New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 01:08 AM

Urdu Section ( 20 March 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Extremist thoughts among the educated youth in Kashmir are distressing تعلیم یافتہ کشمیری نوجوانوں میں انتہا پسندانہ رجحانات تشویشناک

 

 

 

غلام رسول دہلوی، نیو ایج اسلام

عیسی فاضلی اور سید اویس نے کشمیر میں عسکریت پسند گروہ میں شامل ہونے کے لیے تیسرے سال میں پہنچنے کے بعد بھی بی ٹیک جیسے اہم پروفیشنل کورس کو چھوڑ دیا۔ آخر کار 12 مارچ کی رات کو کشمیر کے اونتی پورا کے ایک علاقے میں ہونے والے حالیہ فوجی عسکری تصادم کے دوران دونوں جاں بحق ہو گئے۔ انہی کے ساتھ ساتھ محمد توفیق نامی ان کا ایک اور چھبیس سالہ  جنگجو ساتھی بھی مارا گیا۔ تحقیقات کے مطابق یہ سبھی نوجوان فکری طور پر گمراہ اور داعش کے نظریاتی حامل تھے۔ تاہم فاضلی اور اویس کے بر عکس جو کہ مقامی 'مجاہد' تھے، توفیق کا تعلق تیلنگانہ کے حیدرآباد سے تھا۔ تیلنگانہ پولیس کے ذریعے جاری کردہ ایک پریس نوٹ کے مطابق وہ سوشل میڈیا کے واسطے سے داعش کی وچاردھارا سے متاثر ہوکر انتہاپسند بنا اور بالآخر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شریک ہونے کے لیے کشمیر پہونچ گیا۔

ماضی قریب میں کشمیر کے اعلی سیکورٹی عہدہ داروں  نے مقامی اور بیرونی جنگجوؤں کے مابین خط امتیاز قائم کرتے ہوئے کشمیر گھاٹی میں داعش کے امپرنٹ سے انکار کر دیا تھا۔ گھاٹی میں گمراہ کشمیری نوجوانوں کو گھر لوٹانے کے لئے ان کے اعزازی استقبال کا وعدہ کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل جے۔ایس سندھو  نے کہا تھا کہ مقامی دہشت گردوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو مجاہد کہکر خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے ان سے پوچھا تھا کہ"کیا تم واقعی مجاہدہو یا محض پاکستان کے ہاتھوں ایک کٹھپتلی ہو؟"

لیکن اب جموں وکشمیر کے پولیس افسروں نے جس چیز کا انکشاف کیا ہے وہ واقعی حیران کن ہے۔ ان کے بقول توفیق جنوبی ہند کے صوبہ  تیلنگانہ کا باشندہ تھا  اور اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے لیے کام کررہا تھا۔ ان کی یہ مبینہ تصدیق نہ صرف ماضی قریب میں سیکورٹی  ایجنسیوں اور  دیگر تحفظاتی عملوں کے ان سابقہ دعووں کی تردید کرتی ہے جن میں انہوں نے وادی میں کسی بھی داعشی گروہ  یا  اس کے اثرات کی موجودگی سے  یکسر انکار کیا تھا ،  بلکہ جنوبی ہند میں توفیق جیسے نوجوانوں کو متاثر کرنے والے انتہاپسند عناصر سے متعلق سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔واضح ہے کہ چند ایسے شرپسند عناصر تو ہیں جو جنوب کے بھولے بھالے نوجوانوں کو ورغلا رہے ہیں اور ان کے ذہنوں کو پراگندہ کر رہے ہیں۔

یہی کشمیری پولیس جس نے پچھلے دنوں القاعدہ کی شاخ 'انصار غزوت الہند'  کے دعووں کو مسترد کردیا تھا، اب اعتراف کر رہی ہے کہ توفیق سوشل میڈیا کے کے ذریعے انتہا پسندانہ نظریات میں بہک گیا اور دہشت گردانہ افعال کے ارتکاب کے لیے کشمیر پہونچ گیا۔ پولیس کے بیان کے علاوہ،  انصار غزوت الہند کے دعوے بھی یہی بتاتے ہیں کہ  مقتول توفیق حیدرآباد کا باشندہ تھا، جو 'جہاد کشمیر' کے لئے کفن باندھ کر  گھاٹی آ گیا  تھا۔ اوراس طرح ہندوستان میں 'اسلامک اسٹیٹ' کا یہ نظریاتی ہمدرد کشمیر میں لڑتے ہوئے مارا گیا۔ شاید یہ پہلی بار ہوا ہوگا کہ جنوبی ہند کا کوئی نوجوان اس طرح کشمیر میں عسکری سرگرمیوں میں ملوث ہوا ہو۔ انصار غزوت الہند کے میڈیا بلیٹن "الناصر" کے مطابق توفیق "جہاد فی سبیل اللہ" کی غرض سے حیدرآباد سے کشمیر منتقل ہوا تھا۔

اس واقعہ سے یہ جان لینا چاہیے کہ بالعموم ہندوستان اور بالخصوص اس کا جنوبی حصہ انتہاپسندی کے دہانے پر ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ اکثر دیسی شدت پسند عناصر اور 'جہادی' کارکنان کا جنوب سے تعلق ہے۔ انڈین مجاہدین  یا اس جیسی دیگر  تنظیموں کے نظریات کے حامی اکثر لوگ جنوبی ہند سے  ہی ہوئے  ہیں۔ یاسین بھٹکل، ریاض بھٹکل اور اقبال بھٹکل وغیرہ سبھی لوگ جنوبی ہند کے کرناٹک کے ساحلی قصبے بھٹکل سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس میں کوئی دو راۓ نہیں کہ ہمارے ملک میں متعدد بنیاد پرست اسلامی تنظیمیں جنوبی علاقے ہی میں پیدا ہوئیں۔ یہ خوفناک آثار بتا رہے ہیں کہ دہشت گرد گروہ خصوصی طور پر جنوبی ہندوستان کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔ فی الواقع شمال کے برعکس جنوبی ہند کے نوجوانوں میں انتہاپسندی کا تناسب زیادہ ہے۔ اس کی ایک وجہ جنوبی علاقوں میں 'سیاسی اسلام' کی اس عسکری فکر کا عروج ہے جس نے عالم اسلام کے مسلم معاشرہ کو مختلف شعبوں میں بدنام کر رکھا ہے۔ افسوس آج کیرالہ، تلنگانہ، مہاراشٹر اور تامل ناڈو میں اس فکر کی بے روک ٹوک ترویج جاری ہے۔

گزشتہ چند سالوں کے دوران انتہائی عجیب و غریب خیالات کی حامل شدت پسند تنظیموں کی ایک نئی شکل جو کہ شمال ہند کے مسلم جماعتوں اور ان کے افکار و نظریات سے بالکل مختلف ہے، ظہور پذیر ہوئی ہے۔ کیرل میں "ندوۃ المجاھدین"، تامل ناڈو میں "جماعت التوحید"، حیدرآباد میں "جمعیت المفلحات" اور بنگلور میں "ڈسکور اسلام ٹرسٹ" اور ان کے علاوہ متعدد ایسی تنظیمیں وجود پذیر ہوئی ہیں، جن کا آن لائن مواد نظریاتی سطح پر انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے، جو کہ بغیر تحقیق و تفتیش کے مسلم نو جوانوں کو مسلسل فراہم کیا جارہا ہے۔

آج شمال ہند میں ہر مکتب فکر کے مسلمان اپنے دینی و ملی قائدین کے ساتھ انتہا پسندی کے عفریت کا ہمہ تن مقابلہ کر رہے ہیں، یہاں کے علماء اور مفتیان کرام دنیا بھر میں جاری دہشت و وحشت کے افکار و افعال کے خلاف زبرست فتاویٰ اور مسلسل بیانات جاری کر رہے ہیں۔ لیکن شمال ہند کے بر عکس جنوبی ہند کے نوجوانوں میں انتہا پسندی کی نظریاتی ترویج تشویشناک ہے، اور  تدارک کی متقاضی بھی ۔

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..