New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 09:21 AM

Urdu Section ( 5 Nov 2017, NewAgeIslam.Com)

Historicism or Historical Methodology Is Vital to the Evolution of Progressive Islamic Theology تاریخی نقطہ نظر ترقی پسند اسلام کی ارتقاء کے لئے انتہائی اہم ہے

 

 

 

 

غلام رسول دہلوی، نیو ایج اسلام

02 اگست 2017

NewAgeIslam.com پر مسلسل جاری ترقی پسند اسلامی مفکرین کے درمیان اسلامی اصلاحات کے امکانات اور خدا کے کلام کی حیثیت سے قرآن کے اندر امکان خطا یا اس کی قطعیت کے عنوان پر بحث و مباحثہ نے ایک سنگین دانشورانہ موڑ اختیار کر لیا ہے۔ کلاسیکی عربی اور اسلامی علوم کے ایک فاضل اسکالرحسن رضوان نے بحث و مباحثہ کے اس سلسلہ کا آغاز کیا جو کہ خود کو "لا ادریہ مسلم" کہتے ہیں اور اسلام کے اندر انقلابی اصلاحات کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں یہ دو سوالات اٹھائے ہیں : " کیا اسلام کے اندر اصلاح ممکن ہے؟ 'اگر تمام مسلمان غلط فہمی کا شکار ہیں تو کیا ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ قرآن کامل اور خطاؤں سے پاک اللہ کا کلام ہے؟"

حسن رضوان کے مضمون کے جواب میں ایک انجینئرنگ گریجویٹ نصیر احمد نے جو کہ نیو ایج اسلام کے مستقل کالم نگار ہیں اپنے ایک طویل مضمون میں دو بنیادی مقدمات کی تائید و توثیق کرنے کی کوشش کی ہے: اولاً، قرآن کامل و اکمل اور خطاؤں سے پاک اللہ کا کلام ہے اگر چہ تمام مسلمان اسے غلط ہی کیوں نہ سمجھیں۔ ثانیاً، نام نہاد 'اسلامی فقہ' زیادہ تر غیر اسلامی ہے اور اس میں بنیادی طور پر وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ نصیر احمد لکھتے ہیں، "یہ انتہا پسندوں کے عقائد سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے اسی لئے یہ کبھی مؤثر طریقے سے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔"

دو اور ترقی پسند اسلامی مفکرین بھی اپنی علمی اور فکری توانائی کے ساتھ اس مباحثے میں شامل ہو چکے ہیں جن میں سے ایک معروف مفسرقرآن اور دیگر ایک آزاد خیال نقاد ہیں۔ محمد یونس جو کہ ایک انجینئر ہیں اور 90 کی دہائی سے قرآن کریم کے گہرے مطالعہ میں مشغول ہیں اور کتاب "Essential Message of Islam" کے مشترکہ مصنف بھی ہیں انہوں نے حسن رضوان کی زبردست تردید کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں ،"اس زمانے کے کچھ مسلم دانشوران اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے اس کے خلاف یا تو جھوٹ بول رہے ہیں یا آدھی سچائی پیش کر رہے ہیں - خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ نادانی میں ایسا کر رہے ہیں یا لوگوں کو فریب دے رہے ہیں"۔ اس مضمون نے حسن رضوان کے اس دعویٰ کی مکمل تردید کر دی کہ لوگوں کے اسلام قبول کرنے میں قرآن کی دانشورانہ اپیل کا کوئی دخل نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے اپنے تردیدی مضمون میں کیرن آرمسٹرانگ اور تھامس کلیری جیسے کچھ مشہور و معروف عہد حاضر کے مغربی مفکرین کے اقتباسات کو نقل کرنے کے علاوہ اور کوئی ٹھوس دلیل پیش نہیں کی ہے۔ یہ میرے لئے انتہائی حیرت کی بات ہے کہ محمد یونس نے حسن رضوان کے مضمون کے تنقیدی فریم ورک کو اسلامی نظریات کو داغدار کرنے کی کوشش قرار دیکر اسے بے وقعت کرنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ ایک بامقصد علمی و فکری کاوش میں مشغول ہوتے وقت یہ بات ذہن میں ہونی چاہئے کہ کسی شخص یا کسی چیز پر تنقیدی گفتگو میں ضروری ہے کہ بداندیش رویہ اختیا نہ کیا جائے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کیوں یونس صاحب جیسے اعتدال پسند اسلامی اسکالر حسن رضوان جیسے لا ادریہ مسلمان کی باتوں کو ‘اسلام کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے اس کے خلاف یا تو جھوٹ یا آدھی سچائی ’ قرار دیتے ہیں۔

 NewAgeIslam.com کے مستقل کالم نگار ڈاکٹر ارشد عالم نے بھی حسن رضوان کے تحریروں میں اسلام کے خلاف سازش کے محمد يونس کی بات پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے دلائل کو ان الفاظ میں واضح کیا: "سب سے پہلا اور واضح مسئلہ یہ ہے کہ یہ نقطہ نظر قرآن کو کسی بھی تنقید کی گنجائش کے دائرے سے باہر کر دیتا ہے۔ کسی بھی قسم کی ترقی میں تنقید کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سوالات اور ان کے جوابات کی پے در پے تلاش کی کوشش کے بغیر انسانی منصوبے ان دیگر مخلوقات سے مختلف نہیں ہیں جو ہمارے زمین پر بستے ہیں"۔

ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹر ارشد عالم نے نصیر احمد جیسے اسکالر کے نقطہ نظر پر بھی سوال اٹھایا ہے، جن کا ماننا یہ ہے کہ قرآن خطاؤں سے محفوظ خدا کا کلام ہے اور مسئلہ اس کو سمجھنے میں انسان کے محدود علم میں مضمر ہے۔

اس مباحثے میں پیش کئے گئے خدا کے کلام کی حیثیت سے قرآن کے اندر امکان خطا یا اس کی سالمیت و قطعیت پر متناقض و متضاد نظریات و خیالات سے قطع نظر سب سے اہم نقطہ جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے وہ "تاریخی نقطہ نظر" ہے۔ در اصل ترقی پسند اسلامی فقہ اور کلاسیکی / روایتی اسلامی فقہ کی اصلاح میں تاریخی طریقہ کار کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ اس سلسلے میں ارشد عالم نے ایک اہم نقطے کی طرف اشارہ کیا ہے:

"دوسرے مذاہب کے برعکس اسلام کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ اس کا ظہور تاریخ کی مکمل روشنی میں ہواہے۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ اس دین کے ظہور اور اس کے ابتدائی اداوار پر بہت کم مواد موجود ہے؟ تاریخی ماخذ کے نام پر ہمارے پاس زیادہ تر مواد خود مسلمانوں کی ہی لکھی ہوئی سیرت و سوانح کی کتابوں کی شکل میں ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے پیش کئے گئے تاریخی مواد کی تائید و تصدیق غیر اسلامی ماخذ سے نہیں ہوسکتی ؟ مسلمانوں کے لئے یہ امر پریشانی کا سبب ہونا چاہئے اور اس تحقیق میں مسلمانوں کو سب سے آگے ہونا چاہئے۔ اور اس کے باوجود ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام اور قرآن کے اس گمراہ کن مطالعہ کے سبب جس میں ان کی اصل کو الہامی مانا گیا ہے مسلمانوں کی جانب سے اسلام کو تاریخی تناظر میں سمجھنے اور اس کی تحقیق کرنے کی کوشش بہت کم ہے"۔

در حقیقت سیرت (پیغمبر اسلام ﷺ کی سوانح حیات) اور مغازی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں کی کہانیاں) جیسی قدیم ترین اسلامی تواریخ جنہیں ابن اسحاق، ابن ہشام اور ابن واقد اسلمی نے مرتب کیا ہے وہ ''سوانح حیات' سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ لہذا، سب سے پہلا کام ہمارے سامنے اسلامی تاریخ پر از سر نو غور و فکر اور اس کی تحقیق و تفتیش کا ہے۔ لہٰذا، ہم تورات (قدیم عہد نامہ)، انجیل (بائبل) اور یہاں تک کہ قرآن جیسی آسمانی کتابوں پر بھی مباحثے کے دوران تاریخی طریقہ کار یا تاریخ سے دامن نہیں چھوڑا سکتے۔ قرآن مجید کی ایک مستند تفسیر کے لئے 'تاریخ کے اصول' یا 'ایک ماخذ کے طور پر' تاریخ کا استعمال کئے بغیر ایک مکمل، ہم آہنگ، اعتدال پسند اور ترقی پسند اسلامی فقہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

آسان لفظوں میں اسلامی علوم میں تاریخی نقطہ نظر کا مطلب ایک درست توضیح پیش کرنے کے لئے نصوص قرآنیہ کا ایک دانشورانہ نقطہ نظر سے مطالعہ کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی میں کیا ہوا اس پر اس تناظر میں گفتگو کی جانی چاہئے کہ کوئی معاملہ کس زمانے میں وقوع پذیر ہوا۔ یہاں تک کہ ابن خلدون جیسے ابتدائی اسلامی مؤرخین نے بھی اس سائنسی طریقہ کار کا استعمال کیا اور اپنی کتاب"مقدمہ ابن خلدون" میں اس کو کافی فروغ دیا۔ انہوں نے متعدد اسلامی روایات کو قبل از اسلام کی روایت قرار دیا جسے ہم "العرب الجاھلی"کے نام سے جانتے ہیں۔

حال ہی میں راقم الحروف کی ملاقات ٹورنٹو یونیورسٹی میں اسلامی قانون میں قانون اور اقتصادیات پر ریسرچ اسکالر اور ایک مصری اسلامی ماہر قانونیات پروفیسر محمد فضل سے ملاقات ہوئی۔ پروفیسر فضل نے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بیان کیا کہ کس طرح اسلامی تحقیقات اور اصلاحات کے حصول میں تاریخی نقطہ نظر کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو قسم کے تاریخی نقطہ نظر اسلامی اصلاحات کے باب میں افادیت بخش ہیں۔ ایک کی تشکیل تاریخ کے 'ترقی پسند نظریہ' سے ہوتی ہے اور دوسرے کی تشکیل 'نصوص کی تفسیر کے ایک ماخذ کے طور پر تاریخ' سے ہوتی ہے۔ مؤخر الذکر کے اندر ترقی پسند اسلامی اصلاحات میں معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت ہے جب تک وہ ‘‘تخصیص العام’’ کے اسلامی فقہی اصول کے دائرے کے اندر ہو۔

پروفیسر فضل نے 'اصلاحاتی حکمت عملی' کے طور پر تاریخی نقطہ نظر کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے ایک اہم متن حدیث کا تجزیہ کرکے ایک قانونی نمونہ قائم کیا ہے جس میں روایت کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے خواتین کو سیاسی منصب اختیار کرنے سے خارج قرار دیا ہے۔ پروفیسر فضل کی دلیل ہے کہ تاریخی نقطہ نظر ، تفسیر و توضیح اور بنیادی اسلامی قانون کا استعمال کر کے مروجہ اسلامی اصولوں میں بنیادی تبدیلیوں کے بغیر ہی ایک مساوات پسند اور اصلاح شدہ اسلامی فقہ کو متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

نیو ایج اسلام پر اس مباحثے سے ایک اور اہم نقطہ نظر جو ہمارے سامنے آیا وہ اسلام میں 'سیاسی نظریات' کی قدر شناسی ہے۔ ڈاکٹر ارشد عالم نے بجا طور پر یہ اشارہ کیا کہ: ".... ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جن تشریحات کو غلبہ حاصل ہو تا ہے وہ لازمی طور پر حکومت کا کام ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مسلم دنیا میں اقتدار کا توازن بنیاد پرستوں کے ہاتھوں میں ہے اور وہاں بہت سے ایسے سرکاری عناصر ہیں جو اس قسم کی قرآنی تعبیرات کی حمایت کرتے ہیں۔ تشریحات کو کنٹرول کرنے کی وجہ صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ قرآن مجید کی ایک لبرل اور ترقی پسند تعبیر مسلم دنیا میں اقتدار کی تقسیم کی موجودہ صورت حال کے لئے خطرہ پیدا کرتی ہے، جو اس وقت چند طاقتور لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ قرآن کریم کی ایک مختلف تشریح ایک انتہائی ضروری سیاسی منصوبہ ہے جس پر مسلمانوں کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہئے’’۔

اس سے کوئی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلم ممالک میں سیاسی نظریات کو جامع کے بجائے علیحدگی پسند ، جمہوریت کے بجائے مطلق العنان، صنفی غیر جانبدار اور انصاف پسند کے بجائے پیدرانہ نظام، اعتدال پسند کے بجائے انتہا پسند اور ترقی پسند کے بجائے رجعت پسندانہ شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ لیکن 21 ویں صدی میں سیاسی نظریات کو چیلنج بھی کیا جائے گا اور اس سے اختلافات بھی کئے جائیں گے۔ ماہر کلاسیکی اسلامی علماء اور لبرل مسلم مفکرین آج ترقی پسند اسلام کی طرف بڑنے کا راستہ سمجھ کر سیاسی نظریات سے اختلافات کر رہے ہیں۔

خاص طور پر روایتی اور معقولیت پسند دونوں طرح کے اسلامی علوم میں اچھی مہارت رکھنے والے پروفیسر ابراہیم موسی ایک ممتاز اسلامی اسکالر ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اپنی تحریروں میں اس وسیع رجحان کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنے مقبول مضمون "مسلم سیاسی نظریہ" میں لکھا ہے کہ مسلم سیاسی نظریات کو صدیوں تک سلطنت شاہی کے ماحول میں فروغ حاصل ہوا لیکن اس کے عناصر کی گونج آج تک جاری ہے۔

بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ خاص طور پر اسلام میں سیاسی نظریات کا موقف کیا ہے۔ جین ایسمین کے الفاظ میں، "یہ سیاسی برادری اور مذہبی نظام کے درمیان، مختصر الفاظ میں، یہ طاقت (حکومت) اور نجات (دین) کے درمیان ایک ہمیشہ تغیر پذیر تعلق" ہے۔ پروفیسر ابراہیم موسی کی تفہیم کے مطابق، مسلم سیاسی نظریہ کے ماہر قانون الموردی جیسے مسلم دانشوروں نے بھی قیادت اور حکمرانی کے منشور کے ذریعے ، ہر چند کہ مختلف ، مگر یہی نظریہ پیش کیا ہے: - قیادت (امامت) کی تشکیل نجات (دین) کے نظام کی حفاظت اور دنیا کے معاملات کو منظم کرتے ہوئے نبوت کا کردار ادا کرنے کے لئے ہوئی تھی۔ پروفیسر موسیٰ مزید لکھتے ہیں: "چونکہ نجات دین کے طور پر اسلام کا ایک بنیادی تصور تھا، اسی لئے اس کے معمولات کا علم اس نظام کا ایک جزو لاینفک تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ معمولات کو پیش کرنے اور ان کی توضیح و تشریح کے لئے ایک استدلالی اور منطقی مباحثہ کی روایت شروع ہوئی۔ استدلالی اور منطقی مباحثہ کی اس روایت نے اس علمی روایت کے حاملین یعنی علماء کی قدر اور ان کے اثر و رسوخ میں بھی اضافہ کیا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اسلام کے اندر مختلف ذیلی روایات سے مؤید استدلالی اور منطقی مباحثہ کی اس روایت کو ظاہراً ایک مقدس حیثیت حاصل ہو گئی۔ جلد ہی ان علماء کو پیغمبر کا حقیقی وارث مان لیا گیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ایک حدیث میں ہے کہ - میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں۔ علماء اور گزشتہ انبیاء کے درمیان اس مساوات کے پیش نظر علماء اور ان کی روایت کو اتنی طاقت اور اتنے اختیارات حاصل ہو گئے کہ کم سے کم وہ ماضی میں مسلم سیاسی نظریات کے مروجہ نظام سے الگ نہیں تھے"۔

آج 21 ویں صدی میں ہماری ضروریات کی روشنی میں ترقی پسند اسلامی اسکالرز کو علماء کی روایت کی جگہ ایک مستحکم مقام حاصل کرنا ہوگا۔ اس سے عالمی امت کو اجتہاد کے دروازوں کو دوبارہ کھولنے میں بڑی مدد ملے گی جنہیں علماء نے صدیوں سے بند کر رکھا ہے۔ شاید ارشد عالم کی فکری تحریر میں بھی یہی حقیقت مضمر ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید کی دوبارہ توضیح و تفسیر کو ایک ایسا "انتہائی ضروری سیاسی منصوبہ کہا ہے جس پر مسلمانوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے"۔

لیکن اس سیاسی منصوبہ کا حصول ارشد عالم جیسے نوجوان ترقی پسند مسلمانوں کے اہم تعاون کے بغیر ایک مشکل ترین کام ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہمارے ہم مذہبوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں در پیش چیلنجوں اور درست فیصلوں کے ذریعہ انہیں حل کرنے کے طریقوں سے مسلسل آگاہ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ ہمیں مواقع کی تلاش میں رہنا چاہئے اور ان دانشورانہ سرگرمیوں کے ذریعہ ہم جو کچھ کر سکتے ہیں ہمیں کرنا چاہئے۔

-----

متعلقہ مضامین:

Is Islamic Reform Possible? 'Should We Just Accept That Quran Is Not Perfect, Infallible Word of God, If Nearly All Muslims Misundetstand It?'

http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/hassan-radwan,-new-age-islam/is-islamic-reform-possible?--should-we-just-accept-that-quran-is-not-perfect,-infallible-word-of-god,-if-nearly-all-muslims-misundetstand-it?-/d/111784

The Quran Is the Perfect, Infallible Word of God, Even If All the Muslims Misunderstand It

http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-quran-is-the-perfect,-infallible-word-of-god,-even-if-all-the-muslims-misunderstand-it/d/111897

Some Muslim Intellectuals of This Era Cry Lies or Half-Truths against Islam Creating Doubts and Suspicions against It – Ignorantly or Fraudulently - God Knows Best

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/muhammad-yunus,-new-age-islam/some-muslim-intellectuals-of-this-era-cry-lies-or-half-truths-against-islam-creating-doubts-and-suspicions-against-it-–-ignorantly-or-fraudulently---god-knows-best/d/111985

Quran is Not the Source of All Problems but It Must Be Brought within the Ambit of History

http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/arshad-alam,-new-age-islam/quran-is-not-the-source-of-all-problems-but-it-must-be-brought-within-the-ambit-of-history/d/112032

URL for English article: http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/historicism-or-historical-methodology-is-vital-to-the-evolution-of-progressive-islamic-theology--a-contribution-to-the-ongoing-nai--debate-on-the-possibility-of-reformation-within-islam/d/112073

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-rasool-dehlvi,-new-age-islam/historicism-or-historical-methodology-is-vital-to-the-evolution-of-progressive-islamic-theology-تاریخی-نقطہ-نظر-ترقی-پسند-اسلام-کی-ارتقاء-کے-لئے-انتہائی-اہم-ہے/d/113126

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..