New Age Islam
Sun Oct 25 2020, 09:38 AM

Urdu Section ( 23 Jun 2012, NewAgeIslam.Com)

Imam Husain: who is Revered by Everybody in the World امام حسینؓ : جنہیں دنیاکی ہر قوم قابل احترام سمجھتی ہے


غلام رسول دہلوی ،  نیو ایج اسلام

 24جون، 2012

حق وباطل کے درمیان معرکہ آرائی کا سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے۔قابیل و ہابیل کا مجادلہ، ابراہیم و نمرودکی کشمکش اور حضرت موسی علیہ السلام پر فرعون کی جارحیت، تاریخ کے وہ ابواب ہیں جن میں حق و باطل کی کشمکش ایک مثالی انداز میں نمایاں ہے۔مگر ۶۱ھ میں روئے زمیں پر برپا ہونے والا حسینی معرکہ اس سلسلہ کی سب سے منفرد اور ممتاز کڑی ہے۔اس بار باطل قوتیں آمریت و سامراجیت کے لبادہ میں جمہوریت کے خلاف دست و گریباں تھیں ، تو دوسری طرف ۷۲ کی قلیل تعداد میں ایک چھوٹاساقافلہء حجاز حقانیت کی علمبرداری کر کر رہا تھا۔

در حقیقت اسلام و انسانیت کے علمبردار اور امن و آشتی کے ہم نوا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے تشدد و جارحیت ،آمریت و بربریت، عیش کوشی و خویش پروری اور ملوکیت و ڈکٹیٹرشپ کی ظلم ا فزاگھٹاؤں کو ، جو اسلام کے چراغ عالم تاب پر سایہ کرنے کے لئے منڈلارہے تھے، پاش پاش کرکے مسلمانوں ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام انسانوں کو کئی نہج پر لمحات فکر مہیا کئے۔فکر و شعو رکی بالیدگی اور نظری تابندگی کا درس تو دیا ہی ، ساتھ ہی ساتھ عملی میدان میں آبلہ پائی کے گر بھی سکھائے ۔ امام عالی مقام کی قربانی نے مظلوموں کو درس دیا کہ وہ سب سے پہلے اپنے اندر فکری و شعوری طور پر اجتماعیت اور ہم آہنگی کی حقیقی روح بیدار کریں پھر اپنی عملی کوششوں کا سلسلہ شروع کریں، فتح ضرور ملے گی۔شہید محبت نے ہمیں پختہ عزمی کا سبق سکھایا اور بتایا کہ راہ وفا چاہے جتنی سنگلاخ کیوں نہ ہو ، اس سے مکرنا ایک فرزند توحید کے لئے سب سے بڑی ناکامی اور شرمندگی کا با عث ہے۔یہی وجہ ہے کہ محمد بن حنفیہ کے بہت اصرار کے باوجود عزمحکم کے کوہ گراں امام حسین نے اپنا ارادہ کسی بھی قیمت پر ملتوی نہیں کیا، بلکہ نگاہوں کو ٹھیک انسانی زندگی کی اس حقیقی فتح اور کامرانی کی طرف مبذول کر دیا جو اللہ کی بارگاہ میں محبوب و مطلوب ہے۔

امام حسین کی داستان صبرورضااورایثاروقربانی سے پوری تاریخ بھری پڑی ہے۔ان کی ولاد ت کے بعد سے ہی ان کی شہادت کاواقعہ مشہور ہوچکا تھاکہ حضرت امام حسین ایک جابربادشاہ کے خلا ف پرچم حق بلندکریں گے اورحق کی سربلندی کے لیے آخری دم تک لڑتے ہوئے شہیدکردیے جائیں گے۔یہ بات ہمیشہ حضرت امام حسین کے پیش نظر رہی۔جب حضرت معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو خلافت عطاکی توحضرت امام حسین نے فرمایاکہ اسلامی خلافت ایک ایسے شخص کے سپردکردیاگیاہے جودین کے حدود کوتوڑکراپنی من مانی کرتاہے اورشریعت اسلامی کو پامال کرتا ہے ،ہم کسی بھی صورت میںیزید کی بیعت نہیں کر سکتے،کئی صحابہ کرام نے بھی یزیدکی بیعت سے انکار کیامگرآخر ی وقت میں ڈرادھمکاکرکسی طرح ان سے بیعت لے لی گئی۔ مگرحضرت امام حسین نے ہرگزاس کی بیعت نہ کی۔اس کے لیے انھیں مدینہ چھوڑناپڑا اورمکہ میں رہنے لگے اورایک وقت ایساآیاجب انھیں مکہ چھوڑکرکوفہ جانا پڑا۔حضرت امام حسین نے یزیدکی سلطنت کوکبھی تسلیم نہیں کیااورکوفہ جاکر انھوں نے یزید کے خلاف ایک محاذ قائم کرنے ارادہ کر لیاتھامگر راستہ میں ہی انھیں روک لیاگیااوریہیں ایک تاریخی اورپوری انسانیت کے لیے سربلندی کاعظیم پیغام دینے والاکربلا کاواقعہ پیش آیا۔اس وقت بھی انھیں مہلت دی گئی کہ آپ یزید کی بیعت کرلیں اورامارت کی لالچ بھی دی گئی مگر انھوں نے رضائے الٰہی کی خاطر اس پیشکش کوٹھکرادیااورظالموں کے ساتھ سینہ سپرہوکر اللہ کی راہ میں اپنے تمام دوستوں،اعزاء واقارب یہاں تک کہ اپنے جوان اورچھ مہینہ کے ننھے علیٰ اصغرکی قربانی کے بعد اپنے خون کا آخری قطرہ تک لٹادیا۔تاریخ صبرورضا کی ایسی مثال ڈھونڈھنے سے قاصر ہے۔

آ ج یزید کے جابرانہ اقتدار کا نام ونمود تک نہیں ہے ، مگر امام عالی مقام کی قربانی کی شان یہ ہے کہ ایک عالم اس کی سرمدی یادوں میں بے تاب ہے۔مسلم ہوں یا غیر مسلم سبھی ان کی مدح سرائی میں زمزمہ سنج ہیں۔ اس بات کی تائید وتوثیق میں اپنے وطن کی ہر دلعزیز شاعرہ بلبل ہند سروجنی نائیڈو کے یہ احساسات ہدیہء قارئین ہیں:

’’اکثرجب لوگ مر جاتے ہیں توان کی یاد بھی اس طرح دم توڑ دیتی ہے جس طرح موسم خزاں میں درخت سے پتے غائب ہو جاتے ہیں ۔لیکن امام حسین کی ذات ان نادر و نایاب شخصیات سے وابستہ ہے جن کے نام روشن ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں۔۱۴سو سالوں کے بعد بھی ان کی نظیر حق و حریت کی جستجو میں منہمک لوگوں کے لئے مینارۂ نور ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں کوئی واقعہ اتنا دل آزار نہیں جو آج بھی اتنے خون کے آنسو رلائے۔میرے پاس ایسے الفاظ نہیں ہیں کہ جن کے ذریعہ میں ان کے بارے میں اپنے دلی جذبات کا اظہار کروں۔ مسلمانوں کو مبارکباد دیتی ہوں کہ ان میں ایک ایسا سربلند انسان گزرا ہے جسے دنیا کی ہر قوم یکساں قابل احترام سمجھتی ہے‘‘۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/in-search-of-a-world-centre-for-humanity--انسانیت-کے-لئے-ایک-عالمگیر-مرکز-کی-تلاش-میں/d/7749

 

Loading..

Loading..