New Age Islam
Sun Sep 19 2021, 08:18 AM

Urdu Section ( 13 Sept 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Where To Find Peace and Harmony? امن وشانتی کہاں تلاش کریں؟


غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی اور مدنی دور کا جائزہ لینے والا منصف قلمکار کبھی اس حققیت سے نظریں چرانے کا کام انجام نہیں دے  گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر گوشہ عدل وانصاف ، رافت ومہربانی ، رحمت وشفقت ، الفت ومحبت  اور صداقت وسخاوت  کا مظہر اتم ہے ۔آخر یہ کونسا عدل وانصاف تھا جہاں امتیازی ، رجحانی ، میلانی  اور نفسانی مزاج کا نام ونشاں نہ تھا ، یہ کونسی رافت ومہر بانی تھی جو اسلام اور امت مسلمہ کی روح رواں بن گیا ، یہ کونسی رحمت  تھی جو کسی خاص اسٹیٹ ، گورنمنٹ ، اعلی عہدیدار  کے لیے مخصوص نہ تھا ، جو کسی خاص وطن کے لیے متعین نہ تھا ، جو کسی خاص ذات، نسل ، قبیلہ ، قوم یا مٹی کے باشندوں تک محدود نہ تھا ، بلکہ پوری انسانیت ، خواہ وہ مسلم کی ہو یا غیر مسلم کی، خواہ  وہ عرب کی ہو یا عجم کی ہو، مدینہ کی ہو یا بغداد کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت پوری انسانیت کے لیے تھی ۔اس پر اصدق الکلام خود گواہ ہے ، ارشاد باری ہے : ‘‘وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین’’، یعنی، اور ہم نے تمہیں یعنی اے محبوب  (لفظ ‘‘محبوب’’ سے ترجمہ  اس لیے کہ اللہ نے حضور علیہ السلام کو سب سے پیارا محبوب بنایا جس پر قرآن کی مبینہ آیات شاہد ہیں) ہم نے تمہیں سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ’’۔

تو اصدق الکلام کی اس آیت پر پاک نظر دوڑانے والے سمجھ گئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی سب سے بڑی رحمت ہے جس کے کرم کا دائرہ کسی خاص نوع بشری کے لیے مخصوص نہ تھا بلکہ عالمین کے ہر ایک ایک عالم کے لیے تھا ، چاہے وہ اجسام یعنی جسموں کی دنیا ہو ، یا ارواح یعنی روحوں کی دنیا ہو ، ہر ایک عالم کے لیے ، ہر ایک جہان کے لیے آپ کی رحمت کا نورانی دریا عام تھا  مگر یہ اور  بات ہے کہ اس رحمت سے فائدہ اٹھانے والے ہی صالحین ، اولیا ،  صوفیا ، اوتاد ، غوث وخواجہ  اور بزرگان دین کے نام سے منسوب ہوئے ۔

یہ وہ عام اور جنرل رحمت تھی جس سے اکتساب فیض حاصل کرنے والوں نے ایمان ووعرفان  جیسی خوب اعلی واعظم دولت پائی ، ان کے قلوب ایک روحانی ، حقانی  اور عرفانی ڈور میں پیوست ہو گئے ۔وہ کسی بھی زمانے میں رہے خواہ وہ اسلام کا زمانہ ہو یا ظالم کا ، حق گوئی ، انصاف پسندی ، عدل ومساوات ، رحمت وشفقت ، الفت ومحبت کے وہ پیکر ومثال بن کر خواص وعوام کے دلوں میں رچ بس گئے  ، دلوں میں ایمان وعقائد کی روشنی کا نتیجہ بن کر رہے ، یہ وہ تھے جو موت وحیات  اور زندگی وممات کی حقیقت جان چکے تھے  انہیں نہ کوئی خوف تھا نہ کوئی غم ، اگر فکر تھی تو تقوی شعاری کی، اطاعت گزاری کی، اگر فکر تھی تو فرمان الہی کے مطابق زندگی گزارنے کی ، اگر فکر تھی تو حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد ادا کرنے  کی ، ان کے اخلاق عمدہ تھے ، وہ لوگوں سے ملتے تو مسکراہٹ ان کے نورانی چہرے پر ہوتی تھی، وہ چھوٹوں پر شفقت کرتے ، ان کی حوصلہ افزائی کرتے ، بڑوں کا احترام کرتے ، والدین کی اطاعت کرتے ، پڑوسیوں کا خیال رکھتے ، لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے اور برائی سے روکتے ، جب کبھی سے وعدہ کرتے تو وعدہ نبھاتے ، غرضیکہ ان کی زندگی کے ہر ایک عملی گوشے سے اسلام کی خوشبو آتی ، مگر آج زمانہ تغیر پا چکا ہے ، وقت کی نزاکت  بدل چکی ہے ، آج حق تلفی ہو رہی ہے پھر بھی ہم مسلمان ہیں ، عراق اور شام  میں خون کی ندیاں بہہ چکی ہیں پھر بھی ہم مسلمان ہیں، آج ہماری تعلیمی ، اخلاقی، روحانی  اور سماجی پسماندگی ہے پھر بھی ہم مسلمان ہیں ، نماز سے غفلت ہے پھر بھی ہم مسلمان ہیں، ایمان وعقیدے سے ناواقف ہیں پھر بھی ہم مسلمان ہیں۔

آج ہم در بدر  امن وشانتی کی تلاش میں جٹے ہیں جبکہ کہیں امن نہیں ، کہیں چین نہیں، بس بہانے ہی بہانے ، کسی کو یہ بہانہ کہ اسلام نے ان کا چین چھین لیا ہے ، کسی کو یہ بہانہ کہ اسلام نے دوسروں کا سکون واطمینان چھیننے کا ، شہریوں کا بمباری سے یا بندوق کی گولی سے  قتل عام کرنے کا نام جہاد رکھا ہے ،  ہر ایک کوشش کرلینے کے باوجود بھی امن نہیں چین نہیں سکون نہیں ۔آخر کیوں ؟ انسانی تاریخ کا کوئی ایسا دور نہیں جو سفاکیت ، ظلم وبربریت کی داستان سے خالی ہو ، کوئی ایسا ملک ، اسٹیٹ ، شہر یا گاوں بچا نہیں جہاں  مظلوموں کے خون کے قطرات نہ پڑے ہوں ۔

آج مصلحین بھی موجود ہیں، امن وشانتی کا پرچار کرنے والے بھی ہیں، لیکن پھر بھی امن نہیں ، سکون نہیں ، شانتی نہیں ، کبھی  دل دہلانے والا حادثہ ، کبھی وحشیانہ واقعہ ، کبھی اقلیت پر ظالمانہ رویہ ، لیکن ان سب کے باوجود امن نہیں چین نہیں سکون نہیں۔آخر کیوں؟

اس پریشانی کا علاج قرآن مقدس نے صراحت وشفافیت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ ‘‘الا بذکر اللہ تطمئن القلوب’’ یعنی  سن لو ، اللہ کے ذکرہی میں دلوں کو اطمینان ملتا ہے ، اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے ، اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو امن وشانتی کا احساس ہوتا ہے ۔امن وشانتی  اللہ کے ذکر ہی میں ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر کا کیا معنی ہے۔اللہ کا ذکر کس طرح کیا جاتا ہے ؟ تو اگر اللہ کا ذکر تلاش کرنا ہو تو اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں ،  ان کی اخلاقی ، روحانی ، سماجی اور عدل وانصاف والی زندگی کی اتباع کریں ۔

مشاہدہ فرمائیے کہ  سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں اللہ کے ذکر میں اس طرح مشغول ہیں کہ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام نے تین مرتبہ انہیں کہا ،  پڑھیے ، پڑھیے  ، پڑھیے (اقرا) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار یہی فرماتے کہ  ‘‘ما انا بقاری’’ یعنی میں نہیں پڑھوں گا۔آخر ایسا کیوں ؟ تو سنیے کیونکہ وہ اللہ کے ذکر میں مشغول ہیں گویا وہ جبریل کو بتا رہے ہیں کہ میں اللہ کے ذکر میں مشغول ہوں  اور اے جبریل تم مجھے پڑھنے کے لیے کہہ رہے ہو ، لہذا میں نہیں پڑھوں گا ۔تو جبریل نے جب آخر میں  عرض کیا کہ ‘‘اقرا باسمک ربک الذی خلق’’ یعنی پڑھیے اپنے رب کے نام سے ، یعنی اسی رب کے نام سے پڑھیے جس کے ذکر میں آپ مشغول ہیں ، تو اب  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنا شروع کیا ۔

زندگی کے ہر عمل کو ، ہر لمحے کو ذکر اللہ سے جوڑیے ، پھر دیکھیے امن وشانتی کا احساس آپ کی روح روان بن جائے گا۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/where-find-peace-harmony-/d/122848


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..