New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 10:58 PM

Urdu Section ( 12 Dec 2013, NewAgeIslam.Com)

Qur’anic Approach to Inter-Faith Dialogue and Ulema بین المذاہب مکالمہ اور عصر حاضر کے علماء

 

 

 

 

غلام رسول دہلوی ، نیو ایج اسلام

23جنوری 2013

اسلام کی انتہائی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا مذہب ہے جو تمام ادیان و مذاہب کا احاطہ کرتا ہے ۔ مسلمان وہ  شخص ہے جو خدا پر اس کی تمام کتابوں پر اور اس کے تمام نبیوں پر ان کے درمیان کوئی تمیز  کئے بغیر یکساں طور ایمان رکھتا ہو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے واضح ترین پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ انہوں نے اپنی امت کو تمام نبیوں اور تمام کتابوں پر ایمان لانے کا حکم دیا  ہے ، جیسا کہ اس کی  روایت بلند پایہ محدثین نے کی ہے ۔

‘‘سب ہی (دل سے) اﷲ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، (نیز کہتے ہیں:) ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان بھی (ایمان لانے میں) فرق نہیں کرتے’’(2:285

اسلام کے اس شہرہ آفاق پہلو کو نہ صرف یہ کہ غیر مسلموں نے نظر انداز کیا ہے بلکہ بہت سارے مسلمانوں نے بھی اس سے صرف نظر کر لیا ہے ۔ معتقدات کے معاملے میں کسی بھی مسلمان کو ترجیح یا اختیار کا حق حاصل نہیں ہوتا  بلکہ اس معاملے خدا کے تمام احکام کو  قبول کرنا اور اس پر عمل بجا لانا اس کا فریضۂ ایمانی ہے ۔ اسلامی اصول و نظریات کے مطابق خدا کے کسی بھی نبی یا اس کی کسی کتاب پر ایمان کی کمی کفر و الحاد کے مترادف ہے ۔ بالفاظ دیگر اگر کوئی احکام خداوندی سے فکری انحراف کرتا ہے یا محض اس کے چند ہی حصوں پر ایمان رکھتا ہے تو قرآن کی رو سے ایسا شخص مسلم نہیں۔ قرآن کریم گویا ہے:

‘‘اے ایمان والو! تم اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہے اور اس کتاب پر جو اس نے (اس سے) پہلے اتاری تھی ایمان لاؤ، اور جو کوئی اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور آخرت کے دن کا انکار کرے تو بیشک وہ دور دراز کی گمراہی میں بھٹک گیا’’(4:136

اتنے واضح، مستحکم اور صریح الفاظ میں در اصل قرآن نے ایک آفاقی مذہبی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمہ کا نظریہ پیش کیا ہے ۔چونکہ ہمہ گیریت کا اصول قرآن کی بنیادی تعلیمات اور اس کے ابتدائی پیغامات میں مذکور ہے اسی لئے ہم کسی بھی قیمت پر اس سے پہلو تہی نہیں کر سکتے ۔ بلکہ ہمیں اس کا اندازہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہم دوسروں کے تئیں صحیح معنوں میں خیر اور خلوص کا مظاہرہ کریں گے ۔ بین المذاہب مکالمہ  کا قرآنی نقطہء نظر دوسروں کے تئیں قبولیت اور دریادلی کے اسی وسیع تر تصور  پر مبنی ہے ۔

قرآن مقدس میں ایسی متعدد آیات ہیں جن کا مقصد دنیا کی  مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان بین المذاہب مکالمہ کو فروغ دینا ہے ۔ اسلام نے کثیر المذاہب معاشروں  کے ساتھ معاملات کرنے  میں مسلمانوں کو   پر امن طریقہ کار اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اور اسی کے پیش نظر قرآن حکیم نے بین المذاہب مکالمہ پر بہت زیادہ زور دیا ہے اور اسے غیر معمولی اہمیت عطا کی ہے ۔ ذیل میں چند خاص آیتیں پیش کی جارہی ہیں جن سے بین المذاہب مکالمہ کے  قرآنی نقطہ نظرکا تعین ہوتا ہے ۔

‘‘اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بحث (بھی) ایسے انداز سے کیجئے جو نہایت حسین ہو’’(16:125

‘‘اور (اے مومنو!) اہلِ کتاب سے نہ جھگڑا کرو مگر ایسے طریقہ سے جو بہتر ہو سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا، اور (ان سے) کہہ دو کہ ہم اس (کتاب) پر ایمان لائے (ہیں) جو ہماری طرف اتاری گئی (ہے) اور جو تمہاری طرف اتاری گئی تھی، اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں’’(29:46

یہاں ‘اہل کتاب ’ یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر واضح طور پر موجود ہے لیکن اس زمرے کا تعین کرنے والے حدود لچکدار ہیں، محدود و جامد نہیں۔ تمام مذاہب کو اس زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے، بلکہ اس زمرے میں تمام عالم انسانیت شامل ہے، اس  بات کے پیش نظر کہ کوئی بھی قوم وحی الٰہی سے محروم  نہیں رہی، جیسا کہ مندرجہ ذیل آیتیں خود اس بنیادی پیغام کے ظاہری خد و خال اور باطنی تنوعات کو واضح کرتی ہیں۔

·        ‘‘اور ہر امت کے لئے ایک رسول آتا رہا ہے’’(10:47

·        ‘‘ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے’’ (5:48

·        ‘‘ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ تاکہ وہ ان کے لئے (پیغامِ حق) خوب واضح کر سکے’’(14:4

·        ‘‘اے حبیب!) بیشک ہم نے آپ کی طرف (اُسی طرح) وحی بھیجی ہے جیسے ہم نے نوح (علیہ السلام) کی طرف اور ان کے بعد (دوسرے) پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق و یعقوب اور (ان کی) اولاد اور عیسٰی اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان (علیھم السلام) کی طرف (بھی) وحی فرمائی، اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو (بھی) زبور عطا کی تھی ، اور (ہم نے کئی) ایسے رسول (بھیجے) ہیں جن کے حالات ہم (اس سے) پہلے آپ کو سنا چکے ہیں اور (کئی) ایسے رسول بھی (بھیجے) ہیں جن کے حالات ہم نے (ابھی تک) آپ کو نہیں سنائے’’۔(4:163–164)

·        ‘‘اور ہم نے آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر ہم اس کی طرف یہی وحی کرتے رہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری (ہی) عبادت کیا کرو’’(21:25

·        ‘‘اے حبیب!) جو آپ سے کہی جاتی ہیں (یہ) وہی باتیں ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہی جا چکی ہیں’’(41:43

·        ‘‘اور (اے مومنو!) اہلِ کتاب سے نہ جھگڑا کرو مگر ایسے طریقہ سے جو بہتر ہو سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا، اور (ان سے) کہہ دو کہ ہم اس (کتاب) پر ایمان لائے (ہیں) جو ہماری طرف اتاری گئی (ہے) اور جو تمہاری طرف اتاری گئی تھی، اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں’’(29:46)۔

·        ‘‘بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور (جو) نصاریٰ اور صابی (تھے ان میں سے) جو (بھی) اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اس نے اچھے عمل کئے، تو ان کے لئے ان کے رب کے ہاں ان کا اجر ہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے’’(2:62)۔

·        ‘‘اور (اے نبئ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف (بھی) سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس (کے اصل احکام و مضامین) پر نگہبان ہے، پس آپ ان کے درمیان ان (احکام) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اﷲ نے نازل فرمائے ہیں اور آپ ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اس حق سے دور ہو کر جو آپ کے پاس آچکا ہے۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور کشادہ راہِ عمل بنائی ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تم سب کو (ایک شریعت پر متفق) ایک ہی امّت بنا دیتا لیکن وہ تمہیں ان (الگ الگ احکام) میں آزمانا چاہتا ہے جو اس نے تمہیں (تمہارے حسبِ حال) دیئے ہیں، سو تم نیکیوں میں جلدی کرو۔ اﷲ ہی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان (سب باتوں میں حق و باطل) سے آگاہ فرمادے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے’’(5:48)۔

·        ‘‘اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں دشنام طرازی کرنے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر فرقہ (و جماعت) کے لئے ان کا عمل (ان کی آنکھوں میں) مرغوب کر رکھا ہے (اور وہ اسی کو حق سمجھتے رہتے ہیں)، پھر سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ انہیں ان اعمال کے نتائج سے آگاہ فرما دے گا جو وہ انجام دیتے تھے’’(6:108)۔

·        ‘‘اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجا کرتے مگر (لوگوں کو) خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے (بنا کر)، اور کافر لوگ (ان رسولوں سے) بیہودہ باتوں کے سہارے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس (باطل) کے ذریعہ حق کو زائل کردیں اور وہ میری آیتوں کو اور اس (عذاب) کو جس سے وہ ڈرائے جاتے ہیں ہنسی مذاق بنا لیتے ہیں’’(18:56)۔

·        ‘‘آپ فرما دیں: اے اہلِ کتاب! تم اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے’’(3:64

بین المذاہب مکالمہ کے  لئے قرآن کے اتنے  واضح اور غیر مبہم اعلان کے باوجود  ہماری جماعت کے علماء ابھی تک اسی پس و پیش میں غلطاں اور پیچاں ہیں کہ انہیں بین المذاہب مکالمہ میں شرکت کرنی چاہئے یا نہیں، اور ایسا کرنا شریعت اسلامی میں جائز ہے یا نہیں ۔ وہ عالمی بین المذاہب مکالمہ کو درپیش چیلنجز اور نتائج کا سامنا کرنے کرنے کے لئے  ایک باضابطہ آفاقی فارمولہ پیش کرنے سے آج تک قاصر ہیں ۔ حالاں کہ قرآن کریم ان کے اوپر دین اسلام کا ایسا جامع اور ہمہ گیر تصور پیش کرنے کی  ذمہ داری عائد کرتا  ہے کہ جس سے نہ صرف امت مسلمہ فائدہ اٹھائے  بلکہ پوری دنیا ایک شاندار مستقل کی تعمیر کے لئے اس کی تقلید کر سکے ۔ لیکن اس میدان میں ان کی اجتماعی کوششیں بالکل صفر ہیں ۔

تاہم اس علمی ودینی انحطاط کے با وجود آج معدودے چند ایسی اسلامی تنظیمیں اور مبلغین اسلام موجود ہیں جو بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے  عالمی سطح پر کوشش کر رہے ہیں، ان کی مخلصانہ اور بارآور کوششیں یقینا قابل ستائش ہیں۔

وقت کا اہم تقاضہ ہے کہ علمائے کرام اور ایسے اسلامی اسکالر جن کا ماضی مدارس سے وابستہ نہیں ہے دونوں بین المذاہب مکالمہ کے واضح نظریہ کے ساتھ سامنے آئیں اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے قرآنی احکامات کے مطابق اپنے شرائط ، نظریات  اور اصولیات کو واضح کریں ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

URL for English article:

http://newageislam.com/interfaith-dialogue/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/qur’anic-approach-to-inter-faith-dialogue-and-ulema/d/10114

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/qur’anic-approach-to-inter-faith-dialogue-and-ulema-بین-المذاہب-مکالمہ-اور-عصر-حاضر-کے-علماء/d/34843

 

Loading..

Loading..