New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 12:57 AM

Urdu Section ( 7 Jul 2020, NewAgeIslam.Com)

What Does Islam Suggest for Stopping Plagues Through Azan and Prayers? کروناوائرس جیسی وبائی امراض کو دور کرنے میں اذان کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟


غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

سوال : کروناوائرس کے تباہ کن مرض سے پوری دنیا پریشان ہے ایسے میں طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ لوگ تمام ضروری احتیاطی تدابیر اپنائیں تاکہ اس  مہلک مرض سے حفاظت ممکن ہو سکے ، لیکن وہیں دوسری جانب  مذہبی رہنما احتیاطی تدابیر کے ساتھ دعا وغیرہ کا بھی اہتمام کر رہے ہیں اور  اپنے گھروں میں اذانیں دینے کا مشورہ کر رہے ہیں ۔ایسے میں وضاحت کر دیں کہ کیا  دعا اور اذان سے وبائی امراض دور ہو جاتے ہیں؟

جب وبائی امراض پھیل جائے تو طبی اسباب وہدایات پر عمل کیا جائے اور روحانی اسباب بھی اختیار کرنا چاہیے  یعنی اپنے اپنے گناہوں کو فورا ترک کر دیا جائے اور ان پر توبہ اور استغفار کیا جائے ۔

قحط ، وباء اور ہر مصیبت وبلا گناہ کے سبب آتی ہے ۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا : (وما أصابكم من مصيبة  فبما كسبت أيديكم ويعفوا عن كثير ) ترجمہ : اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے  ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے ’’

تو بہ ،دعا ، استغفار ، طلب رحمت، تکبیر اور حمد وثنا  بلاشبہ ہر بلا ومصیبت کے عمدہ علاج ہیں ۔

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی  ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ نے لوگوں کو نماز کسوف پڑھانے کے بعد خطبہ دیا اور اللہ رب العزت کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ:

‏إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لاَ يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا‏

ترجمہ : ‘‘بے شک سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اور ان دونوں میں  کسی کی موت و حیات سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم ایسا  ( یعنی گرہن لگا ہوا) دیکھو تو اللہ تعالی  سے دعا کرو، تکبیر کہو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔’’ (صحیح البخاری، كتاب الكسوف، رقم الحدیث: ۱۰۴۴)

(سورج گرہن کا معنی ہے زمین اور سورج کے درمیان چاند کے حائل ہو جانے سے سورج کا جزوی یا کلی طور پر تاریک نظر آنا ، عربی میں اسے کسوف شمس کہتے ہیں)

مذکورہ بالا حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ تعلیم ملتی  ہے کہ کوئی حادثہ یا مصیبت آنے پر یا کوئی وباء پھیلنے پر مسلمانوں کو چار امور کو اجتماعی یا انفرادی طور پر  کرنا چاہیے، وہ چار امور یہ ہیں: (۱) دعا (۲) تکبیر یعنی اللہ تعالی کی حمد وثنا اور ذکر وغیرہ  (۳) نماز اور (۴) صدقہ۔

ان چار امور کا ذکر اگرچہ سورج گرہن کے سلسلے میں ہوا ہے لیکن اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصیبت وپریشانی کے وقت دعا ، ذکر اللہ ، نماز اور صدقہ کا اہتمام کرنا چاہیے ۔ تکبیر یہاں عام خواہ وہ اذان کی تکبیر ہو یا ذکر اللہ کا کوئی بھی عمل  ۔

سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غمگین دیکھا تو ارشاد فرمایا:

یَا ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اِنِّیْ اَرَاكَ حُزِیْناً فَمُرْ بَعْضَ اَھْلِكَ یُؤَذِّنُ فِیْ اُذُنِكَ فَاِنَّهٗ دَرْءُ الْھَّمِ.

ترجمہ : ‘‘اے ابو طالب کے بیٹے! میں تجھے غمگین دیکھ رہا ہوں، لہذا اپنے کسی گھر والے سے حکم دے  کہ وہ تیرے کان میں اذان کہے، کیونکہ اذان غم وپریشانی کو دور کردیتی ہے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوہ المصابیح باب الاذان، جلد ۲)

مذکورہ بالا حدیث سے یہ بات واضح ہے کہ اذان غم وپریشانی  اور بلاء کو دور کر دیتی ہے ۔اگرچہ اذان کی مشروعیت در حقیقت نماز کی طرف  بلانے کے مقصد سے کی گئی ہے، لیکن  دیگر احادیث میں بعض دیگر امور کے لیے بھی اذان  کا ثبوت ملتا ہے، مثلاًبچے کی پیدائش کے بعد اس  کے کان میں اذان دینے کا حکم، یا آگ زنی کے وقت اذان دینے کی ترغیب وغیرہ۔

 فقہاء اور شارحین احادیث  نے بھی  مصائب وآلام  اور عمومی پریشانیوں کے بعض مواقع پر اذان دینے کی مشروعیت  کے اقوال پیش کیے ہیں، لہذا   وباء وغیرہ پریشانی  کے خاتمے کے لیے اذان دینے کا جواز ثابت ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی اور مصنف بہار شریعت مفتی امجد علی وغیرھما رحمۃ اللّٰہ علیہم  کے نزدیک وبا کے خاتمہ کے لیے اذان دینا مستحب ہے ، دیکھیے فتاویٰ رضویہ، جلد ۵ صفحہ ۳۷۰ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،  بہار شریعت، جلد اول، حصہ سوم، صفحہ 466، مطبوعہ مکتبة المدینہ)

مذکورہ کلام سے واضح ہے  کہ مصیبت  اور وباء کے خاتمہ کے لیے  اذان دینا مستحب عمل ہے۔ لہذا اگر کوئی مسلمان موجودہ کروناوائرس کے وباء کے خاتمے کے لیے  طبی ہدایات پر عمل کرنے کے ساتھ اذان اور دعا وغیرہ کا اپنے گھروں پر اہتمام کرے تو یہ عمل جائز ومستحب ہے۔ بندے کو چاہیے کہ وہ دعا میں یقین رکھے کہ اللہ رب العزت  اپنے اس ذکر کی برکت سے کروناوائرس کی وباء کو دور کر دے ، مگر دعا کے ساتھ دوا اور طبی ہدایات پر عمل کرنا بھی  شرعی تقاضا ہے ۔

اذان وباء اور مصیبت کو دور کر دیتی ہے ۔اس سلسلے میں متعدد روایات واحادیث موجود ہیں ۔درج ذیل چند ملاحظہ فرمائیں :

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےمروی ہے  کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :(إِذَا أُذِّنَ فِي قَرْيَةٍ أَمَّنَهَا اللهُ مِنْ عَذَابِهِ ذَلِكَ الْيَوْمَ)

ترجمہ: "جب کسی علاقے میں آذان دے دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اس بستی کو  اپنے عذاب سے محفوظ فرمائے گا ۔" (المعجم الکبیر للطبرانی : ۱، ۲۵۷، المعجم الاوسط : ۴، ۸۳ المعجم الصغیر: ۱،۳۰۱)

اس حدیث  کی سند پر امام بخاری نے جرح کر رکھی ہے (دیکھیے التاریخ الکبیر ، ۵، ۲۸۷) اور حافظ ابن حجر نے اسے ‘‘ضعیف ’’ کہا ہے (تقریب التہذیب )۔ نیز علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ اس کی سند پر جرح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس کی سند میں عبد الرحمن بن سعد بن عمار ہے، جسے یحیی بن معین نے ضعیف کہا ہے۔ (مجمع الزوائد : ۱،۳۲۸)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نَزَلَ آدَمُ بِالْهِنْدِ فَاسْتَوْحَشَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَنَادَى بِالْأَذَانِ)

ترجمہ : "جب آدم علیہ السلام ہندوستان اترے تو انہیں گھبراہٹ محسوس ہوئی  تو جبرائیل علیہ السلام نے آسمان سے نازل ہوکر آذان دی" (حلیۃ الاولیاءلابی نعیم : ۱۷،۵)

علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق اس حدیث کی  سند میں علی بن یزید بن بہرام مجہول ہے۔(مجمع الزوائد : ۳،  ۲۲۸)۔اصول حدیث کا قاعدہ ہے کہ اگر راوی مجہول ہو تو سند ضعیف ہو جاتی ہے ۔

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(أَيُّمَا قَوْمٍ نُودِيَ فِيهِمْ بِالْأَذَانِ صَبَاحًا إِلَّا كَانُوا فِي أَمَانِ اللهِ حَتَّى يُمْسُوا، وَأَيُّمَا قَوْمٍ نُودِيَ عَلَيْهِمْ بِالْأَذَانِ مَسَاءً إِلَّا كَانُوا فِي أَمَانِ اللهِ حَتَّى يُصْبِحُوا)

ترجمہ :"جس قوم میں صبح کے وقت آذان دے دی جائے تو شام تک وہ اللہ کی امان میں ہوتی ہے،اور جس قوم میں شام کے وقت آذان دےدی جائے وہ صبح تک اللہ کی امان میں ہوتی ہے۔" (المعجم الکبیر للطبرانی :۲۰ ، ۲۱۵)

امام ابو حاتم رحمۃ  اللہ علیہ  (الجرح و التعدیل ، ۳ ، ۲۹۷) نے اسے ضعیف الحدیث کہا ہے۔

مذکورہ احادیث   کی سند میں اگرچہ ضعف ہے  لیکن علم حدیث کا ادنی طالب علم بھی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ فضائل میں ضعیف احادیث بھی مقبول ہوتی ہیں،لہذا  جو علماء ان احادیث  سے وباء وبلاء  کو دور کرنے کے  لیے اذان دینے کا استدلال کرتے ہیں وہ اس صورت میں اذان دینے کو مستحب عمل قرار دیتے ہیں  اور یہ بات معروف ہے کہ فضائل بیان کرنے یا  کسی شئ کے مستحب ہونے کے  ثبوت کے لیے ضعیف حدیث بھی مقبول ہوتی ہے۔لہذا مذکورہ مسئلہ میں  جو علماء اذان دینے کے عمل کو مستحب مانتے ہیں ان پر احادیث کی سند میں ضعف ہونے کی بنیاد پر طعن کرنا ہرگز درست نہیں ۔

(نوٹ : اپنے گھروں میں اذان کا اہتمام کرتے وقت پڑوسیوں کا خیال ضرور رکھیں اور آواز  آہستہ رکھیں)

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اپنے حبیب نبی کے صدقے میں ہم سبھی کو  موجودہ کروناوائرس کی وباء سے محفوظ رکھے  اور توبہ واستغفار اور نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi-new-age-islam/what-does-islam-suggest-for-stopping-plagues-through-azan-and-prayers-کروناوائرس-جیسی-وبائی-امراض-کو-دور-کرنے-میں-اذان-کی-شرعی-حیثیت-کیا-ہے-؟/d/122315


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..