New Age Islam
Mon Jul 04 2022, 09:48 PM

Urdu Section ( 14 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Legitimacy of Arbitration [Tahkim] as a Dispute Resolution Mechanism under Islamic Sharia شریعت اسلامیہ میں تنازعات کے حل کے لیے ثالثی [تحکیم] کی قانونی حیثیت

غلام غوث صدیقی، نیو ایج اسلام

9 جون 2022

 صلح اور ثالثی میں فرق اور اسلام میں ان کا جواز

 اہم نکات:

1.       تحکیم اور صلح  کی عرب اور اسلامی برادریوں میں ایک طویل تاریخ رہی ہے۔

2.       اسلامی قانون میں تحکیم کو کافی اہمیت دی گئی ہے، جس کی وجہ سے اس کے متعینہ اصول و ضوابط معرض وجود میں آئے۔

3.       صلح کے جواز کی تائید ان قرآنی آیات اور احادیث سے کی جا سکتی ہے جن   سے تحکیم کا ثبوت ملتا ہے ۔

4.        تحکیم حدود اﷲ،  قصاص اوردیات میں جائز نہیں کیونکہ تحکیم کا فیصلہ صلح کی طرح ہوتا ہے تو جن چیزوں میں صلح جائز ہے ان میں تحکیم بھی جائز ہے اور جن میں صلح جائز نہیں ان میں تحکیم بھی جائز نہیں

 -----

Photo: Prezi.com

-----

عرب اور مسلم برادریوں میں تحکیم اور صلح کی ایک طویل تاریخ رہی ہے، اور ان کی ابتداء ما قبل اسلام عرب سے ہوتی ہے۔ کسی بھی قسم کے تنازعات کے حل میں، صلح کو ایک پسندیدہ عمل مانا گیا ہے۔ عدالتی عمل کو آسان بنانے کے لیے اسلام نے  تحکیم (ثالثی)  کو قانونی حیثیت فراہم کی ہے۔ اسلامی قانون میں تحکیم کو  اہمیت دی گئی ہے، جس کی وجہ سے اس کے متعینہ اصول و ضوابط معرض وجود میں آئے۔ تحکیم کا فیصلہ اس وقت مفید ہوتا ہے جب  ثالث یا حکم  کی مہارت، ذہانت، خود مختاری، تجربہ، دیانت داری ، دانشمندی اور صلاحیت لوگوں کی نظروں میں مسلم ہو۔

صلح اور تحکیم میں فرق بڑا معمولی ہے۔ جن  قرآنی آیات اور احادیث نبویہ سے صلح کا جواز ملتا ہے ان سے تحکیم کا بھی ثبوت ملتا ہے ۔ قرآن و سنت دونوں نے ایک تیسرے فریق کی شکل میں تحکیم کو تسلیم کیا ہے جسے فریقین اپنے اختلافات کو مفاہمت یا فیصلے کے ذریعے حل کرنے کے لیے متعین کرتے ہیں۔ تاہم، اس میں فریقین کے درمیان اختلافات کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسلام میں، تحکیم تین لحاظ سے صلح سے مختلف ہے: اولا، صلح میں فریقین کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو  دوسروں کی مدد کے ساتھ یا اس کے بغیر بھی ایک خوشگوار تصفیہ کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے، لیکن تحکیم کے لیے تیسرے فریق کی تقرری ضروری ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف، صلح میں مقابل فریقین کے پاس کسی فیصلے تک پہنچنے کے لیے ثالث کا استعمال کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ ثانیاً، صلح کا معاہدہ اس وقت تک قابل عمل نہیں ہے جب تک کہ اسے عدالت کے سامنے نہ کیا جائے، لیکن تحکیم، جمہور فقہاء کے مطابق، عدالت کی مداخلت کے بغیر بھی قابل نفاذ ہے۔ ثالثاً، صلح صرف اس صورت میں کی جا سکتی ہے جب کوئی تنازعہ پیش آ چکا ہو۔ لہذا کسی ممکنہ تنازعہ کو حل کرنے کے لیے صلح نہیں کی جا سکتی، جبکہ تحکیم کا استعمال موجودہ اور ممکنہ دونوں طرح کے تنازعات کو حل کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ [Aseel Al-Ramahi, Sulh: A Crucial Part of Islamic Arbitration, London School of Economics and Political Science, Law Department, p.12]

 تحکیم کی قانونی حیثیت قرآن، سنت اور اجماع سے ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 ’’اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔‘‘ (4:35)

اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے: ’’تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنا ئیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔" (4:65)

 پہلی آیت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ طلاق دینے سے پہلے زوجین کے درمیان مسئلہ کو ثالثی کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ یہ آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ (ہر فریق کی طرف سے ایک) دو ثالث یا حکم  کا ہونا کیوں ضروری۔ اور قرآن کی مندرجہ بالا دوسری آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جسے بھی کسی معاملے کا تصفیہ کرنے اور فریقین کے درمیان فیصلہ کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا کام پوری ایمانداری اور انصاف کے ساتھ انجام دے۔ یہ آیت ججوں کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، ان آیات کو حریف جماعتوں کے درمیان صلح کو ضروری قرار دینے والا بھی مانا جا سکتا ہے۔ بہر صورت، ثالثی (تحکیم)  کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مسلمانوں کے تنازعات کو پرامن اور منصفانہ طریقے سے حل کیا جائے۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دو لوگوں کے درمیان عدل کے بغیر ثالثی کی، اس پر اللہ کا غضب ہے۔

 ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو اپنے اختلافات کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کا مشورہ دیا۔ اس نصیحت پر عمل کرنے والے سب سے پہلے غیر مسلموں میں قبیلہ بنی قرنطہ تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ثالثی فرمائی اور آپ صلی علیہ وسلم ایک ایسے فریق بھی بنے جنہوں نے ثالثی کے فیصلے کو قبول کیا۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ثالثی کی سب سے پہلی مثال امت مسلمہ کی طرف سے کیا جانے والا سب سے پہلا معاہدہ، یعنی میثاق مدینہ کی ایک شق ہے، جس میں ثالثی کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی گئی اور جس پر 622 عیسوی میں مسلمانوں اور غیر مسلموں، عربوں اور یہودیوں کے درمیان دستخط کیا گیا۔

 سنی اسلامی فقہ کے مطابق، ایک بار جب کوئی ثالث فیصلہ کر لیتا ہے، تو یہ دونوں فریقوں پر اسی طرح نافذ العمل ہو جاتا ہے جس طرح کوئی معاہدہ یا عدالتی فیصلہ ہوتا ہے۔ اسلامی شریعت کے مطابق معاہدہ  کی پاسداری لازم  ہے، اور اپنے معاہدے پر قائم رہنا ایک مقدس فریضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اور اللہ کا عہد پورا کرو جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو، بیشک تمہارے کام جانتا ہے،‘‘۔ (16:91)

 ثالثی کے جواز کی مزید تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے متفقہ اجماع سے بھی ہوتی ہے۔

 عرب اور مسلم ممالک میں ثالثی پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے سول اور کمرشیل دستور العمل میں ایک خاص باب قائم کیا ہے۔ 2018 کے وفاقی قانون نمبر 6 کے ذریعے، کچھ ممالک، مثلا متحدہ عرب امارات، نے ثالثی کو ایک علیحدہ نظام کے طور پر تسلیم کیا۔ 1958 کے نیویارک کنونشن پر اکثر عرب اور مسلم ممالک نے دستخط کئے ہیں اور اسے تسلیم کیا ہے۔ ابوظہبی، متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والے اپنے نویں اجلاس (اپریل 1995) میں، انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی نے تنازعات کے حل کے ایک قانونی طریقے کے طور پر ثالثی کی حمایت کی ہے، اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ ثالثی دو فریقوں کے درمیان ایک مخصوص تنازعہ کی صورت میں ایک معاہدہ ہے جس میں تیسرا فریق ان کے درمیان ثالثی کرے اور اسلامی شریعت پر مبنی ایک ایسے فیصلے کے ذریعے ان کے اختلافات کو حل کرے جس کا پابند ہر ایک فریق ہو۔ اس لحاظ سے ثالثی قانونی ہے، خواہ وہ افراد کے درمیان ہو یا بین الاقوامی تنازعات کے تناظر میں ہو۔

یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ نہ تو مقابل فریقین اور نہ ہی کوئی ثالث، ثالثی کرنے کے پابند ہے۔ کوئی بھی فریق ثالثی سے اس وقت تک انکار کر سکتا ہے جب تک یہ شروع نہ ہوا ہو، اور ثالث راضی ہونے کے بعد بھی کسی بھی وقت مقدمے سے دستبردار ہو سکتا ہے، لیکن اس کی گنجائش صرف اس وقت تک ہے جب تک کہ اس نے فیصلہ جاری کرنا شروع نہ کر دیا ہو۔ چونکہ ان کی رضامندی صرف اس کی ذات سے متعلق ہے، اس لیے وہ متعلقہ فریقین کی منظوری کے بغیر کسی اور کو اپنی جگہ قائم مقام نامزد نہیں کر سکتا۔

تحکیم حدود اﷲ،  قصاص اوردیات میں جائز نہیں کیونکہ تحکیم کا فیصلہ صلح کی طرح ہوتا ہے تو جن چیزوں میں صلح جائز ہے ان میں تحکیم بھی جائز ہے اور جن میں صلح جائز نہیں ان میں تحکیم بھی جائز نہیں۔

English Article: The Legitimacy of Arbitration [Tahkim] as a Dispute Resolution Mechanism under Islamic Sharia

URL: https://newageislam.com/urdu-section/arbitration-tahkim-islamic-sharia/d/127250

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..