبت  اور  یاد میں رویا کرتے تھے ، جیسا کہ مندرجہ ذیل روایت میں مذکور ہے ۔

"حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنی ماں کی قبر پر حاضری دی اور ان کی قبر کے قریب رونے لگے، اور اپنے ارد گرد دوسرے لوگوں کو بھی رلا دیا ۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ: میں نے اپنی ماں کی قبر پر حاضری دینے کے لئے اپنے رب سے اجازت لے لی ہے۔ تمہیں بھی قبروں کی زیارت کرنی چاہئے کیوں کہ اس طرح کی زیارت  تمہیں موت کی یاد دلائے  گی ۔ "(صحیح مسلم، جلد 3، صفحہ 65)

قرآن و حدیث میں موجود،  زیارت قبورت کے اس واضح اسلامی تصور کے باوجود، بعض اسلامی تشدد پسند  پوری دنیا میں صوفی مزارات کے زائرین کو نفرت و حقارت کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور دیگر اسلامی ورثے کے ساتھ ساتھ صحابہ اور صوفی سنتوں کی تاریخی قبروں اور مقبروں ڈھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ صدیوں پرانے اس روایتی اسلامی معمول  کو قبل از اسلام کے قبر پرستی کے  کافر وں کے معمول کے برابر قرار دیتے ہیں ، اور اس طرح وہ صوفیوں سے محبت کرنے والے، مرکزی دھارے میں شامل مسلمانوں کو ، "قبرپرست  " کہتے ہیں۔

شرک کا  وہابی تصور

در اصل، قبروں کو  تباہ کرنے کے اس نظریہ کی جڑیں 18ویں صدی میں وہابیت کے بانی محمد ابن عبد الوہاب  کے ذریعہ پیش کردہ فقہ  سے ملتی ہیں، جس نے اسلام کو اس کی   اصل کی طرف لوٹانے کا دعویٰ کیا ۔ یہ صوفی طریقت کے  بالکل برعکس ابھر کر سامنے آیا، جس کی بنیاد وہابیت کے  ظہور سے بہت پہلے ہی قائم کی جا چکی تھی،  در اصل  اسلام کے ابتدائی عرصے میں ہی ، اور اس کا مقصد  انسان اور خدا کے درمیان انتہائی  ذاتی تعلق پیدا کرنا ہے ۔ حالانکہ صوفی توحید  (خدا کی وحدانیت) پر پختہ ایمان رکھتے ہیں ، لیکن  وہابی اس عقیدے کو  ایک مکمل طور پر مختلف اور عجیب سطح تک لے گئے ۔ وہ اس  بات پر بضد ہیں کہ صوفیائے  کرام (صوفیاء  کرام کےمطابق وہ حضرات جن کا خدا کے ساتھ قریبی تعلق ہو) کے تئیں  با ادب ہونا  اور ان کے لئے  مزارات اور مقبروں کی تعمیر کرنا ان  کی توحید  کو کمزور کرتا ہے اور سنتوں کو خدا کا مساویکرنے('شرک')  کے مترادف ہے ۔ وہ صوفیائے کرام پر  اس بنیادی عقیدے کی خلاف ورزی کرنے  اور شرک میں شامل ہونے کا  الزام صرف اس وجہ سے  لگاتے ہیں کہ وہ زائرین قبر ہیں (اس وجہ سے نہیں کہ وہ قبر پرست ہیں) ۔

URL for English article:

 http://newageislam.com/islamic-society/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/shrine-visitors-are-not-grave-worshippers/d/11519

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/shrine-visitors-are-not-grave-worshippers-زائرین-مزارقبر-پرست--نہیں-ہیں/d/13048

 

Loading..

Loading..